مقالات

 

خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ؛ صادق آل محمدعلیہ السلام کی نظر میں

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

تمہید
رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کی زندگی کا ہر قدم ایک مکمل تاریخ ہے جس پر بہت کچھ لکھاگیا اور اب بھی بہت سے صاحبان قلم ، اپنی فکر و نظر کی جولانیوں کے ذریعہ صفحۂ قرطاس سیاہ کررہے ہیں لیکن تاریخ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ کے گوناگوں ابواب کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ کہاجاسکتاہے کہ اتنا کچھ قلم بند ہونے کے باوجود ابھی بھی بہت کچھ لکھنا باقی ہے ، آپ کی زندگی کے بہت سے اہم اور انسانیت ساز گوشے جو بنی نوع انسان کی زندگی کے لئے مشعل ہدایت کی حیثیت رکھتے ہیں ، واضح انداز میں سامنے نہیں آسکے ۔
اصل میں خاطی انسان کی محدود پرواز فکر میں اتنی وسعت کہاں کہ وہ آسمان نبوت و رسالت کی لامحدود وسعتوں کی احاطہ بندی کرسکے ، آپ کی حقیقی معرفت حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان ذوات مقدسہ سے تمسک اختیار کیاجائے جو وحی رسالت کے حقیقی ترجمان اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی واقعی زبان ہیں۔
امام جعفرصادق علیہ السلام ، خاندان عصمت و طہارت کی نمایاں فرد ہیں ، آپ نے جہاں دین و شریعت کے بہت سے ابواب وا کئے ، اپنے تربیت کردہ شاگردوں کے ذریعہ امور دین کو دنیا کے گوشہ و کنار میں پھیلایا وہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی زندگی کے بہت سے اہم گوشے جو دنیا کی نظروں سے پوشیدہ تھے، اپنی صادق زبان سے بیان فرمایا ۔ یہاں آپ کے ارشادات کی روشنی میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ کی زندگی کا اجمالی خاکہ پیش کیاجارہاہے:

نور کا ظہور
امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا : خداوند عالم نے مجھے اپنے نور کی روشنی سے خلق فرمایاہے ۔(١)
آپ نے یہ بھی فرمایا : خداوندعالم نے رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کو مخاطب کرکے فرمایا : اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ!میں نے آسمان و زمین،عرش اور دریاخلق کرنے سے پہلے تمہارے اور علی کے نور کی تخلیق کی ۔(٢)
ثقة الاسلام محمد یعقوب کلینی نے لکھتے ہیں کہ صادق آل محمد علیہ السلام نے فرمایا: رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کی ولادت کے وقت فاطمہ بنت اسد ، جناب آمنہ کے قریب تھیں ، آپ نے جناب آمنہ سے کہا: کیا تم بھی وہی دیکھ رہی ہو جو میں دیکھ رہی ہوں ؟ انہوں نے کہا: کیا دیکھ رہی ہو ؟ آپ نے فرمایا : ''وہ ساطع نور جو مشرق و مغرب کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے''۔ اسی اثنا میں جناب ابوطالب تشریف لائے اور ان دونوں خواتین سے حیرت و استعجاب کی وجہ دریافت کی تو جناب فاطمہ بنت اسد نے تمام واقعہ بیان کیا ، جناب ابوطالب نے فرمایا: کیا تم یہ چاہتی ہو کہ میں تمہیں بشارت دوں ؟ انہوںنے کہا: ہاں ۔ جناب ابوطالب نے فرمایا: تم سے ایک ایسا بچہ ظاہر ہوگا جو اس نو مولود کا وصی قرار پائے گا ۔(٣)
ان روایتوں سے معلوم ہوتاہے کہ کائنات کی تخلیق کے ہزاروں سال پہلے نور محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ کی خلقت کا مرحلہ انجام پایا اور خداوندعالم نے اسی نور کو کائنات کی روشنی کا وسیلہ قرار دیا ، آج یہی نور ہے جس سے کسب فیض کرکے آفتاب روشن و منور رہتاہے اور چاند اپنی شعائیں بکھیر کرتاریک راتوں کو روشنی عطا کرتاہے ۔

افضل ترین مخلوق
حسین بن عبداللہ کا بیان ہے کہ میں نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کی : کیا رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ، اولاد آدم کے سردار تھے ؟ آپ نے جواب دیا: خدا کی قسم!وہ تمام مخلوقات کے سید و سردار ہیں ، خدوندعالم نے کسی مخلوق کو رسول سے بہتر خلق نہیں فرمایا ۔(٤)
معمر بن راشد کابیان ہے : میں نے صادق آل محمد کو فرماتے سنا ، ایک شخص رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کی خدمت میں پہونچ کر آپ کو غور سے دیکھنے لگا ، رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا : اے یہودی !کیا چاہتاہے ؟ اس نے کہا: آپ بہتر و افضل ہیں یا موسیٰ بن عمران ...؟ وہ پیغمبر جس نے خدا سے کلام کیا ، خدا نے اس پر توریت نازل کی اور عصا کے وسیلہ سے اس کے لئے دریا کو شگافتہ کیا ، وہ بہتر ہیں یا آپ ؟ رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا : اپنی زبان سے اپنی تعریف کرنا صحیح نہیں ہے لیکن تیرے جواب میں بیان کرتاہوں کہ جب حضرت آدم نے اپنے ترک اولیٰ پر توبہ کرنا چاہاتو کہا:'' خدایا !محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کے طفیل تجھ سے درخواست کرتاہوں کہ میری بخشش فرما'' خدانے بھی ان کی توبہ قبول فرمائی ۔ حضرت نوح نے جب دریا میں غرق ہونے کا خوف محسوس کیا تو کہا:" خدایا ! میں محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کے واسطے سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے غرق ہونے سے بچا لے "۔ ۔اسی طرح جناب ابراہیم نے بھڑکتی ہوئی آگ سے محفوظ رہنے کے لئے محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کو وسیلہ قرار دے کر خدا سے دعا کی ۔ اے یہودی !اگر موسیٰ زندہ ہوتے اور مجھ پر اور میری نبوت پر ایمان نہ لاتے تو ان کی نبوت انہیں کوئی فائدہ نہ پہونچاتی ، اے یہودی! سن ، میری ذریت میں سے ایک شخص ظہور کرے گا اور اس کے ظہور کے ایام میں عیسیٰ بن مریم اس کی مدد کریں گے۔(٥)

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کا انداز سیاست
آج کی دنیا میں دھوکہ دھڑی اور جھوٹ کے ذریعہ قدرت و تسلط حاصل کرنے کو سیاست کا نام دیاجاتاہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مملکت کے امور کو چلانے اور عادلانہ حکومت کرنے کو سیاست کہتے ہیں ، خداوندعالم نے رسول اسلام اور ائمہ طاہرین علیہم السلام کو اقعی اور حقیقی سیاست سے سرفراز فرمایا ہے ، زیارت جامعہ میں ائمہ طاہرین کی اہم صفت کی طرف اشارہ کیاگیاہے : وساسة العباد ۔
فضیل بن یسار کابیان ہے : میں نے امام صادق علیہ السلام کو بعض اصحاب قیس سے کہتے ہوئے سنا ، خداوندعالم نے رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کی بہترین تربیت فرمائی اور جب آپ کی تربیت مکمل ہوگئی تو فرمایا : انک لعلی خلق عظیم '' اے پیغمبر !آپ بہترین اخلاق پر فائز ہیں''اس کے بعد دین اور امت کے امور کی ذمہ داری ان کے سپرد کی تاکہ اپنی بہترین سیاست اور عادلانہ حکومت کے ذریعہ بنی نوع انسان کو دنیاو آخرت کی سعادت سے ہمکنار کریں ...اس کے بعد فرمایا:'' جو کچھ بھی رسول تمہیں دیں اسے لے لو اور جس سے روکیں اس سے باز رہو''۔(٦)آپ روح القدس کی تائید سے سرفراز تھے ، آپ انسانوں کی طرح سیاست و حکومت میں خطا و نسیان سے دوچار نہیں ہوتے تھے بلکہ خدائی آداب سے تربیت یافتہ رسول کے متعلق خطا کا خیال بھی لغوو بیکار ہے ۔(٧)

کمال زہد
رسول اسلام نے کبھی بھی دنیا اور اس کے لذات کے متعلق اپنی رغبت کا اظہار نہیں کیا ، آپ نے لوگوں کی ہدایت و رہبری اور ان کو دنیاوی و اخروی سعادت سے ہمکنار کرنے کے لئے میدان سیاست میں قدم رکھا۔
صادق آل محمدعلیہ السلام نے فرمایا: ایک دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ محزون و رنجور تھے ، اسی عالم میں گھر سے باہر تشریف لائے ، اچانک فرشتہ نازل ہوا ، اس کے ہاتھوں میں دنیا کے تمام خزانوں کی کنجی تھی ، اس نے عرض کی: اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ!یہ کنجی دنیا کے خزانوں کی ہے ، آپ کا خدا فرماتاہے کہ اسے لے کر خزانے کو کھولیں اور جتنا چاہیں استفادہ کریں ۔ آنحضرت نے فرمایا: دنیا اسی کا گھر ہے جس کا کوئی واقعی گھر نہ ہو ، وہی افراد اس کے ارد گرد منڈلاتے ہیں جن کے پاس عقل نہیں ہوتی ۔ یہ جواب سن کر فرشتہ نے بے ساختہ کہا: اسی خدا کی قسم !جس نے آپ کو مبعوث بحق کیا ، جب میں آسمان چہارم پر ان کنجیوں کو حاصل کررہاتھا تو اسی جملہ کو ایک فرشتہ سے سنا تھا ۔(٨)
ابن سنان کا بیان ہے کہ ایک شخص رسول اسلام کی خدمت میں آیا ، اس نے دیکھا کہ رسول ایک چٹائی پر تشریف فرما ہیں اور کھجور کی شاخوں پر تکیہ کئے ہوئے ہیں ، وہ تعجب سے کہنے لگا : قیصر و کسریٰ کبھی بھی اس حالت پر راضی نہ ہوں گے ، وہ ریشمی بستر پر سوتے ہیں ، لیکن آپ جب کہ مخلوقات کے سید و سردار ہیں ، ایسی زندگی گزار رہے ہیں ؟ آنحضرت نے جواب میں فرمایا:خدا کی قسم!میں ان سب سے بہتر اور افضل ہوں ... کہاں میں اور کہاں یہ زیبائش ؟ دنیا جلد ہی منھ پھیر کر جانے والی ہے ، اس کی مثال ویسی ہی ہے جیسے ایک شخص سایہ دار درخت کے نیچے سے عبور کرتاہے ، تھوڑی مدت تک وہ سایہ دار درخت سے استفادہ کرتاہے اور جب وہ سایہ گزر جاتاہے تو وہ وہاں سے کوچ کرجاتاہے ۔(٩)
یہ تھا رسول اسلام کی زندگی کا ایک مختصر خاکہ جس پر وحی ترجمان معصوم امام کی صادق زبان کی مہر تصدیق ثبت ہے ، اس کے علاوہ آپ نے آنحضرت کی زندگی کے بہت سے گوشوں کو بیان فرمایا ہے اور یہ بتانا چاہا ہے کہ ایک معصوم کی حقیقی معرفت حاصل کرنے کے لئے کسی معصوم سے تمسک اختیار کرنا ضروری ہے ۔

حوالہ جات :
١۔ مصباح الشریعہ ص ١٢٦
٢۔ جلاء العیون ص ١١
٣۔ جلاء العیون ص٣٦
٤۔ اصول کافی ج٢ ص ٣٢٥
٥۔ بحار الانوار ج١٦ ص ٣٢٦
٦۔ سورۂ حشر ٧
٧۔اصول کافی ج٢ص ٥۔٦
٨۔ بحار الانوار ج١٦ ص٢٦
٩۔ بحار الانوار ج١٦ ص ٢٨٢

مقالات کی طرف جائیے