مقالات

 

حقیقی خدا پرستی

حجۃ الاسلام محمد رضا حکیمی

ترجمہ : سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری
امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
اذ کان اللہ تعالی المالک للنفوس والاموال و سائر الاشیاء الملک الحقیقی و کان ما فی ایدی الناس عواریّ...۔(١)
''خداوندعالم لوگوں کے نفوس ، اموال اور دوسری تمام چیزوں کا حقیقی مالک ہے جو کچھ لوگوں کے ہاتھوں میں ہے وہ عاریت و امانت ہے ''۔

حدیث کی وضاحت:
توحید کا صحیح عقیدہ اور واقعی خدا پرستی اسی وقت متحقق ہوسکتی ہے جب انسان خدا کو ہر چیز کا حقیقی مالک تسلیم کرے ،اس بات کایقین کرے کہ تمام امور اس کے دست قدرت میں ہے اور خدا کے مقابلے میں اپنے لئے استقلال کا قائل نہ ہو ۔ صادق آل محمدصلی اللہ علیہ و آلہ کے مطابق : '' خداوندعالم کی بندگی کی حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ خدانے اس کے سپرد کیاہے اسے وہ اپنی ملکیت نہ سمجھے اس لئے کہ بندہ مالک نہیں ہوسکتا ، اسے اپنے اموال کو خدا کا مال سمجھنا چاہئے اور اسے وہیں صرف کرنا چاہئے جہاں خدا نے حکم دیاہے ''۔(۲)
توحید کا ایسا عقیدہ انسان کو ہر چیز کی پرستش اور خدا کے علاوہ ہر موجود کو اپنا ہدف قرار دینے سے روک دیتاہے اوراس کی ذات سے دنیا پسندی اور دولت پرستی کو ختم کردیتاہے ، مال و دولت سے عدم وابستگی کی وجہ سے انسان اس بات پر آمادہ ہوجاتاہے کہ وہ اپنی مالی ذمہ داریوں کے متعلق حساس ہو اور محروموں کے حقوق کے سلسلے میں بے حسی کا مظاہرہ نہ کرے اور اپنے لئے ایک نیابتی مالکیت کا قائل ہو؛ اسی بات کی طرف قرآن مجید میں اشارہ کیاگیاہے:
''اور اس مال میں سے خرچ کرو( دوسروں کو دو) جس میں اس نے تمہیں اپنا نائب قرار دیاہے ''۔(۳)
'' استخلاف'' کی تعبیر انسان کی مالکیت کی ماہیت و کیفیت کو واضح کررہی ہے اور امام نے جو انسان کی مالکیت کو عاریت وامانت سے تعبیر فرمایاہے وہ در اصل قرآن کریم سے ماخوذ ہے ۔
دوسری حدیثوں میں بھی یہ بہترین تعبیر پیش کی گئی ہے ؛ ایک حدیث میں صادق آل محمدصلی اللہ علیہ و آلہ فرماتے ہیں : المال مال اللہ جعلہ ودائع عند خلقہ''مال ، خداوندعالم کی ملکیت ہے جسے لوگوں کے پاس امانت کے طور پر رکھاگیاہے۔(۴)

حوالہ جات
۱۔ مستدرک الوسائل ج١ ص ٥٥٢ ؛ الحیاة ج٣ ص ٦٨
۲۔ مشکاة الانوار ص٣٢٧
۳۔ حدید ٧
۴۔ مستدرک الوسائل ج٢ ص ٤٢٣

مقالات کی طرف جائیے