مقالات

 

جناب مختار ، معتمد اہل بیت اطہارؑ

سعید حسن جونپوری

"رمضان المبارک"رحمت و برکت کا مہینہ ہے، یہ مہینہ پروردگار عالم کے نزدیک تمام مہینوں سے افضل اور بہتر ہے، اس کو عبادت کی بہار کہا جاتا ہے۔اس مہینہ میں جہاں ایک عابد اپنے معبود کی عبادت کر کے سرور محسوس کرتا ہےاور خوش ہوتا ہے،وہیں اس مہینہ میں کچھ غم انگیز مناسبتیں اور تاریخیں ایسی ہیں جن میں ایک مومن اپنی آنکھوں میں آنسو نہیں روک پاتا؛ انھیں تاریخوں میں سے ایک چودہویں تاریخ ہے۔
اس مہینہ کی چودہ تاریخ، حضرت علی علیہ السلام کے ایک جانثار اور چاہنے والے کی شہادت سے منسوب ہے جس کو مختار بن ابی عبید بن مسعود ثقفی کہتے ہیں؛ وہ مختار جس نے قید میں رہ کر بھی دشمنوں کو چین سے سونے نہ دیا،وہ مختار جس نے اس وقت تک چین کی سانس نہ لی جب تک قاتلان امام حسین ؑکو ان کے کیفر کردار تک نہ پہنچا دیا ،وہ مختار جس نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ اطاعت خدا ورسول میں گزاردیااور محبت اہل بیت ؑ کی راہ میں اپنی جان قربانی کردی ،وہ مختار جس کے حق میں امام معصوم میں خداوندعالم کی بارگاہ میں دعا فرمائی ہے ۔
جناب مختار اس عظیم شخصیت کے حامل انسان کو کہتے ہیں جس نے قاتلان سبط پیغمبر ؐسے انتقام لیا ، جس نے بعد کربلا ظالموں کو واصل جہنم کرکے امام سجاد علیہ السلام کے چہرے پر مسکراہٹ کا سامان فراہم کیا ؛محمد بن سعد اپنی کتاب طبقات الكبرى میں لکھتے ہیں،جب جناب مختار نے عبیداللہ بن زیاد کو قتل کر کے اس کا سر مدینہ میں امام سجاد علیہ السلام کے پاس بھیجا تو امام سجاد علیہ السلام مسکرائے اور جناب مختار کے اوپر درود بھیجا اور انکے حق میں دعاکی۔
جناب مختارسن١٠ ہجری کو شہر طائف کے ایک محترم گھرانہ میں پیدا ہوئے ۔باپ ابو عبید اور ماں دومہ بنت وہب ابن عمر ابن مُعَتِّب تھیں، آپ کی کنیت ابو اسحاق اور لقب کیسان یا کیس ہے ۔روایت میں ملتا ہے کہ جناب مختار کا یہ لقب امام علی علیہ السلام نے رکھا تھا،اصبغ بن نباتہ کہتا ہے کہ ایک مرتبہ امام علی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے وہاں مختار کو حضرت علی ؑکے زانو پر دیکھا ، آپ مختار کے سر پر دست شفقت پھیرتے ہوئے فرماتے ہیں :اے کیس ، اے کیس (یعنی اے ذہین و ہوشیار)«رَأَیْتُ الْمُخْتَارَ عَلَى فَخِذِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَهُوَ یَمْسَحُ رَأْسَهُ وَ یَقُولُ : یَا کَیِّس!ُ یَا کَیِّس!» ۔بعض نے "کیّس"کو تشدید کے ساتھ لکھا ہے جو بہت زیادہ ذہین کے معنی میں ہے۔
اسی طرح تفسیر امام حسن عسکری ؑ(منسوب بہ امام ) میں ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا :«.. میرے یہ دونوں فرزند (حسن ؑو حسینؑ )شھید کیے جائیں گے، حق تعالیٰ اس قوم پر عذاب نازل کرے گا اور ایک بہادر شخص کو شمشیر کے ساتھ ان پر مسلط کرے گا اسی طرح جس طرح بنی اسرائیل پر عذاب مسلط کیا تھا».کسی نے پوچھا: اے ابا الحسن ان پر مسلط ہونے والا کون ہے؟ فرمایا: وہ قبیلہ بنی ثقیف کا بیٹا ہو گا اس کا نام مختار بن ابی عبیدہے۔ (۱)
جناب مختار تاریخ اسلام میں عرب کی ممتاز ترین و مشہور ترین شخصیتوں میں سے ایک ہیں، اپنے زمانے کے سیاسی اور معاشرتی حالات میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا ہے ،وہ عقل و درایت اور تدبر و فراست سے بھرپور کسی ماہر ترین سیاست داں کی طرح معاشرہ شناس اور دور اندیش تھے اور معاشرے میں کس طرح حسینی تبلیغ کیا جائے اس فن میں بھی مہارت رکھتے تھے۔جناب مختار کا قیام ایک تاریخی قیام تھا جس کو رہتی دنیا تک بھلایا نہیں جا سکتا، کیونکہ جناب مختار کا قیام صرف اور صرف رضائے خدا و رسول کے لیے تھا۔ اس بات کی تائیداکثر علمائے تشیع نے کیا ہے؛ علامہ مامقانی (رہ) لکھتے ہیں: ائمہ معصومین علیہم السلام کے چاہنے والے تھے۔ (۲)
علامہ امینی (رہ) لکھتے ہیں: ہر کوئی اگر تعصب کی عینک اتار کر چشم بصیرت سے کتب تاریخ، حدیث و علم رجال کا مطالعہ کرے گا،اسےمعلوم ہوجائے گا کہ جناب مختار مخلص اور ہدایت یافتہ انسان تھے، انھوں نے دشمن اسلام سے جنگ کیا اور انھیں واصل جہنم کیا، وہ اہل بیت رسولؐ کے چاہنے والے تھے ، ان کے لئے امام سجاد ، امام باقر اور امام صادق علیہم السلام نے رحمت کی دعا کی ہے۔ (۳)
اور اسی طرح آیت اللہ خوئی (رہ)، علامہ باقر شریف (رہ)، مقدس اردبیلی (رہ) اور دیگر علماء کرام نے لکھا ہے کہ جناب مختار ائمہ معصومین علیہم السلام کے حقیقی چاہنے والے تھے، ان کا ہر عمل صرف اور صرف رضائے خدا و رسول کے لیے تھا اور یہی وجہ ہے کہ ائمہ معصومین علیہم السلام نے جناب مختار کے لیے رحمت کی دعا فرمائی،ائمہ معصومینؑ مختار کے لیے ایسی دعا کیوں کریں حالانکہ وہ دن میں روزہ رکھتے اور رات میں عبادت اور نماز و دعا اور پروردگار سے مناجات کیا کرتے تھے،انہوں نے اپنی جان محمد و آل محمد علیہم السلام سے وفاداری اور ان کے خون کا انتقام لینے کی راہ میں قربان کردی۔
جناب مختار، مصعب بن زبیر کے ہاتھوں شھید کئے گئے، ان کے سر کو تن سے جدا کرنے کے بعد دارالامارہ کے اوپر لٹکا دیا گیا جس کو بعد میں آپ ہی کے قبیلہ کے حجاج بن یوسف ثقفی نے نیچے اتروایا اور مسجد کوفہ میں جا کر دفن کیا۔(۴)
جناب مختار کی قبر کافی عرصہ تک مخفی تھی، علامہ بحرالعلوم کے زمانہ میں تحقیق و جستجو کے بعد آپ کی قبر ظاہر ہوئی، ان کی قبر کے اوپر جو پتھر ہے اس پر لکھاہوا ہے:«هذا قبر مختار بن ابی عبیدة الثقفی الآخذ بثارات الحسین» ۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

حوالجات:
1۔ رجال کشی ج١ص۳۴۱؛ بحارالانوار مجلسی ج۴۵ص۳۴
2۔ تنقیح المقال علامہ مامقانی، ج٣، ص۲۰۶
3۔ الغدیر علامہ امینی، ج٢، ص۳۴۳
4۔الکامل فی التاریخ ابن اثیر ج٤، ص۲۷۵

مقالات کی طرف جائیے