مقالات

 

عقیلۂ بنی ہاشم

قیصر عباس خان اکبرپوری

انقلاب زمانہ نے تاریخ انسانیت کو انگشت بدنداں ہونے پر مجبور کردیا کہ فرعون و نمرود جیسے قدرتمند خدائی کا دعویٰ کرنے والے بادشاہوں کی خود ساختہ خدا ئی کو تہس نہس کردیا، جو لوگ اپنی ناجائز حکومتوں کے ستون کو مضبوط و مستحکم کرنے کے لئے نہ معلوم کتنے بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلتے رہے اورانھوں نے جبر و استبداد ،ظلم و ستم کے بازار کوہمیشہ گرم رکھا۔بنی امیہ اور بنی عباس کی حکومتوں نے سادات اور محبان علی علیہ السلام کے خون کے گارے سے اپنے محل تعمیر کرائے ،بنی امیہ نے شام ،بغداد اور اسی طرح بنی عباس نے بغداد ،خراسان اور دیگر جگہوں پر فلک بوس محل تعمیر کرائے لیکن ان سب کو زمانے کی تند ہوائوں نے رفتہ رفتہ خرابے کی شکل میں تبدیل کردیا اور آج یہ خرابے بنی امیہ و بنی عباس کے بادشاہوں کے جرم و جنایت اورظلم و ستم کی علامت ہیں بنی امیہ کی ناجائز حکومتوں نے یہ خیال کیا تھا کہ ہم نے دشت کربلا میں خاندان رسول سے اپنے آبائو اجداد کی دشمنی کا بدلہ لے لیا ہے۔ لہذا اور وہ اسی کی وجہ سے خوشیاں منا رہے تھے۔
امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب باوفا کو قتل کر کے ،ان مظلوموں کی لاشوںپر گھوڑے دوڑا کر خوش ہو رہے تھے اور یہ خیال کیا تھا کہ اسیران اہلبیت کی کوفہ اور شام کے بازاروں میں تشہیر کر کے رسول خدا اور ان کے نواسوں کے ذکر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن کر دیں گے لیکن ان ظالموں کو نہیں معلوم تھا کہ یہ حضرات خدائے متعال کے منتخب بندے ہیں جنہوں نے خدا وند متعال کے ذکر کو ہر آ ن باقی رکھا اور یہی وجہ ہے کہ خدائے کریم نے بھی ان کے ذکر و مقام کو ہمیشہ ہمیشہ کے واسطے جاودانی بنا دیا ہے ،ارشاد ربانی ہوتا ہے :
(فَاذْکُرُونِی َذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوا لِی وَلاَتَکْفُرُونِی) (١)تم لوگ مجھے یاد رکھو میں بھی تمہارا ذکر خیر کیا کرونگا میرا شکریہ ادا کرتے رہو اور کفران نعمت نہ کرو ''۔
بنی امیہ اور بنی عباس کے دربار کی شان و شوکت اور عالی شان محل زمین بوس ہو گئے اس لیے کہ خدا اور رسول کے دشمن تھے، منافقانہ زندگی گذار رہے تھے اورانھوں نے اپنے جسم ناپاک پراسلام کا لبادہ ڈال رکھا تھا جو آج بھی اسلام اور مسلمانوں کے واسطے عاراور بدنما داغ ہیں ۔
لیکن جو خدا وند متعال کے نیک و صالح بندے تھے آج بھی ان کا تذکرہ، ان کا مدفن اور روضٔہ مبارک اپنی تمام شان و شوکت کے ساتھ روئے زمین پر آسمان سے نگاہیں ملا رہا ہے ۔مرقد ابو البشر جناب آدم ،نوح، ھود، صالح، ابراہیم، و اسمٰعیل ، یعقوب، اور بقیع، نجف،کربلا، کاظمین، مشہد مقدس،سامرا ، قم المقدسہ اور شام میں جناب زینب سلام اللہ علیہا و جناب سکینہ و غیرہ کے روضے آج بھی باقی ہیں جن پر ملائکہ ہر وقت درود و سلام بھیجتے ہیں اور یہ مقدس مقامات لوگوں کی ہدایت کا مرکز کا بنے ہوئے ہیں ۔
ارشاد ہوتا ہے :(ِنَّ الَّذِینَ قَالُوا رَبُّنَا اﷲُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمْ الْمَلَائِکَة) یہ خدا کا لطف و کرم اور مصمم ارادہ ہے کہ یہ حضرات زندۂ جاوید اور دوسروں کے لیے چشمئہ آب حیات بنے ہوئے ہیں ۔شہدائے کربلا کے جسموں پر کربلا کی گرد و خاک کچھ بھی اثر انداز نہ ہو سکی بلکہ ان پاک ہستیوں کی وجہ سے کربلا کی خاک لائق سجدہ بن گئی ۔اگر چہ یزیدیوں نے ان کے اجسام طاہرہ کو گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال کر ڈالا،لیکن اس کے بعد بھی شمع فروزاں کی طرح نور کی بوچھار ہورہی ہے۔ جہل و نادانی سے راہ راست کی طرف ہدایت کر رہے ہیں لہذا ان کا تذکرہ کیوں نہ ہمیشہ قائم ودائم رہے؛ اور ان عظیم ہستیوں کا تذکرہ زبان زد خاص و عام کیوں نہ ہو کیونکہ جناب زینب اور امام سجاد علیہ السلام کربلا کے حقیقی مبلغ اور پیغامبر تھے خدا کے بعد ،جناب زینب محافظ ولایت ہیں ،کون زینب ؟جو ثانی زہرا ہیں اور اپنے باپ کی زینت ہیں ۔
اگر تاریخ نسواں میں جناب فاطمہ زہرا کے بعد ہر لحاظ سے تمام خواتین سے افضل و برتر کوئی خاتون ہے تو جناب زینب سلام اللہ علیہا کی ذات گرامی ہے فصاحت و بلاغت میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔
مورخین کاجناب ثانی زہرا کے سلسلے میں اتفاق ہے کہ جناب زینب بنت امیر المومنین ابن ابیطالب علیہم السلام کی ولادت پانچ جمادی الاول ٦ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی ہے ۔(٢)
بہتر ہے کہ یہاں پر یہ بھی بیان کرتا چلوں کہ جو ایک ظلم و ستم ،یاتاریخی تحریف کی طرف اشارہ ہے کہ بنی امیہ کے مورخین اس جرم کے مرتکب ہوئے ہیں ،جنہوں نے اپنے ذوق کے مطابق تاریخ کو رقم کیااور ایک حقیقت کو چھپانا چاہا ہے جبکہ وہ لوگ اس تاریخی جھوٹ کے سائے میں اپنے عقیدتی و فکری انحراف کو مبہم دیکھ رہے تھے ۔ اس کے باوجود اموی مورخین اور ان کے ہمنوائوں نے ہر اعتبار سے حقیقت پر پردہ ڈالنے کی سعی و کوشش کی جو تاریخ کے دامن میں محفوظ ہے ۔بنت شاطی اپنی کتاب بطلئہ کربلا یا قہرمان کربلا میں لکھتی ہیں کہ جناب علی و فاطمہ کے گھر امام حسن و حسین علیہم السلام کے بعد تیسرا بچہ متولد ہواجس کا نام محسن تھا لیکن خدا کو منظور نہیں تھا کہ وہ بچہ زندہ رہے لہذا اسے موت آگئی ۔یہ بات سب کو معلوم ہے اور کتابوں میںبھی موجود ہے کہ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور علی کے پانچویں فرزند جناب محسن تھے جو عمر کے غلام قنفذ کے ظلم و ستم کا شکار ہوئے، اس نے دختر رسول کو تازیانہ مارا اور وہ در و دیوارکے درمیان آگئیں جس کی وجہ سے بچہ بطن مادر میں شہید ہو گیا ۔اس مصری رائٹر نے مغالطہ و فریب کے ذریعہ کوشش کی ہے کہ باطل کو حق اور حق کو باطل ثابت کرے لہذا لکھا کہ جناب زینب محسن بن علی کے بعد پیدا ہوئی ہیں لیکن قسمت نے ساتھ نہ دیا لہذا زندہ نہ رہ سکیں ۔(٣)
قارئین محترم!ذرا غور و فکر تو کریں کہ اس مصری رائٹر نے رسول خدا ۖ کی شہادت کے بعد واقع ہونے والے مظالم کی کس طرح سے پردہ پوشی کی ہے کہ جناب زینب سلام اللہ علیہا زیادہ دن زندہ ہی نہ رہیں ، اسنے ایسا کیوں کہا؟صرف اس لیے کہ یزید اور ابن زیاد کے سیاہ کرتوتوں پر منافقانہ پردہ ڈال سکے جس طرح بعض مورخین نے تحریر کیا ہے کہ در فاطمہ میں عمر نے آگ نہیں لگائی اورجناب فاطمہ کو زد و کوب نہیں کیا گیا اس طرح کی تحریر کا مقصد صرف یہ ہے کہ جناب محسن کی شہادت کا ذمہ دار عمر نہیں ہے ۔
ہر زمانہ میں کچھ بددماغ افراد پیدا ہو جاتے ہیں جو حتی الامکان یہ کوشش کرتے ہیں کہ تاریخی حقیقت کو لوگوں کے سامنے غلط طریقے سے بیان کریں تاکہ صحیح بات لوگوں کے لیے مبہم و پیچیدہ ہو جائے آج بھی ہر طرح سے بعض حکومتوں کے ظلم و ستم اور بغض و حسد کو دوسرا رنگ دے کر پیش کرتے ہیں تاکہ موجودہ نسل اور آئندہ آنے والی نسلیں صحیح واقعات سے باخبر نہ ہو سکیں ۔
ذرا قوالی کی سی ڈی دیکھئے کہ جب رسول اللہ کا نام آتا ہے تو مدینہ منورہ اور رسول خدا کے روضئہ مبارک کی تصویر دکھائی جاتی ہے اور جب امام علی صاحب نہج البلاغہ کی بات آتی ہے تو نجف اشرف کا روضہ دکھایا جاتا ہے اور جب امام حسن و امام حسین علیہما السلام کا ذکر ہوتا ہے تو کربلائے معلےٰ کی تصویر دکھائی جاتی ہے لیکن جب جناب فاطمہ زہرا کی چادر اور ان کے فضائل و مناقب بیان ہوتے ہیں تو ویران بقیع کو نہیں دکھایا جاتا بلکہ اسی کی جگہ ایک نامعلوم درگاہ کی تصویر دکھائی جاتی ہے آخراس کا مقصد کیا ہے ؟
آخر سعودی حکومت کے ظلم و ستم کو آشکار کیوں نہیں کرتے جو قبرستان بقیع ویران ہے اس کی تصویر کیوں نہیں دکھاتے ؟!
صرف اس لیے کہ لوگوں کے اذہان میں یہ بیٹھا دیا جائے کہ جناب فاطمہ زہرا کا روضہ مبارک عالی شان صورت میں باقی ہے اور جو یہ کہتے ہیں کہ فاطمہ زہرا کی قبر ویران ہے وہ جھوٹے ہیں ۔ہر زمانے میں کچھ نادان و نا اہل افراد تعصب کا شکار ہو کر تاریخی حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

اہتمام اسم گذاری
ناسخ التواریخ میں ہے کہ جب حضرت علی و جناب فاطمہ زہرا کے گھر پہلی بیٹی پیدا ہوئی تو چند روز تک اس بچی کا نام معین نہیں ہوا تھا لہذا جناب فاطمہ زہرا نے مولائے کائنات سے پوچھا :اس بچی کا نام کیوں نہیں معین کرتے ،تاخیر کی کیا وجہ ہے ؟
امام نے جواب دیا:اس بچی کا نام اس کے نانا رسول اسلام رکھیں گے لہذا جس وقت رسول اسلام کو یہ خوشخبری ملی تو آپ فوراً در فاطمہ زہرا پر آئے اور فرمایا: بیٹی فاطمہ نومولود مبارک ہو ،اس بچی کو میرے پاس لائو آپ نے نواسی کو نانا کے سپرد کیا آپ نے اس کو سینہ مبارک سے لگایا !اسی وقت جبرئیل نازل ہوئے اور کہا: اے پیغمبر خدا ! آپ پر آپ کا خدا درود و سلام بھیجتا ہے اور فرماتا ہے کہ اس بچی کا نام زینب رکھو یہ کہہ کر جبرئیل رو نے لگے خاتم المرسلین نے پوچھا: جبرئیل گریہ کیوں کررہے ہو ؟جواب دیا: اس بچی کو ابتدائی زندگی سے لیکر وقت شہادت تک مختلف مظالم و مصائب کا سامنا کرنا ہوگا ۔یہ سننا تھا کہ رسول خدا کی چیخ بلند ہوئی اور آنکھوں سے اشکوں کا سیل رواں جاری ہو گیا جیسے ہی خاتون جنت نے یہ کیفیت و حالت دیکھی ،پوچھا :مِمَّ بُکاؤُکَ لا اَبْکیٰ اللّٰہُ عَیْنَیکَ یا اَبَتاہُ بابا خدا آپ کو کبھی نہ رلائے کس چیز نے آپ کو غمگین کر دیا ؟
آپ نے فرمایا :یا بنتاہ یا فاطماہ !ان ھذہ البنت سَتُبْتَلیٰ وَ تَرِدُ علیھا مَصائبُ شَتّٰی اے میری پارہ جگر یہ بچی وہ ہے جس کے اوپر عنقریب مختلف مصائب و آلام کے پہاڑ ٹوٹیں گے اس کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا : ان من بکی علیھا و علی مصائبھا یکون لہ ثوابہ کثواب من بکی علی اخویھا بیشک جو بھی اس کے مصائب و آلام پر آنسو بہائے گا اس کے لیے وہی ثواب ہے جو ان کے بھائیوں پر رونے کا ثواب ہے ۔(٤)
معنی زینب اور ان کی کنیت
جیسا کہ ہم سب کو معلوم ہے کہ ہر اسم یا نام کسی نہ کسی مصدر سے نکلتا ہے اورہر مصدر کا کوئی خاص معنیٰ اور مفہوم ہوتا ہے لہذا لفظ زینب کے کیا معنی ہیں ؟
اس سوال کے جواب کے سلسلے میں دو نظریہ پائے جاتے ہیں :
١۔ کلمہ زینب مرکب ہے دولفظوں'' زین و اب ''سے زین کا معنی زینت اور اب کا معنی باپ،ہے اور اس کو فیروزآبادی نے القاموس میں بصورت احتمال ذکر کیا ہے ۔
٢۔ زینب لفظ بسیط ہے نہ کہ مرکب ،جو ایک کلی یا درخت کا نام ہے ،لسان العرب میں ذکر ہوا ہے کہ زینب ایک خوشبودار درخت ہے اس وجہ سے لوگ بچیوں کا نام زینب رکھتے ہیں ۔اور اسی طرح سے تاج العروس میں ہے کہ زینب ایک پودے کا نام ہے جو پیاز کے مانند ہوتا ہے جو طوفان و حوادث کے مقابلے میں دیر پا اور قائم ہوتا ہے، سفید رنگ اور عطر فشاں ہوتا ہے ،یا ممکن ہے کہ اصل زین و اب ہو اور کثرت استعمال کی وجہ سے الف حذف ہو گیا ہو ۔
بہر حال یہ نام بہت ہی خوبصورت، اچھا اور پر معنیٰ ہے جس کے سلسلے میں کوئی شک و تردید نہیں ۔
مرحوم سید بحر العلوم صاحب تحفة العالم فی شرح خطبة المعالم میں رقم طراز ہیں کہ حضرت علی و فاطمہ کی بیٹی زینب کی کنیت ام کلثوم ہے ۔
شرح حال و تراجم اور لغت کی کتابوں میں جناب زینب کی کنیت اور نام کے سلسلے میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن جو مشہور ہے وہ یہ ہے کہ جناب زینب و ام کلثوم یہ دو نام حضرت علی و فاطمہ زہرا کی دو بیٹیوں کے ہیں ۔اور بعض تاریخی اورروائی کتابوں میں جناب زینب کو ام کلثوم سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں چند احتمال پائے جاتے ہیں:
پہلا احتمال یہ ہے کہ ام کلثوم جناب زینب کی کنیت ہے اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ جناب زینب کا دوسرا نام ام کلثوم ہے ۔تیسرا احتمال یہ ہے کہ شاید بعض مورخین کی غلطی و کوتاہی کی وجہ سے جناب زینب کی بہن کے نام کو انکے لیے استعمال کیا ہے ۔چوتھا احتمال یہ ہے کہ شاید یہ کام کسی دوسری دلیل کی بنا پر کیا گیا ہو کہ خاندان اہلبیت کے مردوں اور عورتوں کے شرح حال کو ثبت و ضبط کرنے میں بے توجہی برتی جائے جو ہمارے لئے پوشیدہ ہے لیکن علماء کی تحقیق سے جو مسئلہ ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ احتمال قوی ،وہی احتمال اول ہے ۔
آپ حضرات کو معلوم ہے کہ تاریخ میں حضرت امیر المومنین علی ابن ابیطالب کی دوسری بیٹی کی شخصیت تاریخی اختلاف کا شکار ہے اور جناب ام کلثوم کے ساتھ عمر ابن خطاب کے عقد کا افسانہ توہین آل محمد کا ایک دلسوز باب ہے، مرحوم علامہ سید محمد قزوینی معتقد تھے کہ بہت سی تاریخی اور حدیثی کتابوں میں جو ام کلثوم آیا ہے اس سے مراد جناب زینب سلام اللہ علیہا ہیں اور مولائے کائنات کی شہادت کے موقع پر جو جملے ملتے ہیں کہ (تقول ام کلثوم ) جناب ام کلثوم کہتی ہیں، اس سے علامہ قزوینی نے جو استفادہ کیا ہے وہ جناب زینب ہیں اس لیے کہ جناب زینب کے فرزندوں میں جن کا نام آتا ہے اور علماء نے جو تحریر کیا ہے وہ یہ حضرات ہیں ،علی ، محمد، عون ، عباس اور کلثوم ۔لہذا جناب زینب کی کنیت ام کلثوم ہے(٥)اور ہم بعض خطبات اور مولفین کی تعبیرات میں یہ دیکھتے ہیں کہ جناب زینب کو (عقیلہ)سے تعبیر کیا گیا ہے البتہ یہ بات ذہن میں رہے کہ یہاں اسم نہیں ہے بلکہ ان کی صفت بیان کی گئی ہے۔
ابو الفرج اصفہانی جناب عون بن عبد اللہ کی شرح حال بیان کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ انکی ماں جناب زینب عقیلہ ہیں ۔ اور عقیلہ وہی ہیں جن سے ابن عباس خطبہ فدکیہ فاطمہ زہرا کو نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں :
(حدثنا عقیلتنا) ہماری عقیلہ'' جناب زینب علی کی بیٹی'' نے ہم سے یوں بیان کیا ہے ۔(٦)
ابن زکریا ،مجمل اللغة ،جوہریہ صحاح اللغة میں ذکر کرتے ہیں : عقیلہ یعنی ہر قوم کی بزرگ و محترم خاتون۔ اور معجم الوسیط میں آیا ہے کہ عقیلہ پردہ نشین بانو۔ اور خلیل ابن احمد اپنی کتاب ''العین ''میں تحریر فرماتے ہیں عقیلہ کے معنی پردہ نشین خاتون کے ہیں اور اس کی جمع عقائل ہے ۔
یہ مذکورہ معنی اہل لغت نے بیان کئے ہیں لیکن جو بات ذہن میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ عقیلہ صیغہ مبالغہ اور مادہ عقل سے مشتق ہے ۔جو بہت زیادہ عقل و کمال کو بتا رہا ہے اور پوری کائنات اس بات کی گواہ ہے کہ جناب زینب عقل و حکمت اور پختگی سے بہت زیادہ بلند و بالا ہیں، بنی امیہ کے ظلم و ستم کی زہریلی ہوائوںکے جھونکے صاحب نہج البلاغہ کی بیٹی کے ثبات قدم اور مستحکم ارادہ میں لغزش نہ لاسکے ایسے پر آشوب ماحول میں اگر کوئی دوسری خاتون ہوتی تو اعزاء اور اقرباء کی شہادت کے تصور سے ہی اس کے دماغ کی رگیں پھٹ جاتیں لیکن عقیلہ بنی ہاشم جناب زینب نے ایسے دلسوز و المناک مناظر دیکھنے کے باوجود ،مدبرانہ انداز میں عقل و فکر کی مہار کو اپنی گرفت میں رکھکر، کربلا سے کوفہ ،کوفہ سے شام اور شام سے مدینہ منورہ تک اسرائے اہلبیت اور مقصد قیام امام حسین کی پاسبانی کرتی رہیں اور کوفہ و شام کے لوگوں کے مردہ ضمیروں کو جھنجھوڑ کر اپنے فصیح و بلیغ خطبوں اور مجالس کے ذریعے بیدار کرتی رہیں ۔
سوال
لیکن ذہن میں بار بار ایک سوال اٹھتا ہے وہ یہ ہے کہ جناب زینب جو ہمیشہ پردہ نشین ہیں اور نا محرموں کے ہجوم میں کبھی کلام نہ کیا ،آخریہ کیسے ہوا کہ جب لٹا ہوا قافلہ شہر کوفہ میں داخل ہوا اور لوگوں کا جم غفیر تاکہ ان اسیروں کا تماشہ دیکھیں کیونکہ یہ اعلان عام کرا دیا گیا تھا کہ خارجیوں کا قافلہ لایا جارہاہے ،ان لوگو ںنے امیرالمومنین یزید کے خلاف خروج کیا تھا ،یہ وہی کوفہ ہے جہاں پر کبھی جناب زینب شہزادی بن کر رہا کرتی تھیں ،جہاں لوگوں نے انکا سایہ بھی نہ دیکھا تھا ایسی پردہ نشین بی بی نے کس طرح اور کیوں کر خطبہ ارشاد فرمایا ؟جبکہ امام سجاد موجود تھے انھوں نے خطبہ کیوں نہیں دیا؟ جبکہ ثانی زہرا جانتی تھیں کہ امام سجاد فنون خطابت میں ماہر اور مجمع عام میںخطبہ دینے کے لئے زیادہ بہتر ہیں ۔
شاید ان سوالوں کا جواب یہ ہوکہ حالات، ضرورت یا حکمت الٰہی اس بات کا تقاضا کرر ہی تھی کہ اس طولانی سفر میں امام سکوت اختیار کریں ،تاکہ ابن زیاد اور یزیدی کارندے امام کی قدرت خطابت سے آگاہ نہ ہو سکیں اس لئے کہ امام سجاد کو شام اموی جامع مسجد میں ہزاروں سفیروں کے سامنے خطبہ دینا ہے لہذا اگر امام سجاد کوفہ اور درمیان راہ خطبہ ارشاد فرماتے تو یزیدی گماشتے ان کی قدرت گویائی سے با خبر ہو جاتے اور پھر اموی جامع مسجد میں موقع دستیاب نہ ہو تا شاید یہی وجہ اور دلیل رہی ہو کہ جناب زینب نے موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا جبکہ کربلا سے کوفہ کے راستے میں ابن زیاد کئی مرتبہ قتل امام کا حکم دے چکا تھا اور خاص طورسے آپ حضرات کو معلوم ہوگا کہ ابن زیاد ملعون نے دربار میں امام علیہ السلام سے پوچھا تھا کہ تم کون ہو تو امام نے کہا تھا کہ میں علی ابن حسین ہوں اس وقت دشمن خدا نے کہا :کیا خدا نے علی بن حسین کو قتل نہیں کیا ؟!
امام نے جواب دیا: (کان لی اخی یسمی علی بن الحسین قتلہ الناس) (٧) میرے ایک بھائی تھے جنکا نام علی بن حسین تھا ان کو لوگوں نے قتل کردیا ،اس ملعون نے کہا: نہیں خدا نے قتل کیا ہے ،امام سجاد نے جواب دیا:( اﷲُ یَتَوَفَّی الَْنْفُسَ حِینَ مَوْتِہَا)(٨)خداوند متعال ہی موت کے وقت لوگوں کی روحوں کو قبض کرتا ہے ۔
اس بات پر ابن زیاد غصہ میں دیوانہ ہو گیا اور کہتا ہے کہ تم میرا جواب دے رہے ہو تم میں ابھی بھی اتنی قدرت و طاقت باقی ہے !۔ابن زیاد فوراً حکم دیتا ہے کہ انکویہاں سے لیکر جائو اور قتل کردو اس وقت جناب زینب نے امام کو اپنی باہوں کے حلقے میں لے لیا اور کہا یہ ہرگز نہیں ہو سکتا، اگر قتل کرنا ہے تو مجھکو بھی انکے ساتھ قتل کر دے۔لہذا غور طلب مقام ہے کہ ایسے پر آشوب ماحول میں امام کوفے میں تفصیلی خطبہ دے سکتے تھے ؟ اور قتل ہو نے سے بچ جاتے ؟ بالکل واضح سی بات ہے کہ اس کا جواب منفی ہے یعنی ہرگز نہیں بچتے ۔
لہذا جناب زینب نے بازار کوفہ میں نامحرموں کے جمّ غفیر پر ایک نظر دوڑائی اور اس کے بعد اپنے ہاتھوں سے اشارہ کیا کہ لوگوں پر ایک سکوت سا طاری ہو گیا راوی کہتا ہے کہ لوگوں کی سانسیںبند ہوگئیں بلکہ اونٹوں کی گردنوں میں لٹکی ہوئی گھنٹیاں بھی ساکت ہو گئیں پھر لہجہ علی میں اس طرح گویا ہوئیں :
(الحمد للہ و الصلاة علی ابی محمد و آلہ الطیبین الاخیار)جناب زینب نے سب سے پہلے خداوند متعال کی حمد و ثنا کی اور اس کے بعد کہا درود و سلام ہو میرے باپ محمد پر اور ان کی پاک و پاکیزہ آل پر اس کے بعد امام حسن و امام حسین علیہما السلام کے فضائل و مناقب اور خاص طور پر مظلومیت کا اعلان کیا لوگوں کی آنکھوں سے اشک جاری ہو گئے آہ و فغاںکی آواز بلند ہو گئی اس وقت آپ نے فرمایا :(یا اہل الکوفہ یا اھل الختل و الغدر أ تبکون)۔(٩)
ختل کے معنی خائن اور عہد و پیمان کے توڑنے والے کے ہیں یعنی جناب زینب اس جملے سے یہ بتانا چاہتی ہیں کہ تم لوگوں نے میرے باپ علی کے ساتھ جنگ جمل و صفین میں اور میرے بھائی حسین کو خطوط لکھ کر اس عہد و پیمان کو توڑا اور آج گریہ و فغاں کر رہے ہو! ( ای و اللہ فابکوا کثیراً و اضحکوا قلیلاً)جناب زینب کے ان کلمات سے لوگوں کے ضمیروں پر ایک ہوش اڑادینے والا جھٹکا لگا مجمع میں ایک حرکت بیداری پیدا ہوئی ،ابن زیاد کے گماشتوں نے محسوس کیا کہ اگر اس خاتون کی تقریر اسی طرح جاری رہی تو مجمع قابو سے باہر ہو جائیگا، خون خرابے کی نوبت آ جائے گی خطبہ زینب کو کسی طرح روکا جائے ، بندوبست شروع ہو گیا ،ایک رائے قائم ہوئی کہ سر حسین کو سامنے لایا جائے جس وقت جناب زینب نے سر امام کو دیکھا پورا کربلا کا سماں آنکھوں کے سامنے آگیا اور جناب زینب سر کو محمل پرپٹکنے لگیںاور خون کا فوارہ جاری ہو گیا ۔اس طرح خطبہ جناب زینب کو روکا گیا اور امام سجاد کو دربار یزید میں اذا ن کے ذریعہ ۔آخرکار اسرائے اہلبیت دربار ابن زیاد میں لے جائے گئے اس وقت ابن زیاد ملعون نے پوچھا یہ کنیز کون ہے جناب فضہ نے کہا : یہ رسول خدا ۖ و علی و فاطمہ کی بیٹی زینب ہیں ابن زیاد ان سے مخاطب ہو کر کہتا ہے: اللہ کا شکر ہے کہ اللہ نے تمہارے مردوں کو قتل کیا اور تم لوگوں کو ذلیل و رسوا کیا ثانی زہرا نے جواب دیا :خدا نے اپنے پیغمبر کے ذریعہ ہم کو عزت و کرامت بخشی اور ہر طرح کی کثافت اور پلیدگی و نجاست سے پاک رکھا ہے فقط فاسق اور بے دین افراد ذلیل و رسوا ہیں ،الحمد للہ وہ ہم نہیںہیں ۔
دشمن دین دوبارہ کہتا ہے کہ کیا تم نے دیکھا نہیں کہ خدا نے تمہارے خاندان کے ساتھ کیا کیا؟آپ نے ارشاد فرمایا:(ما رأیت الا جمیلا)میں نے اس کی ذات سے سوائے نیکی و بھلائی کے کچھ نہیں دیکھا۔ اس جواب سے ابن زیاد آگ بگولہ ہو گیا اور قتل کا حکم دیا اس وقت عمر بن حریث نے کہا : ابن زیاد تو کیا کہہ رہا ہے !عورتوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک ٹھیک نہیں ،یہ سن کر وہ خبیث اپنے ارادے سے باز آیا۔ اس کے بعد اہل بیت علیہم السلام کا لٹا ہوا قافلہ شام پہنچا قلم میں اتنی طاقت نہیں کہ ان مصائب کو تحریر کر سکے، تمام تر مصیبتوں کو برداشت کرکے یہ کارواں مدینہ منورہ میں داخل ہوا لیکن اس وقت کے سماںسے غض نظر کرتے ہوئے یہ کہنا ہے کہ اس کے بعد جناب زینب کا یہ وتیرہ ہو گیا تھا کہ ہمیشہ مظلومیت اما م کا مرثیہ پڑھتی رہیں آخرکار ظالموں نے مدینہ میں بھی سکون سے نہ رہنے دیا، جناب زینب کو دوبارہ ترک وطن کرنا پڑا لیکن کہاں گئیں ،کس طرح وفات ہوئی، کب ہوئی ، کہاں دفن ہیں اس سلسلے میں بھی اختلاف ہے مشہور ہے کہ ١٤ رجب ٦٢ھمیں وفات ہوئی بعض تحریر کرتے ہیں مدینہ میں دفن ہیں بعض تحریر کرتے ہیں شام میں اور بعض مصر میں کہتے ہیں یہ بھی تاریخ کا ایک انوکھا ظلم ہے جو جناب زینب پر ہوا۔
حوالہ جات
١۔سورۂ بقرہ ١٥٢ ۔
٢۔زینب بنت الحسین ،علامہ محمد حسین الادیب ،ص ١٤،زینب کبریٰ،سید محمد کاظم قزوینی ،ص ٧٢۔
٣۔بنت شاطی ،بطلئہ کربلا ،ص ١٦ ۔
٤۔ناسخ التواریخ باب جناب زینب ۔
٥۔زینب اخت الحسین ص ٥٥،سفینة البحار ج ٨۔
٦۔مقاتل الطالبین ص ٦٠ مطبوعہ نجف اشرف۔
٧۔معالی السبطین زینب کبریٰ ،علامہ قزوینی۔
٨۔سورۂ زمر ٤٢۔
٩۔زینب کبریٰ علامہ قزوینی ص ١٩٩۔

مقالات کی طرف جائیے