مقالات

 

غدیر کی جامعیت ؛رہبر معظم آیۃ اللہ خامنہ ای کی نگاہ میں

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

یہ سچ ہے کہ واقعہ غدیر سے ہم شیعوں کا قلبی رابطہ مستحکم ، اٹوٹ اور دنیائے اسلام میں انتہائی برجستہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ غدیر کا مسئلہ اپنے مفاہیم و مفاد کے اعتبار سے صرف شیعوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ تمام دنیائے اسلام سے مربوط و متعلق ہے ۔ چونکہ واقعہ غدیر میں اسلام کا حقیقی مضمون اور اس کی روح موجود ہے اسی لئے خداوندعالم نے رسول خداؐکوان کی تئیس سالہ تبلیغی خدمات کے باوجودوفات سے ٧٠ دن پہلے حکم دیتے ہوئے فرمایا :
( یَاَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا ُنزِلَ ِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ) ''اے پیغمبر !آپ اس حکم کو پہنچا دیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیاگیاہے اور اگر ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے اپنی رسالت کو انجام نہیں دیا ''۔
اس تاکیدی حکم سے معلوم ہوتاہے کہ اسلام کا حقیقی مضمون اور اس کی روح ، واقعہ غدیر میں موجود ہے ۔
غدیر میں دو باتیں پائی جاتی ہیں :
١۔ امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب علیہما السلام کا تعین ؛
٢۔ وہ معیار ات جنہیں رسول خداؐنے خطبہ غدیر میں امیرالمومنین کے انتصاب کے فلسفہ کے ذیل میں پیش فرمایاہے ۔
یہ عظیم اور تاریخ ساز تحول یعنی امیر المومنین کا انتصاب بعض معیارات پر موقوف ہے ، اس کا ایک مخصوص مفہوم ہے، اگر چہ ولایت ایک اساسی امر ہے لیکن ولایت کے تمام مفاہیم کو سیاست کے ذیل میں پیش نہیں کیاجاسکتا، یہ ولایت ، خداوندعالم کی ولایت کا پرتو اور ایک نمونہ ہے ۔
اس ولایت کا مفہوم یہ ہے کہ خداوندعالم کی ولایت امیر المومنین کے بابرکت وجود میں اسی طرح ظہور پذیر ہوئی ہے جس طرح رسول اکرمؐ کے وجود میں جلوہ گر تھی ، یہ ولایت اسی اصل کی ایک فرع اور اسی اساس کا ایک ثمرہ ہے ، اسی لئے اسے ''ولایت ''سے تعبیر کیاگیاہے ۔ ولایت در اصل ، ارتباط و اتصال کے معنی میں ہے ، جو اس عظیم مقام سے منصوب ہے وہ دنیا کے دوسرے حاکموں اور بادشاہوں کے برخلاف صرف ایک حاکم نہیں ہوتابلکہ وہ ولی ہوتاہے ، لوگوں سے قریب اور ان سے وابستہ ہوتاہے ، وہ لوگوں کے دل و جان سے قریب ہوتاہے ،یہی مفہوم امیر المومنین اور تمام ائمہ طاہرین علیہم السلام میں پایاجاتاہے نیز ائمہ طاہرین کے بعد اگر اس حقیقت کا تھوڑا سا نور بھی کہیں جلوہ گر ہوگا وہیں یہ ولایت عملی صورت میں نظر آئے گی،یہ ہے حقیقت مطلب ۔اسی لئے رسول خداؐ نے امیر المومنین کے صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: اعد لکم فی الناس ''لوگوں کے درمیان تم میں سب سے بڑے عادل علی ہیں ''۔اس سے امیر المومنین علیہ السلام کی معنوی، داخلی اور فردی عدالت بھی مراد ہے اور آپ کی رفتاری اور اجتماعی عدالت بھی ۔ یہی وہ چیزیں ہیں جنہیں زبان سے آسانی کے ساتھ بیان کیاجاسکتاہے لیکن ان چیزوں کو عملی انداز میں پیش کرنا اہم ہے ۔ عدالت اپنے حقیقی اور واقعی مفہوم کے ساتھ امیر المومنین کے کردار میں ، ان کے تقویٰ میں بلکہ ان کے پورے وجود میں جلوہ گر تھی ۔
ان کے خارجی کردار میں بھی عدالت پوری طرح مجسم تھی ، آج صدیوں بعد اگر کوئی عدالت کی تعریف کرنا چاہتاہے اور اسے مثال اور نمونے کے ضمن میں بیان کرنا چاہتاہے تو اسے امیر المومنین سے بہتر اور مکمل نمونہ کہیں اور نظر نہیں آئے گا ،اسی لئے رسول خداؐنے اپنے پروردگار کے حکم سے امیر المومنین کو ولایت کے عظیم منصب پر فائز کیا ، یہ ایک اسلامی حقیقت ہے ؛ یہ مفہوم کہاں ..؟ اور اسی کے مد مقابل یہ مفہوم کہاں کہ کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ ایک ظالم و جابر اپنے طفلانہ رفتار و کردار کے ذریعہ لوگوں پر حکومت کرسکتاہے ، لوگوں کو اس کی اطاعت کرنی چاہئے ...؟!یہ حقیقی اسلام ہے یا وہ ...؟!
اسی لئے غدیر اپنے مفاہیم و مفاد کے اعتبار سے تمام مسلمانوں سے مربوط و متعلق ہے کیونکہ اس کا مطلب عدالت کی حکومت ، فضیلت کی حکومت اور ولایت اللہ کی حکومت ہے ؛ اگر ہم بھی حقیقتاًامیر المومنین کی ولایت سے متمسک ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے آپ کو اور اپنے ماحول کو عدالت سے نزدیک کریں، اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ عدالت قائم کریں ، اس لئے کہ عدالت کا دامن لامحدود ہے ، ہم معاشرے میں جس قدر عدالت رائج کریں گے ، امیر المومنین اور ان کی عظیم ولایت سے ہمار ا تمسک بھی اسی قدر زیادہ مستحکم اور اٹوٹ ہوگا ۔

نقل از : بر ساحل غدیر ، رسول عارفیان ص٢٥۔٢٧
١٣٨٣ھ قمری میں بعض مسئولین سے رہبر معظم مدظلہ کا خطاب

مقالات کی طرف جائیے