مقالات

 

شہادت امام حسین علیہ السلام کے اسباب کا تاریخی جائزہ

حجۃ الاسلام آقای سید جواد حسینی/ترجمہ: رضوان علی

ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال سراٹھائے کہ جب امام حسن نے صلح نامہ پر دستخط کردیا تھا تو پھر معاویہ نے آپ کو زہر دغا سے شہید کیوں کرایا؟جوانان جنت کے سردار، نواسۂ رسول ۖ کا ناحق خون بہاکر اپنے سیاہ کارناموں کی کتاب میں ایک اور باب کا اضافہ کیوں کیا؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ معاویہ کسی بھی طرح اپنے ناخلف بیٹے''یزید''کواپنے بعد اپنا جانشین بنانا چاہتاتھا چنانچہ وہ ہمیشہ اس ہدف تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش میں لگارہا، اس نے یزید کی تربیت کے لئے ایسے اساتذ ہ کا اہتمام کیاجوخلافت کا ظاہری لبادہ پہنانے میں یزید کی مدد کرسکیں، معاویہ اپنے اس ہدف کو عملی جامہ پہناکر اپنے باپ ''ابوسفیان ''کی اس وصیت پر عمل پیرا ہونا چاہتا تھا جسمیں اس نے کہا تھا کہ خلافت کو بنی امیہ کے ہاتھوں سے نہ نکلنے دینا اور اس سے گیند کی طرح کھیلتے رہنا۔
معاویہ اچھی طرح جانتا تھا کہ یزید کی جانشینی کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں درپیش ہیں، جب تک ان رکاوٹوں کو برطرف نہ کیا جائے گا تب تک یزید کا تخت خلافت تک پہونچنا مشکل ہے۔
پہلی رکاوٹ: اسلامی معاشرہ میں بزرگ شخصیتوں کی موجودگی؛ اس لئے کہ جب تک معاشرہ میں یہ حضرات موجود ہیں تب تک معاویہ اپنے مقصد کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتا۔
دوسری رکاوٹ: امت مسلمہ کے درمیان کچھ ایسے افراد بھی تھے جنھوں نے معاویہ کے بعد اپنے آپ کو خلافت کا لائق امیدوار سمجھ لیا تھا اور اس امیدواری کو اپنا حق بھی سمجھتے تھے۔
تیسری رکاوٹ: جو سب سے بڑی رکاوٹ ہے وہ امام حسن کی موجودگی ہے، آپ کی ذات میں وہ تمام صفات موجود تھیں جو ایک لائق اور شائستہ خلیفہ کے لئے درکارہوتی ہیں، اور یہ بات صلح نامہ میں بھی موجود تھی کہ معاویہ کے بعد امت مسلمہ کے خلیفہ آپ ہوں گے۔ ان رکاوٹوں کے علاوہ بھی دیگر مشکلات تھیں جومعاویہ کے لئے دردسر بنی ہوئی تھیں مثلاً شیعوں کا وجود بالخصوص شیعیان عراق۔
معاویہ نے مکروفریب سے بھرپور اپنی شیطانی سیاست کے سہارے ایسے حربے استعمال کئے جن کے ذریعہ یزید کی جانشینی کے راستہ سے تمام رکاوٹوں کو ہٹاسکے اور یزید کو تخت خلافت تک پہونچا سکے۔
معاویہ کے کچھ اہم حربے ملاحظہ فرمائیئے:

الف: لوگوں کو لالچ دے کرخرید نا:
معاویہ نے یزید کو خلیفہ بنانے کے لئے جو راستے اختیار کئے ان میں سے ایک یہ تھا کہ جن لوگوں کے بارے میں یہ خیال تھا کہ یہ لوگ یزید کی ولایت عہدی کے راستہ میں مشکل ایجاد کرسکتے ہیں، ان کو معاویہ نے لالچ کے ذریعہ خریدنا شروع کردیا، اس حربہ کے ذریعہ وہ بہت زیادہ کامیاب رہا کہ جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
١۔ عبد الرحمن بن ابوبکر: معاویہ نے عبدالرحمن کے پاس ایک لاکھ درہم بھیجے تاکہ اسے خرید سکے لیکن عبدالرحمن نے درہم لینے سے انکار کردیا،کہا:''لاابیع دینی بدنیایی''(١)
یعنی میں اپنے دین کو دنیا کے عوض نہیں بیچوںگا۔
٢۔عبداللہ ابن عمر: عبد اللہ ابن عمر یزید کی ولایت عہدی کے مخالفوں میں شمار ہوتا تھا ، وہ اس زمانہ میں لوگوں کے درمیان دو اعتبار سے مقبول تھا: پہلی چیز تو یہ تھی کہ وہ ظاہری طورپر مقدس تھا، اس دور کے مسلمان اس کی بہت زیادہ عزت کرتے تھے، بعض لوگ تو اس کو اپنا آئیڈیل سمجھتے تھے، لیکن اس کا باطن بغض و نفاق سے لبریز تھا، اس نے خلفائے ثلاثہ کی بیعت کی لیکن جب حضرت علی خلیفہ ہوئے تو بیعت سے انکار کردیا، پھر اس نے معاویہ اور اس کے بیٹے یزید حتی حجاج بن یوسف(جوکہ عبدالملک بن مروان کا نمائندہ تھا)کے ہاتھوں پر بھی بیعت کی۔
دوسری چیز جو معاشرہ میں عبداللہ ابن عمر کی مقبولیت کا سبب بنی وہ یہ کہ وہ عمر کا بیٹا تھا، عمر کو دل و جان سے چاہنے والے اسے بھی دل وجان سے مانتے اور اس کا احترام کرتے تھے۔
معاویہ نے سوچاکہ ایک ایسا شخص جس کا اسلامی معاشرہ اور مسلمانوںکے درمیان کافی اثر ورسوخ ہے، اگر اسے کسی طرح یزید کی ولایت عہدی کے لئے راضی کرلیاجائے تو بہت زیادہ فائدہ مند ہوگا، اس نے عبد اللہ ابن عمر کے لئے بہت ہی احترام کے ساتھ ایک لاکھ درہم روانہ کئے، عبد اللہ نے سکّوں کی گرمی کے پیش نظر سکوت اختیار کیاجو یزید کی ولایت عہدی کی تائید تھی۔(٢)
٣۔ منذر بن زبیر: منذر، زبیر کا بیٹا اور یزید کی ولایت عہدی کے مخالفوں میں سے تھا، معاویہ نے اس کے پاس ایک لاکھ درہم اس شرط کے ساتھ بھیجے کہ وہ یزید کی ولایت عہدی کے سلسلہ میں سکوت اختیار کرے۔
اس نے معاویہ کی جانب سے آئی ہوئی دولت قبول کر لی لیکن بعض اوقات یزید کے خلاف ایسی باتیں کرتا تھا کہ جن سے مخالفت کا پتہ چلتا ہے۔ اور جب معاویہ نے علی الاعلان یزید کی ولایت عہدی کی بات کی تو اس نے عملی طور پر کوئی ایسا کام نہیں کیا کہ جس سے اس کی مخالفت کا پتہ چلے، وہ لوگوں سے کہا کرتا تھا: ''اِنَّہُ قَدْ اَجَائَ نِیْ بِمِائَةِ اَلْفٍ وَلَا یَمْنَعْنِیْ مَا صَنَعَ بِیْ اَنْ اُخْبِرَکُمْ خَبَرَہُ وَاللّٰہِ اِنَّہُ یَشْرِبُ الْخَمْرَ وَاللّٰہِ اِنَّہُ یُسْکِرُ حَتَّی یَدَعَ الْصَّلَواةَ''۔(٣)
معاویہ نے مجھے ایک لاکھ درہم میں خریداہے تاکہ میں سکوت اختیار کروںلیکن یہ درہم حق بیانی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیںگے؛ خدا کی قسم! یزید شراب پیتا ہے، خدا کی قسم! وہ مستی کے عالم میں نماز کو ترک کردیتا ہے۔
٤۔ عروة بن مغیرہ:معاویہ نے اپنے کوفہ کے والی، مغیرہ بن شعبہ کو حکم دیا کہ وہ کوفہ سے کچھ ایسے افراد کا انتخاب کرکے ہمارے پاس بھیجے جو ہم سے یزید کی جانشینی کی درخواست کریں، مغیرہ نے کوفہ سے اپنے بیٹے عروہ کی سرپرستی میں چالیس افراد کو شام کی جانب روانہ کیا، ان لوگوں نے شام میں معاویہ سے ملاقات کرکے، یزید کی جانشینی کی درخواست کی: اے امیر! آپ کیوں خاموش ہیں حالانکہ لوگ انتظار کررہے ہیں؟ اے امیر!ہم آئندہ کے سلسلے میں کچھ نہیں جانتے۔
مصلحت کا تقاضہ یہ ہے کہ آپ، لوگوں کے درمیان یزید کو اپنا جانشین بنائیں۔
حاضرین محفل میں سے کسی نے عروہ سے سوال کیا: تمہارے باپ نے ان لوگوں کو کتنے میںخریدا؟ عروہ نے جواب دیا: تیس ہزار درہم میں۔ اس نے کہا : مجھے حیرت ہے کہ ان لوگوں کا دین کتنا سستا تھا!۔(٤)

ب: بعض لوگوں کو جلا وطن کرنا:
معاویہ نے یزید کی خلافت کو ہموار کرنے کے لئے جو دوسرا راستہ اختیار کیا وہ یہ ہے کہ اس نے اسلامی معاشرہ کی عظیم شخصیتوں کو مرکز خلافت سے دور کردیا؛ جو لوگ مرکز خلافت سے دور کئے گئے ان میں سعید بن عثمان بن عفان سرفہرست ہے۔
سعید بن عثمان کے سلسلے میںملتا ہے کہ مدینہ والے یہ سمجھتے تھے کہ معاویہ کے بعد سعید بن عثمان ہی خلیفہ ہوگا۔
سعید کے قبیلہ میں اس کے پیروکاروں میں حتی بنی امیہ میں بھی اس کا یہی مرتبہ تھا؛ ان لوگوں کو یقین تھا کہ معاویہ کے بعد سعید ہی خلیفہ ہوگا، ان لوگوں نے اپنے اس یقین کو اپنا شعار بھی بنالیا تھا:
''واللہ لاینالھایزید۔حتی ینال ہاتہ الحدید.ان الامیر بعدہ سعید''۔
خدا کی قسم! یزید، حکومت تک نہیں پہونچ سکتا،اگر وہ ایسا سوچتا ہے تو ہم اسے قتل کردیںگے، معاویہ کے بعد،سعید حکمراں ہے۔(٥)
ابن اثیر کابیان ہے: ''ایک دن سعید نے معاویہ سے ملاقات کی اور اس سے کہا: سناہے کہ تم یزید کو اپنا جانشین بنانا چاہتے ہو! معاویہ نے کہا: ہاں! ایسا ہی ہے؛ سعید نے کہا: تم ہمارے باپ(عثمان)کے رحم وکرم اورانہیں کی خونخواہی کی بدولت اس مقام تک پہونچے ہو؛ اس کے باوجود اپنے بیٹے یزید کو میرے اوپر ترجیح دے رہے ہو؟ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں شخصی اعتبار سے او رماں باپ کے اعتبار سے اس امر کا یزید سے زیادہ حقدار ہوں؛ اگر باپ کو دیکھو تو میرا باپ، عثمان اور اس کاباپ،معاویہ ہے اور اگر ماں کی جانب سے دیکھو تو یزید کی ماںعیسائی اور اس کی تربیت بھی عیسائی نے کی ہے ''۔
معاویہ نے سعید کی باتوں کو سن کر کہا: ''تم نے اپنے باپ (عثمان)کا احسان میرے سلسلہ میں یاد کیا بے شک اس نے میرے اوپر بہت بڑا احسان کیا ہے، اس نے مجھے مستقل طور پر شام کا والی منصوب کیا،اس بات سے انکار نہیں...''وہ دوسری بات جو تم نے کہی کہ سعید کے ماںباپ، یزید کے ماں باپ سے بہتر ہیںوہ بھی صحیح ہے،تمہاری ماں کلبیہ،یزید کی ماں سے بہتر ہے، لیکن تمہارا یہ کہنا کہ تم یزید سے بہتر ہو! خداکی قسم! اگر پورا دمشق تم جیسوں سے بھر جائے تب بھی میرے لئے یزیدتم سب سے بہتر اور محبوب ہے۔
معاویہ کے یہ فقرے اس کے باطن کو اچھی طرح بیان کر رہے ہیںکہ معاویہ کسی بھی قیمت پر یزید کی ولی عہدی سے دست بردار ہونے والا نہیں تھا؛ وہ یزید کی نالائقی اور ولی عہدی کے اصلی حقدار کے درمیا ن کا فرق اچھی طرح سمجھتا تھا۔ اسی لئے اس کی کوشش یہ تھی کہ خلافت کے لئے اچھے امیدوار کی تلاش کے بجائے یزید کی جانشینی کے راستے میں آنے والے کانٹوں کو صاف کردے، اسی لئے اس نے سعید کو محترمانہ طریقہ سے مرکز خلافت سے دور کرنے کا ارادہ کیا، اس نے سعید سے کہا: خراسان کے گورنر بن جائو۔ معاویہ کا مقصد، سعید کو گورنر بنانا نہیں تھابلکہ اس کو مرکز خلافت سے دور کرکے اس کا کام تمام کرنے کا ارادہ تھا، اس نے سعید کے غلاموں اور ہمنوائوں کوحکم دیا کہ سعید کا کام تمام کرکے اس کے قتل کے ثبوت کو مٹادیں۔(٦)

ج: بزرگان شیعہ کا قتل عام:
معاویہ نے اپنے چھ گورنروں اور حاکموں کی مدد سے کہ جنہیں دشمنی اہلبیت میں شہرت حاصل تھی، شیعیان اہلبیت خاص طور سے شیعوں کی بزرگ اور عظیم شخصیتوں کے قتل کی تحریک چلائی۔
وہ چھ حاکم مندرجہ ذیل ہیں:
١۔ مغیرہ بن شعبہ: اہلبیت عصمت و طہارت کا معروف دشمن۔
٢۔ زیاد بن ابیہ۔
٣۔ عبد اللہ بن خالدبن اسیدکہ جو قبیلۂ بنی امیہ میں سے تھااور عثمان کا داماد بھی تھا۔
٤۔ ضحاک بن قیس: جنگ صفین میں لشکر شام کا کمانڈر، معاویہ کے دور خلافت اور بنی امیہ کے دیگر خلفاء کے دور میں بھی فوج کا داروغہ تھا۔
٥۔ عبدالرحمن بن ام حکم(ام حکم،معاویہ کی بہن اور ابوسفیان کی بیٹی تھی، یہ وہی ہے کہ جس پر امام صادق علیہ السلام ہر نماز کے بعد لعنت بھیجتے تھے)۔
٦۔ نعمان بن بشیر: یہ وہی شخص ہے کہ جس نے سقیفہ میں انصار کے درمیان اختلاف پیدا کیااور ابوبکر کی حمایت کی، اس نے کربلا کے بعد اسیروں کو لے جانے اور جناب مسلم کی شہادت میںاہم کردار ادا کیا۔
ان چھ لوگوں نے کوفہ کے شیعوں کو بہت اذیت دی اور ان کے بزرگوں کو شہید کیا، یہ لوگ اس ظلم اور اذیت کے ذریعہ دو مقاصد تک رسائی حاصل کرنا چاہتے تھے:
پہلا مقصد: وہ حضرات جو یزید کی ولایت عہدی کے مخالف ہیں ان کو راستہ سے ہٹایا جائے۔
دوسرا مقصد: ممکن ہے کہ شیعیان کوفہ آئندہ حسن یا ان کے جانشین(حسین )کی بیعت کرلیںاور ان کی مدد کریں، وقت مناسب ہے کہ ان پر ظلم و ستم کرکے یا ان کے بزرگوں کو قتل کرکے کوفہ سے حسن کی نصرت کو ختم کردیا جائے۔
ان مظالم کی سربراہی کی ذمہ داری، زیاد بن ابیہ کے سپرد تھی اور اس نے اس ذمہ داری کو بخوبی نبھایا چونکہ وہ کوفہ کی عوام سے اچھی طرح واقف تھا، وہ راہ میں رکاوٹ بنے لوگوں کو قتل کردیتا تھا''کان یتتبع شیعة علی''۔(٧)
یہ ہمیشہ شیعوں کا تعاقب کرتا رہتا تھا، اس نے عمرو بن حمق خزاعی کو گرفتار کرکے قتل کرادیا، شہادت کے بعد ان کے سر کو قلم کرکے معاویہ کے پاس بھیج دیا؛ مورخین کیا بیان ہے: تاریخ اسلام میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے والا سب سے پہلا سر، عمرو بن حمق خزاعی کا سر تھا۔(٨)
اس نے حجربن عدی کندی کو گرفتار کرکے ان کو واجب القتل ثابت کرنے کے لئے، شمر بن ذی الجوشن و عمرسعد جیسے تین افراد سے فتویٰ طلب کیا، اگرچہ اہلسنت کے بزرگ علماء حجر بن عدی کندی کو رسول ۖ کا بزرگ و محترم صحابی سمجھتے ہیں۔

د: اہم اور کردار ساز افراد کا قتل:
یزید کی ولایت عہدی کی فضا ہموار کرنے کے لئے معاویہ کی خطرناک سازش، ایسی عظیم شخصیتوں کا قتل تھاجن کا معاشرہ میں کسی طرح کا اثر و رسوخ تھا اور وہ یزید کی ولایت عہدی کے مخالف تھے، معاویہ کے حکم سے قتل ہونے والوں کی فہرست مندرجہ ذیل ہے:
١۔ سعد بن ابی وقاص: یہ یزید کی ولایت عہدی کا مخالف تھااور اس کی یہ مخالفت اس بناپر نہیں تھی کہ وہ امیر المومنین کا چاہنے والا تھابلکہ وہ معاویہ سے عداوت رکھتا تھاورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ عمرکی چھ افرادپر مشتمل کمیٹی میں شامل تھا، جب حضرت کی حمایت کی بات آئی تو اس نے حمایت سے انکار کردیا جب کہ وہ حضرت پر سبّ و شتم بھی نہیں کرتا تھا۔
معاویہ نے مدینہ کے ایک سفر میں سعد کو اپنی محفل میں بلایا، جب وہ آیا تو اس کے احترام میں کھڑا ہوگیا، اپنے پہلو میں جگہ دی اور اس سے سوال کیا:اے سعد! تم ابوتراب پر سبّ و شتم کیوں نہیں کرتے؟ سعد نے جواب دیا: میں پیغمبر اکرمۖ کی زبانی علی کے بارے میں ایسے ایسے فضائل سنے ہیں کہ جب تک وہ فضائل میرے ذہن میں موجود ہیںتب تک ہرگز ان کو لعن طعن نہیں کرسکتا۔ معاویہ، سعد کی باتوںسے بہت ناراض ہوا اور محفل سے نکل گیا۔ اس نے سعد کی باتوں کو سن کر مصمم ارادہ کرلیا کہ جس طرح بھی ممکن ہوسکے اس کو یزید کی ولایت عہدی کے راستہ سے ہٹایاجائے، اسی لئے اس نے سعد کو زہر دلاکر شہید کرادیا۔
٢۔ عائشہ: اس سے قبل بیان کیاگیا کہ معاویہ، یزید کی ولایت عہدی کا زمینہ فراہم کرنے کے لئے اکثر وبیشتر مدینہ کا سفر کیاکرتا تھا،وہاں جاکر اس کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ یزید کے لئے مدینہ کی عظیم شخصیتوں کی حمایت حاصل کرے، اسی سلسلہ میں اس نے عائشہ سے ملاقات کی، اس ملاقات میں اس کی کوشش یہ تھی کہ وہ عائشہ کے احساسات و جذبات کو ابھارے یا یزید کی ولایت عہدی کوقضائے الٰہی کہہ کر سمجھائے کہ وہ یزید کی مخالفت نہ کریں، وہ ان سے مخاطب ہوکر کہتا ہے: یزید کی جانشینی تقدیر الٰہی ہے، لوگوں کو اس میں دخالت کا حق حاصل نہیں ہے، لوگوں نے اس کی بیعت کرلی ہے ، کیا آپ سوچ سکتی ہیں کہ وہ اپنی بیعت سے پلٹ جائیںگے!؟۔
عائشہ نے جواب دیا: اے معاویہ! خدا سے ڈر...اور اس کی طرف غلط اور جھوٹی نسبت نہ دے، لوگوں کے حق میں جلد بازی میں فیصلہ نہ کر۔
شیعوں کی معتبر کتب میںمرقوم ہے کہ جب معاویہ، منبر سے یزید کی ولایت عہدی کا اعلان کررہا تھا تو عائشہ کھڑی ہوکر بولیں: ''ھل استدعی الشیوخ لبنیھم البیعة'' اے معاویہ! کیا خلفاء ثلاثہ نے اپنے بیٹوں کے لئے بیعت لی ہے؟ معاویہ نے جواب دیا: نہیں۔ عائشہ نے کہا: تو پھر یہ بتائو کہ تم کس کی پیروی کررہے ہو؟ معاویہ، عائشہ کی بات سن کر بہت شرمندہ ہوا۔
اس واقعہ کے بعد معاویہ نے، عائشہ کو قتل کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا، واقعہ کچھ اس طرح پیش آیا کہ ایک روز عائشہ، معاویہ سے ملاقات کرنے اس کے گھر گئیں، اس نے پہلے سے ہی اپنے صحن میں ایک بڑا گڑھا کھود رکھا تھا، جب وہ اس کے گھر میں داخل ہوئیں تو اپنی سواری سمیت اس گڑھے میں گرگئیں،اس طرح معاویہ نے ان کا بھی کام تمام کردیا۔
٣۔ عبدالرحمن بن ابوبکر: یزید کی ولایت عہدی کاایک مخالف، ابوبکر کا بیٹا(عبدالرحمن)بھی تھا، اس نے معاویہ کی جانب سے بھیجے ہوئے ایک لاکھ درہم یہ کہہ کرواپس کردیئے کہ ''لاابیع دینی بدنیایی''یعنی میں اپنے دین کو دنیا کے عوض فروخت نہیں کروںگا، معاویہ کے درہم واپس کرنے کے کچھ ہی روزبعد،اس کو مشکوک طریقہ سے قتل کردیا گیا۔(٩)
اہلسنت کے مورخین نے اس واقعہ کو زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے، معاویہ نے عبد الرحمن کو دھمکی دی کہ میں نے تمہارے قتل کا ارادہ کرلیا ہے، اس دھمکی کے کچھ دن بعد ہی اس کی لاش پائی گئی۔(١٠)
ابن اثیر نقل کرتے ہیں: مدینہ کے گورنر (مروان)نے لوگوں سے مخاطب ہوکرکہا: امیر المومنین (معاویہ بن ابوسفیان)نے اپنا جانشین منتخب کرلیا ہے، عبد الرحمن کھڑا ہوکر بولا: تم پر وائے ہو اے مروان! تم اور معاویہ دونوں ہی جھوٹے ہوتم لوگ امت محمدی کی خیرخواہی کے بجائے سلطنت اور بادشاہت کے راستے پر چل پڑے!اگر تمہارا کوئی مرتا ہے تو اپنے خاندان سے اس کاجانشین تلاش کرلیتے ہو۔ عبد الرحمن کے اس اعتراض کے بعد، حکومت کے کارندے اس کا تعاقب کرنے لگے، اس نے خود کو بچانے کے لئے عائشہ کے گھر میں پناہ لی، عائشہ نے اس کو پناہ دی اور مروان پر علیٰ الاعلان لعن و نفرین کی۔(١١)
اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ عبدالرحمن کا مشکوک طریقہ سے قتل کیا جانا، معاویہ اور اسکے کارندوں کی سازش کا نتیجہ ہے تاکہ یزید کی ولایت عہدی کا راستہ صاف ہوجائے۔
توجہ طلب بات یہ ہے کہ بخاری نے اس واقعہ کو نقل کرتے ہوئے صرف یہ لکھا ہے کہ عبدالرحمن نے مروان سے کچھ کہا؛ یہ نہیں لکھا کہ عبدالرحمن نے مروان ومعاویہ کو جھوٹا کہا لیکن طبری نے وضاحت کی ہے کہ معاویہ نے عبدالرحمن سے کہا :''واللہ لقد ہممت ان اقتلک''خدا کی قسم!میں نے تیرے قتل کا ارادہ کرلیا ہے۔(١٢)
٤۔ عبدالرحمن بن خالد: یہ خالد بن ولید کا بیٹا تھا، خالد کا شمار اہلبیت علیہم السلام کے شدت پسند دشمنوں میں ہوتا ہے لیکن اس کا ایک مہاجر نامی بیٹا، امیر المومنین علی ابن ابیطالب علیہم السلام کے چاہنے والوں میں تھا، جنگ صفین میں آپ کے ہمراہ تھا۔ لیکن عبد الرحمن جو مہاجر کا بھائی تھا وہ معاویہ کے لشکر کا علمدار تھاجو شامیوں کا محبوب تھا، شامیوں کی یہی چاہت سبب بنی کہ عبدالرحمن معاویہ کی نظروں سے گرجائے۔
ہماری اس بات کا گواہ ابن عبدالبر کی تحریرہے جو لکھتے ہیں: معاویہ نے لوگوں سے اپنے بیٹے یزید کے لئے بیعت لینے کا ارادہ کیا ،وہ لوگوں سے مخاطب ہوکر بولا: اے لوگو! اب میں بوڑھا ہوچکاہوںاور موت بھی نزدیک ہے، اس بڑھاپے میں مجھے یہ فکر لاحق ہے کہ تمہاری سرپرستی کس کے حوالہ کروں! جوتمہارے اتحاد کو برقرار رکھ سکے اور حکومت کی باگ ڈور اچھی طرح سنبھال سکے، میں اس مسئلہ میں تمہاری طرح ہوں، تم لوگ اپنی رائے سے آگاہ کرو۔ سبھی نے ایک رائے ہوکر کہا: ہم عبد الرحمن بن خالد کو آپ کا جانشین منتخب کرتے ہیں۔
شامیوں کی یہ رائے معاویہ کے گوش سماعت پر گراں گزری، اس نے اپنے آپ کو ایک نئی مصیبت میں مبتلا پایا لیکن اس نے اپنی مکاری کو لوگوں پر آشکار نہیں ہونے دیااور اس نئی مصیبت سے نجات پانے کا مصمم فیصلہ کرلیا، اسی اثناء میں عبد الرحمن سخت بیمار ہوگیا، معاویہ نے ایک (اپنا معتمد اور معتبر) یہودی طبیب عبدالرحمن کے علاج کے لئے روانہ کیا نیز اس نے طبیب کو تاکیدکی کہ علاج کے دوران عبد الرحمن کے لئے زہر کا استعمال کرے تاکہ اس کا کام تمام ہوجائے اور اہل شام یہ سمجھیںکہ عبد الرحمن بیماری کی وجہ سے مرگیا، طبیب نے معاویہ کے حکم کی تعمیل کی اور اس نے عبد الرحمن کے لئے ایسی دوا استعمال کی کہ جس سے اس کے پھیپھڑے اور گردوں نے کام کرنا بند کردیااور موت سے ہمکنار ہوگیا۔(١٣)
ابن عساکر نے اس طبیب کا نام ''ابن آثال''تحریر کیا ہے، ابن آثال نے معاویہ کے حکم پر عبد الرحمن کے قتل کی سازش کی، معاویہ نے اس کام کے عوض میں یہودیوں کا لگان (ٹیکس)معاف کردیا۔(١٤)
٥۔ زیاد بن ابیہ: اس کے حالات زندگی سے سبھی واقف ہیں، اس کا کوئی معین باپ نہیں تھا، معاویہ نے بعد میں اپنے باپ ابوسفیان کی جانب منسوب کردیا تھا، زیاد نے بھی یزید کی ولایت عہدی کی مخالفت کی، اس کی فکر یہ تھی کہ معاویہ کے بعد ریاست و حکومت کی باگ ڈور اس کے ہاتھوں میں آئے اسی لئے اس نے ایک خط کے ذریعہ معاویہ کو صلاح دی کہ یزید کو جانشین بنانے میں جلدبازی نہ کرے۔
جب اس کا یہ خط معاویہ کو ملا تو اسے پڑھ کر اس پر لعن و نفرین شروع کردی، معاویہ نے کہا: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ یہ شخص، خلافت و ریاست کا خواہشمند ہے، یہ سوچ رہا ہے کہ کسی طرح میرے بعدمیرا جانشین بن جائے، خدا کی قسم! میں نے اس کو اپنے باپ سے منسوب کیا تھا اب اس سے انکار کردوںگا اور پھر سے لوگ اس کے اور اس کی ماں کے سلسلے میں الٹی سیدھی باتیں کریںگے۔(١٥)
آخر کار زیاد ومعاویہ کے درمیان خط و کتابت کے کچھ دن بعد زیاد بن ابیہ کے ہاتھ پر ایک ایسازخم ظاہر ہوا جو اس کی موت کا باعث بنا، لوگوں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ زیاد، طاعون کا شکار ہوگیا۔ اکثریت نے یہ احتمال دیا ہے کہ زیاد بھی ان لوگوں میں سے ہے جن کو معاویہ نے زہر کے ذریعہ قتل کرایا ہے تاکہ یزید کی ولایت عہدی کاراستہ صاف ہوجائے۔
٦۔ امام حسن علیہ السلام (خلافت یزید کی بڑی رکاوٹ): امام حسن یزید کی جانشینی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے، آپ اس مسئلہ میں کئی اعتبار سے رکاوٹ بن رہے تھے:
١۔ آپ کی معنوی شخصیت ،خواص وعوام میں مقبول تھی، لوگ آپ کو اور آپ کے بھائی حسین کو جوانان جناں کا سردار سمجھتے تھے، آپ نے مدینہ میں جو دینی خدمات انجام دی تھیںان خدمات نے لوگوں کے درمیان آپ کی شخصیت کو اور بھی بڑھا دیا تھا۔ عراقیوں کے درمیان بھی آپ کو ایک خاص مقام حاصل تھا کہ جن کی اکثریت شیعوں پر مشتمل تھی، اسی وجہ سے معاویہ کے لئے آسان نہیںتھا کہ یزید کی ولایت عہدی کا اعلان کرے، وہ یزید جو معنویت سے کوسوں دور بلکہ ہمیشہ شراب و قمار میں مست رہتا تھا۔
٢۔ امام حسن کی شخصیت ایسی تھی کہ نہ تو ان کومعاویہ کی دھمکی پیچھے ہٹنے پر مجبور کرسکتی تھی اور نہ ہی طمع ،خاموشی اور تسلیم پر راضی کرسکتی تھی۔
اس سے قبل بیان کیاگیاکہ معاویہ نے یزید کی ولایت عہدی کے لئے درہم و دینار کے بل بوتے پر عبد اللہ بن عمرجیسے بہت سے لوگوں کی حمایت حاصل کرلی تھی یا سکوت پر مجبور کردیا تھا، اسی طرح معاویہ کا وہ حربہ جس کے تحت لوگوں کو جلا وطن اورمرکز خلافت سے دور کرناتھا،امام حسن کے سلسلہ میں کارگر ثابت نہ ہوسکاکیونکہ آپ نے معاویہ کی طرف سے دیئے جانے والے کسی بھی عہدہ کو لینے سے صاف انکار کردیا تھااور معاویہ کے اندر بھی اتنی جرأت نہ تھی کہ وہ ان عہدوں کے قبول کرنے پر امام کو مجبورکرسکے۔
٣۔ امام حسن اور معاویہ کے درمیان جو صلح نامہ تیار ہوا تھا اس کے مطابق ، معاویہ کو یہ حق حاصل نہیں تھاکہ وہ اپنے بعد کسی کو اپنا جانشین بنائے۔معاویہ کے بعدخلافت و حکومت براہ راست آپ تک پہونچتی، صلح نامہ کی یہ شرط یزید کی ولایت عہدی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔
علمائے اہل سنت نے بھی اپنی معتبر کتابوں میںاس بات کو نقل کیا ہے ، وہ امام کے اس قول کو نقل کرتے ہیںجسے آپ نے تکراراور تاکید کے ساتھ بیان فرمایا تھاکہ میں نے معاویہ کے ساتھ یہ موافقت کی ہے کہ خلافت اس کے بعد میری طرف پلٹے۔
ابن حجرلکھتے ہیں: ''لما قتل علی صار حسن بن علی فی اہل العراق و معاویة فی اہل الشام''(١٦)
''یعنی جب حضرت علی شہید ہوگئے تو حسن بن علی کو عراق اور معاویہ کو شام کی حکومت ملی''۔ امام حسن اپنے لشکر کے ہمراہ کوفہ سے اور معاویہ اپنے لشکر کے ہمراہ شام سے ایک جنگ کے لئے نکلے، دونوں لشکر ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے اور اسی دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ جس سے صلح کی نوبت آگئی ، امام حسن صلح پر مجبور ہوگئے، صلح نامہ تیار کیاگیا اس کے شرائط میں سے ایک شرط یہ تھی کہ ''معاویہ کے بعد خلافت، حسن کو ملے''(١٧)
قرطبی کابیان ہے: علماء اس بات پر متفق ہیں کہ حسن نے خلافت کو معاویہ کے سپرد فقط اس کی زندگانی کے آخری ایام تک کیا تھا (نہ کہ قیامت تک کے لئے)تاکہ جب معاویہ مرجائے تو یہ خلافت واپس آجائے،اور اسی شرط کے مطابق صلح نامہ پر دستخط کئے گئے تھے۔(١٨)
صلح نامہ کی اس شرط کو مدنظررکھتے ہوئے، معاویہ کے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ اپنے ناخلف بیٹے کی ولایت عہدی کا اعلان کرے، جب ہم صلح نامہ کی ان شرطوں پر غور کرتے ہیںتو پتہ چلتا ہے کہ امام نے صلح کے وقت کس قدر دقت نظر اور معاویہ کی شرارتوں کو مدنظر رکھ کر ہوشیاری سے کام لیا! آپ اچھی طرح جانتے تھے کہ معاویہ جن شرطوں کے ساتھ صلح نامہ پر دستخط کررہا ہے، ان شرطوں پر بالکل عمل نہیں کرے گالیکن آپ نے جان بوجھ کر ان شرطوں کو رکھا تاکہ معاویہ کی رسوائی خود اسی کے ہاتھوں فراہم ہوسکے۔
معاویہ بھی ان مشکلات اور صلح نامہ کی شرطوں کی وجہ سے آنے والی دشواریوں سے اچھی طرح واقف تھا ،اس کے مشاوروں نے بھی صلح نامہ کی پیچیدگیوںکی جانب متوجہ کیا تھا اس کا ایک مشاور(احنف بن قیس) جو کہ بہت زیادہ سمجھدار اور ہوشیار تھا،جب اس نے صلح نامہ کا مطالعہ کیا تو معاویہ سے بولا: ''ان اہل الحجاز و اہل العراق لا یرضون بھذا و لا یبایعون لیزیدماکان الحسن حیا''(١٩)
یعنی اہل حجاز و عراق تمہارے اس کام سے بالکل راضی نہ ہوںگے، اور جب تک حسن زندہ ہیں یزید کی بیعت نہیں کریںگے۔
میری نظر میں احنف نے اپنی بات مکمل نہیں کی، اس کو یہ کہنا چاہیئے تھاکہ اہل شام بھی معاویہ کے اس امر (جانشینی) سے راضی نہیں ہوںگے اس لئے کہ وہ یزید کی نالائقی اور بداخلاقی سے اچھی طرح آگاہ تھے۔
معاویہ کی یہ کوشش تھی کہ وہ کسی طرح بھی شامیوں کی حمایت حاصل کرلے، اسی لئے امام حسن کو اسلامی معاشرہ سے ختم کرنا ناگزیرتھا، اس نے امام کو شہید کرنے کے لئے جن راستوں کا انتخاب کیاان میں زہر سے شہید کرناسب سے زیادہ آسان لگا۔ امام حسن کو زہر سے شہید کرکے یزید کی ولایت عہدی کی راہ ہموار کرنے کے سلسلہ میں معاویہ کی سیاست صرف شیعی کتب میں ہی موجود نہیں ہے بلکہ اہلسنت کی معتبر کتب میں بھی اس بات کی وضاحت کی گئی ہے ۔
اس سلسلے میں بعض نمونے ملاحظہ فرمائیں:
١۔ زمخشری اپنی کتاب ربیع الابرار میں لکھتے ہیں: ''جعل معاویة لجعدة بنت اشعث امرأة الحسن مائة الف حتی سمتہ''(٢٠)
یعنی معاویہ نے امام حسن کی بیوی جعدہ بنت اشعث کو ایک لاکھ درہم دیئے تاکہ وہ انہیں زہر سے شہید کردے۔
٢۔ مسعودی رقمطراز ہیں: معاویہ نے اس رقم کے علاوہ جعدہ سے اپنے بیٹے یزید کی شادی کا بھی وعدہ کیا تھا، ''ان امرأتہ جعدة بنت الاشعث بن قیس الکندی سقتہ السم و قد کان دس الیھا انک ان احتلت فی قتل الحسن وجھت الیک بمأة الف درھم و زوجتک من یزید ''۔(٢١)
یعنی جعدہ بنت اشعث نے معاویہ کے فریب میں آکر اپنے شوہر کو زہر سے شہید کیا، معاویہ نے جعدہ سے وعدہ کیا تھاکہ اگر تم نے اس کام کو اچھی طرح انجام دیا تو ایک لاکھ درہم کے علاوہ تمہیں اپنے بیٹے یزید کی ہمسری کے لئے بھی قبول کرلوںگا۔
البتہ اہلسنت کے درمیان ایسے متعصب افراد بھی موجود تھے اور موجود ہیں کہ جو حقائق کا انکار کرتے ہیں، انہیں میں سے ابن خلدون بھی ہے، ابن خلدون نے معاویہ کی حمایت کرتے ہوئے اس عظیم جنایت سے انکار کیا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ معاویہ کے ذریعہ امام حسن کی شہادت، شیعوں کی من گڑھت کہانی ہے، وہ کہتا ہے کہ معاویہ نے اس جنایت کو جعدہ کی مدد سے انجام ہی نہیں دیا، معاویہ ایسا کر ہی نہیں سکتا، یہ شیعوں کی بنائی ہوئی باتیں ہیں۔(٢٢)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن خلدون کی نظر میں، زمخشری (جس کا ماننا ہے کہ آیت تطہیر میں پیغمبر ۖ کی ازواج بھی شامل ہیں) شیعہ ہے یا مسعودی نے بھی معاویہ کی اس بدترین جنایت کا تذکرہ کیا ہے لہٰذا وہ بھی شیعہ ہے۔
حافظ سخاوی اپنے استاد ابن حجر عسقلانی سے نقل کرتے ہیں کہ ابن حجر لکھتے ہیں: میرے استاد ہیثمی ،ابن خلدون کی بہت زیادہ برائی کرتے تھے میں نے ایک دن اس برائی کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے جواب دیا کہ ابن خلدون اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ جو تلوار کربلا میں حسین بن علی کے حلقوم پر چلی وہ تلوار ان کے جد امجدپیغمبر اسلام ۖ کی تھی۔
ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں: جس وقت میرے استاد نے ابن خلدون کی اس بات کو بیان کیا تو میں نے دیکھا کہ انھوں نے ابن خلدون پر لعن طعن کیااور امام حسین کی مظلومی پر گریہ بھی کیا۔(٢٣)
بہرحال تاریخ شاہد ہے کہ معاویہ اپنے بیٹے کی خلافت کی راہ ہموار کرنے کے لئے بدترین جنایتوں کا مرتکب ہوا ہے۔
اسلامی معاشرہ کے بزرگوں کو قتل کرڈالا یا زہر سے مسموم کرکے ماردیا، امام حسن بھی انہیں حضرات میں سے ہیں کہ جن کو اس نے شہید کرایاہے، جس وقت معاویہ کو امام کی شہادت کی اطلاع ملی تو بہت زیادہ خوش ہوا اور اپنے درباریوں کے ساتھ مل کر سجدۂ شکر بجالایا۔
مورخین کابیان ہے: ''اظہر فرحا و سرورا حتی سجد و سجد من کان معہ''۔(٢٤)
معاویہ نے امام حسن کی شہادت کی خبر سن کر ایسی خوشیاں منائیں کہ بے ساختہ سجدہ میں گرگیااور وہ لوگ جو اس کے اردگرد تھے وہ بھی سجدے میں گرپڑے۔
جب معاویہ کوعائشہ،سعید بن عثمان، عبدالرحمن بن ابوبکر اور عبد الرحمن بن خالد (مخالفین خلافت یزید)وغیرہ کی موت کی خبر ملی تو اتنا زیادہ خوش نہیں ہواجتنا امام حسن کی شہادت پر خوش ہوا۔
معاویہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اس نے امام کو شہید کراکے یزید کی ولایت عہدی کی راہ کا عظیم پتھر ہٹا دیا ہے اور اب اس کی ولایت عہدی کے اعلان کا وقت آگیا ہے۔
معاویہ نے اپنی حیات کے آخری ایام میں ان جنایتوں کو قبول بھی کیا ہے، اس نے اپنے بیٹے یزیدسے وصیت کی ہے، اس میں ملتا ہے: ''اے بیٹے! میں نے تمہارے لئے راہ کو ہموار کردیا ہے ، اس کے لئے لوگوں کو قتل کرایا، اسلامی معاشرہ کے بزرگوں کو ذلیل و خوار کیا، عرب کے سر جھکائے تاکہ تمہاری حکومت کا زمینہ فراہم ہوسکے''۔(٢٥)
ابن اعثم لکھتے ہیں:''معاویہ نے آخری وقت یزید سے کہا: اے میرے بیٹے! میں نے تمہارے لئے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی اور علی بن ابی طالب کو ان کے حق سے محروم کیا، یاد رکھناکہ میں ان تمام گناہوں کا بوجھ اپنے ہمراہ لئے جارہا ہوں''۔(٢٦)

حوالہ جات:
١۔ الاستیعاب: ج٢، ص٢٨٥۔
٢۔فتح الباری۔
٣۔ تاریخ طبری: ج٤، ص٣٦٨۔
٤۔ الکامل فی التاریخ: ج٣، ص٣٥٠۔
٥۔ تاریخ مدینہ دمشق: ج٢١، ص٢٢٣۔
٦۔ تاریخ یعقوبی: ج٢، ص٢٣٧۔
٧۔ اسد الغابہ: ج١، ص٦٩٨۔
٨۔ استیعاب: ج٣، ص١٧٤۔٩۔
ایضاً: ج٢، ص٢٨٥۔
١٠۔ تاریخ طبری: ج٤، ص٢٢٦۔
١١۔ الکامل فی التاریخ: ج٣، ص٢٥٠۔
١٢۔ تاریخ طبری: ج٤، ص٢٢٦۔
١٣۔ استیعاب: ج٢، ص٤٠٩۔
١٤۔ تاریخ مدینہ: ج١٦، ص١٦٣۔
١٥۔ تاریخ یعقوبی: ج٢، ص٢٣٠۔
١٦۔ تاریخ الخلفائ: ص١٩٤۔ البدایة و النہایة: ج٤، ص٤١۔
١٧۔ ایضاً۔
١٨۔ استیعاب: ج١، ص٣٨٧۔
١٩۔ الامامة و السیاسة: ج١، ص١٩١۔
٢٠۔ ربیع الابرار: ج٣، ص٢٠٨۔
٢١۔ مروج الذھب: ج١، ص٧١٣
٢٢۔ تاریخ ابن خلدون: ج٤، ص١١٣٩۔
٢٣۔ الضوء اللامع: ج٤، ص١٤٧۔
٢٤۔ الامامة و السیاسة: ج١، ص١٩٦۔
٢٥۔ تاریخ طبری: ج٤، ص٢٣٨۔
٢٦۔ الفتوح: ج٤، ص٢٥٦۔

مقالات کی طرف جائیے