مقالات

 

قیام عاشورا میں بچوں کا کردار

اعجاز محسن

عاشورا کی روشنی دینے والے منشورنے اپنی چمک کو آفتاب کربلا کی روشنی اور اس کے چوگرد نور افشاںمنظومہ ستاروںسے حاصل کرتے ہوئے اپنی شجاعت اور اپنے عرفان کے سہارے بشریت کے وسیع راستہ کے چراغ کو اس طرح روشن کیا کہ تا قیام قیامت آزاد ضمیری اورانتہائی سر بلندی کی راہ کو بشریت کے حوالہ کردیا۔
اس راستہ میں عاشورا کی ہر فردنے، چاہے وہ آزاد مرد ہو یا آزاد عورت، اس دلیری کی سربلندی کے لئے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، اس جاوادانہ سفر میں روز عاشورابچے بھی قربانی دینے سے پیچھے نہیں ہٹے اور جانبازوں کے شانہ بہ شانہ رہے۔ انسان کو غافل نہیں ہونا چاہئے کہ ان کی یادگار سبھی کے سینوں میں محفوظ ہے۔ بہت سے معصوم اور بے گناہ بچوں کو، خدا کی پست ترین مخلوق نے آگ کا ایندھن بنایا، انہیں اپنے مقابل لاکر ان سے جنگ کی جبکہ ان دونوں میں کسی بھی طریقہ کی کوئی برابری نہیں تھی اور وہ بچے ان لالچی، حریص اور ظالم افراد کے ہاتھوں قربان ہوگئے، بعض بچے ایسے تھے کہ جنہوں نے اپنے باپ اور بھائی کو اپنے سامنے خون میں تڑپتے ہوئے دیکھا تو ان کے دلوں میں ظالموں کے خلاف نفرت کے شعلے بھڑکنے لگے۔ یہ بچے اگر چہ شہید نہیں ہوئے لیکن انہوں نے کربلا کے قیام کو عظمت بخشی۔ ظلم اور ظالم کی بنیادوں کو ہلانے میں ان کا بڑا کردار رہا۔ ہم اس مضمون میں ان بچوں کا تذکرہ کریں گے جنہوں نے اہلبیت کے دامن میں پرورش پائی اور ان کا کردار آتی دنیا کے لئے نمونۂ عمل بن گیا۔

مظلومیت کا پیکر
کربلا میں ایک دردناک ترین منظر تب سامنے آیا جب امام حسینعلیہ السلام نے فریاد بلند کی کہ کیا کوئی ہے جو حرم اہلبیت کی حفاظت کرے، کیا کوئی ہے جو اپنے دل میں خوف خدا رکھتا ہو، کیاکوئی فریاد رس ہے جو خدا کے لئے ہماری مدد کرے؟ کیا کوئی ہے جو خدا کے لئے ہمارا ساتھ دے؟ یہ سن کر پردہ نشین عورتیں، امام حسین علیہ السلام کی مظلومیت اور اپنی بے کسی پر رونے لگیں۔ اتنے میں امام حسین علیہ السلام نے اپنے شیر خوار بچے کو طلب کیا تاکہ ان سے خدا حافظی کریں، اس کے بعد امام نے اپنے بچے کو لشکر اشقیاء کے سامنے لے جا کر پانی طلب کیا اور فرمایا: اگر تم مجھ پر رحم نہیں کرسکتے تو اس بچے پہ رحم کرو۔ اتنے میں حرملہ نے تیر سے حملہ کیا اور اس بچے کو شہید کردیا۔ امام نے فرمایا : پروردگارا! میرے اور ان لوگوں کے درمیان انصاف فرما! جنہوں نے دعوت دے کر ہمیں بلایا اور پھر ہمیں خاک و خون میں غلطاں کردیا۔ اس وقت امام نے اس کے گلے کے خون کو آسمان کی طرف پھینکا اور پھینکتے وقت کہہ رہے تھے: ''ھون علی ما نزل بی انہ بعین اللہ ''ان حالات کو خدا دیکھ رہا ہے جس کی بنیاد پر ہمارے لئے ان کا تحمل کرنا آسان ہے) امام گھوڑے سے نیچے اترے اور بے جان بچے کے جسم کو خیمہ کے پیچھے لے گئے، تلوارسے ایک ننھی سی قبر آمادہ کر کے بچہ کو اس قبر کے حوالہ کیا۔
روز عاشورا کا سب سے زیادہ دردناک موقع یہی ہے اور حادثۂ کربلا میں اس نومولود کی شہادت امام حسین کے لئے مظلومیت کی واضح ترین دلیل ہے کہ اس بچے نے اپنی شہادت کے ذریعہ اس مظلومیت کو ثابت کیا ہے، کسی بھی دین و مذہب میں (چاہے وہ آسمانی ہو یا غیر آسمانی) نومولود شیرخوار گناہ کرتا ہی نہیں ہے کہ کوئی اس بچہ سے دشمنی کرنا چاہے یا اسے قتل کرنا چاہے اس دنیا کے کسی بھی علاقہ میں نومولود اور بے گناہ کو قتل کرنے کا کوئی فلسفہ نہیں ہے۔
اسی وجہ سے ایک ننھے سے بچے کا قتل ہوجانا کہ جس کے پاس دفاع کی ذرہ برابر بھی طاقت نہیں، امام کے دشمنوں پر حجت و دلیل کے عنوان سے تمام ہوئی۔ تاریخ نے جناب علی اصغر علیہ السلام کی دلخراش شہادت کے ساتھ عاشوریوں کی مظلومیت کو ہمیشہ کے لئے ثابت کر دیا ہے۔

حق و حقیقت سے دفاع
جب امام کا آخری وقت آیا تو شمر ذی الجوشن کچھ لوگوں کے ہمراہ پاپیادہ امام کو شہید کرنے کے لئے میدان میں آیا،اس وقت اہل حرم کے درمیان بہت سے بچے موجود تھے، جن میں امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کا ایک عبد اللہ اصغرنامی آ ٹھ یا نو سال کا فرزند تھا کہ جس کی ماں رملہ بنت سلیل بن عبد اللہ بجلی تھیں۔
وہ یہ حالت دیکھ کر امام کی طرف دوڑا، امام نے اپنی بہن زینب سے فرمایا: اس بچہ کو سنبھالو! اس کے باوجود یہ بہادر بچہ اپنے چچا کی جان کی حفاظت کے لئے میدان جنگ میں امام کی جانب دوڑ پڑا ،اپنے آپ کو امام تک پہونچا کر کہتا ہے: خدا کی قسم!ہم اپنے چچا سے الگ ہوہی نہیں سکتے! اسی وقت بحرین کعب تلوار کے ذریعہ امام پر حملہ آور ہوا تو عبد اللہ اصغر نے کہا: تم ہمارے چچا کو قتل کرنا چاہتے ہو!یہ کہہ کر اپنے ہاتھوں کو تلوار کے سامنے کر دیا تاکہ اپنے چچا کی حفاظت کر سکے۔ امام اس وقت تو دشمن کے حملہ سے محفوظ رہے لیکن خود عبد اللہ اصغر کا ہاتھ کٹ کر آویزاں ہوگئے۔ عبد اللہ اصغر نے فریاد کی: مادر گرامی! ہماری خبر لیجئے امام نے انہیں اپنی آغوش میں لے کر فرمایا:'' یا بن اخی ما نزل بک واحتسب فی ذالک الخیر فان اللہ یلحقاک بآبائک الصالحین'' اے بھتیجے!جو مصیبت تم پر آن پڑی ہے اس پر صبر کرو اور خیر اور بھلائی سمجھو، اس لئے کہ خدا تمہیں تمہارے نیکبخت آبائو اجداد سے ملحق کرے گااس کے بعد امام نے قاتلوں پر لعنت کی۔
اسی اثنا میں حرملہ بن کاہل نے ان کی جانب ایک تیر روانہ کیا، عبد اللہ اپنے چچا کے ہاتھوں پر تیر حرملہ کا نشانہ بن کر شہید ہوگئے۔
وہ عبد اللہ کہ جس نے بچپن سے اپنے چچا کی آغوش میں پرورش پائی تھی، حق دفاع کو بخوبی انجام دیا اور ایسے ہنگام میں جبکہ حق و حقیقت، ناجواں مردانہ قدموں کے نیچے پامال ہورہی تھی، وہ امام کے ساتھ کربلا کی جانب روانہ ہوئے، اور جس وقت حقانیت کا آفتاب، تاریکی ظلم کے گھٹا ٹوپ بادلوں میں پنہاں ہوگیا تھا اس وقت آفتاب حقیقت کے مشتاق گروہ سے مل گئے۔

شہادت طلبی
عاشورا کے حالات میں ایک، امام حسینعلیہ السلام اور جناب قاسمعلیہ السلام کے درمیان گفتگو کا منظر ہے۔ جناب قاسمعلیہ السلام، امام کے اصحاب و انصار کی شہادت کو دیکھنے کے بعد امام سے جنگ کی اجازت مانگتے ہیں، اور ارادہ کی مضبوطی کے ساتھ جواب دیتے ہیں: ''الموت احلیٰ من العسل'' موت،شہد سے زیادہ شیرین ہے۔
جناب قاسم کو شہادت سے اتنا زیادہ عشق تھا کہ اس تک پہونچنے میں جو کچھ بھی حائل ہو، اسے خاطرمیں ہی نہیں لاتے۔ امام کا اتنا فرمانا تھا کہ تم مصائب و آلام میں گرفتار ہوکر شہید کر دیئے جائوگے، جناب قاسمعلیہ السلام اس حالت میں میدان جنگ کی طرف دوڑ پڑے کہ ان کا چہرہ چودہویں کے چاند کی مانندمنور تھا۔
شروع میں تو دشمن کے کچھ افراد، جناب قاسم کے سن و سال کی کمی کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے لیکن عمر سعد نے لشکر والوں کو لالچ دیا اور انہیں ورغلایا، جس کی وجہ سے حملہ ہوگیا۔ جب عمر سعد نے اپنے سپاہیوں کے دیکھا کہ وہ بہانہ تلاش کر رہے ہیں تو اس نے چیخ کر کہا: خدا کی قسم! میں خود ہی قاسم کے اوپر ہجوم کروں گا اور اپنے افراد کے ساتھ جنگ کروں گا اور دنیا کو اس کے اوپر تیرہ و تاریک کردوں گا اس(عمر سعد)نے ان کے سر پر تلوار کی ایسی ضربت لگائی کہ انہیں گھوڑے سے زمین پر گرادیا۔
اسی وقت اس تشنہ لب شہید کی آواز بلند ہوئی: یا عماہ! امام نے تیزی کے ساتھ اپنے آپ کو ان کے سرہانے پہونچایا۔ جناب قاسم علیہ السلام جاں کنی کے عالم تھے ان کے درد میں اتنی شدت تھی کہ تکلیف کی وجہ سے پیروں کو زمین پر رگڑ رہے تھے۔ امام نے جناب قاسمعلیہ السلام کی یہ حالت دیکھی تو افسردہ خاطر ہوئے اور فرمایا: ''عزیز واللہ علی عمک ان تدعوہ فلا یجیبک او یجیبک فلا ینفعک ''خدا کی قسم! تمہارے چچا کے لئے بہت سخت اور دشوار ہے کہ تم نے اسے بلایا اور وہ تمہارا جواب نہ دے پایا یا تمہیں اس کے جواب کا کوئی فائدہ نہ مل سکا! امام نے روتے ہوئے تسلی دی اور گریہ کرتے ہوئے فرمایا:'' صبرا یا بنی عمومتی صبرا یااھل بیتی فواللہ لا رایتم ھوانا بعد ھذا الیوم ابدا'' اے میرے چچیرے بھائیو! صبر کرو، اے میرے خاندان والو! صبر کرو، خدا کی قسم! آج کے بعد تمہیں کسی بھی طریقہ کی پریشانوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

شناخت و معرفت
معصومین علیہم السلام کے فرزندوں کی تربیت میں سے ایک تربیت سطح معرفت اور تفکر دینی کو اعلیٰ درجہ تک پہونچانا تھا۔ ایسی تربیت کے نتیجے قیام عاشورا میں واضح طریقہ سے نظر آتے ہیں اور ہر بات کو روشن کر دینے والی تقریروں میں غور کیا جاسکتا ہے۔ اس طریقہ سے کہ قیام عاشورا کی بقا کو امام سجاد، جناب زینب اور دوسری عورتوں اور بچوں کی آتشین تقریروں اور خطبوں میں دیکھا جا سکتا ہے، راز کو فاش کر دینے والی ان کی حقیقی معرفت اور تفکر کے سایہ میں تھیں، اسی وجہ سے قیام عاشورا میں مؤثر اور اس کے اہداف کو آگے بڑھانے میں اہمیت کی حامل تھیں اور قیام عاشورا کی کامیابی میںاہم کردار ادا کررہی تھیں۔
یزید کے دربار میں جب امام سجادعلیہ السلام اور جناب زینب سلام اللہ علیہانے اپنے خطبوں کے ذریعہ یزید کے منحوس چہرہ سے نقاب کو اٹھانا چاہا اور اس کی فاسد اور بے دین حکومت کے تختہ کو پلٹنا چاہا تو یزید غصہ سے لبریز ہوگیا اور اپنے مشاوروں سے گفتگو کرنے کے بعد دونوں حضرات کے قتل کے لئے مصمم ہوگیا لیکن قتل کرنے میں اپنی رسوائی دیکھی لہٰذا ان کے قتل کا ارادہ ملتوی کردیا۔
وہ بہت بڑی غلطی کررہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اگر امام سجاد اور جناب زینب سلام اللہ علیہا کو قتل کردے تو عاشورا کے حق طلب افراد کی آواز بند ہوجائے گی، لیکن وہ ہرگز یہ نہیں سوچ سکتا تھا کہ ان کے بچوں نے بھی حقیقی معرفت کو انہیں سے حاصل کیا ہے، جس طریقہ سے ان کے والدین، عالم بشریت کے سب سے بڑے عالم ہیں اسی طریقہ سے ان کے بچے بھی اس مکتب کے بہترین شاگردوں میں سے ہیں۔
جس وقت یزید نے حاضرین دربار سے مشورت کے بعد امام سجاد اور جناب زینب سلام اللہ علیہا کو قتل کرنے کا ارادہ کیا، لیکن قتل کرنے کے نتیجہ کے بارے میں فکر کی تو اپنا ارادہ بدل دیا۔ امام باقر جو اس وقت تقریبا ًچار برس کے تھے، انہوں نے چند جملوں کا سہارا لے کر، اس غصہ کی آگ کواور زیادہ ہوادی، جسے ان کے والد امام سجاد نے یزید کے نفس میں لگائی تھی، اس طریقہ سے کہ ابھی یزید کا زخم مندمل بھی نہ ہونے پایا تھا کہ امام باقر کے آتشین کلام کی وجہ سے وہ زخم دوبارہ ہر اہوگیا۔
امام باقر نے فرمایا: تمہارے مشاوروں نے فرعون کے مشاوروں کے بر خلاف نظریہ پیش کیا، اس لئے کہ جب انہوں نے فرعون کے ساتھ مشورہ کیا تو موسیٰ و ہارون علیہما السلام کے بارے میں کہا: (ارجہ و اخاہ و ارسل فی المدائن حاشرین )موسیٰ اور ان کے بھائی کو مہلت دے دو اور جادوگروں کو شہروں میں بھیج دو،لیکن تمہارے مشاوروں نے ہمارے قتل کا مشورہ دیا ہے ،البتہ بغیرسبب کے بھی نہیں ہے۔
یزید کی آنکھیں، ایک معصوم سے بچے میں ایسی تعجب خیز معرفت دیکھ کر خیرہ ہوگئیں تو یزید نے پوچھا: اس کاسبب کیا ہے؟ امام باقرنے فرمایا: فرعون کے مشاور پاک و پاکیزہ اور حلال زادے تھے اور ان کے اندر کسی چیز کو درک کرنے کی کافی صلاحیت موجود تھی لیکن تمہارے مشاوروں کو نہ ہی درک کرنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی وہ حلال زادے ہیں، اس لئے کہ پیغمبرۖ اور ان کے فرزندوں کو صرف وہی لوگ قتل کریں گے جو ناپاک ہوں گے۔
یزید، امام باقر کی مختصر، کامل اور پر معنی و مطلب، گفتگو سن کر محسوس کرنے لگا کہ اب اس کی عزت خاک میں مل جائے گی، لہٰذا وہ مجبوراً خاموش ہوگیا۔

ظلم کا منھ توڑ جواب
اگرچہ یزید کوشش کر رہا تھا کہ کسی بھی طریقہ سے ، اسیران کربلا کر مغلوب دکھائے لیکن ہر بار اسے منھ کی کھانی پڑتی اور وہ ناکام رہ جاتا۔ اس نے اہلبیت علیہم السلام کو خارجی کا لقب دیا اور حکم صادر کیا کہ شہر آراستہ کیا جائے، تاکہ اس کے ذریعہ اہلبیت علیہم السلام کو ذلت و حقارت ملے لیکن اس کے باوجود وہ شکست کھا گیا۔ اس لئے کہ اس نے اسیران کربلا کو مجمع عام میں پیش کردیا تھا اور امام سجاد اور جناب زینب کو لوگوں کے درمیان بھیج دیا تھا، جہاں پر انہوں نے اپنے آپ کو پہچنوایا اور فرمایا کہ ہم خاندان پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہہیں اور قرآن کی بہت سی آیتیں ہماری شان میں ہیں۔ اس کے بعدیزید نے اپنی کامیابی (اگرچہ اس کی کامیابی ظاہری تھی)کے ساتھ، اسیروں کو شراب، عیاشی اور جوے کی مجلس میں بلایا اور تکبر کے ساتھ ان حضرات سے باتیں کیں لیکن اس کے بعد بھی ہار گیا، کیونکہ یزید جو کچھ بھی کہتا تھا اس کا جواب آیات کی روشنی میں پاتا تھا اسی بنیاد پر روم کے سفیر کے سامنے ذلیل ہوا لہٰذا مجبور ہوکر یزید نے سفیر کے قتل کا حکم صادر کردیا۔
یزید نے سوچا کہ جب مجلس میں نہ ہوسکا تو لوگوں کے درمیان فخر فروشی کروں، اسی لئے اس نے امام کے کٹے ہوئے سر مبارک کو اپنے محل کے دروازے پر لٹکا دیا لیکن اس کے بعد بھی شکست کا کڑوا پانی پینا پڑا، جب اس کی زوجہ (ہند)نے یہ سمجھ لیا کہ یہ سر، میرے مولا حسین علیہ السلام کا ہے جو اپنے نورسے محل کے اوپری حصہ کو منور کئے ہوئے ہے تو بال بکھرائے ہوئے دوڑتی ہوئی محل کے اندر، یزید کے پاس پہنچی جس کی وجہ سے یزید پریشان ہوگیا، فوراً یزید نے اپنی عبا اتار کر اپنی زوجہ کے سر پر ڈال دی اور کہا: اس طریقہ سے کام نہیں چلے گا بلکہ منطق و گفتگو کے ذریعہ اپنے مقصد تک پہونچنا ہوگا، اس کے باوجود بھی یزید، اسیران کربلا کوشکست نہ دے سکا۔ اس نے امام سجادعلیہ السلام کو حکم دیا کہ منبر پر جاکر لوگوں کے لئے تقریر کریں، یزید نے دیکھا کہ اس نے خود ہی اپنی بے عزتی اور رسوائی کا زمینہ فراہم کیا ہے اور یہ ایسا موقع تھا کہ امام کی جامع اور رسا تقریر تمام لوگوں کو بیدار کردے، مجبور ہوکر یزید نے مؤذن کو حکم دیا کہ بے وقت اذان دے تاکہ امام بھی مجبور ہوجائیں اور اپنی تقریر کو ختم کردیں۔
یزید کی کمان کا نکلا ہوا کوئی بھی تیر نشانہ پر نہیں لگتا تھا جس کی وجہ سے اسے شکست پر شکست ہورہی تھی، اس مرتبہ یزید نے ارادہ کیا کہ شہداء کربلا کے قتل کے گناہ کو دوسروں کے سر ڈال دے اور اس طریقہ سے لوگوں کو دھوکہ میں رکھے۔ لہٰذا اس نے امام حسین اور ان کے اصحاب و انصار کے قتل کے گناہ کو عبید اللہ کی گردن پر ڈال دیا اور وہ لوگوں کو یقین دلارہا تھا کہ عبید اللہ نے خود بیعت لینے کا حکم دیا تھا۔ لیکن اس خبر کے عام ہونے کو بھی اپنی حکومت و اقتدار کے تختہ کے پلٹنے کا سبب محسوس کیا۔
اب کیا کرتا؟ ان کے ساتھ دوستی اور ہمدردی جتانی چاہی، اس طرح کہ دوبارہ ایسی غلطی نہیں کرے گا، بہتر ہوگا کہ سب کے سب گذرے ہوئے کل کو فراموش کردیں۔ یزید تو تصور کر رہا تھا کہ ایک نیا اور مؤثر، بچنے کا راستہ اس کے ذہن میں آیا، اس نے ارادہ کیاکہ فضا کوسدھار کر ایسا ماحول پیدا کردے جو اکڑپن اورہٹ دھرمی سے خالی ہو اس لئے اس نے اپنے بیٹے خالد کو بلایا اور دوسری طرف امام حسنعلیہ السلام کے بیٹے عمرو کی طرف رخ کیا اور مسکرا کر کہنے لگا: میرے بیٹے کے ساتھ کشتی لڑوگے؟ اس چھوٹے سے بچے نے جو اپنے بھائیوں اور دوسرے افراد کی شہادت کو بھول نہیں پایا تھا، غصہ میں منھ توڑ جواب دیا:'' لالکن اعطنی سکینا اعطہ سکینا ثم اقاتلہ'' (کشتی ہی کیوں؟ بہتر ہوگا کہ تم ایک خنجر مجھے اور ایک خنجر اسے دو تاکہ ہم آپس میں جنگ کریں)۔
یزید اس دندان شکن جواب سے چونک اٹھا اور فریاد کرنے لگا:
''شنشن اعرفھا من اخزمتل تلد الحی الا الحی''
یہ ایسی عادت ہے جس کے بارے میں، میں جانتا ہوں کہ یہ اخزم کے پاس تھی، کیا سانپ، سانپ کے علاوہ کسی اور چیز کو جنتا ہے؟۔
ہاں!اس مرتبہ بھی یزید کی عوام کو دھوکہ دھڑی اور فریبی سیاست بھی شکست سے روبہ رو ہوئی اور خاندان عصمت و طہارت کے فرزندوں کی ظلم کے خلاف جنگ نے اسے اس کے ناپاک ہدف تک پہونچنے میں ناکام کردیا۔

پائیداری اور جانفشانی
عاشورا کے کرداروں میں اصحاب حسین کی پائیداری اور جانفشانی، بہترین کردار ہے کہ جس وقت مدینہ سے اونٹوں کی گھنٹیوں کی آواز بلند ہوئی، اس وقت ثبات قدم اور جانفشانی ان کی شجاعت و دلاوری کی شکل میں ظاہر ہونے لگی تھی اور آغاز سفر ہی سے ان کے دلوں میں نقش ہوگئی تھی۔ امام حسینعلیہ السلام ان حضرات سے فرماتے رہتے تھے: ''صبرا یا بنی الکرام فما الموت الا قنطر تعبر بکم عن البوس والضرا الی الجناب الواسع والنعیم الدائم ''
اے میرے بزرگ حضرات کے بچو! ثبات قدم رکھو، اس لئے کہ موت ایسا پل ہے جو تمہیں مصیبتوں اور دشواریوں سے نکال کر وسیع جنت اور جاودانی نعمتوں کی طرف رہنمائی کرے گا۔
انہوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ انہیں پائیداری اور جوانمردی ہی حیات جاوید عطا کرے گی، اسی وجہ سے عاشورا میں ہر ایک فرد پائیداری اور ثبات کے رنگ میں، بہترین طریقہ سے رنگا ہوا تھا اور تازیانہ کی خوفناک ضربت کو، خود کو فنا فی اللہ کرنے کے لئے اپنے سینوں پر برداشت کرتا جس کی وجہ سے چہرہ کا نور بڑھتا جاتا، یہاں تک کہ ابد سے جاملتا۔ ایسی صورت میں پیاس اسے بے تاب نہیں کرتی، تلواروں اور نیزوں کے زخم اسے زمین گیر ہونے پر مجبور نہیں کرتے، عزیزوں کی موت کے غم کی وجہ سے فریاد نہیں کرتا، دشمنوں کی سنگدلی اور جنگل میں تنہائی کے باوجود، حقارت کی گرد و غبار ان کے چہروں پر ظاہر نہیں ہوتی۔یہ حسینی کاروان کے افراد ان تمام خصوصیات کے ساتھ میدان کربلا میں آئے تاکہ فنافی اللہ ہوکر ہمیشہ کے لئے باقی رہ جائیں۔
کربلا، کرب اور بلا سے مرکب ہے لیکن بلا، شوق واشتیاق کے افق کا نام ہے اور وہ تشنگی جسے کربلا والوں نے محسوس کیا ہے، وہ ایک راز ہے اور اگر کربلا والے تشنگی کی اوج تک (جیسا کہ آپ جانتے ہیں)نہ پہونچیں تو کس طریقہ سے ان کی جان خلوص کا سر چشمہ بن کر بہشت تک منتہی ہوگی؟ وہ پاک شراب جسے جنت میں رہنے والوں کو پلایا جائے گا اس کا میکدہ کربلا ہے اور اس کے میخانہ وہ مست حضرات ہیں جوبے سرو پا زمین کربلا پر پڑے ہوئے ہیں اور وہ شراب طہور صرف راز (تشنگی)کے تشنہ لبوں کو پلائی جائے گی اور ان کے ساقی امام حسین علیہ السلام ہیں، امام حسین علیہ السلام اپنے دوستوں کے ہاتھ سے پئیں گے اوروہ امام کے ہاتھوں سے پئیں گے۔
وہ حضرات جنگ کرتے جاتے اور زمزمہ کرتے جاتے تھے:
''صبرا علی الاسیاف والاسن صبرا علیھا لدخول الجنة''
تلواروں اور نیزوں کے زخم پر صبر کروں گا تاکہ اس کے ذریعہ جنت میں داخل ہوجائوں۔
یہ ان حضرات کی خصوصیت تھی جو جنگ کر رہے تھے اور تلوار کی ضربت پر صبر کو اپنی ثبات قدمی اور جانفشانی کی زبان بنا دیا تھا لیکن پائیداری اور جانفشانی صرف تلوار کے ساتھ میدان میں جاکر جنگ کرنے کو نہیں کہتے ہیں۔
ایک دوسرا گروہ بھی تھا جس نے اپنے سینے کی کشادگی اور صبر کو اپنے عشق کا ترجمان بنا لیا اور بردباری کے ساتھ میدان میں کھڑے رہے اور اپنے وجودکو صبرسے مملو کرلیا اور جس وقت ان کے وجود کا ظرف صبر و بردباری سے لبریز ہوگیا وہ دنیائے فانی کو چھوڑ کر عالم بقا کی جانب کوچ کرگئے۔
تلوار کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ جو بھی سامنے آئے اسے کاٹ دیتی ہے وہ کسی بھی گوشت، پوست کو نہیں پہچانتی، تلوار کی ضربت کے علاوہ ایک ضربت اور بھی پائی جاتی ہے جسے صبر اور سکوت کے معنی میں بیان کیا گیا۔
تلوار کی ضربت کی طرح دوسری ضربتیں بھی ہیں اور وہ یہ کہ جدائی دیکھنا اور آہ نہ کہنا، عزیزوں کو تڑپتے ہوئے دیکھنا اوراظہار اندوہ نہ کرنا، گالی سننا اور جواب نہ دینا، تہمت برداشت کرنا اور تسلیم نہ ہونا، خارجی کا لقب ملنا اور قرآن کی تلاوت کرنا، محبوب کے سر کو نیزہ پر دیکھنا اور مستحکم کھڑے رہنا، معشوق کے دانتوں اور ہونٹوں پر چھڑی دیکھنا اور گریہ نہ کرنا، کٹے ہوئے سر کو سونے کے طشت میں دیکھنا اور گلہ نہ کرنا، معشوق کے سر کو غبار آلود دیکھنا اور غصہ کو پی جانا اور یہاں تک کہ باپ کے کٹے ہوئے سر کو آغوش میں لینا اور مسکراکر دیدار کرنا۔
زمانۂ غربت کی یہ تمام ضربتیں ایک معصوم اور پھول سے زیادہ نازک بچی کے بدن پر بھی نظر آتی ہیں۔ ایسا بدن جس پر موجود ہر نیلا داغ، ایک جگر سوز یادگار ہے اور عالم افروز کے عشق پر مبین سند ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے جس پر تازیہ نے اپنی مشق لکھ رکھی ہے اور خار مغیلان تاریخ کی کتاب شمار ہوئی۔ ایسی چنندہ اور منتخب کتاب تھی جو اپنے اندر ایثا، قربانی، ثبات قدمی، پائیداری اور جانفشانی کا درس سموئے ہوئے تھی۔

مقالات کی طرف جائیے