مقالات

 

عزاداری کیوں...؟

علی عباس حمیدی

اکثرذہنوں میں کسی کے ابھارنے سے یا خود بخود یہ سوال ابھرتا ہے کہ محرم میں ہر سال عزاداری کیوں برپاکی جاتی ہے ؟ لہذاضروری ہے کہ اس مسئلہ پر گفتگو کی جائے تاکہ شکوک و شبہات کے بادل چھٹ جائیں اور حق و حقیقت کے آفتاب جہاں تاب کی شعاعوں سے ہمارے ذہن کی کائنات منور ہوجائے ۔
لفظ عزاداری ، صوم و صلاة ، حج وزکوٰة جیسے الفاظ کی طرح شارع مقدس کی جانب سے وضع ہونے والی اصطلاح نہیں ہے کہ جس کے معنی کی کوئی خاص شکل و صورت ہو بلکہ یہ لفظ غم و الم اور سوگواری کے مفہوم کو ادا کرتا ہے کہ جس کے مصادیق، ملک و قوم کے رسم و رواج اور طور طریقوں کی وجہ سے مختلف ہیں ۔ عربی لغت اور تاریخ کی کتابوں میں دکھ ، درد ، ماتم جیسی کیفیات پر دلالت کرنے والے الفاظ میں عزا ، عزّیٰ ، تسلی ، نوحہ ، ماتم ، رثاء اور مرثیہ مشہور ہیں ۔
جس دن سے انسان نے اس دنیا میں قدم رکھا ہے ، بے جرم و خطا قتل ہونے اور تلخ و ناگوار حادثات سے اس کا پالا پڑا ہے ، لہٰذا اس کی فطرت میں ایسے حالاات اور واقعات سے بیزاری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔ اسی لئے جب تلخ اور ناگوار حادثات کو ٹالنا انسان کے اختیار سے باہر ہوجاتا ہے تو اسکے دل پر چوٹ لگتی ہے وہ حزین و غمگین ہوجاتا ہے اور اس کی آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب امنڈپڑتا ہے ۔ دل کی فریاد پر بہنے والے یہی گرم گرم آنسو اس کے کلیجے کو ٹھنڈک پہونچاتے ہیں ۔ پھر بھی اگر اس کی تسکین نہ ہو تو ہو دوسروں سے ان حادثات کی حکایت کرتا ہے اگر وہ لوگ بھی اس کے شریک غم ہوتے ہیں تو آہ و فغاں میں اس کے ساتھ شامل ہوجاتے ہیں اس عمل سے بھی اسے سکون میسر ہوتا ہے اور اسی عمل کا نام سوگواری اور عزاداری ہے ۔
ماہ محرم میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امام حسین اور ان کے باوفا اصحاب کی شہادت کی یاد کو زندہ رکھنے کے لئے جو غم کی تقریبیں منعقد کی جاتی ہیں عزاداری کے واضح اور ظاہر ترین مصداق ہیں ۔
مظلوم کے غم میں شریک ہونا، انسانی فطرت کا تقاضہ اور ستم دیدہ سے ہمدردی و حمایت کا اظہار ہے ، یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے عقل و فطرت دونوں ہی بے چون و چرا تسلیم کرتے ہیں ، مگر کچھ لوگ مخصوص اغراض کی وجہ سے اس مقدس عمل پر طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں جن میں سے اہم ترین یہ ہے کہ :
عزاداری اور گریہ و ماتم قضا و قدر الہٰی کے خلاف ہے ، کیونکہ خداوند عالم نے ناخوش آیند حالات اور ناگوار حادثات ومصائب کے مقابلے میں صبر و ضبط سے کام لینے کا حکم فرمایا ہے ، لہذا ، گریہ وزاری اور ماتم و عزاداری خدا کی حکم عدولی اور نافرمانی ہے ، اس کے علاوہ شہدائے راہ حق ہمیشہ زندہ ہیں جو ایک عظیم مرتبہ اور خوشی کا مقام ہے اب اس پر رونا دھونا اور ماتم کرنا ان کی شان کے خلاف اور ان کے مرتبہ کے منافی ہے ۔
اسی قسم کے اور بھی دیگر اعتراضات ہیں جنھیں بیان کرنا طوالت کا باعث ہوگا یہاں صرف مذکورہ دو اعتراض ہی کا جواب دیکر اپنے موقف کو واضح کیا جائے گا ۔
مصیبتوں پر آہ و فغاں اور بیقراری کی حالت میں اول فول بکنا اور بے صبری کا اظہار کرنا دین و شریعت کی نظر میں ایک منفور عمل ہے ، سید الشہداء کا کوئی بھی عزادار ، اس عمل کا مرتکب نہیں ہوتا، صبر کا مطلب گریہ و زاری نہ کرنا بھی نہیں ہے ، قضا وقدر الہٰی پر صبر کرنے کا مطلب، خداوند عالم کی مشیت کے آگے سراپا تسلیم ہوجانا ہے ، جس دل پر چوٹ لگتی ہے اس سے آہ نکلنا طبیعی اور انسانی عمل ہے ، اس وقت احساسات کی عنان کو ہاتھ میں رکھ کر دل میں ابھرنے والے بے جا تو ہمات سے گریز کرنا صبر کہلاتا ہے جس سے ہر عزادار ، اچھی طرح واقف ہے پھر عزاداری محض گریہ و زاری ہی پر تو منحصر نہیں اس کے اور بھی بہت سے ارکان ہیں جو ہمارے معصوم رہبروں کی تعلیمات سے دستیاب ہوتے ہیں جیسے گریہ سے پہلے معرفت کا ہونا عزاداری کا ایک اہم ترین رکن ہے ، جس کو حضرت امام حسین علیہ السلام کی صحیح معرفت ہوتی ہے اس کا گریہ عزادارانہ ہوتا ہے اموات پر گریہ کرنا اور سید الشہداء پر گریہ کرنا دونوں برابر نہیں ۔ سید الشہداء پر گریہ و زاری کا ایک خاص مقصد ہے جس کی تکمیل پر عرفان الہٰی کے گوہر آبدار میسر ہوتے ہیں ،اس گریہ میں صبر کے معنی کو متحمل اور گریہ کرنے والے کو صابر کا رتبہ ملتا ہے ، یہ گریہ آنکھوں کے ساتھ دل کو بھی صاف کرتا ہے، یہ گریہ ظالم کے خلاف خدا کی دی ہوئی طاقت کو صرف کرنے کی دعوت دیتا ہے، ایثار کی تربیت اور حق کی راہ میں قربانی پیش کرنے کی تعلیم دیتا ہے ، یہ گریہ عدل و انصاف کی حکمرانی کا خواہاں ہے اور مظلوم و محروم سے حمایت و ہمدردی کا مشتاق ،شہنشاہ کربلا کی یاد میں عزاداری منا کر عزادار خود کو خدا کی مشیت کے نزدیک محسوس کرتا ہے ، یہ صرف ہمارا ہی نظریہ نہیں بلکہ انصاف کی نظروں سے دیکھنے والے غیر مسلم علماء کی بھی رائے ہے ، چنانچہ فرانسیسی دانشور '' ڈوکیری موریس '' کا ماننا ہے کہ حسین کے ماننے والے ماتم حسین کے صدقے میں اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ استعمار اور استکبار کی غلامی کو قبول نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ ان کے امام کا نعرہ '' ظلم و ستم کے آگے سر نہ جھکانا '' تھا ۔
نینوا کے پیاسے کی یاد میں عزاداری تنہا عزاداری نہیں ہے بلکہ تبلیغ حق کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے ۔
'' اسلام والمسلمین '' نامی کتاب کے مصنف ، فرانسیسی مستشرق ، '' جو زف رینو'' کی نظر میں عزاداری کا ہدف یہ ہے :
شیعوں نے اپنے مذہب کو تلوار کے زور پر نہیں بلکہ دعوت و تبلیغ کے ذریعہ پھیلایا ہے، انھوں نے عزاداری کے مراسم کو جو اہمیت دی اس کی وجہ سے دو تہائی مسلمان ، ہندؤں کی ایک جماعت ، مجوس اور دوسرے مذاہب کے ماننے والے حسین کی عزاداری میں شرکت کرنے لگے ہیں۔
ان تمام اہداف کے ساتھ اور بھی دیگر عالی مقاصد اس عزاداری میں مضمر ہیں جنھیں حقیقت بین حق جو خدا کے بندوں اور تیز بین اغیار نے بخوبی سمجھ لیا ہے ۔ لہذا ہر سال اس عزاداری کی تکرار کا مسئلہ روشن ہوجاتا ہے ۔
عزاداراس غم کے ذریعہ انسانیت کے اعلیٰ اقدار کا حصول چاہتا ہے ، انسانیت کی مخالف طاقتیں ان اہداف سے خوف زدہ ہیں کیونکہ ان کی قدرت استشمار و استحصال پر قائم ہے ۔ اور عزاداری ان کے خلاف ایک تحریک ہے جسے وہ ہر ممکنہ حربے سے ناکام بنانا چاہتے ہیں ، اعتراض تراشی کی ٹکسال انھیں سود جو ، انسان دشمن طاقتوں کے ایمان پر کھلی ہوئی ہے ۔ جس میں شہید راہ حق کی یاد منانے کو توہمات کے سہارے روکنے کی ناکام کوششیں دن رات کی جاتی ہیں ۔ بھلا غور تو فرمائیں کتنی سادہ سی بات کو کتنا پیچیدہ بنایا جاتا ہے کہ شہید زندۂ جاوید ہوتا ہے اور زندہ کی عزاداری جائز نہیں۔ یہ کسے نہیں معلوم کہ عزادار کا ہدف شہادت پر گریہ کرنا نہیں ، بلکہ اس پرکئے جانے والے انسانیت سوز مظالم کو اپنی چشم بصیرت سے دیکھ کر ہوتا ہے ۔ عزاداری میں عزادار اپنی آنکھوں میں اشکوں کے ساغر لے کر پیاسوں سے ہمدردی اور وفاداری کا عہد کرتا ہے ، اسے شہیدوں کی شہادت سے حاصل ہونے والے مرتبہ کا افسوس نہیں ہوتا بلکہ اس کا گریہ اس بات پر ہوتا ہے کہ آج تقریباً چودہ صدیاں گذرنے کے باوجود بھی ان کے دشمن ان کے حقوق کو پامال کر رہے ہیں اور جس طرح کل میدان نبرد میں ان کے سامنے آنے والے سود جو نام نہاد مسلمان باطل کے ہمراہ تھے آج بھی اسی طرح ان کے اہداف کے دشمن صف باندھ کر ان پر ہمہ جانب حملے کررہے ہیں اگر ان حملوں کا زور گھٹ گیا ہوتا تو عزادار کو غم نہ ہوتا اس کے سامنے ہر روز ایک نئی کربلا ہوتی ہے اور ہر دن ایک نئی روداد ظلم ثبت ہوتی ہے۔ اس کے سامنے جب بھی کہیں کسی بیکس کا خون بہتا ہے تو کربلا والوں کے خون کی سرخی نگاہوں کے سامنے گردش کرنے لگتی ہے ۔
دوسروں کی نظروں میں کربلا کے واقعے کو چودہ سو سال ہونے کو ہونگے مگر عزادار کی آنکھیں تو صبح و شام کبھی افغانستان کبھی عراق کبھی فلسطین ، کبھی پارا چنار ، کبھی ڈیرہ غازی خان اور غزہ میں شہداء کے پارہ پارہ نازنین تنوں سے خون کی دھاروں کو بہتا دیکھتی ہیں اس کے قلب میں اتنے غم دیکھنے کی طاقت کہاں ! کیا اسے اتنے غموں پر بلک بلک کررونے کا بھی حق نہ ملے گا ؟ کیا ان مظالم پر اسے عزاداری کرنے کی اجازت نہ ملے گی ؟ ظلم و جورکا سلسلہ کب رکا ہے جو عزاداری کا سلسلہ بند کیا جا سکتا ہے؟ عزاداری شہداء کا غم ہی نہیں بلکہ ظلم کے خلاف ایک مسلسل تحریک ہے جو ہر سال شہیدوں کے تذکرہ سے زورپکڑتی ہے ۔

مقالات کی طرف جائیے