مقالات

 

اسباب جاودانی عاشورا

مجتبیٰ حیدر معروفی

یوں تو خلقت عالم وآدم سے لے کر آج تک اس روئے زمین پر ہمیشہ سے نئے نئے حوادث و واقعات رونما ہوتے رہے ہیں اور چشم فلک بھی اس بات پر گواہ ہے کہ ان حوادث میں بہت سے واقعات ایسے بھی ہیں جن میں واقعۂ کربلا سے کہیں زیادہ خون بہایا گیا ہے اور شہدائے کربلا کے کئی گنا لوگ بڑی بے رحمی اور مظلومی کے ساتھ تہ تیغ کردیئے گئے ہیں، لیکن یہ تمام جنگ و جنایات گردش زمانہ کے ساتھ ساتھ تاریخ کی وسیع و عریض قبر میں دفن ہوکر رہ گئیں مگر ان واقعات میں سے فقط واقعہ کربلا ہے جو آسمان تاریخ پر پوری آب و تاب کے ساتھ بدر کامل کی طرح چمک رہا ہے ، باوجود اس کے کہ دشمن ہردور میں اس واقعہ کو کم رنگ یا نابود کرنے کی کوششیں کرتا رہا ہے ، مگر یہ واقعہ ان تمام مراحل سے گزرتا ہوا آج چودہویں صدی میں بھی اپنا کامیاب سفر جاری رکھے ہوئے ہے ، آخر سبب کیا ہے ؟ آخر وہ کون سے عناصر ہیں جو اس واقعہ کو حیات جاویدانی عطا کرتے ہیں ؟ مذکورہ سوال کو مدنظر رکھتے ہوئے چند موارد کی طرف مختصر طور سے اشارہ کیا جارہا ہے جو قیام امام کو زندہ رکھنے میں موثر ثابت ہوئے ہیں :
وعدہ الہی:
جب ہم قرآن کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ خداوند متعال اپنے بندوں سے یہ وعدہ کررہا ہے کہ تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا ۔ ہر منصف نظر اس آیت کو اور ٦١ھ کے پر آشوب دور کو ملاحظہ کر نے کے بعد یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے کہ چونکہ اس دور میں جب نام و ذکر خدا کو صفحہ ہستی سے مٹایا جارہا تھا تو صرف امام حسین تھے جو اپنے اعزاء و اقرباء کے ہمراہ وارد میدان ہوئے اور خدا کے نام اور اس کے ذکر کو طوفان نابودی سے بچا کرساحل نجات تک پہونچایا ، لہذا خداوند متعال نے بھی اپنے وعدے کے مطابق ذکر حسین کو اس معراج پر پہنونچادیا کہ جہاں دست دشمن کی رسائی ممکن ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن کی انتہائی کوششوں کے باوجود بھی ذکر حسین آج تک زندہ و پائندہ ہے ۔
قیام الہٰی: امام کا قیام ایک الہٰی قیام تھا جو حق اور دین حق کو زندہ رکھنے کے لئے تھا چنانچہ آپ کا جہاد ، آپ کی شہادت اور آپ کے قیام کا محرک خدائی تھا ، اور ہر وہ چیز جوا للہ کی ہو اور رنگ خدائی اختیار کرلے وہ شیٔ جاوید اور غیر معدوم ہوجاتی ہے ،کیونکہ قرآن کا ارشاد ہے کہ جو کچھ خدا کے پاس ہے وہ باقی ہے۔ اور دوسری آیت ہے: ہر شی ء فنا ہوجائے گی سوائے وجہ خدا کے ، جب ان دونوں آیتوں کو ملاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ نہ خدا معدوم ہوسکتا ہے اور نہ ہی وہ چیز جو خدا کے پاس ہے ۔
ارادۂ الہٰی:
خداوند عالم کا راداہ ہے کہ ہر وہ چیز جو بشر اور بشریت کے حق میں فائدہ مند ہو اسے زندگی جاوید عطا کرے اور اس کوہر خطرے سے محفوظ رکھے
قرآن کا ارشاد ہے کہ دشمن یہ کوشش کررہا ہے کہ نور خدا کو اپنی پھونکوں کے ذریعہ خاموش کردے، لیکن خدا کا نور خاموش ہونے والا نہیں ہے۔ امام حسین چونکہ نور خدا کے حقیقی مصداق ہیں ، اور قیام امام بھی ہر اعتبار سے بشر اور بشریت کے لئے مفید ہے لہذا ارادۂ الہٰی کے زیر سایہ یہ قیام تا ابد زندہ رہے گا ۔
ان کے علاوہ اور بھی بہت سے مورد ہیں مثلاً قیام امام کی جاویدانی زندگی اور اس کے دائمی سفر پر خود پیغمبر بھی اپنی مہر تائید ثبت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ شہادت حسین علیہ السلام کے متعلق قلوب مومنین میں ایک ایسی حرارت پائی جاتی ہے کہ جو کبھی سرد نہیں ہوسکتی ۔ اس حدیث کے اندر اگر غور و خوض کیا جائے تو بخوبی روشن ہوجاتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حادثے کے وقوع سے پہلے ہی اس کے دائمی ہونے کی خبر دے دی تھی ۔
یا اس کے علاوہ واقعہ کربلا کے بعد جب ا مویوں نے یہ سوچ لیا تھا کہ دین خدا مٹ چکا ہے ، نام پیغمبر و آل پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیست و نابود ہوچکا ہے اور اسی وقتی فتح یابی کی خوشی کے نشہ میں مخمور جب یزید نے کہا کہ کوئی خبر نہیں آئی کوئی وحی نازل نہیں ہوئی یہ توحکومت کی خاطر بنی ہاشم کا رچایا ہوا محض ایک ڈھونگ تھا ، تو اس موقع پر علی کی بیٹی زینب اور امام سجاد کے شرر بار خطبوں نے یزید کے نشے کو کافور کرتے ہوئے دربار میں اپنی جیت کا ڈنکا بجایا اور بھرے دربار میں جناب زینب نے حاکم وقت کو مخاطب کر کے کہا کہ اے یزید تیری اتنی اوقات کہاں کہ علی کی بیٹی تجھ سے بات کرے لیکن تجھے اتنا بتائے دیتی ہوں، تو جتنی کوشش اور مکاریاں کرسکتا ہے کرلے ، لیکن اتنا یاد رکھ کہ تو ہر گز ہماری محبوبیت کو لوگوں کے دلوں سے نہیں مٹا سکتا ۔ جناب زینب کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے یہ کلمات اس بات کی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ حسین اور اہل بیتؑ کے نام کی محبوبیت کو خدا نے لوگوں کے دلوں میں ودیعت کر رکھا ہے اور جب تک اس صفحہ ہستی پر رہیں گے ذکر حسین اور نام حسین علیہ السلام کو زندہ رکھیں گے ۔

مقالات کی طرف جائیے