مقالات

 

قیام کربلا کی حقیقت

آیۃ اللہ شہید مرتضیٰ مطہری

ایک چیز کو پہچاننے کے چار طریقے ممکن ہیں:
۱۔ علت فاعلیہ کے ذریعہ (یعنی وہ شۓ کون وجود میں لایا؟)
۲۔ علت غائیہ کے ذریعہ (یعنی اس کا مقصد کیا ہے؟)
۳۔ علت مادّیہ کے ذریعہ (وہ کن چیزوں سے مل کر بنی ہے؟)
۴۔ علت صوریہ کے ذریعہ (یعنی اس کی شکل و صورت کیا ہے؟)
ایک انقلاب کی شناخت حاصل کرنے اور اس کی حقیقت تک رسائی کے لئے بھی سب سے پہلے ان علل و اسباب کی نشاندہی کرنا ہوگی جن کے نتیجہ میں وہ انقلاب رونما ہوا ہے۔ دوسری جانب اس کی علت غائیہ کا ادراک بھی ضروری ہے کہ اس انقلاب و قیام کا رخ کس مقصد کی سمت ہے؟ کسی بھی انقلاب یا قیام کی حقیقت تک پہونچنے کے لئے چار باتوں کا جاننا ضروری ہے:
اوّل: وہ کون سے علل و اسباب ہیں جو اس قیام و انقلاب پر منتہی ہوئے؟
دوم: اس قیام کا کوئی مقصد بھی ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کیا ہے؟
سوّم: اس قیام و انقلاب کے عناصر و مشمولات کیا ہیں اور کون کون سے کام انجام پائے ہیں؟
چہارم: اس تحریک کی مجموعی شکل و صورت کیسی ابھرکر سامنے آئی ہے؟
ایک قیام یا انقلاب پر اٹھنے والے سوالات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کیا وہ انقلاب اچانک پھٹ پڑنے والے بم کی طرح تھا؟ اسلام اور آج کے مادّی مکاتب فکر کا ایک فرق اسی مسئلہ میں سامنے آتا ہے۔ عصر حاضر کے مادی مکاتب فکر اپنے خاص اصولوں کے مطابق کہتے ہیں کہ اختلافات کو بڑھاوا دیا جائے، فاصلوں میں اضافہ کیا جائے تاکہ معاشرہ میں اچانک پھٹ پڑنے والے بم کی طرح انقلاب برپا ہوجائے۔ یعنی وہ ایک غیر منصوبہ بند اور ناآگاہانہ انقلاب پر یقین رکھتے ہیں، جبکہ اسلام اس کا قائل نہیں۔ اسلام کو وہ انقلاب مطلوب ہے جس میں سو فیصدی آگاہی، بصیرت اور عزم و ارادہ کا دخل ہو۔ اقوال و فرامین امام حسینؑ پر غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ آپ کا انقلاب و قیام، آگاہی و بصیرت پر مبنی تھا۔ یہاں تک کہ اصحاب و انصار سید الشہداءؑ میں کسی ایک کا جذبۂ انقلاب بھی ناآگاہی و بے بصیرتی پر استوار نہ تھا۔ کیونکہ حسینؑ نے ان کی تربیت ہی ایسی کی تھی۔ ہر موقع پر انہیں چلے جانے کا اختیار دے کر حسینؑ صرف صاحبان بصیرت کو اپنی ہمراہی کا شرف بخشنا چاہتے تھے۔ جو قائد و رہبر کوئی انقلاب برپا کرنے کے لئے لوگوں کے احساسات و جذبات کا سہارا لیتا ہے یا انہیں مجبور کرتا ہے وہ ہمیشہ شرعی تکلیف اور دینی ذمہ داری کا واسطہ دیتا ہے۔ اگرچہ واقعۂ کربلا میں بھی امت پر شرعی تکلیف اور دینی ذمہ داری عائد ہوتی تھی جیساکہ خود امام حسینؑ نے بھی اس کی جانب لوگوں کی توجہ مبذول کرائی لیکن اس کے ساتھ امامؑ یہ چاہتے تھے کہ جو بھی اس شرعی فریضہ کو ادا کرنا چاہے اپنے پورے اختیار اور آزادیٔ کامل کے ساتھ ادا کرے، مجبور ہوکر نہیں۔ لہٰذا آپؑ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: تاریکی شب میں دشمن تمہیں کوئی گزند نہ پہنچا پائے گا، میں بھی تمہاری گردنوں سے اپنی بیعت اٹھائے لیتا ہوں، جسے جانا ہو چلا جائے۔ لیکن کوئی پروانہ شمع امامت کو چھوڑ کر چلے جانے پر راضی نہ ہوا، سب ظلمت باطل کا مقابلہ کرتے ہوئے شمع ہدایت پر قربان ہوگئے۔ یہی آگاہی و بصیرت پر مشتمل قیام شہدائے کربلا کی قدر و منزلت کا سبب بنا۔
ایک بصیرت بھرے انقلاب کی کئی نوعیتیں ہوسکتی ہیں۔ قیام عاشورا میں بھی چونکہ چند اسباب و محرّکات کار فرما تھے لہٰذا اس کی نوعیتیں بھی متعدد تھیں۔ ایک مادّی شۓ کی ایک ہی نوعیت و ماہیت ہوتی ہے لیکن انسان اور پھر ایک معاشرے کی متعدد نوعیتیں اور ماہیتیں ہوسکتی ہیں۔ کبھی ایک انقلاب کی نوعیت جارحانہ ہوتی ہے، کبھی دفاعی۔ کبھی عمل کی صورت تو کبھی عکس العمل کی شکل میں۔ پھر یہ عکس العمل بھی کبھی مثبت رخ رکھتا ہے تو کبھی منفی رخ کا حامل ہوتا ہے۔
یہ تمام نوعیتیں انقلاب عاشورا میں قابل مشاہدہ ہیں۔ اس انقلاب کا ایک اہم محرّک یزید جیسے فاسق و فاجر کی جانب سے بیعت کا مطالبہ تھا۔ مطالبۂ بیعت کے مقابلہ میں یہ قیام و انقلاب ایک منفی عکس العمل کی نوعیت کا ہے۔ امامؑ نے انکار بیعت کرکے ذلت اور رسوائی سے گریز کیا ہے۔ اس قیام کا ایک اور اہم محرّک اہل کوفہ کی دعوت ہے۔ اہل کوفہ کی دعوت کے مقابلہ میں یہ قیام ایک مثبت ردّ عمل کی صورت رکھتا ہے کیونکہ اس کے بعد امام پر حجت تمام ہوگئی تھی۔ امام کا یہ عمل تعاون کی نوعیت کا حامل تھا۔ اس مقام پر امام حسینؑ منفی ردّ عمل کا اظہار نہیں کرسکتے تھے۔ اب آپؑ ابن عباس کے پہاڑوں میں مخفی ہوجانے کے مشورے پر عمل نہیں کرسکتے تھے۔ اگرچہ امامؑ خوب جانتے تھے کہ اہل کوفہ کاہل اور بزدل ہیں مگر ان کی دعوت اور ان کے خطوط کے مقابلہ میں اگر آپ خاموش رہ جاتے تو پھر تاریخ کیا کہتی؟ پھر تو ہم بھی اعتراض کرتے کہ جب خلافت علیؑ اور لشکر اسلام کے مرکز سے دعوت آئی تو امامؑ کو منع کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
مذکورہ دونوں محرّکات و اسباب میں انکار بیعت، کوفیوں کی دعوت سے زیادہ اہم ہے اس لئے کہ کوفیوں کی دعوت سے پہلے ہی امامؑ نے اعلان عام کردیا تھا کہ میں ہرگز بیعت نہیں کروں گا چاہے اس کرۂ خاکی پر میرے لئے کوئی جائے پناہ باقی نہ رہے۔
مذکورہ دونوں محرّکات کے علاوہ ایک اور محرّک اس قیام میں دخیل تھا اور وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا مسئلہ تھا۔ یہ محرّک کسی عمل کا ردّ عمل نہیں تھا کہ بیعت نہ کریں۔ اس صورت میں اگر پہاڑوں میں مخفی ہوجاتے تب بھی اپنے فرض کو ادا کرچکے ہوتے۔ دوسرے محرّک میں بھی کوفیوں کی دعوت کی بناپر امام پر فرض بنتا تھا کہ کوفہ جائیں لیکن جب اہل کوفہ اپنے وعدوں پر پورے نہ اترے تو اب امام پر کوئی فرض عائد نہیں ہوتا تھا۔ امامؑ لوٹ کر کہیں اور بھی جاسکتے تھے۔ مگر تیسرا محرّک دفاعی نہیں بلکہ ہجومی نوعیت کا حامل تھا۔ ردّ عمل نہیں بلکہ خود عمل تھا۔ اس کے مطابق امامؑ کو ہر حال میں قیام کرنا تھا۔ امام حسینؑ کے خطبات سے بھی اس بات کا اندازہ ہوتا ہے جہاں آپؑ نے اس محرّک پر بہت تاکید فرمائی ہے۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نے "حسینؑ" کو "حسینؑ شہید" بنا دیا۔ بنیادی طور پر امامؑ کی پوری فکر و منطق ایثار و فداکاری، عقیدہ و ایمان اور قربانی و شہادت جیسے عناصرِ عزت پر قائم تھی، نیرنگ بازی، کینہ پروری اور ذاتی مفادات جیسے اوصاف پر نہیں۔
شہید وہ ہے جو صرف اپنے خون کی سرخ روشنائی سے سماج کی پیشانی پر پیغام انسانیت لکھ جاتا ہے۔ بہت سوں نے اپنے پیغام پتھر پر نقش کئے مگر ان پیغاموں کی تأثیر اس پتھر سے متجاوز نہ ہوسکی مگر حسینؑ بن علیؑ نے اپنے پیغام ہوا کے لرزتے صفحات پر ثبت و ضبط کردئے، چونکہ یہ پیغام خون کے سرخ رنگ سے تحریر کئے گئے تھے لہٰذا انہوں نےد لوں میں سکونت اختیار کرلی۔ اب دل بھی انہیں بھولنے کو کہاں تیار؟!
امامؑ مدینہ سے ہی کسی عمل کے ردّ عمل کے طور پر نہیں نکلے تھے بلکہ خود مظاہرۂ عمل کی غرض سے کوچ فرما رہے تھے۔ جناب محمد حنفیہؑ کو لکھے گئے اپنے وصیت نامہ میں آپؑ نے اعلان کیا: "اِنّی ما خرجت أشراً و لا بطراً و لا مفسداً و لا ظالماً انّما خرجت لطلب الاصلاح فی امۃ جدّی أرید أن آمر بالمعروف و انھیٰ عن المنکر۔"
"میں شرارت و ظلم و فساد پھیلانے کے لئے نہیں جارہا ہوں بلکہ میں تو صرف نانا کی امّت کی اصلاح اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی غرض سے کوچ کررہا ہوں۔"(1)
اس وصیت نامہ میں امامؑ نے نہ تو مطالبہ بیعت کو غرض قیام بیان فرمایا، نہ اہل کوفہ کی دعوت کا ہی ذکر کیا بلکہ صرف اصلاح امّت اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو مقصد قیام ذکر کیا ہے۔
اس فکر و منطق کے مطابق امام حسینؑ نے وہ کارہائے نمایاں انجام دئے جو صرف شہید کے طرز تفکّر اور منطق شہادت کے ذریعہ ہی قابل توجیہ ہیں۔ مدافعانہ فکر و منطق کے مطابق اور دفاعی صورت حال میں شب عاشور، امامؑ نے جب اپنے اصحاب کو چلے جانے کا اختیار دے دیا اور وہ نہیں گئے تو امامؑ کو چاہئے تھا کہ انہیں جانے پر مجبور کریں اور ان سے کہیں کہ تمہارا یہاں مارا جانا شرعی حوالے سے جائز نہیں۔ جبکہ تاریخ شاہد ہے کہ جب یہ پروانے شمع ہدایت کو چھوڑ کر جانے پر راضی نہ ہوئے تو امامؑ نے ان کے لئے دعائے خیر کی اور اسی شب بنی اسد کے کچھ اور افراد کو بلانے کے لئے جناب حبیب بن مظاہرؑ کو روانہ کیا۔ ہزاروں کے لشکر کے مقابلہ میں مزید چند افراد کے شامل ہوجانے میں بھلا کیا فائدہ تھا؟ جواب یہ ہے کہ شہید کی فکر و منطق کے مطابق یہ موجِ خوں جس قدر وسیع ہو اتنا ہی بہتر ہے۔ (2)
ترجمہ : عابد رضا نوشاد رضوی

منابع:
1۔ بحار الانوار، ج۴۴، ص۳۱۹
2۔حماسۂ حسینی، ج۱، ص۱۲۹۔ ۱۴۶ و ج۲، ص۱۰۰۔ ۱۰۱

مقالات کی طرف جائیے