مقالات

 

آبشار حقیقت

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

السلام علیک یا رسول اللہ(ص)
آقا ، میرے مولا!میں اس قابل نہیں کہ آپ کو سلام کرسکوں ، گناہوں سے آلودہ ہوں ، میری ذات میں عیوب و نقائص بھرے ہوئے ہیں ، کبر و غرور ، حسد ، غیبت اور کینہ و دشمنی میرے وجود کا حصہ ہیں ، ان گناہوں کے ہوتے ہوئے خود کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ آپ کی خدمت میں سلام عرض کروں ۔
لیکن آقا!مجھے معلوم ہے کہ آپ کی بارگاہ سے کوئی بھی نامراد واپس نہیں گیا ، آقا ! میں نے اپنے گناہوں سے توبہ کرلی ہے ، اب میں صراط مستقیم پر گامزن رہنا چاہتا ہوں ، آقا ! آپ رحمۃ للعالمین ہیں ، مظہر صفات خدا ہیں ،مولا مجھے بخش دیجئے اور میرے سلام کا جواب عنایت فرمائیے ،آقا ! آج میں آپ کے بابرکت وجود سے استفادہ کرنا چاہتاہوں ۔
میرے آقا! آپ کا جواب سلام میری سماعت سے ٹکڑایا ، بہت بہت شکریہ کہ آپ نے اس خاکسار کو اس قابل سمجھا ، اے رسول رحمتؐ! میں آپ کی مہربانیوں کے قربان ۔
میرے لئے کچھ بیان کیجئے ، آپ جانتے ہیں کہ مجھے آپ کی نصیحتوں کی کتنی ضرورت ہے ، میں آپ پر عقیدہ رکھتاہوں ، اس خدا پر ایمان رکھتا ہوں جس نے آپ کو مبعوث فرمایاہے ، آپ کا قول برحق ہے ، مجھ سے بیان کیجئے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ گم گشتۂ راہ ہوجاؤں ۔
آقا! میں خوف زدہ ہوں ، میں اتنی مسافت طے کرکے یہاں تک آیا ہوں اس لئےکہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے اپنی وفات کی خبر دی ہے!اگر آپ اس دنیا سے چلے گئے تو میں کیا کروں گا ، کہاں پناہ لوں گا ، راستہ کیسے تلاش کروں گا ؟راستے کے بھیڑئیے چھپے بیٹھے ہیں تاکہ مجھ سے میرا عقیدہ ، میرا یقین چھین لیں ، میں دھوکہ دھڑی اور فریب سے خوف زدہ ہوں ، مجھ سے بات کیجئے ، اے نبی اکرم(ص)!۔
میں یہاں کھڑا ہوں ، آپ کے سامنے !ادب و احترام کے ساتھ میرا ہاتھ میرے سینے پر ہے ، ذرا دیکھئے ، میرے چہرے پر خوف و ہراس محسوس کرسکتے ہیں ؟ میں کتنا خوف زدہ ہوں ، جانتا ہوں کہ اگر آپ چلے گئے تو معاشرے سے امید کا چراغ بجھ جائے گا ۔ آپ خدا کے رسول ہیں ، آپ کی نظر کرم سے مجھے تقویت ملے گی ، جب آپ چلے جائیں گے تو فتنوں کے درمیان کیا کروں گا ، رنگا رنگ دروغ پردازیوں میں کیسے زندگی گزاروں گا ؟ جب جہالت و نادانی مسلط ہونے لگے گی تو اس غمزدہ کا چارۂ کار کیا ہوگا ؟
اے رسول رحمت! غمزدوں کی خبر لیجئے !
یہ صرف میرے الفاظ نہیں ہیں ، میرا قول " انسان" کا قول ہے ، وہ انسان جس کی تاک میں شیطان ہے اور اسے گمراہ کرنا چاہتاہے ، وہ انسان جو کبھی یہ سوچتاہے کہ اس خاکی دنیا سے رہائی حاصل کرچکا ہے لیکن جب گوشۂ تنہائی میں جاتا ہے تو محسوس کرتا ہے کہ مٹی اور پتھر سے نہیں ہے ، اس وقت وہ اپنی روح کی عظمت و اہمیت کو درک کرتاہے ، اسی لئے وہ دنیا سے اجنبی ہوجاتا ہے ۔جس نے " درد تنہائی " کو محسوس کرلیا اس نے آپ کا یقین کرلیا ، آپ کی لائی ہوئی کتاب کے سایہ میں سکون محسوس کیا اور پھر آپ کے پیچھے پیچھے چلنے لگا لیکن اب وہ آپ کی وفات کی خبر سن کر پریشان اور مضطرب ہے!
میرے آقا!جب آپ نے اپنی وفات کی خبر دی تو میری آنکھوں سے اشک عزا گرنے لگے ، ایسا لگا کہ آپ کے جانے سے میرا دل تنگی کا شکار ہورہاہے ، کاش ! آپ ہمارے ساتھ رہتے ، لیکن یہ خواہش ،خدا کی حکمت کے ساتھ سازگار نہیں ہے ، خدا کا ارادہ ہے کہ آپ ہمارے درمیان سے جائیں اور جنت میں خدا کے مہمان رہیں ۔
• • •
میں آپ کا شکرگزار ہوں ، اے آقا!
میں شکر گزار ہوں کہ آپ نے میری بات سنی اور یہاں ہم سے گفتگو کرنا چاہتے ہیں ، آپ نےاہم باتوں کو بیان کرنے کے لئے"میدان غدیر" کا انتخاب فرمایاہے اور خدا نے آپ کو اس امر پر مامور فرمایاہے ۔
آپ نے کچھ مہینے پہلے عمومی اعلان کروایا کہ حج کے سفر پر جانا چاہتے ہیں، آپ مدینہ سے مکہ کی جانب روانہ ہوئے ، ایک لاکھ سے زیادہ افراد نے آپ کے ہمراہ حج کی سعادت حاصل کی ، حج کے بعد مدینہ کی جانب روانہ ہوئے اور واپس آتے ہوئے میدان غدیر پر پہنچے ۔
لیجئے !وعدۂ الٰہی کے مطابق آپ یہاں خطبہ دینا چاہتے ہیں ، آپ کا یہ خطبہ ہمیں اس بات کی دعوت دے رہاہے کہ ہم اپنے راستہ پر گامزن رہیں ، اس کے بعد کوئی بھی آسمانی اور معنوی راستے سے بھٹے گا نہیں ۔
آپ کا یہ خطبہ ہمارے لئے "آبشار حقیقت "کی حیثیت رکھتاہے ، آپ نے اس خطبہ میں دین اسلام کے تمام تر حقائق و معارف کو بیان کردیاہے ، اس خطبہ کی اہم بات یہ ہے کہ آپ نے اس میں اپنے بعد منصب امامت کے تسلسل کو بڑے واضح اور حسین انداز میں بیان فرمایاہے ۔حضرت علی ؑ سے لے کر آخری امام کے نام کی بھی تصریح فرمادی ہے تاکہ کوئی جھوٹا تاریخ کے کسی موڑ پر اپنے آپ کو امام کہلوا کر لوگوں کو گمراہ نہ کرے ۔
آقا! ہر شخص اپنے مستقبل کے حوالےسے نگراں و پریشان حال ہے ، وہ نہیں جانتا کہ مستقبل میں اس کے ساتھ کیا ہوگا ، وہ صحیح راہ پر گامزن رہے گا یا نہیں ۔ آپ نے اعلان ولایت کے ذریعہ اس پریشانی و نگرانی کو سرے سے ختم کردیا ، آپ نے حضرت علی ؑکا بازو پکڑ کرفرمایا:"من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ"۔اور اس طرح ہر دور اور زمانے کے انسانوں کو اچھی ، بہترین اور سعادت مند زندگی گزارے کا آفاقی منشور مل گیا۔
آقا ! آپ نے اس خطبہ میں اعلان ولایت علی ؑکے علاوہ وہ ساری چیزیں بیان فرمادیں جو ایک شخص کی دینی زندگی کے لئے مفید اور کارآمد ہوسکتی ہیں ۔
اس میں آپ نے سب سے پہلے خداوندعالم کی حمد و ثنا کی ؛ پھر ولایت کے متعلق خدا کے خصوصی حکم سے لوگوں کو مطلع فرمایا تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ آپ یہ سب کچھ اپنی جانب سے کررہے ہیں ۔ ہاں ! ہم جانتے ہیں کہ آپ کا ہر عمل خدا کے حکم کا تابع ہوتاہے ، آپ وہی کہتے ہیں جس کی وحی ہوتی ہے۔
آقا ! آپ نے حالات کو سازگار دیکھتے ہوئے امامت و ولایت کا باقاعدہ اعلان فرمایا تاکہ اپنے بعد لوگوں کے لئے چراغ ہدایت فراہم کرسکیں۔
اس خطبہ میں آپ نے امیر المومنین کا تعارف پیش کیا ، مسئلہ امامت کی تاکید فرمائی اس لئے کہ یہی امامت ہے جو لوگوں کو گمراہی سے محفوظ رکھے گی۔
آقا ! آپ تو دلوں کے حالات سے بھی واقف ہیں ، آپ جانتے ہیں کہ اس اجتماع میں جو لوگ موجود ہیں ان میں سب مومن نہیں ہیں بلکہ اکثر منافق ہیں ، اسی لئے ان کو خبردار فرمایا کہ وہ آپ کے بعد عہد شکنی کا مظاہرہ نہ کریں ۔
اسی ذیل میں آپ نے اہل بیت ؑکے دوست اور دشمن کی بھی نشاندہی کرد ی کہ میرے بعد بہت سے لوگ اہل بیت ؑ کے فضائل و مناقب کی وجہ سے دشمنی کریں گے ، ایسے لوگ اوندھے منھ جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے ؛ اس لئے ان کا ساتھ نہ دینا کیونکہ ساتھ دینے والوں کا انجام بھی اچھا نہیں ہے وہ بھی جہنم کا ایندھن بنیں گے ۔
آقا! آپ نے اس خطبہ میں حضرت مہدی (عج)تذکرہ کئی مرتبہ کیاہے اور ان کی غیبت کے ساتھ ساتھ ان کے قیام کی حقیقت کو بھی بیان فرمایا تاکہ لوگ اپنے زمانے کے امام کی شناخت میں غلطی نہ کریں اس لئے کہ زمانے کے امام کی شناخت اور معرفت ہی زندگی کا حاصل ہے ، اگر کوئی اپنے زمانے کے امام کی معرفت حاصل کئے بغیر مر جائے اس کی موت جاہلیت کی موت ہے ۔ آپ نے بتایا کہ اگر جاہلیت کی موت سے محفوظ رہنا چاہتے ہو تو اپنے زمانے کے امام کی بھرپور معرفت حاصل کرو اور اس کی پیروی کرو ۔
آقا ! آپ کے اس خطبہ کی جامعیت کا ایک پہلو یہ ہے کہ آپ نے پہلے اصول دین پر گفتگو کی اور پھر فروع دین اور اس کے فوائد کو بیان فرمایا تاکہ دین اسلام کا نصاب مکمل ہوجائے ۔
آقا ! آخر میں آپ نے عجیب اور حیرت انگیز اقدام فرمایا ، اس سے پہلے ہم نے آپ کی زندگی میں ایسے کسی اقدام کا مشاہدہ نہیں کیا۔میرے خیال سے آپ نے ایسا اس لئے کیا تاکہ حجت ہر اعتبار سے تمام ہوجائے اور کوئی بھی قیامت کے دن اپنی گمراہی و ضلالت کی عذر تراشی نہ کرسکے۔
آپ نے سب سے پہلے لوگوں کو امیر المومنین حضرت علی ؑ کی بیعت کرنے کی زبانی پیشکش کی اور خطبہ کے اختتام پر لوگوں کو عملی بیعت کرنے کا حکم دیااور اس سلسلے میں تین دنوں تک میدان غدیر میں ٹھہرے رہے ۔
آقا !آپ نے اپنا خطبہ ختم کرتے ہوئے فرمایا:والحمد للہ رب العالمین" اس خدا کی مدح و ستائش کرتاہوں جو عالمین کا پروردگار ہے"۔ اور اس طرح آپ خطبۂ غدیر کے پہلے اور آخری جملے میں خدا کی حمد و ستائش کرتے ہیں کیونکہ تمام خوبیاں خدا وندعالم سے مخصوص ہیں۔

مقالات کی طرف جائیے