مقالات

 

آخری پیغام رسالت

حجة الاسلام محمدعلی مقدادی

ترجمہ : قاسم علی بنارسی

''اے پیغمبر! جو کچھ آپ کے پروردگار کی جانب سے آپ کے اوپر نازل کیا جا چکا ہے اسے (مکمل طور پر لوگوں تک) پہنچا دیجئے اور اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو گویا کوئی کار رسالت انجام ہی نہیں دیا ، خدا آپ کو لوگوں (کے احتمالی شر) سے محفوظ رکھے گا اور اللہ کافروں کی ہدایت نہیں کرتا۔''
جس طرح دین اسلام کے ابدی ہونے کے پیش نظرمعصومین علیہم السلام کی رہبری کا ابدی ہونا ضروری ہے تاکہ اسلامی معاشرہ ایک پل بھی سرپرست و رہبر کے بغیر نہ رہے؛ اسی طرح پیغمبر اکرم کی رحلت کے بعد بھی ایک ایسے معصوم رہبر کاوجود انتہائی ضروری ہے جس کے وجود سے مسلمان ہمیشہ مستفید ہوتے رہیں، اس لئے کہ رہبر کے بغیر دین ویسے ہی ہے جیسے سر بغیر جسم۔

آیۂ تبلیغ:
زیر بحث آیت، آیۂ تبلیغ کے نام سے مشہور ہے، اس آیت میں خداوندعالم نے اپنے نبی کو مسلمانوں کے درمیان ایک اہم امر کی تبلیغ کا حکم دیا ہے، اس امر کی تبلیغ کی اہمیت اس اعتبار سے واضح ہوتی ہے کہ اگر رسول نے یہ پیغام نہیں پہونچایا توگویا انہوں نے کوئی کار رسالت انجام ہی نہیں دیا۔
علامہ طباطبائی مرحوم فرماتے ہیں: خداوندعالم نے اس پیغام کی تبلیغ کے سلسلے میں انتہائی شدت کا مظاہرہ فرمایا ہے ، قابل غور بات یہ ہے کہ اس سے قبل خوف و ہراس کے عالم میں بھی اپنے نبی کو اس قدر تاکید کے ساتھ حکم نہیں دیا، چاہے وہ مشرکین قریش سے مقابلہ کا مرحلہ ہو یا توحید کی تبلیغ اور بت پرستی سے منع کرنے کا مسئلہ۔خود آنحضرت کسی مقام پر خوفزدہ نہیں ہوئے یہاں تک تمام وحشت ناک مراحل سے کامیاب و کامران ہوکر گذرے۔ یہ بات بھی لائق توجہ ہے کہ یہ آیت اپنے قبل و بعد سے کوئی ربط نہیں رکھتی اس لئے کہ ہجرت کے آخری سالوں میں جزیرة العرب میں ساکن تمام یہود و نصاریٰ اسلام قبول کر چکے تھے جن سے کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا۔(١)

شان نزول:
کتب تفاسیر میں اس آیت کی شان نزول کے متعلق چار احتمالات پیش کئے گئے ہیں۔(٢)لیکن ان میں سے ایک اہم اور معیاری احتمال جو بیشتر روایات کے مطابق بھی ہے حضرت علی کی ولایت و رہبری ہے، جسے پہلے قرآن مجید اس کے بعد خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ نے صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔
طبری اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ: آیۂ شریفہ ''یَااَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ۔۔۔'' حضرت علی کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ (٣)
صاحب فرات کوفی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: آیۂ تبلیغ ،روز غدیر حضرت علی علیہ السلام کی ولایت و رہبری کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (٤) اسی طرح سے علی بن ابراہیم قمی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ: آیۂ تبلیغ حضرت علی کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (٥)

واقعہ غدیر پر ایک نظر
ہجرت کے دسویں سال پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ ''حجةالوداع'' کے مناسک کو انجام دینے کے بعد ہزاروں مسلمانوں کے ہمراہ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے، قافلہ گام بہ گام اپنی منزلوں کو طے کر رہا تھا اور آہستہ آہستہ وادی جحفہ سے نزیک ہو رہا تھا، اچانک جبرئیل نازل ہوئے اور آیۂ تبلیغ کی تلاوت کی۔ اس آیۂ مبارکہ میں خداوندعالم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کو تاکید کی ہے کہ حضرت علی کی ولایت و جانشینی کو لوگوں تک جلد از جلد پہنچائیں۔ (٦)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ نے غدیر خم میں پہنچ کر یہ دستور دیا کہ: جو لوگ غدیر خم سے گذر چکے ہیں وہ واپس آئیں اور جو لوگ پیچھے رہ گئے ہیں سرعت کے ساتھ غدیر خم پہنچیں۔
آفتاب کی تمازت اپنے عروج پر تھی ، قرائن و شواہد اس بات کی نشان دہی کر رہے تھے کہ کوئی واقعہ رونما ہونے والا ہے ۔
خدایا! یہ کیا ہو رہا ہے؟ کون سا واقعہ پیش آنے والا ہے؟ جی ہاں! پیغمبر اسلام اس بات پر مامور ہیں کہ فرمان خداوندی کو بغیر کسی خوف و ہراس کے لوگوں تک پہنچائیں ۔
پیغمبر اسلام اونٹوں کے کجاؤوں پر بلند ہوئے اور حمد و ثنائے الٰہی کے بعد اس طرح گویا ہوئے: ''اے لوگو! میری زندگی کا آخری وقت قریب آ چکا ہے، اے لوگو! میں نے خداوندعالم کے ہر حلال و حرام کو تم تک پہنچایا ... کیا میں تم لوگوں پر اولویت اور برتری نہیں رکھتا؟'' تمام لوگوں نے یک زبان ہوکر کہا: ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ!۔
اس وقت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ نے حضرت علی کے دست مبارک کو پکڑا اور فرمایا: ''من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ'' جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی مولا ہیں۔ (٧) بار الٰہا! علی کے دوست کو دوست رکھ علی کے دشمن سے دشمنی کر، معبود! جو علی کی مدد کرے اس کی مدد فرما اور جو علی کی مدد نہ کرے اسے ذلیل و خوار کر۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ کے اس ارشاد ''الست اولیٰ بکم۔۔۔؟'' کیا میں تم سب سے اولیٰ و برتر نہیں ہوں؟سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ خطبہ کے آئندہ فراز ''من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ'' سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ کا مقصد حضرت علی کو رہبر اور سرپرست کے عنوان سے پہچنوانا تھا۔ اس لئے کہ اگر''من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ'' کا مطلب صرف انہیں دوست رکھنا ہوتا تو اس قدر تاکید اور لوگوں کو بیابان میں روکنا لازم نہ تھا، لہذا یہاں پر مولا اولویت کے معنی میں ہے جو رہبری کی صلاحیت کو بخوبی نمایاں کرتا ہے۔

حوالہ جات:
١۔ تفسیر المیزان، ج٦، ص٤٢٤۔
٢۔ تفسیر تبیان، ج٣، ص٥٨٧
٣۔ تفسیر طبری، بخش٢٤۔
٤۔ تفسیر فرات کوفی، ج١، ص١٣٠
٥۔ تفسیر قمی، ج١، ص١٧١۔
٦۔ تفسیر عیاشی، ج١، ص٣٣٢
٧۔ اصول کافی، ج١، ص٢٩٥، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج٢، ص٢٨٧

مقالات کی طرف جائیے