مقالات

 

غدیری ایام کی مناسبتوں کا اجمالی تعارف

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری


9/ذی الحجہ…حدیث سدّ الابواب
جب رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ نے مدینہ ہجرت فرمائی اور وہاں مسجد بنوائی تو اصحاب نے مسجد کے ارد گر گھربنائے اور اس کا ایک دروازہ مسجد کی جانب کھول دیا ۔ کچھ دنوں بعد خداوندعالم نے رسول اکرم ؐ کو حکم دیا کہ امیر المومنین ؑ کے گھر کے دروازہ کے علاوہ تمام دروازے بند کروا دیں ۔

10/ذی الحجہ….عید الاضحیٰ
جناب ابراہیم علیہ السلام کو مامور کیاگیا کہ وہ اپنے فرزندحضرت اسماعیلؑ کو ذبح کریں، انہوں نے اطاعت کی لیکن خدا نے اسماعیلؑ کے بجائے ایک گوسفند کو ذبح کرنے کے لئے بھیج دیا اور اس طرح ایک سنت حسنہ کی بنیاد رکھی گئی۔برسوں بعد حضرت ابوطالب علیہ السلام نے مولود کعبہ کی ولادت کے شکرانہ کے طور پرایک ہزار گوسفند اور تین سو اونٹ کی قربانی کی اور لوگوں سے فرمایا: کعبہ کا سات مرتبہ طواف کرنے کے بعد میرے فرزند علی ؑ کے ولیمہ سے استفادہ کرو۔

10/ذی الحجہ…ابلاغ آیات برائت (سورۂ توبہ)
سورۂ توبہ کی ابتدائی آیتیں مشرکین مکہ سے برائت و بیزاری کے سلسلے میں نازل ہوئیں۔ ایک ایسا ہو جوحج کے دوران مکہ لے جاکر ان آیات کی تبلیغ کرے۔اصحاب کے مشورے سے ابوبکر کو مامور کیاگیا ، ان کے جانے کے بعد جبرئیل امین نازل ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہؐ!آیات برائت کو یا خود لے جائیں یا کسی ایسے کے سپرد کریں جو آپ سے ہے ؛ یہ سنتے ہی آنحضرت نے ابوبکر کو معزول کرکے امیر المومنینؑ کو سورۂ برائت کی تبلیغ کے لئے روانہ فرمایا۔

10/ذی الحجہ…بیان حدیث ثقلین
رسول اکرمؐ نے متعدد مرتبہ انسانوں کی ہدایت میں قرآن و اہل بیت علیہم السلام کے اہم کردار کو بیان فرمایاہے ، انہیں میں سے ایک موقع حجۃ البلاغ ہے ، آپ نے حج کے دوران میدان منیٰ میں فرمایا: میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑکر جارہاہوں : ایک خدا کی کتاب اور دوسرے میرے اہل بیتؑ؛ ان دونوں سے متمسک رہوگے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔

13/ذی الحجہ…لقب امیر المومنین
مکہ میں حضور اکرمؐ کے آخری ایام ہیں ، اب وہ مدینہ جانا چاہتے ہیں تبھی جبرئیل نازل ہوئے اورحضرت علیؑ کو خطاب کرکے کہا: السلام علیک یا امیر المومنین؛ حضرت نے عرض کی: یارسول اللہ! میں نے ایک آواز سنی لیکن بولنے والا نظر نہیں آیا۔ آنحضرت نے فرمایا: یہ جبرئیل ہیں جو وعدۂ الٰہی کی تصدیق کے لئے آئے ہیں ۔ پھر آپ نے تمام اصحاب کو حکم دیتے ہوئے فرمایاکہ وہ حضرت علیؑ کو امیر المومنین کہہ کر سلام کریں۔

14/ذی الحجہ…اعطائے فدک
خدا کا حکم ہے کہ جو زمین جنگ و قتال کے بغیر حاصل ہوجائے وہ رسول کی ذاتی ملکیت ہے،اس میں مسلمانوں کا کوئی حصہ نہیں۔خیبر میں فدک کی وسیع زمین رسول اکرم ؐاور امیر المومنینؑ کے توسط سے فتح ہوئی ، آیت نازل ہوئی کہ قریبی رشتہ داروں کا حق ادا کردیجئے ۔ آنحضرت نے حکم سنتے ہی فدک کو جناب خدیجہ (س)کے خدمات کے عوض حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو بخش دیا۔

15/ذی الحجہ…ولادت امام ہادی علیہ السلام
سن 212 ہجری کو ہدایت کے دسویں چراغ اور وارث غدیر حضرت امام ہادی علیہ السلام اس کائنات میں جلوہ افروز ہوئے۔امام عالی مقام کی زبان مبارک سے ہدایت کے دو عظیم منبع جاری ہوئے ہیں ؛ایک زیارت جامعہ کبیرہ ہے جومعرفت امامت کا ایک مکمل نصاب ہے ، دوسرے زیارت غدیریہ ہے جو معرفت امیر المومنینؑ کا مکمل نصاب ہے۔

17/ذی الحجہ…نزول آیۂ محبت(ودّ)
حجۃ البلاغ میں جب منافقین نے امیر المومنین ؑ کو قتل کرنے کی سازش کی تو اللہ کے نبیؐ نے اس شرارت پسندی کا قلع قمع کرنے کے لئے نماز کے بعد اس طرح دعا فرمائی :خدایا!مومنین کے دلوں میں علی بن ابی طالبؑ کی محبت و الفت اور منافقین کے دلوں میں اس کی ہیبت و عظمت قرار دے۔

18/ذی الحجہ…عید غدیر
عید اکبر کی مبارک تاریخ پہنچی ، منافقوں کے شر سے رسول اکرمؐ کی جان کے تحفظ کا وعدہ کیاگیا: یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک … رسول اکرمؐ اونٹوں کے کجاؤں کے منبر پر کھڑے ہوئے ، آپ نے منشور ہدایت عطا کرتے ہوئے خطبہ دیا ۔ سبھی نے دیکھا کہ رسول اللہؐ کے ہاتھوں میں ولی اللہ کا ہاتھ ہے،اسی وقت غدیر کی فضا میں "من کنت مولاہ فعلی مولاہ" کی آوازبلند ہوئی۔اور پھراس عظیم موقع پر دین اسلام کو رضایت الٰہی کا شیریں جام عطا کیاگیا: "الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا"۔

18/ذی الحجہ…امام زمانہ(عج)کی بیعت کا دن
عید غدیر صرف امیر المومنینؑ کی بیعت کا دن نہیں ہے بلکہ رسول خداؐ نے فرمایا: خداوندعالم کی جانب سے مجھے حکم دیاگیاہے کہ میں تم لوگوں سے علیؑ اور اس کے بعد آنے والے ائمہ معصومین ؑ کی بیعت لوں ۔ لہذا مناسب یہ ہے کہ مومنین ، رسول اکرمؐ کے دستور کی پیروی کرتے ہوئے اس دن واضح طور پر آخری وارث غدیر حضرت امام زمانہ(عج)کی بیعت کریں۔

18/ذی الحجہ…بیان حدیث منزلت
رسول اکرمصلی اللہ علیہ وآلہ نے متعدد مرتبہ اپنے نزدیک امیر المومنینؑ کی منزلت اور منافقین کے وجود کو حدیث منزلت کے ذریعہ بیان فرمایا: تمہاری حیثیت میرے لئے ویسی ہی ہے جیسی ہارون کی موسیٰ کے لئے تھی ۔ اس حدیث کو جنگ تبوک جیسے اہم موقعوں پر بیان فرمایا پھر اتمام حجت کے لئے غدیر خم کے دن بھی بیان فرمایا۔

20/ذی الحجہ…معجزۂ غدیر
غدیر خم میں اعلان ولایت کے بعد منافقین آگ بگولہ ہوگئے ، حارث فہری نے نازیبا انداز میں خطاب کرتے ہوئے آنحضرت سے کہا: علی بن ابی طالبؑ کی بیعت کا حکم آپ نے اپنی طرف سے دیا ہے یاخدا کی جانب سے ؟ فرمایا: یہ خدا کا حکم ہے ۔یہ سنتے ہی وہ یہ کہتے ہوئے باہر نکلا: خدایا! اگر محمدؐ سچ بول رہے ہیں تو مجھ پر عذاب نازل کر۔ اچانک آسمان سے ایک پتھر نازل ہوا اور وہ ہلاک ہوگیا۔

20/ذی الحجہ…ولادت امام کاظم علیہ السلام
سن 128ہجری کو امام جعفر صادق علیہ السلام نے حج سے واپس آتے ہوئے ابواء نامی جگہ پر لوگوں کوٹھہرنے کا حکم دیا، دوسرے دن صبح کے وقت امام کے بعض اصحاب خیمہ میں موجود تھے ، اسی وقت ایک عورت داخل ہوئی اور امام کو ایک فرزند کی ولادت کی بشارت دی۔ امام یہ سن کر مسکرائے اور حمد الٰہی کے بعد فرمایا:اللہ نے مجھے ایسا فرزند عطا فرمایاہے جو روئے زمین پر تمام لوگوں سے بہتر ہے ؛ مدینہ آکر امام نے فرزند کی ولادت کی خوشی میں تین دنوں تک لوگوں کو کھانا کھلایا۔

21/ذی الحجہ…نزول آیۂ اولی الامر
حدیث بساط کے ذیل میں بیان کیاگیا کہ جب امیر المومنین اپنے اصحاب کے ہمراہ اصحاب کہف کی جانب کئے گئے سفر آسمانی سے واپس آئے تو آیۂ اولی الامر نازل ہوئی ۔ اس آیت میں رسول اکرمؐ اور اولی الامر کی اطاعت کو بغیر کسی قید و شرط کے خداوندعالم کی اطاعت کے ہمراہ بیان کیاگیاہے ۔ بے شمار روایات اور خود رسو ل اکرمؐ کے ارشاد کے مطابق "اولی الامر" سے مراد صرف بارہ امام ہیں۔

22/ذی الحجہ…واقعہ ہرشا
واقعہ غدیر کے بعد جب منافقین نے دیکھا کہ اعلان ولایت کو روکنے کی ساری سازشیں بے کار ہوچکی ہیں تو انہوں نے مدینہ واپس آتے ہوئے ہرشا نامی پہاڑی پر رسول ؐ کو قتل کرنے کی سازش کو عملی جامہ پہنانے کا ارادہ کیا لیکن جبرئیل امینؑ نے آنحضرتؑ کو آگاہ کیا اور حذیفہ اور عمار کی مدد سے آپ کی جان محفوظ رہی۔اسی وقت ایک نور ساطع ہوا اور خداوندعالم نے حذیفہ اور عمار کے لئے منافقین کا چہرہ آشکار کردیا۔

24/ذی الحجہ…عید مباہلہ
رسول اکرمؐ کے محکم دلائل کے مقابلہ میں عیسائی علماء ہٹ دھرمی دکھانے لگے تو طے ہوا کہ مباہلہ میں ایک دوسرے پر لعنت و نفرین کریں۔آنحضرت اپنے اہل بیتؑ(حسن ،حسین،فاطمہ اور امیر المومنین علیہم السلام) کو مباہلہ کے لئے لے گئے ، عذاب کی علامتوں کو دیکھ کر علماء نے کہا: اگر یہ پانچ افراد لعنت و نفرین کریں تو ایک بھی عیسائی زندہ نہیں رہے گا ، اسی لئے وہ تمام شرائط ماننے کے لئے تیار ہوگئے ۔ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: امیر المومنینؑ کی عظیم ترین قرآنی فضیلت آیۂ مباہلہ ہے جس میں آپ کو نفس رسولؐ کہاگیاہے۔

24/ذی الحجہ…نزول آیۂ ولایت
وہ خستہ حال مسجد میں داخل ہوا اورمسجد میں موجود سبھی سے مدد کی درخواست کی لیکن کسی نے مثبت جواب نہیں دیا ، اسی لئے اس نے خدا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: خدایا! اتو گواہ رہنا کہ میں نے تیرے رسولؐ کی مسجد میں مدد کی درخواست کی لیکن کسی نے بھی مدد نہیں کی ۔ پہلو میں حضرت علیؑ نماز پڑھ رہے تھے ، اس نے مولا کے اشارہ سے ان کی انگوٹھی اتار لی اور خدا کا شکر ادا کرتاہوا مسجد سے چلا گیا … اسی واقعہ کے بعد سورۂ مائدہ کی 55ویں آیت نازل ہوئی ۔

24/ذی الحجہ…حدیث کساء اور نزول آیۂ تطہیر
واقعہ مباہلہ کے بعد سن9ہجری کو رسول خداؐ اپنی بیٹی کے گھر تشریف لے گئے اور ایک چادرمیں امام حسن، امام حسین، امیر المومنین اور جناب فاطمہعلیہم السلام کو چھپا لیا پھر آسمان کی طرف دست دعا بلند کرکے فرمایا: خدایا!میرے اہل بیتؑ سے ہر طرح کے رجس و کثافت کو دور فرما۔اسی وقت جبرئیل امینؑ، اہل بیتؑ کی شان میں آیۂ تطہیر لے کر نازل ہوئے۔ اس واقعہ کے بعد 9مہینے تک آنحضرت ، امیر المومنینؑ کے دروازے پر کھڑے ہوکر آیۂ تطہیر کی تلاوت کرتے اور فرماتے تھے: یہی میرے اہل بیتؑ ہیں۔

25/ذی الحجہ…نزول سورۂ ہل اتیٰ
امام حسن اور امام حسین علیہما السلام بیمار ہوئے ، امیر المومنین اور حضرت زہرا علیہما السلام نے اپنے بچوں کی شفایابی کے لئے تین روز روزہ رکھنے کی نذر مانی ۔ ہر روز افطار کے وقت مسکین، یتیم اور اسیر کو اپنا کھانا دے دیتے تھے اور خود پانی سے افطار کرلیتے تھے؛ تیسرے دن جبرئیل امین اس بہشتی خانوادے کی شان میں سورۂ ھل اتی لے کر نازل ہوئے۔

نوت: ان تمام مناسبتوں کی تفصیلی معلومات کے لئے انوار غدیر کی جانب رجوع کریں۔

مقالات کی طرف جائیے