مقالات

 

شب قدر کا احیاء

قاسم علی بنارسی

شب قدر وہ شب ہے جو ہزار ماہ (80 سال سے زیادہ) سے افضل ہے اور سعادت مند وہ انسان ہے جو معرفت کے ساتھ اس شب کو درک کرتے ہوئے اس کے فیوضات و برکات سے استفادہ کر سکے۔ اہل بیت اطہار علیہم السلام نے شب قدر کے احیاء کے سلسلے میں عملی اور گفتاری طور پر بہت زیادہ تاکید کی ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: ’’مَنْ أَحْیَا لیلة القدر لَمْ یَمُتْ قَلْبُهُ یَوْمَ تَمُوتُ الْقُلُوب‘‘ جو کوئی شب قدر میں شب زندہ داری کرے گا اس کا دل اس نے دن (قیامت) جب سارے دل مردہ ہوں گے زندہ رہے گا۔ اسی طرح امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’مَنْ أَحْيَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ وَ لَوْ كَانَتْ ذُنُوبُهُ عَدَدَ نُجُومِ السَّمَاءِ وَ مَثَاقِيلِ الْجِبَالِ‘‘ شب قدر میں احیاء تمام گناہوں کی بخشش کا سبب ہے چاہے وہ آسمان کے ستاروں کے برابر اور بلند پہاڑوں کے مانند ہی کیوں نہ ہوں۔
ایک دوسری روایت میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: خوش قسمت ہے وہ شخص جو شب قدر کو رکوع و سجود میں گزارے اپنے گناہوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے مجسم کرے اور ان پر گریہ و زاری کرے اگر ایسا کیا تو مجھے امید ہے کہ وہ بارگاہ خداوندی سے مایوس نہیں ہو گا۔
اس رات میں شب بیداری کرنا اتنی فضیلت کا باعث ہے کہ خود اہل بیت اطہار نے اس سنت حسنہ کا اہتمام و احترام کیا اور خود اس سے مکمل استفادہ کیا۔ روایت میں ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تئیسویں کی شب کو اپنے اہل خانہ کے منہ پر پانی چھڑکتے تھے تاکہ وہ نیند سے اٹھ جائیں۔ اسی طرح روایت میں ہے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا شب قدر میں اپنے بچوں کو دن میں سلاتی تھیں اور رات کو کم کھانا کھلاتی تھیں تاکہ بچے شب قدر میں بیدار رہ سکیں اور فرماتی تھیں: ’’مَحْرُومٌ مَنْ حُرِمَ خَیْرَهَا‘‘ محروم انسان وہ ہے جو اس شب کی برکتوں سے محروم رہ جائے۔
یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی بھی شب قدر میں ایک خاص حالت ہوا کرتی تھی کہ وہ فقط خود ہی نہیں بلکہ اپنے تمام بچوں کو بھی بیدار رکھتی تھیں، لہذا ہمیں اس شب کے فیوضات سے بہرمند ہونے کے لئے سیرت اہل بیت اطہار علیہم السلام پر عمل کرتے ہوئے اس رات میں شب بیداری کرنی چاہئے اور اپنے بچوں کو بھی بیدار رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انہیں دعا و نماز اور اعمال کے لئے مجبور کیا جائے بلکہ فقط ان کا جاگتے رہنا ہی خیر و برکت اور عنایت الٰہی کا باعث ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا شب قدر میں اپنے بچوں کو بیدار رکھنے کے لئے حلوا بناتی تھیں یعنی اس شب کے احیاء کا اہتمام بھی کرتی تھیں لہذا اس شب قدر میں اگر کوئی شخص عبادت گزاروں کے لئے خورد و نوش کا اہتمام کرے تو اس کی بھی فضیلت ہے۔
یہ بات بھی لائق ذکر ہے کہ فقط اس رات میں شب بیداری کر لینا کافی نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعہ اپنے ضمیر اور خود کو بیدار کرنا ضروری ہے، دعا و مناجات، تلاوت و نماز اور توبہ و استغفار کے ذریعہ انسان اس رات کی مکمل برکتوں اور فیوضات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو دنیوی اور اخروی سعادت و کامیابی کی منزلوں سے ہمکنار کر سکتا ہے۔

منابع :
۔ اقبال الاعمال، سید بن طاوس، ص 274
۔ اقبال الاعمال، سید بن طاوس، ص 186
۔ بحارالانوار، ج 97، ص 4
۔ بحارالانوار، ج 97، ص 10
۔ امالی، شیخ طوسی، ص 676

مقالات کی طرف جائیے