مقالات

 

فلسفۂ روزہ

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

تمہید
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ خداوندعالم تمام چیزوں کے مصالح و مفاسد سے آگاہ ہے ، عقل اس بات کا حکم کرتی ہے کہ خداجانتا ہے کہ کون سی چیزیں انسان کے لئے مفید ہیں اور کون سی چیزیں نقصان دہ ہیں، اسی لئے جو چیزیں انسان کے لئے مفید تھیں ان کا حکم دیا اور جو چیزیں نقصان دہ تھیں ان کو انجام دینے سے منع کیا ۔چونکہ خداوندعالم نے رمضان المبارک میں روزہ رکھنے کا حکم دیاہے اس لئے عقل کے تناظر میں یہ سمجھا جاسکتاہے کہ روزہ قطعی طور پر انسان کے لئے مفید اور نفع بخش ہے ۔
ظاہر ہے خداوندعالم کی طرف سے بندوں پر عائد کئے گئے تمام احکام و دستورات کے علل و اسباب اور فلسفہ سے واقفیت ذہن بشر سے ممکن نہیں ، اس نے کون سا حکم کیوں نافذ کیا اور اس کا فلسفہ کیاہے یہ تو صرف وہی جانتا ہے لیکن آیات و روایات کی جانب رجوع کرنے سے احکام الٰہیہ کے بعض اثرات ، فوائد اور فلسفہ سے کسی حد تک واقفیت حاصل ہوتی ہے ۔
روزہ بھی دوسرے اسلامی احکام کی طرح ایک ایسا حکم ہے جس کے تمام اثرات اور فلسفوں سے آگاہ ہونا ہر انسان کے لئے ممکن نہیں، اس لئے کہ انسان کے علوم محدود ہیں اور اس میں تمام اسرار و رموز کو واضح و آشکار کرنے کی قدرت نہیں ہے ، لیکن اسرار الٰہی کے واقعی عالم ، ائمہ معصومین نے اپنی بعض احادیث و روایات میں روزے کے فلسفوں اور اثرات کو بیان فرمایاہے ، یہاں ان میں سے بعض کی جانب اشارہ کیاجارہاہے :

١۔ تثبیت اخلاص
تمام اعمال کی قبولیت میں اخلاص انتہائی اہم کردار ادا کرتاہے ، وہی عمل خداوندعالم کی بارگاہ میں شرف قبولیت سے ہمکنار ہوتا ہے جسے خلوص کے ساتھ انجام دیاجائے ، اگر عمل میں خلوص نہیں تو انسان کا عمل اس کے منھ پرمار دیاجاتا ہے ۔خداوندعالم نے اسی اخلاص کی تثبیت کے لئے روزہ کا فریضہ عائد کیاہے ، در اصل خدا اس روزہ کے ذریعہ انسان کے اخلاص کا امتحان لیتاہے ، ایک حدیث میں حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :فرض اللہ ...الصیام ابتلاء لاخلاص الخلق ''خداوندعالم نے بندوں کے اخلاص کا امتحان لینے کے لئے روزے کو واجب کیاہے ''۔(١)
حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا نے اس بات کی صراحت فرمائی ہے کہ خدا نے اخلاص کی تثبیت کے لئے روزہ کا فریضہ عائد فرمایاہے ، بی بی اپنے خطبہ میں فرماتی ہیں : فرض اللہ الصیام تثبیتا للاخلاص''خداوندعالم نے اخلاص کی استواری اور تثبیت کے لئے روزہ کو واجب قرار دیاہے ''۔(٢)

٢۔تہذیب نفس
روزہ تزکیہ اور تہذیب نفس کا بہترین ذریعہ اور اللہ سے قربت حاصل کرنے کا موثر ترین راستہ ہے ، اگر شرعی احکام کے مطابق روزہ رکھاجائے اور اس کے جزئیات کی بھرپور رعایت کی جائے تو یہ دل سے غفلت اور گناہ کا غبار دھوکر اسے پاک و پاکیزہ اور نورانی بنادیتاہے ،خانۂ دل سے شیاطین کو باہرنکال دیتاہے اور اسے ملائکہ کے دخول اور معرفت ، حکمت اور یقین کی روشنی کے لئے تیار کرتاہے ۔ ایسا ہی شخص حقیقی روزہ دار ہے ، جس نے خدا کی دعوت کو قبول کیا ہے اور الٰہی نعمات و انعامات کے حصول کی صلاحیت اپنے وجود میں پیدا کی ہے اور یقینا ایسا ہی روزہ دار رحیم و کریم پروردگار کے فیوض و برکات سے بہرہ مند ہوگا۔

٣۔ طہارت روح
روزہ کا ایک فلسفہ اور اہم ترین فائدہ یہ ہے کہ یہ انسان کی روح کو لطیف،پاک و پاکیزہ ، اس کے ارادہ کو قوی اور اس کے جذبات و احساسات کو معتدل رکھتاہے ، یہ روزہ انسان کے جسم و جسمانیات پر روحانی اور معنوی اثرات مرتب کرتاہے ، ظاہر ہے جس انسان کے اختیار میں مختلف قسم کے کھانے اور پینے کی چیزیں ہوں اور وہ ان کو بھوک اور پیاس کی حالت میں استعمال کرسکتا ہو ، وہ انسان ان درختوں کی طرح ہیں جو باغ کی دیوار وں کی پناہ میں نہر کے کنارے اگ جاتے ہیں ، نازوں کے پلے ہوئے ان درختوں میں مقاومت کرنے کی طاقت بہت کم ہوتی ہے ، اگر کسی دن ان کے نیچے پانی نہ ہو تووہ خشک ہوجاتے ہیں ۔لیکن جو درخت پہاڑوں اور بیابانوں کے درمیان اگتے ہیں اور ان کی شاخوں کو ابتداء ہی سے سخت طوفان ، جلتی دھوپ اور سردیوں میں سردی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور مختلف قسم کی محرومیت ان کے شامل حال ہوتی ہے ، ایسے درخت محکم ، ہمیشہ قائم رہنے والے اور سخت جان ہوتے ہیں ۔
روزہ بھی انسان کی جان و روح کے ذریعہ اسی عمل کو انجام دیتاہے اور وقتی محدودیت کے ساتھ انسان کو مقاومت ، ارادہ کی طاقت اور سخت حوادث سے جنگ کرنے کی قوت عطا کرتاہے اور جب وہ اپنی سرکش خواہشات کو کنٹرول کرتاہے تو انسان کے قلب کو نور اور صفا عطا کرتاہے ۔مختصر یہ کہ روزہ انسان کو حیوانیت سے نکال کر فرشتوں کی دنیا میں لے جاتاہے جس سے روح کی طہارت و پاکیزگی کا پتہ چلتاہے ۔ حدیث میں ہے : الصوم جنة من النار '' روزہ آتش جہنم کے سامنے ڈھال ہے ''۔(٣)
روزہ آتش جہنم کے لئے ڈھال اس لئے ہے کیونکہ روزہ دار روزہ رکھنے کی وجہ سے اپنی روح کو پاک و پاکیزہ بنا لیتاہے اور جس کی روح پاکیزہ اور طاہر ہو اس کا ٹھکانہ جہنم نہیں بلکہ جنت ہے ، ایک حدیث میں حضرت علی سے مروی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ سے سوال کیاگیا : ہم شیطان کو اپنے آپ سے دور کرنے کئے کیا کریں ؟ آنحضرت نے جواب میں فرمایا ''روزہ شیطان کے چہرےکو سیاہ کرتاہے ، خدا کی راہ میں انفاق کرنے سے اس کی کمر ٹوٹ جاتی ہے ، خدا کی وجہ سے کسی سے دوستی کرنے اور عمل صالح پر پابند رہنے سے اس کی امید ٹوٹ جاتی ہے اور استغفار اس کے دل کی رگ کو کاٹ دیتی ہے ''۔(٤)
آنحضرت ایک دوسری حدیث میں فرماتے ہیں :ان للجنة بابا یدعی الریان لا یدخل فیھا الا الصائمون ''جنت کے ایک دروازہ کا نام '' ریان ''(سیراب شدہ )ہے اس دروازہ سے صرف روزہ دار داخل ہوں گے ''۔(٥)

٤۔ فقیروں اور حاجتمندوں سے ہمدردی
بچپن سے عیش و عشرت میں پرورش پانے والا دولتمند انسان عام طور سے محتاجوں اور کمزوروں کے درد کو محسوس نہیں کرپاتا لیکن جب وہ روزہ رکھتاہے اور اسے بھوک اور پیاس کا احساس ہوتاہے تو اسے معلوم ہوتاہے کہ فقیری کیا ہے اور محتاجی کا درد کیاہوتاہے ، ایسی صورت میں اس کی آنکھوں کے سامنے سے غفلت اور بے توجہی کا پردہ ہٹ جاتاہے اور وہ اس درد کو محسوس کرنے لگتاہے ۔ احادیث و روایات میں روزے کا ایک فلسفہ یہی '' احساس درد '' بتایاگیاہے ،ہشام بن حکم نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روزہ رکھنے کے فلسفہ کے بارے میں سوال کیا ، حضرت نے ان کے جواب میں فرمایا :''خدا نے روزہ کو اس لئے واجب کیاہے تاکہ امیر اور فقیر باہم مساوی ہوجائیں کیونکہ امیر آدمی نے بھوک کا مزہ چکھا ہی نہیں کہ فقیر پر رحم کھاتا ، اس لئے کہ امیر آدمی جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرتاہے اسے کرنے کی قدرت رکھتاہے ۔ لہذا خدا کا ارادہ ہے کہ مخلوقات کے درمیان مساوات و برابری قائم کرے اور روزہ کے ذریعہ امیر آدمی کو بھوک اور درد کا ذائقہ چکھائے تاکہ وہ کمزوروں کی مدد کرے اور بھوکوں پر رحم کرے''۔(٦)
ایک دوسری حدیث میں امام رضا علیہ السلام نے محمد بن سنان کے سوالات کے جواب میں تحریر فرمایا :علة الصوم العرفان مس الجوع والعطش لیکون ذلیلا مستکینا ماجورا صابرا و یکون ذالک ذلیلا علی شدائد الآخرة مع ما فیہ من الانکسار لہ عن الشھوات و اعظالہ فی الاجل لیعلم شدة مبلغ ذالک من اھل الفقر والمسکنة فی الدنیا والآخرة ''روزہ واجب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ روزہ دار انسان بھوک اور پیاس کا ذائقہ چکھے تاکہ غربت اور افلاس کو محسوس کرے ، اسے اجر دیاجائے ، وہ صابر قرار پائے ، آخرت کی دشواریوں پر گواہ ہو ، خواہشات نفسانی کو کچلنے کے لئے ایک وسیلہ اور ذریعۂ عبرت ہو اور آخرت کا راہنما ہو تاکہ دنیا و آخرت کے فقیرو امیر اس کی دشواریوں کو جان سکیں''۔(٧)
متذکرہ دونوں حدیثوں کے پیش نظر اگر روزہ کے اس فلسفہ کی ملحوظ رکھاجائے اور اس کی خصوصی رعایت کی جائے تو دنیا میں بھوک کے مسئلہ پر کافی حد تک قابو پایاجاسکتاہے ۔ ذرا سوچئے کہ اگر دنیا کے تمام دولتمند روزہ دار اپنے ایک وقت کے کھانے کو اکٹھا کرلیں اور رمضان المبارک کے آخر میں اس جمع شدہ خوراک یا اس کی رقم کو اپنے شہر میں بسنے والے یا اسلامی دنیا میں بکھرے ہوئے ضرورت مندوں کے حوالے کردیں تو اس طرح غریب اور مفلس افراد کی قابل توجہ مدد و نصرت ہوجائے گی۔ہمارے لئے یہ فلسفۂ روزہ لمحۂ فکریہ ہے ۔

٥۔ حصول تقویٰ اور ریاضت نفس
روزے کا ایک اہم ترین فلسفہ اور سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ انسانوں کو متقی اور پرہیز گار بناتا ہے ۔ حقیقی روزہ دار ماہ صیام میں انتہائی سنجیدگی اور توجہ کے ساتھ ہر قسم کے ارتکاب گناہ سے پرہیز کرتاہے یہاں تک کہ روزہ کی وجہ سے کھانے پینے جیسی جائز لذتوں سے بھی اجتناب کرتاہے اور اللہ کی قربت حاصل کرنے کے لئے ایک مہینہ تک مسلسل یہ جسمانی اور روحانی مشق جاری رکھتاہے ۔
ایسا شخص جو پورا ایک مہینہ اس طرح احتیاط اور پرہیز کے ساتھ بسرکرتاہے وہ ایک ایسی قدرت اور مضبوط ارادے کا مالک بن جاتاہے جس کے ذریعہ ماہ صیام کے بعد بھی اپنے زہد و تقویٰ کی حفاظت کرسکتاہے ، اسی لئے خداوندعالم نے بھی آیۂ صیام میں روزہ کے ذریعہ ، تقویٰ کے حصول کا اعلان فرمایاہے ؛ ارشاد رب العزت ہے : ''اے ایمان والو!تمہارے اوپر روزے اسی طرح لکھ دئیے گئے ہیں جس طرح تمہارے پہلے والوں پر لکھے گئے تھے شاید تم اس طرح تقویٰ شعار بن جاؤ''۔(٨)
ظاہر ہے انسان کے لئے پرہیزگاری اور تقویٰ شعاری کافی اہمیت کی حامل ہے اس لئے کہ انسانیت کا معیار ہی تقویٰ ہے ، یہی وجہ ہے کہ گناہوں سے پرہیز ماہ رمضان میں بہترین عمل بتایاگیاہے ۔ حضرت علیؑ نے آنحضرت سے عرض کی : اس مہینہ میں بہترین عمل کیاہے ؟ فرمایا : گناہوں سے پرہیز ۔(٩)

٦۔ قیامت کی یاد
روزہ کی حالت میں انسان کی بھوک اور پیاس اس بات کا موجب ہوتی ہے کہ وہ روز قیامت کی ہولناک بھوک پیاس کی یاد تازہ کرے اور اپنے دل میں قیامت کی یاد زندہ رکھے ،اور ظاہر ہے کہ اگر انسان کے دل و دماغ میں قیامت کی یاد زندہ اور تر و تازہ رہے تو وہ شخص نیک اعمال کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی بھر پور کوشش کرے گا ۔ رسول خدا(ص)خطبۂ شعبانیہ میں فرماتے ہیں : واذکروا بجوعکم و عطشکم فیہ جوع یوم القیامة و عطشہ ''اس مہینہ کی بھوک اور پیاس کے ذریعہ قیامت کے دن کی بھوک اور پیاس کو یاد کرو ''۔(١٠)
چونکہ روزہ قیامت کی یاد کا سبب ہے اور قیامت کی یاد انسان کو جہنم سے نجات دیتی ہے لہذا حضرت علی نے روزہ کا ایک فائدہ عذاب و عقاب سے نجات بتایاہے ، حضرت فرماتے ہیں : صوم شھر رمضان فانہ جنة من العقاب ''ماہ مبارک رمضان کا روزہ عذاب کے مقابلے میں سپر ہے ''۔(١١)
ان کے علاوہ روزے کے فلسفہ و اثرات میں خواہشات نفسانی پر تسلط ، فقیر و امیر کے درمیان مساوات ، جسم و روح کی سلامتی اور ارادے کا استحکام سر فہرست ہیں ۔ حقیقت بھی ہے کہ اگر روزہ خاص طور سے ماہ مبارک رمضان کے روزے کو خلوص اور انتہائی احتیاط کے ساتھ رکھاجائے اور اس کے جزئیات کی بھرپور رعایت کی جائے تو یہ روزہ انسان کے جسم و روح پر بہت سے مادی و معنوی اثرات مرتب کرنے کا موجب ہوتاہے ۔
آخر میں خدائے منان کی بارگاہ اقدس میں دعا ہے : خدایا !ہمیں حقیقی روزہ دار وں میں شمار فرمااور ماہ مبارک رمضان سے زیادہ سے زیادہ بہرہ مند ہونے کی توفیق عنایت فرما۔

حوالجات
١۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج١٩ ص ٨٦
٢۔ وسائل الشیعہ ج١ ص ٢٢؛ بحار الانوار ج٦ ص ١٠٧
٣۔ اصول کافی ج٢ ص ١٨؛ وسائل الشیعة ج١٠ ص ٣٩٥
٤۔ اصول کافی ج٤ ص ٦٢؛ بحار الانوار ج٠ ٦ ص ٢٦١
٥۔ وسائل الشیعة ج١٠ ص ٤٠٤؛ معانی الاخبار ص٤٠٩
٦۔ وافی ج١١ ص ٣٣
٧۔ وافی ج١١ ص ٣٤
٨۔ بقرہ ١٨٣
٩۔ وسائل الشیعة ج٧ ص ٢٢٨
١٠۔ عیون اخبار الرضا ج١ ص ٢٩٥
١١۔ شرح نہج البلاغہ ج٧ ص ٢٢١

مقالات کی طرف جائیے