مقالات

 

ولایت کے دنیاوی و اخروی فوائد پر اجمالی نظر

ادیب عصر مولانا سید علی اختر رضوی شعور گوپال پوری

ولایت آل محمدصلی اللہ علیہ وآلہ،دین کی اساس ہے ، کسی درخت کی جڑوں کو نظر انداز کر کے شاخوں کو سیراب کرنا پرلے درجے کی حماقت کہی جائے گی ،نہ اس میں برگ و بار آئیں گے نہ شادابی برقرار رہے گی ۔ بہت سی روایتوں میں دنیاو آخرت کی کامیابی کے لئے ولایت کو لازمی قرار دیاگیا ہے ۔ دنیا میں اس کی وجہ سے پسندیدہ کردار کے لئے بلند تر نمونہ اور خوب تر کی جستجو کے لئے داخلی امنگ کا سرمایہ ہاتھ آتاہے۔
جس کے سامنے حسن ، خیر اور صداقت کا کوئی معیار نہ ہو وہ عظمت کردار کا لاکھ ڈھول پیٹے اس کی خوبیوں میں کوئی جان نہ ہوگی۔ خدا نے آل محمدصلی اللہ علیہ و آلہ کے لافانی کرداروں کو رہتی دنیا تک کے لئے نمونۂ عمل بنایا ہے جو لوگ ان کی وابستگی کا دم بھرتے ہیں ان کے گرے پڑے عمل میں بھی بڑی جان پڑتی ہے ۔خوب تر کی جستجو کے لئے یہ نمونہ انہیں کبھی مایوس نہیں ہونے دیتا ، محبت کا فخر و ناز انہیں بدکرداری پر کچوکے دیتا رہتاہے ، نتیجے میں انہیں ہمہ وقت توبہ کا احساس رہتاہے ۔اگر احساس برقرار رہے تو توبہ کا دروازہ بھی کھلا رہتاہے ۔ پھر یہ کہ آل محمدصلی اللہ علیہ وآلہ سے وابستگی انہیں زندگی کے نرم و گرم حالات میں جینے کا حوصلہ فراہم کرتی ہے ۔ مصائب کے طوفان انہیں پست ہمت نہیں کرسکتے ۔ مادی طاقتیں اسباب کے لحاظ سے چاہے تھوڑی دیر کے لئے شکست سے دوچار کردیں لیکن ان کی بلند روحانیت کسی حال میں بھی ہار ماننے پر آمادہ نہیں ہوتی ۔ ولایت کی برکت سے جذبات پاکیزہ ہوتے ہیں ، اخلاق آراستہ ہوتے ہیں ، کردار نکھرتا ہے اور زندگی تمام تر حیثیتوں سے ہم نواں بن جاتی ہے ۔
ان سب کے علاوہ ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس ڈوری کی تمام اکائیاں بندھ جاتی ہیں، تسبیح کے بکھرے دانے اس حبل اللہ میں جڑ جاتے ہیں اور اس طرح مقدس اورپاکیزہ اجتماعیت تشکیل پاتی ہے ۔
آخرت میں بھی ولایت آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کے فوائد بے حساب ہیں ، موت سے برزخ اور قیامت تک کے طویل اور دشوار گزار سفر کا تصور کیجئے تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ، جاں کنی ،قبر کے سوالات، فشار برزخ کا منجمد زمانی فاصلہ ، حساب ، میزان ، صراط .....۔
ان تمام روح فرسا مقامات پر آفتاب تازہ کی طرح ولایت ہماری تسکین کا سامان فراہم کرتی ہے ۔
ابن عباس کی روایت سے صرف ایک ہولناک مرحلے کا کچھ تجزیہ کیاجاسکتاہے ، وہ کہتے ہیں کہ صراط پر سات قنطرے (١)ہیں ،ہر قنطرے کا طول سترہ ہزار فرسخ کا ہے اور ہر قنطرہ پر ستر ہزار فرشتے عبور کرنے والوں سے پرسش کرنے کے لئے استادہ ہیں۔پہلے قنطرے پرولایت امیر المومنین کے متعلق سوال ہوگا جو جو اس نعمت سے بہرہ یاب ہیں وہ برق رفتاری سے گزر جائیں گے، دوسرے پر نماز ، تیسرے پر زکوة ،چوتھے پر روزہ ، پانچویں پر حج ، چھٹے پر جہاد اور ساتویں قنطرے پر دل کی پرسش ہوگی ۔(٢)
اس کے بعد اب فردوس دیلمی اور صواعق ابن حجر کی عبارت ملاحظہ فرمائیے : آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ فرماتے ہیں: حبی و حب اہل بیتی نافع فی سبع مواطن اھوالھا عظیمة '' میری اور میرے اہل بیت(ع) کی محبت سات ہولناک مواقع پر نفع بخش ہوگی ''۔(٣)

حوالے :
١۔قنطرہ یعنی موضع پرسش
٢۔غایة المرام
٣۔شرح مودة ص ٢١٢

مقالات کی طرف جائیے