مقالات

 

جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا؛ دولت طلب یا اسلام دوست

سید غافر حسن رضوی

اس آشکارحقیقت سے انکار کرناسورج کو دیہ دکھانے کی مانند ہوگا کہ دامن تاریخ؛ فرعون، نمرود،شداد اور قارون صفت افراد سے مملو ہے، کوئی زمانہ ایسے افراد سے خالی نہیں رہا لیکن یہ بھی ہر صاحب عقل جانتا ہے کہ خداوند عالم نے شیطانی طاقتوں سے مقابلہ آرائی کی خاطر روحانی نمائندے بھی بھیجے ہیں مثلاً فرعون کے مقابل کلیم خدا حضرت موسیٰ علیہ السلام اور نمرود کے مقابل خلیل خدا حضرت ابراہیم علیہ السلام وغیرہ تاکہ ان ہستیوں کے ذریعہ خداوندعالم کے نیک و صالح بندے شیطانی جال میں گرفتار نہ ہونے پائیں اور اگر اتفاقاً پھنس بھی جائیں تو انہیں الٰہی نمائندے نجات دلاسکیں، جناب آدم علیہ السلام سے لیکر خاتم المرسلین حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ اور آنحضرتۖ کے زمانہ سے آج تک کوئی زمانہ ایسا نہیں ملا کہ جس دور میں دنیا پرست انسانوں کی بھرمار نہ رہی ہو؛ کوئی دولت و ثروت کا متمنی ہے تو کوئی جاہ و حشمت کا خواہاں، کوئی عزت کا خواستگار ہے تو کوئی شہرت طلب، غرض یہ کہ ہر انسان کسی نہ کسی خواہش کے زیرسایہ زندگی گذار رہا ہے،لیکن ہاں! اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہ خواہشیں دو قسم کی ہوتی ہیں؛ کچھ لوگ تو یہ خواہشیں صرف حصول دنیا کی غرض کے مد نظر پوری کرنے کے متمنی رہتے ہیں اور کچھ لوگ خدمت اسلام کی خاطر، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ دوسری قسم کے لوگوں کی مقدار بہت ہی کم ہے ۔
لیکن قارئین کرام! اگر قلت برحق ہو تو کثرتِ باطل کی ناک رگڑ کر اس کو خاک چٹادیتی ہے، اسی قسم کا ایک مرقعہ ام المومنین حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا ہیں کہ جو دین حق کی شیدا ، اسلام پر قربان، اپنی ساری دولت وثروت اسلام پر فدا کرنے کو تیار...
نگاہ حق میں ہوگا اس سے بڑھ کر مرتبہ کس کا
کہ جس نے اپنی ساری مملکت دیں پرلٹادی ہو
تو جناب خدیجہ علیہا السلام کے متعلق یہ سوال کرنا کہ وہ دولت طلب تھیں یا اسلام دوست؟ محض وقت تلفی ہے چونکہ تاریخی مشاہدے شاہد ہیں کہ جناب خدیجہ علیہا السلام اپنے زمانہ کی نامور تاجرہ تھیں ،روایات کے مد نظر آپ کے خزانوں کی چابھیاںچالیس اونٹوں کی پشتوں پر لادی جاتی تھیں،اور اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پیسے کو پیسہ کھینچتا ہے یعنی اگر انسان مالدار ہے تو اس کے لئے مزید مال و دولت فراہم کرنے کے امکانات بھی زیادہ ہیں یہاں آکر ایک لطیفہ یا دآگیا کہ ایک شخص ایک دکان پر گیا جہاں پیسوں کے غلّہ کے اوپر یہ جملہ لکھا ہوا تھا: ''پیسہ، پیسے کو کھینچتا ہے'' اس شخص نے سوچا کہ موقع غنیمت ہے لہٰذا ہاتھ صاف کر لیا جائے ،اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک سکہ نکال کر اس غلّہ میں ڈالا اور پھر ایک مٹھی بھر کر پیسہ نکالنا چاہا جیسے ہی اس کا ہاتھ غلہ میں پہونچا اور اس نے پیسہ نکالنا چاہا؛ دکاندار نے فوراً ہاتھ پکڑ لیا... میاں! کیا حال ہیں...؟ اس نے جواب دیا کہ تم نے ہی تو اپنے غلّہ پر لکھا ہے کہ پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے!، دکاندار نے جواب دیا کہ ہاں!... یہ حقیقت ہے کہ یہ جملہ میں نے ہی لکھا ہے کہ پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے اور میں نے حقیقت کی ہی عکاسی کی ہے ، آنے والے نے کہا پھر مجھے مٹھی بھر کر نکالنے کیوں نہیں دیتے؟ دکاندار نے کہا: ارے عقل کے دشمن! فکر سے عاری! تو نے یہ تو پڑھ لیا کہ پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے لیکن یہ نہیں سوچا کہ پلّہ کدھر کا بھاری ہے؟ تیرے ایک سکہ میں اتنی طاقت کہاں سے آگئی کہ میرے بھرے ہوئے غلّے کو کھینچ سکے ؟ میرا غلّہ ہی تیرے ایک سکہ کو کھینچ چکا ہے اب جائو اپنا راستہ لو... یہاں یہ لطیفہ بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ جس تاجر کے خزانوں کی چابھیاں کئی عدد اونٹوں پر لادی جاتی ہوں اس کی دولت و ثروت کا اندازہ کیسے لگایا جاسکتا ہے؟ جناب خدیجہ سلام اللہ علیہاکتنی مالدار تھیں؟ مالداری کے ساتھ ساتھ کیا آپ دولت طلب افراد کی صفوں میں شمار کی جاسکتی ہیں؟۔
نہیں قارئین کرام! دولت تو جناب خدیجہ سلام اللہ علیہاکی کنیز بن چکی تھی (ان کے ہاتھوں کادھوون تھی)جیسے کہ آج بھی یہ مثل مشہور ہے کہ پیسے کی کیا حیثیت ہے ،پیسہ تو ہاتھ کا میل ہوتا ہے؛ جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا کو دولت کی کیا ضرورت تھی کہ اس کی متمنی ہوتیں؟ جناب خدیجہ سلام اللہ علیہاکی جتنی بھی دولت تھی وہ آپ نے اسلام پر قربان کردی،جناب خدیجہ کے ایثار کی مثال ممکن نہیں، ان کی فدارکاری اپنی مثال آپ ہے:
گر دولت و ثروت دے کسی کو مرے اللہ!
مانند خدیجہ اسے توفیق عطا دے
اگر اسلام کا تجزیہ کیا جائے تو اس کے دو جز نظر آئیںگے: ١خون ابوطالب علیہ السلام ٢ دولت خدیجہ سلام اللہ علیہا؛ یعنی اگر خلاصہ کیا جائے تو اسلام ہے اور اگر اسے پھیلایا جائے تو دولت خدیجہ کے ہمراہ خاندان ابوطالب علیہ السلام کے شاہکار۔
شریعت اسلام ان دونوں ہستیوں کی مرہون منت ہے یعنی اگر ان دو ہستیوں کا وجود نہ ہوتا تو دین اسلام کب کا مٹ چکا ہوتا، یہی دو ہستیاں بقائے اسلام کی ضامن ہیںیہاں تک کہ خون ابوطالب آج بھی پردۂ غیبت میں بیٹھ کر دین اسلام کی حفاظت کررہا ہے۔اگر اس بحث کا تفصیلی تجزیہ کرنا ہو کہ جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا اسلام کی ہمدرد تھیں یا جاہ طلب اور دولت و ثروت کی خواہاں؟ تو ان کی حیات مبارک کے چند پہلوئوں کی جانب اشارہ کرنا ضروری ہے۔

جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا کی شادی
جب دین اسلام اپنے ابتدائی مراحل طے کررہا تھا ، جب پیغمبر اکرمۖ تن تنہا حق کی تبلیغ میں مصروف تھے، جب کفار قریش اپنی دولت و طاقت کے بلبوتہ پر حضورۖ کے مد مقابل آکر کھڑے ہوگئے تھے تو ایسے میں جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا نے حضور اکرمۖ سے ایسا محکم و مستحکم رشتہ جوڑا کہ ایوان ظلم میں زلزلہ بپا کردیا اور حضورۖ نے اس رشتہ کا استقبال بڑے پرجوش انداز میں کیا۔
جو جملہ جناب خدیجہ سلام اللہ علیہاکی فضیلت میں سنہرے الفاظ سے لکھا جانا چاہیئے وہ یہ ہے کہ آپ کو پرآشوب دور جاہلیت میں بھی طاہرہ اور سیدۂ قریش جیسے القاب سے یا د کیا جاتا تھا۔(١)
تاریخ گواہ ہے کہ جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا نے دو شادیاں کی تھیں لیکن کوئی سا بھی شوہر حیات نہیں رہ سکا۔(٢)
لیکن کمال کی بات یہ ہے کہ اس باکمال خاتون کے دو شوہروں کے مرنے کے بعد بھی بڑے بڑے لوگوں کے رشتے آئے (چونکہ آپ کوئی معمولی خاتون نہیں تھیں بلکہ ملکۂ عرب تھیں)قریش کی بڑی بڑی ہستیوں میں سے ابوجہل اور ابوسفیان جیسی نامور ہستیاں بھی ہیں کہ جنھوں نے جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا سے شادی کی خواہش ظاہر کی لیکن آپ کسی سے بھی شادی کرنے کو آمادہ نہیں ہوئیں۔(٣)
چونکہ اس خاتون فرزانہ کی عقل کے مطابق ان لوگوں میں سے کسی سے شادی کرنااپنی ساری دولت کو نیست و نابود کرنا تھا ،جناب خدیجہ سلام اللہ علیہااپنی دولت کو چوروں کی نذر نہیں کرنا چاہتی تھیں بلکہ یہ چاہتی تھیں کہ ان کی دولت کسی کار خیر میں کام آئے اور ان کی یہی فکر اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اسلام دوست اور شریعت کی ہمدرد تھیں چونکہ اگر ایسا نہ ہوتا (یعنی شریعت اسلام کی ہمدرد نہ ہوتیں)تو نامور ہستیوں کے رشتوں کو ٹھکراکر یتیم عبداللہ کے پاس اپنی شادی کا پیغام ہرگز نہ بھیجتیں ان کی دوراندیش فکر نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کے اندرایسی خوبیاں دیکھیں کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سے شادی کرنے پر مجبور ہوگئیں۔(٤)

جناب خدیجہ سلام اللہ علیہاکی ازدواجی زندگی
اگر جناب خدیجہ دولت طلب اور جاہ و حشمت کی خواہاں ہوتیں تو شادی تو درکنار حضور اکرمۖ کی جانب دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتیں چونکہ دورجاہلیت میں ایک یتیم کی حیثیت ہی کیا ہوتی تھی! لیکن آپ نے حضورۖ سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد ایسا کردار نبھایا کہ تاریخ کو انگشت بدنداں ہوجانا پڑا، حضورۖ کے پاس کون سی ایسی دولت تھی کہ جس کی طمع میں جناب خدیجہ سلام اللہ علیہانے رشتہ جوڑا؟ کیا جناب خدیجہ سلام اللہ علیہاکے پاس دولت کی کمی تھی؟ ملکۂ عرب ہوتے ہوئے ایک تنگدست کی زوجیت میں کیوں؟ ان سب سوالوں کا جواب یہی ہوگا کہ آپکو کسی قسم کی دولت درکار نہیں تھی چونکہ آپ ملکۂ عرب تھیں، اگر آپکو کسی چیز کی ضرورت تھی تو وہ چیز تھی ایمانی کمال اور اسلامی وقار۔
اگر گھر سے باہر جناب ابوطالب علیہ السلام رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کی حمایت میں کھڑے تھے تو گھر کے اندر جناب خدیجہ سلام اللہ علیہاکی مہربانی و دلسوزی تھی کہ جو حضورۖ کی سپر تھی چونکہ آپ گھر سے باہر نکل کر تو حضورۖ کی حمایت نہیں کر سکتی تھیں لہٰذا اپنی ذات کو ایسے سانچہ میں ڈھالا کہ حضورۖ کی خاطر تسکین قلب اور راحت جاں بن گئیں۔ (٥)
اور قیامت تک آنے والی خواتین کو رشتۂ ازدواج نبھانے کا سلیقہ سکھادیاکہ دیکھو میں ملکۂ عرب ہوتے ہوئے اپنے شوہر کی اتنی زیادہ خدمت کرتی ہوں تو تم عام خواتین ہوتے ہوئے اپنے شوہر کو کیسے راضی نہیں رکھ سکتیں!۔
جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا تاریخ کی پہلی مومنہ
جاہلیت کے تاریک دور میں، نور ایمان کا وجود ایک عجوبہ کے سوا کچھ نہیں تھا چونکہ اس دور کے لوگوں کی نگاہیں بتوں کی عادی ہوچکی تھیں ایسے دور میں جناب خدیجہ سلام اللہ علیہاکا ایمان لانا ایک ایسا شاہکار ہے کہ جس کی نظیر ڈھونڈھے نہیں مل سکتی ،آپ ایمان میں سب سے آگے نظر آتی ہیں۔
ملکۂ عرب ہوکر سادگی کچھ ایسی ہے
عصمتی سی لگتی ہے زندگی خدیجہ کی
(عسکری امام خان)
یہی وجہ ہے کہ حضوراکرمۖ ان کے اس قدر دلدادہ ہوئے کہ اپنی حیات کے آخری لمحات تک جناب خدیجہ سلام اللہ علیہاکو یاد فرماتے رہے۔(٦)
حضور اکرمۖ، دین اسلام کی خاطر جناب خدیجہ سلام اللہ علیہاکی زحمتوںکو کبھی بھی فراموشی کی نذر نہیں ہونے دیتے تھے ، ایک دن حضور اکرمۖ نے عائشہ سے فرمایا: خداوندعالم نے مجھے خدیجہ سے بہترین کوئی بھی زوجہ عطا نہیں کی جس وقت سب کافر تھے اس وقت وہی تھیں جو میرے اوپر ایمان لائیں جب مجھے سب نے جھٹلایا تو اسوقت انہوں نے میری تصدیق کی اورجب مجھے سب نے محروم کردیا تو دولت خدیجہ نے سہارا دیا :
شمیم گلستان احمدی باقی ترے دم سے
خدیجہ ..! باغ پیغمبرکی گویا تم ہی مالی ہو
(غافر رضوی)
اور صرف تھوڑی بہت نہیں بلکہ انہوں نے اپنی ساری دولت نچھاور کردی اور خداوندعالم نے مجھے ان کے ذریعہ سے اولاد عطاکی۔(٧)
نہیں معلوم حضوراکرمۖ کے ان چند فقروں نے کتنے نشتروں کا کام کیا ہوگا! اور سب سے بڑا بھالا تو حضورۖ کا آخری جملہ رہا ہوگاکہ (خدا نے مجھے ان کے ذریعہ اولاد عطاکی)حضورۖ کا یہ جملہ ایک تلخ حقیقت کی عکاسی کررہا ہے کہ اگر انسان سوچے تو ذہن و دل میں طوفان بلا امنڈپڑے اور اگر قید تحریر میں لانا چاہے تو نوک قلم قاصر نظر آئے۔

جناب خدیجہ سلام اللہ علیہاکی وفات کا اثر
اگر کسی کا کوئی چاہنے والا دنیا سے اٹھ جاتا ہے تو اس کی وفات بہت زیادہ متأثر کرتی ہے اور یہ اثر ایک جیسا نہیں ہوتا بلکہ مختلف درجوں کا حامل ہوتاہے اور یہ درجے ،محبت کے درجوں کے مدنظر ہوتے ہیں یعنی جو جتنا زیادہ چاہنے والا ہوگا اتنا ہی زیادہ متأثر و غمگین ہوگا ،اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک مومن کسی کافر کی وفات سے غمگین نہیں ہوسکتا بلکہ مومن،مومن کی وفات سے ہی متأثر ہوتا ہے اور کافر ہے تو اس کی موت پر کافر ہی گریہ کناں ہوگا،اس جملہ سے ایک فارسی شعر یاد آگے:
کند ہم جنس با ہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر باز با باز
یعنی ہر چیز اپنی ہم ذات اور ہم جنس کے ساتھ رہتی ہے ،کبھی کسی کبوتر کو کسی باز کے ساتھ پرواز کرتا ہوا نہیں پاسکتے چونکہ باز، کبوتر کو کھا جائے گا، اسی طرح مومن وکافر میں کیا نسبت؟ کسی کافرکے مرنے پر کوئی مومن غمگین کیوں ہوگا وہ تو خوش ہوجائے گا کہ اچھا ہوا کہ میرا ایک دشمن کم ہوگیا ۔حضوراکرمۖ کا جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا کے فراق میں غمزدہ ہونا،ان کے ایمان کی مستحکم دلیل ہے چونکہ خدا کا رسول کسی کافر یا کسی دولت طلب کی خاطر گریہ نہیں کرے گا۔
سوال یہ ہے کہ حضور ۖ کی زبان مبارک پر کبھی کسی اور زوجہ کا نام کیوں نہیں آیا؟ ہمیشہ صرف و صرف خدیجہ سلام اللہ علیہا کاقصیدہ کیوں؟ حضورۖ کی یہ یاد بتاتی ہے کہ خدیجہ سلام اللہ علیہا جیسی مومنہ کوئی اور زوجہ نہیں تھی، اور حضورۖ آپ کی وفات پر اتنے زیادہ غمگین ہوئے کہ صرف یہی نہیں کہ گریہ و زاری میں مشغول رہے اور خدیجہ سلام اللہ علیہا کویاد فرماتے رہے، بلکہ جس سال جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا کی وفات ہوئی اس پورے سال کا نام عام الحزن(یعنی غم کا سال)رکھ دیا۔(٨)
آخر ایساکیوں؟ کیا یہ غم والم ایک زوجہ کے کھودینے کے مدنظر تھا؟ کیا حضورۖ شادی نہیں کرنا چاہتے تھے؟ کیا عرب میں لڑکیوں کی قلت تھی جو حضورۖ اتنے زیادہ غمگین نظر آئے؟ ۔
نہیں قارئین کرام! خدیجہ سلام اللہ علیہا کے گذرجانے کے بعد حضورۖ کے پاس دولت و شہرت کی کوئی کمی نہیں تھی، جس لڑکی سے چاہتے وہ شادی کرنے کو تیار ہوجاتی، اور حضورۖ نے جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا کے بعد کئی شادیاں کی ہیں؛توحضورۖ کے تمام رنج و الم کا مطلب بالکل آشکار ہے کہ حضورۖ اس لئے غمزدہ نظرآتے تھے کہ اسلام کا ایک اساسی و بنیادی رکن منہدم ہوگیا۔ پیغمبرۖ کا یہ رات دن گریہ و بکا کرنا اور پورے سال کو خدیجہ سلام اللہ علیہا کے غم میںسوگوار کردینا جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا کے ایمان کی سب سے آشکار دلیل ہے۔
اگر قید تحریر میں لائے گئے پورے مضمون کو چند الفاظ میں سمیٹنا چاہیں تو شاید اس طرح کہنا بہتر ہوگا کہ جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا وہ تن تنہا خاتون تھیں کہ جنھوں نے جاہلیت کی رسموں سے خوف نہ کھاتے ہوئے ،پیغمبر اسلامۖ کی دعوت اسلام پر لبیک کہا اور صرف یہی نہیں کہ خود مومنہ ہو گئیں بلکہ اپنی رفتار و گفتار اور اپنے کردار کے ذریعہ دیگر خواتین کو بھی اسلام کی جانب رغبت دلائی اور جہاں پر اخلاق و کردار نے کام نہیں کیا وہاں ان کی دولت نے سہارا دیا تو قارئین کرام! اس میں کوئی شک نہیں کہ جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا کے پاس بے شمار دولت تھی لیکن چونکہ آپ نے یہ دولت حلال راستہ سے حاصل کی تھی لہٰذا ساری دولت و ثروت دین اسلام پر نثار کردی، پالنے والے! ہمیں دین اسلام کے اصلی خادموں میں محشور فرما(آمین)

حوالہ جات
١۔ الاصابة فی تمییز الصحابة: ج٤، ص٢٨١؛ اسد الغابہ: ج٣، ص٤٣٤؛ تاریخ اسلام: ص١٤٨۔
٢۔ اسد الغابہ: ج٥، ص٤٣٤ کے مطابق آپ کے گذشتہ شوہروں کے نام، عتیق بن عائد اور ابوہالہ ہند بن نباش ہیں۔
٣۔بحارالانوار: ج١٦، ص٢٢۔
٤۔ مناقب ابن شہرآشوب: ج١، ص٤١۔
٥۔ تاریخ اسلام :ص٢١٠۔
٦۔ زوجات النبی و اولادہ: ص٦٢۔
٧۔ الاستیعاب: ج٤، ص٢٨٧۔
٨۔ تاریخ یعقوبی: ج٢، ص٢٩؛ بحارالانوار:ج١٩، ص٢٥۔

مقالات کی طرف جائیے