مقالات

 

سچا روزہ

ماہ رمضان المبارک رحمتوں، مغفرتوں اوربرکتوں والا مہینہ ہے، اس میں ہمیں اپنے وقت کی قدرو قیمت سمجھنی چاہیئے اور اکثر اوقات تسبیح و تہلیل الٰہی میں مصروف رہنا چاہیئے ،روایات کے مد نظراس مہینہ میں شیطان کوزنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے یہی وہ تنہا مہینہ ہے کہ جس میں شیطان خدا کے بندوں کو اپنی گرفت میں نہیں لے پاتا لہٰذا موقع کو غنیمت شمار کرکے فائدہ اٹھانا چاہیئے چونکہ اس مہینہ کے علاوہ تو ہر موقع پر شیطان گھات میں بیٹھا رہتا ہے کہ کہیں سے اور کسی بھی طریقہ سے خدا کے بندوں کو بہکاکر انہیں اپنا مرید بنالے،کم سے کم ہمیں اس مہینہ کو غنیمت شمار کرنا چاہیئے ان ہی فضیلتوں کے مدنظرماہ رمضان المبارک کی پربرکت آمد پراس کے استقبال میں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا:''فاسئلوا اللہ ربکم بنیات صادقة و قلوب طاھرة ان یوفقکم لصیامہ و تلاوة کتابہ فان الشقی من حرم غفران اللہ فی ھذا الشھر العظیم'' (١)
صدق نیت اور خلوص دل کے ساتھ خدا کی بارگاہ میں عرض کرو کہ خدا اس مہینہ میں تمہیں روزہ رکھنے اور اپنی کتاب کی تلاوت کی توفیق عطا فرمائے، ایسا شخص بہت بد نصیب ہے جو اس مبارک مہینہ میں خدا کی رحمت و مغفرت سے محروم رہ جائے۔
پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نیت کی سچائی پر زور دے کر اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اگر نیت صاف ہوگی تو انسان صرف مفطرات سے ہی پرہیز نہیں کرے گا بلکہ اپنے تمام اعضاء بدن کو روزہ دار بنا لے گا جیسا کہ روایات میں وارد ہوا ہے :''لیس الصوم من الطعام و الشراب'' یعنی صرف کھانے پینے سے پرہیز کا نام روزہ نہیں ہے بلکہ ''اذا صمت فلیصم سمعک و بصرک و شعرک و جلدک'' یعنی جب تم روزہ رکھو تو تمہارے کان، آنکھ اور تمام اعضاء و جوارح کا بھی روزہ ہونا چاہیئے۔
امام سجاد علیہ السلام بھی صحیفہ سجادیہ میں خداوندمتعال سے یوں دعا کرتے ہیں:'' و اعنّا علی صیامہ'' بار الہا! ماہ رمضان المبارک کے روزے رکھنے میں ہماری مدد فرما۔
یہاں پر امام علیہ السلام نے خدا سے یہ نہیں کہا کہ بھوک، پیاس برداشت کرنے میں ہماری مدد فرما بلکہ یہ کہا کہ روزہ رکھنے میں مدد فرما، بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی بلکہ فرمایا:'' بکف الجوارح عن معاصیک''ہماری مدد فرما تاکہ ہم اپنے بدن کو گناہوں کی آلودگی سے بچا سکیں اور ان چیزوں سے پرہیز کرسکیںجو تجھے پسند نہیں ہیں ''واستعمالھا فیہ بما یرضیک...''خدایا ہمیں ایسی توفیق عطا فرما کہ جو کچھ بھی ہمارے اعضاء و جوارح انجام دیں اس میں تیری رضا شامل رہے۔ ہمیں ایسی بے ہودہ باتوں کو سننے سے بچا کہ جن کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور جو ہمارا وقت ضائع کرتی ہیں۔ ہماری آنکھوں کو تماشائے بے ہودگی سے دور رکھ، ہمارے ہاتھوں کو حرام کی آلودگی سے بچا، ہمارے قدموں کو راہ حرام کی جانب بڑھنے سے روک دے، ہمارے شکم کو صرف اور صرف مال حلال سے سیر فرما، ہماری زبان پر تیری گفتگو کے علاوہ کوئی بات نہ آئے، ہمیں کارخیر کرنے کی توفیق عطا فرما اور ان کاموں سے بچاتا رہ جو ہمارے لئے باعث عذاب ہوں۔ (٢)
معصوم کے قول سے سچے روزہ کی پہچان نمایاں و آشکار ہو رہی ہے، ایک روایت کے مطابق ایک دن پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ روزہ رکھیں اور فرمایا کہ جب تک میں نہ کہوں تب تک کوئی روزہ نہ کھولے ،بوقت غروب مسلمانوںکے جمگھٹ میں سے ایک ایک فرد پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے لگا اور پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے افطار کی اجازت لے کر جانے لگا، اسی درمیان ایک شخص حاضر ہوا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ! میری دوبیٹیاں ہیں وہ روزہ سے تھیںاور آپ کے سامنے آنے سے شرما رہی تھیں، کیا آپ انھیں افطار کی اجازت عطا فرمائیں گے؟۔
پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منھ موڑ لیا، اس شخص نے اپنی بات کو دہرایا اس بار بھی پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منہ موڑ لیا ،جب اس نے تیسری بار اپنی بات کی تکرار کی تو پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ''جس نے لوگوںکا گوشت کھایا ہو وہ روزہ دارکیسے ہوسکتا ہے! جاؤ ان سے کہو کہ وہ قے کریں'' وہ شخص گھر آیا اور اپنی بیٹیوں سے پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گفتگو کا تذکرہ کیا تو وہ دونوں حیرت زدہ ہو گئیں کہ آخر انہوں نے صبح سے شام تک کچھ نہیں کھایا پیا، بہرحال پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے مطابق انہوں نے قے کی تو ان کے منھ سے گوشت کے ٹکڑے نکلے۔ (٣)
اگرچہ ان لڑکیوں کے منھ سے گوشت کے ٹکڑوں کا نکلنا معمول کے مطابق نہیں ہے کہ جو پیغمبر کے معجزات میںسے ایک معجزہ ہے تاکہ ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ غیبت کرنا ایک مسلمان کا گوشت کھانے کے برابر ہے، اگر چہ ایسے امور ہمارے مشاہدہ میں نہیںآتے لیکن قرآن پر عقیدہ وایمان رکھنے والے چشم بصیرت سے اس امر کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
جیسا کہ خداوند متعال قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:(وَلَا یَغْتَبْ بَعْضُکُمْ بَعْضًا أَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ أَنْ یَاکُلَ لَحْمَ اَخِیْہِ مَیْتًا فَکَرِھْتُمُوْہُ) ۔(٤)
تم میں سے بعض لوگ بعض لوگوں کی غیبت نہ کریں ،کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟یقینا تم پسند نہیں کروگے۔
دوسری روایت میں ہے :'' رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنا کہ ایک روزہ دار عورت اپنی بیٹی کو گالی دے رہی ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا منگوایا اور اس عورت کے سامنے پیش کیا اور کہا: کھاؤ ،اس نے کہا: یا نبی اللہ! میں روزہ سے ہوں، حضرت ۖنے فرمایا: تم کیسے روزہ سے ہو جب کہ اپنی بیٹی کو گالیاں دے رہی ہو! جان لو کہ صرف کھانے پینے سے پرہیز کرنے کا نام روزہ نہیں ہے۔
مذکورہ روایتوں سے یہ صاف صاف ظاہر ہے کہ ایک سچا روزہ احکام الٰہی اور سیرت محمدوآل محمد علیہم السلام پر عمل کرنے سے ہی مقبول بارگاہ الٰہی ہوگا، اور اگر روزہ میں احکام الٰہی کی پابندی سے گریز کیاگیا یا سیرت محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ پر عمل پیرا نہیں ہوئے توہمارا روزہ، صرف نام نہاد روزہ بن کر رہ جائے گا ،اس کو حقیقی روزہ کا نام نہیں دیا جاسکتا۔

حوالہ جات:
١۔وسائل الشیعہ: ج١٠، ص٣١٣۔
٢۔ صحیفہ سجادیہ: دعا نمبر٤٤۔
٣۔ جامع السعادات: ج٢، ص٣١٣۔
٤۔سورۂ حجرات١٢۔

نوٹ :یہ مضمون مجلہ ایقان کے آٹھویں شمارے کے اداریہ سے ماخوذ ہے۔

مقالات کی طرف جائیے