مقالات

 

عصر غیبت میں مرجعیت کی ضرورت

سید محمد فائز باقری

اسلام ایک جامع اور کامل دین ہونے کے ساتھ ساتھ ،عالمی اور ابدی دین بھی ہے ،اسلام کی جامعیت کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اس نے زندگی کے ہر مرحلہ میں انسان کی تمام ضرورتوں پر گفتگو کی ہے اور ان کے لئے حکم بیان کیا ہے لہٰذا اسلام کی توجہ معاشرہ پربھی اتنی ہی ہے جتنی انفرادی زندگی پر، اور دنیاوی زندگی اسی طرح اہمیت کی حامل ہے جیسے اخروی حیات، بس فرق اتنا ہے کہ دنیا کی زندگی مقدمہ ہے آخرت کی زندگی کیلئے،اسی بنا پر انبیاء ٪ بشریت کو کمال اورسعادت تک لیجانے والا دستورالعمل لیکر آئے۔ اسلام کا عالمی اور ابدی دین ہونا اسلامی نظام میں رہبری کی اہمیت اور قدرومنزلت کو اجاگر کرتا ہے،پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے جس اسلامی معاشرہ کی داغ بیل ڈالی اور آسمانی تعلیمات کو ہم تک پہنچایا اور اپنے بعد اسلامی نظام کی باگ ڈور ایسے رہبروں کے سپرد کرکے گئے کہ جن کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ، تو کیسے ممکن ہے کہ بارہویں رہبر کے پردئہ غیب میں چلے جانے کے بعد امت کی رہنمائی اور ہدایت کا کوئی انتظام نہ کیا ہو۔یہیں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ دینی مسائل کی ذمہ داری کچھ ایسے افراد کے سپرد کی گئی ہے جو علم و فضائل و کمالات میں معصومین علیہم السلام کے تابع ہوں اور مظہر معصومین علیہم السلام ہونے کی اہلیت رکھتے ہوں ورنہ غیبت امام کے مد نظر تشریعی ہدایت کا سلسلہ منقطع ہوجائے گاجو کہ مسلمات اسلام اور تعلیمات اسلام کے خلاف ہے ۔اسی حقیقت کے پیش نظر اجتھاد و مرجعیت کی ضرورت سامنے آتی ہے ۔ بحث سے قبل ضروری ہیکہ آیات و روایات کی روشنی میں اجتھادوتقلید کے جواز پر مستدل اور متقن بحث کی جائے کیونکہ جب تک اس کاصحیح معنی ومفہوم واضح نہ ہوجائے مر جعیت کا مقام اور اس کی ضرورت پر سیر حاصل بحث نہیں کی جاسکتی .

مفہوم اجتھاد
مکتب اہلبیت علیھم السلام کے نزدیک کلمہ اجتھاد دو معنی میں ذکر ہوا ہے ایک مذموم اور ناپسند معنی جس سے روایات میں سختی سے روکا گیا ہے اور دوسرے ممدوح و پسندیدہ معنی جس کی ترغیب دلائی گئی ہے اور پیروان اہلبیت علیھم السلام کا طریقہ ہے۔

اجتھادکا غلط مفھوم
قرآن ،روایات اورمعصومین علیہم السلام سے مستندکئے بغیراپنی ذاتی رائے سے فتویٰ دینا اور اپنی اسی ذاتی رائے کو حکم خدا سمجھنا ، اجتہاد کا غلط مفہوم ہے۔ اس معنی میں اجتھاد وہی طریقہ ہے جسے مکتب خلفاء کے ماننے والے اختیار کرتے ہیں کیونکہ وہ معتقد ہیں کہ اپنی ذاتی رائے (شخصی اجتھاد،یعنی قیاس،استحسان،مصالح مرسلہ اور سد ذرائع)سے کوئی شرعی حکم یا قانون بنایا جاسکتا ہے اور اس معنی کی بناپر اجتھاد ،قرآن و سنت کے مقابل خود ایک مستقل قانون سازی کا منبع ومصدر بن جاتاہے لہذا فقہ جعفری میں اس طرح کے اجتھاد سے سختی سے روکا گیا ہے اور روایات میں اس طریقہ کی مذمت اور توبیخ وارد ہوئی ہے ۔بعض آیات اور روایتیں بطور مثال پیش ہیں۔
١۔ ارشاد رب العزت ہوتا ہے:(ولا تقف ما لیس لک بہ علم)۔ (١)
جس چیزکاتمہیں علم نہیں اس کے پیچھے مت جانا ۔
٢ ۔امام جعفر صادق علیہ السلام ارشادفرماتے ہیں: ''من افتی الناس برأیہ فقد دان بما لا یعلم ومن دان بمالا یعلم فقد ضاد اللہ حیث احل وحرم فیما لا یعلم ''(٢)
جس نے لوگوں کو اپنی رائے سے فتوی دیا وہ نادانی سے نزدیک ہوا اور جو نادانی سے نزدیک ہوا وہ اللہ کے مقابل آیا کیونکہ اس نے اس چیز کو حلال و حرام کیا جس چیز کے بارے میں نہیں جانتا تھا ۔
٣۔ایک مشہور اخلاقی حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام عنوان بصری سے مخاطب ہوکر ارشاد فرماتے ہیں:''وایاک ان تعمل برایک شیئا۔۔۔واھرب من الفتیا ھربک من الاسد ولا تجعل رقبتک للناس جسرا'' (٣)
خبردار! اپنی ذاتی رائے سے ہرگز فتوی مت دینا ...اور(اپنی ذا تی رائے سے)فتوی دینے سے ایسے بچو جیسے شیر سے بچتے ہواور اپنی گردن کو لوگوں کیلئے پل نہ بنائو۔
٣۔مولائے کائنات نھج البلاغہ میں اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: '' تردعلی احدھم القضیة فی حکم من الاحکام فیحکم فیھا برایہ ثم ترد تلک القضیة بعینھا علی غیرہ فیحکم فیھا بخلاف قولہ ثم یجتمع القضاة بذالک عند الامام الذی استقضاھم فیصوب آرائھم جمیعا والھھم واحد ونبیھم واحد وکتابھم واحد۔۔۔''(٤)
ان میں سے کسی ایک کے سامنے کسی حکم کے بارے میں کوئی مسئلہ پیش ہوتا ہے تو وہ اپنی رائے سے اس کا حکم دیتا ہے پھر وہی مسئلہ بعینہ دوسرے کے سامنے پیش ہوتا ہے تو وہ پہلے والے کے قول کے برخلاف حکم دیتا ہے پھر یہ تمام قاضی اپنے اس امام کے سامنے جمع ہوتے ہیں جس نے انہیں قاضی بنایا تھا تو وہ ان سب کی آراء کو صحیح قرار دیتا ہے حالانکہ ان کا خدا ایک ہے نبی ایک ہے کتاب ایک ہے ...
اس خطبہ میں مولائے کائنات علیہ السلام ذاتی رائے کی سخت مذمت کر رہے ہیں اسی طرح نظریہ تصویب کی بھی سخت انداز میں تنقید کررہے ہیں۔تومذکورہ بالا آیات وروایات میںواضح طور پر اجتھادکے اس طریقہ سے روکا گیا ہے جس میں ذاتی رائے کی دخل اندازی ہواور خدا کے مقابل قانون سازی و شریعت سازی انجام دی جائے۔

اجتھادکا صحیح مفھوم
اجتہاد:اس تلاش و کوشش کو کہتے ہیں جو احکام خدا کو ان کی معتبر دلیلوں (قرآن ،سنت ، اجماع اور عقل)سے حاصل کرنے میں صرف ہوتی ہے''اسی لئے علمائے اصول، اجتھاد کی تعریف میں کہتے ہیں: ''ملکة یقتدربھا علی استنباط الحکم الشرعی الفرعی من الاصل'' (٥)
یعنی اجتھاد وہ ملکہ ہے جس کے ذریعہ انسان، شریعت کے فرعی احکام کو ان کی اصل (کتاب و سنت)سے استنباط کرنے کی قدرت حاصل کرتا ہے ۔
اور اجتھاد اس معنی میں صرف قابل قبول ہی نہیں بلکہ لازم و واجب ہے جیسا کہ آیات و روایات میں اس کی تاکید ہوئی ہے اور مکتب اہلبیتعلیہم السلام کے ماننے والوں کا یہی طریقہ ہے۔ نمونہ کے طور پر کچھ دلیلیں پیش کرتے ہیں۔
١۔ارشاد رب العزت ہے:(وما کان المؤمنون لینفروا کاف فلولا نفر من کل فرق منھم طائف لیتفقھوا فی الدین ولینذروا قومھم اذا رجعوا الیھم لعلھم یحذرون) ۔(٦)
صاحبان ایمان کا یہ فرض نہیں ہے کہ وہ سب کے سب نکل پڑیں تو ہر گروہ میں سے کچھ لوگ کیوں نہیں نکلتے تاکہ علم دین حاصل کریں اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈرائیں شاید وہ اسی طرح ڈریں ۔
٢۔امام محمد باقر علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں : '' الکمال کل الکمال التفقہ فی الدین'' ۔(٧)
سب سے بڑا کمال علم دین حاصل کرنا ہے ۔
ان نصوص سے اجتھاد کا واجب کفائی ہونا ثابت ہوتا ہے لہذا مکتب اہلبیت علیہم السلام کے فقہاء کے نزدیک اجتھاد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا و رسولۖ کے مقابل اپنی ذاتی رائے (شخصی اجتھاد) کا اظہارکریں یا قانون سازی انجام دیں بلکہ اجتھاد کا معنی یہ ہے کہ شارع کی جانب سے مقرر کردہ معتبر دلیلوں سے احکام خدا کاحصول (استنباط) اور قانون فہمی ، کیونکہ قانون سازی رب العالمین خدا کی شان ہے اسی لئے علمائ، فقہ کی تعریف میں کہتے ہیں :''ھوالعلم بالاحکام الشرعیة الفرعیة عن ادلتھا التفصیلیة'' (٨)
یعنی شریعت کے فرعی احکام کو ان کی تفصیلی دلیلوں سے جاننے کو فقہ کہتے ہیں۔تو اس تعریف کی بنا پر فقہ ،شریعت سازی نہیں ہے بلکہ شریعت فہمی اور قانون فہمی ہے کیونکہ شرعی احکام جاننے کا نام فقہ رکھا گیا ہے نہ کہ شرعی احکام بنانے اور گڑھنے کا نام۔ لہذا اجتھاد جبکہ شارع کی جانب سے مقررکردہ معتبر دلیلوں پر مبنی ہواور ہدف الہی احکام و قوانین کا سمجھنا اور جاننا ہو تو اس وقت مستحسن ہے ۔

ضرورت اجتھاد
اجتھاد (یعنی دین میں غوروخوض) اسلام کے روشن مستقبل کی دلیل اور انسانی معاشر ے میں اس کی اہمیت وبقا پر دلالت کرتا ہے کیو نکہ اسلام ایک محدود اورعلاقائی دین نہیں ہے بلکہ عالمی اور ابدی دین ہے لہٰذا اس کے قوانین نوع بشر کیلئے ہیں اورقرآن ''ھدی للناس''یعنی بشریت کو ساحل نجات تک پہونچانے کیلئے آیا ہے لہٰذا اسلام میں دو باتوں کی بہت اہمیت ہے ایک رہبریت و قیادت اور دوسرے الہی احکام و قوانین ۔ لیکن بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی رحلت کے بعد سب سے زیادہ اختلاف امت کی رہبری اور الہی احکام و قوانین کو سمجھنے میں پیش آیا جبکہ مرسل اعظمۖ اس کا انتظام کرکے گئے تھے کیونکہ آپۖ نے امت مسلمہ سے مخاطب ہوکر ارشاد فرمایا تھا:'' انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ وعترتی اھلبیتی ما ان تمسکتم بھما لن تضلوا بعدی وانھما لن یفترقا حتی یردا علی الحوض'' (٩)
میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں ایک اللہ کی کتاب اور دوسرے میری عترت میرے اہلبیت، اگر تم نے ان دونوں سے تمسک اختیار کیا تو ہرگز ہرگز میرے بعد گمراہ نہیں ہوگے اور یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونگے یہا ں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملیں۔
اگر امت نے اہلبیت اطھار علیہم السلام کا دامن تھاما ہوتا اور ان کی رہبری کو قبول کیا ہوتاتو آج اسلام کو نہ رہبری کی مشکل پیش آتی اور نہ اسلامی قوانین واحکام سمجھنے میں دشواری سے دوچار ہونا پڑتاکیونکہ شریعت کے تمام نشیب وفراز واضح طور پر ہمارے درمیان ہوتے حتی بعید نہیںکہ محافظ شریعت بھی پرد ئہ غیب میں نہ ہوتے۔
مکتب اہلبیت علیہم السلام کے ماننے والوں نے تو ان کی رہبری کو قبول کیا اور ان کے دامن سے تمسک حاصل کرتے ہوئے ان کی پیروی کی لیکن مکتب خلفاء کے ماننے والوں نے صاحبان وحی سے اپنا رابطہ توڑکر میراث وحی سے اپنا رشتہ توڑلیاجس کا خمیازہ اسلامی معاشرے کو بھگتنا پڑااورکبھی تو نص کے مقابل اجتھاد کے مرتکب ہوئے اور کبھی شخصی اجتھاد کا سہارا لیا یعنی قیاس ،استحسان، مصالح مرسلہ ، سدذرایع اور ذاتی اجتھادکو حکم خدا سمجھا ۔ اس کے مقابل مکتب اہلبیت علیہم السلام کے ماننے والوں نے صاحبان وحی و شریعت سے اپنا رابطہ برقرار رکھا جس کے نتیجہ میں نہ نص کی کمی کا احساس ہوا اورنہ نص کے مقابل اجتھاد کی نوبت آئی بلکہ معصومین علیہم السلام کی رہبری میں شریعت فہمی اوراحکام و قوانین الہی کی جستجو و تلاش کی جانب قدم بڑھائے تاکہ شریعت محمدی پر عمل پیرا ہوکررب العالمین خدائے وحدہ لا شریک کی خوشنودی حاصل کریں اور دنیا و آخرت میں سرخرو ہوں۔ آنے والے دور اور غیبت حجت الہی کے پیش نظر معصومینعلیہم السلام نے اپنے اصحاب میں جس اجتھاد کی داغ بیل ڈالی تھی وہ سلسلہ مراجع کرام کی صورت میں آج تک قائم و دائم ہے اور اس نے انسانی زندگی کو ایک تابناک مستقبل عطا کیا ، علمی مستند دلیلوں سے ہر تندو تاریک ہواکا مقابلہ کیا ہرمرحلہ میں انسانی حقوق کی پاسبانی کی ، انسانیت کو عبودیت کی راہ سے نہ ہٹنے دیا ،الحادی فکر اور بے دینی کو غالب نہ ہونے دیا بلکہ ہمیشہ توحید و ولایت کا پرچم بلند رکھا نئے پیش آنے والے مسائل (مسائل مستحدثہ )کا حل قرآن و سنت کی روشنی میں پیش کیا ، نہ ذاتی رائے کی دخل اندازی ہونے دی اور نہ نفسانی خواہشات کی پیروی کی گئی بلکہ تقوی و پرہیزگاری، خدا محوری اور رضایت پروردگار ان کا ہدف ،معاشرہ میں الہی قوانین کا اجرا ان کا ہم وغم ، ظالم وجابر طاقتوں کے مقابل نہ جھکنا ان کا شعار اور اہلبیت اطھار علیہم السلام کی سیرت ان کے لئے آئیڈیل (Ideal)قرار پاِئی۔
لہٰذا اگر ہم یہ فیصلہ کر کے بیٹھ جائیں کہ اجتھاد کا دروازہ اب بند ہوجانا چاہئے تو پھر یا تو یہ مانئے کہ انسان کی ضرورتیں اور تقاضے ختم ہو گئے ہیں یا پھر اسلام بھی دوسرے ادیان کی طرح صرف ایک خاص زمانہ تک کیلئے محدود دین قرار پائیگا جبکہ اسلام، عالمی رہبری اور انسانیت کو کمال و سعادت تک پہونچانے کا دعویدار ہے اور ابدی و دین خاتم ہونے کا اعلان کرتا ہے لہٰذا اس کے قوانین ہمیشہ بشریت کی ضرورتوں کو پورا کرنے والے اور تازہ ہیں، اس کے دامن میں ہر مشکل کا حل موجود ہے لہٰذا ضروری ہے کہ غیبت میں بھی ایک ایسا انتظام کیا ہو جس سے بشریت فائدہ اٹھاتی رہے اور یہ انتظام غیبت صغری میں نواب خاص (نواب اربعہ)کے ذریعہ انجام پایااور غیبت کبری میں نواب عام (مراجع تقلید)کے ذریعہ انجام پارہا ہے جس پر متعددعقلی و نقلی دلیلیں موجود ہیں اورمجتھد میں زندہ ہونے کی شرط مکتب اہلبیت علیہم السلام کے امتیازات میں سے ایک امتیاز ہے جس نے اجتھاد کو ایک تازگی بخشی ہے۔ شہید مطہری اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:''اجتھاد ایک اسلامی معجزہ ہے'' (١٠)۔

مفہوم تقلید
تقلیدکا ایک مذموم و ناپسند طریقہ ہے جس سے آیات وروایات میں سختی سے روکا گیاہے اور دوسراممدوح و پسندیدہ طریقہ ہے جس کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ ترغیب دلائی گئی ہے۔

تقلیدکا غلط مفھوم:
یعنی انسان کسی فرد ،گروہ ،تنظیم یا مکتب فکر کی (خواہ دینی ہو یا غیر دینی)جاہلانہ اور آنکھیں بند کرکے اندھی تقلید کرے اور یہ تقلید صحیح فکر ، دینی پلیٹ فارم اور الہی اصولوں پر قائم نہ ہو بلکہ پست اہداف جیسے جاہلانہ خاندانی ،تنظیمی یا علاقائی تعصب اور ہٹ دھر می کی بنیاد پر ہو ۔تقلید کے اس طریقہ کی آیات وروایات میں سخت مذمت ہوئی ہے۔
١۔ارشاد قرآنی ہوتا ہے:( اناوجدناآبائنا علی امة واناعلی آثارھم مقتدون) (١١)
ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم انہیں کے نقش قدم کی پیروی کرنے والے ہیں ۔
٢ ۔ دوسری آیت میں ارشاد ہوتا ہے: (واذا قیل لھم اتبعوا ما انزل اللہ قالوا بل نتبع ما الفینا علیہ آبائنا اولوکان آبائھم لایعقلون شیئا ولایھتدون )(١٢) " جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ خدا نے نازل کیا ہے اس کی اتباع کر و توکہتے ہیں کہ ہم اس کی اتباع کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے چاہے ان کے باپ دادا کچھ نہ سمجھتے ہوں اور نہ ہدایت یافتہ ہوں ۔
بیشک تقلید و پیروی کا یہ طریقہ ایک مذموم طریقہ ہے جو معاشرہ کی فکری پسماندگی ،اخلاقی فساد اوربے راہ روی کاسبب بنتاہے اور ایسے افراد، منفعت طلب اور استعماری و استبدادی طاقتوں کا کھلونا بن جاتے ہیں۔

تقلیدکا صحیح مفھوم:
غیرماہر اور ناواقف افرادکا اس فن کے ماہرین اورجانکار کی جانب رجوع کرنا ۔بالفاظ دیگر:''جاہل کا عالم سے پوچھنا '' یعنی جو افراد کسی علمی یا مہارتی شعبہ میں واقفیت نہیں رکھتے یا اس میں ماہر نہیں ہیں اور انہیں زندگی میں اس شعبہ یا فن کی ضرورت پڑے تو وہ اس شعبہ کے جانکار و ماہرین کی جانب رجوع کرتے ہیں اور ان کی رائے کے مطابق عمل کرتے ہیں اسی کو علمی اور فقہی اصطلاح میں تقلید کہتے ہیں ۔اور تقلید کا یہ مفھوم نہ یہ کہ مذموم نہیں بلکہ نظام کائنات میں بشری حیات اسی قانون پر عمل پیرا ہے اور اس سے روگردانی کی صورت میں انسانی زندگی عسر و ہرج اور بسا اوقات تباہی کا شکار ہوجاتی ہے لہٰذا یہ ایک پسندیدہ عمل ہے نہ کہ مذموم۔اور یہ بات بھی روشن ہے کہ ہر انسان ہر شعبہ میں ماہر فن نہیں ہوسکتا پس ناگزیر ہے کہ جن شعبوں میں انسان مہارت نہیں رکھتا ان میں ماہرین فن کی جانب رجوع کرے،کیا مریض کا ایک ماہر ڈاکٹر کی طرف رجوع کرنا غلط ہے ؟مکان کی تعمیر کیلئے انجینئر سے رجوع کرنا کار عبث ہے؟علمی جہالت کو دور کرنے کیلئے ماہر عالم کی طرف رجوع کرنا حماقت ہے؟قانون خدا سے ناواقفیت کی صورت میں قانون خدا کے جانکار اور ماہر کی طرف رجوع کرنا بے وقوفی ہے؟ان ہی عقلی و منطقی باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ تقلید اگر ان اہداف کے پیش نظر ہو تو یہ قابل مذمت نہیں بلکہ مستحسن امر ہے تاکہ انسان خطا وغلطی سے محفوظ رہے ۔تقلید کے سلسلہ میں عقلی ومنطقی دلیلوں کے علاوہ قرآن میں بھی دلیلیں موجود ہیں جو نمونہ کے طور پر اس طرح ہیں:
١ ۔ ارشاد رب العزت ہوتا ہے : (فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون) (١٣)
اگر تم لوگ نہیں جانتے تو جاننے والوں سے پوچھو ۔
٢ ۔ دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے: (وما کان المومنون لینفروا کافة فلولا نفر من کل فرقة طائفة منھم لیتفقھوا فی الدین ولینذروا قومھم اذا رجعوا الیھم لعلھم یحذرون) (١٤)
صاحبان ایمان کا یہ فرض نہیں ہے کہ وہ سب کے سب نکل پڑیں تو ہر گروہ میں سے کچھ لوگ کیوں نہیں نکلتے تاکہ علم دین حاصل کریں اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈرائیں شاید وہ اسی طرح ڈریں۔
ان آیات کریمہ میں مجتھدین سے پوچھنے اور ان کی اتباع وپیروی کا حکم دیا گیا ہے۔

ضرورت تقلید
جیسا کہ پہلے اشارہ کیا کہ جاہل کا عالم سے پوچھنا یا غیر ماہر کا ماہرین فن کی جانب رجوع کرنا ایک غیر منطقی ،غیر شرعی اور اندھی تقلید نہیں ہے بلکہ عقلائے عالم کا یہی طریقہ کار ہے اور عقلی ومنطقی تقاضا بھی یہی ہے۔ قرآن مجید تقلید سے منع نہیں کرتا بلکہ اندھی تقلید سے منع کرتا ہے کیونکہ خداوندعالم نے انسان کو چشم بصیرت کی نعمت سے نوازا ہے اچھے وبرے کی پہچان کیلئے رہنما اصول بتائے ہیں لہٰذا اسے پسند نہیں کہ اس کا بندہ انحراف و گمراہی کے دلدل میں پھنسے تو ان نعمتوں کا شکر یہ ہے کہ ہم ان کا صحیح استفادہ کریں اور اسی راستہ کو انتخاب کریں جس میں ہمارے معبود کی رضا ہو۔
البتہ یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ تقلید اصل نہیں ہے بلکہ شریعت کے احکام کو جاننے اور اس پر عمل کرنے کا ایک راستہ ہے کیونکہ جو افراد اسلامی احکام کو اجتھاد کے ذریعہ حاصل نہیں کرسکتے یا اتنا علم نہیں ہے کہ احتیاط پر عمل کریں ، ان کی اس مجبوری پر اور اس بات کے مدنظر کہ ہر انسان الہی احکام کو حاصل کرنے کیلئے اجتھاد کے درجہ پر فائز نہیں ہوسکتا (کیونکہ اس طرح دوسرے وہ شعبے جو انسانی حیات کیلئے ضروری ہیں خالی رہ جائیں گے )لہٰذا پروردگار اور اس کے حقیقی نمائندوں نے فروع دین(الہی احکام و قوانین )میں جامع الشرائط مجتہد کی تقلید کو لازم وضروری قرار دیا ہے تاکہ دین وشریعت میںخلل نہ آسکے اسی لئے تقلید ایک عقلی ضرورت ہے اور شارع نے بھی ہمیں اس کام کاحکم دیا ہے۔

مرجعیت
غیبت صغریٰ اور غیبت کبریٰ دونوں میں امام عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کا رابطہ لوگوں سے منقطع نہیں ہوا بلکہ نیابت کے ذریعہ رابطہ کا سلسلہ قائم ہے ، نائبین خاص غیبت صغریٰ میں ( ٢٦٠ھ سے ٣٢٩ھ تک)اور نائبین عام غیبت کبریٰ میں ٣٢٩ھ سے ظہور تک)امام عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے نائب ہیں۔

نیابت خاص :
وہ نیابت ہے کہ جس میں امام عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف نے کسی خاص شخص کو نام بنام اپنی نیابت کیلئے انتخاب کیا ہو جیسا کہ آپ نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت ٢٦٠ ھ کے وقت جناب عثمان بن سعید عمری کو اپنا پہلا نائب خاص انتخاب کیا اور ان کی رحلت کے بعد آپ کے لائق فرزندجناب محمد بن عثمان بن سعید عمری کو اپنا دوسرا نائب انتخاب کیا اور٣٠٤ھ یا٣٠٥ ھ میں ان کی رحلت کے بعدجناب حسین بن روح نوبختی کو اپنا تیسرا نائب انتخاب کیااور ٣٢٦ ھ میں ان کی رحلت کے بعد جناب علی بن محمد سمری کو اپناچوتھا اور آخری نائب خاص منتخب کیا اور ٣٢٩ھ میں ان کی رحلت کے بعد غیبت کبریٰ کا آغاز ہوا۔

نیابت عام :
وہ نیابت ہے کہ جس میں امام معصوم یا امام عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کسی خاص و معین شخص کی نشاندہی نہیں فرماتے بلکہ بعض خصوصیات و صفات کا ذکر فرماتے ہیں کہ'' جس میں یہ خصوصیات و صفات پائی جائیں وہ ہمارا نائب ہے'' بعض روایتیں بطور مثال پیش ہیں ۔
١ ۔ امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں : ''واما من کان من الفقھاء صائنا لنفسہ حافظا لدینہ مخالفا لھواہ مطیعا لامر مولاہ فللعوام ان یقلدوہ ''(١٤)
فقہاء میں سے جو اپنے نفس کی محافظت کرنے والا، محافظ دین، نفسانی خواہشات کا مخالف اور مولا کے امر کا فرمانبردار ہو تو عوام کو چاہئے کہ اس کی پیروی کریں ۔
٢ ۔ امام عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف اسحاق بن یعقوب کیلئے لکھی اپنی توقیع میں ارشاد فرماتے ہیں:''واما الحوادث الواقعة فارجعوا فیھا الی رواة احادیثنا فانھم حجتی علیکم وانا حجة اللہ علیھم'' (١٥)
نئے پیش آنے والے مسائل میں ہمارے راویوں کی جانب رجوع کرو کیونکہ وہ تم پر میری حجت ہیں اور میں ان پر اللہ کی حجت ہوں۔
لہٰذا فقھاء صرف مجتھد اور مراجع تقلید ہی نہیں بلکہ نائب امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف بھی ہیں اور ان کی پیروی امام عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی پیروی ہے اوران کی مخالفت امام عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی مخالفت ہے۔

مقام مرجعیت
شیعہ علما ء اورمفکرین نے معصو مین علیہم السلام کی موجودگی( ٣٢٩ھ)میں اجتھاد کے بنیادی ارکان اور الہی احکام و قوانین کے حصول (شریعت فہمی)کے صحیح طریقوں کو عترت طاہرہ سے حاصل کیااور معاشرہ میں آئندہ پیش آنے والی نئی نئی ضرورتوں اور جدیدمسائل (مسائل مستحدثہ)کے صحیح جواب کا طریقہ ائمہ علیہم السلام کی رہبری میں اچھی طرح سیکھا۔
اورزمانۂ غیبت میں، امام عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی مستقل نظارت کے تحت اجتھاد و تقلید کا عظیم ،پختہ اور مستحکم طریقہ ہمیشہ امت مسلمہ کی مشکلات کیلئے راہ گشا ثابت ہوا اور شیعہ فقہاء نے اصالت مکتب کی پاسبانی کرتے ہوئے فکری وثقافتی یلغار کا مقابلہ کیا۔ ان کی خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس سلسلہ میں چند روایتیں بطورمثال پیش ہیں۔
١ ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ ارشاد فرماتے ہیں: ''العلماء ورثة الانبیائ''(١٦)
علما ء انبیاء کے وارث ہیں۔
٢ ۔ مولائے کائنات علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: ''من کان من شیعتنا عالما بشریعتنا فاخرج ضعفاء شیعتنا من ظلمة جھلھم الی نور العلم الذی حبوناہ بہ جاء یوم القیامة علی راسہ تاج من نور یضییء لاھل جمیع تلک العرصات'' (١٧)
ہمارے شیعوں میں سے جو ہماری شریعت (قوانین)کاجاننے والا ہو اور (اعتقادی لحاظ سے)ہمارے ضعیف شیعوں کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر اس علم کی روشنی تک لیجائے جو اس کو ہماری طرف سے عطا ہوا ہے تو روز قیامت اس حال میں آئیگا کہ اس کے سر پر ایک نور کا تاج ہوگا جو تمام اہل محشر کوضیا بار کریگا۔
ان جیسی تعبیرات و کلمات عصر غیبت میں مرجعیت کی اہمیت و ضرورت کو بہتر طریقہ سے نمایاں اور واضح کرتے ہیں لہذا ہماری ذمہ داری ہے کہ مجتہد جامع الشرائط کی تقلید کریں تاکہ اپنی شرعی ذمہ داریوں کو خدا و رسول اور ائمہ کے حکم کے مطابق ادا کرسکیں ۔

مصادر و منابع:
(١)سورہ اسر اء ٣٦
(٢)علامہ مجلسی ،بحارالانوار ،ج٢، ص٢٩٩
(٣)علامہ مجلسی ،بحارالانوار ،ج١،ص٢٢٦
(٤) نھج البلاغہ ، خطبہ ١٨
(٥)آخوند خراسانی ،کفایةالاصول،ج٢، ص٤٢٢
(٦)سورہ توبہ١٢٢
(٧)علامہ مجلسی،بحارالانوار، ج٧٥، ص١٧٢
(٨)معالم الدین فی الاصول، ص٢٢
(٩)صحیح،مسلم،ج٧،ص١٢٢،صحیح ترمذی،ج٥، ص٦٢١، مسند احمد، ج ٥،ص١٨١
(١٠) مرتضی مطہری،اسلام ومقتضیات زمان، ج ١، ص٢٤١
(١١)سورہ زخرف٢٣
(١٢)سورہ بقرہ١٧٠
(١٣)سورہ نحل ٤٣ ،سورہ انبیائ٧
(١٤)سورہ توبہ١٢٢
(١٥)علامہ مجلسی ،بحارالانوار، ج٢، ص٨٨
(١٦)شیخ صدوق،کمال الدین،ج٢،ص٤٨٣،شیخ طوسی،الغیبة، ص١٧٧ ۔ طبرسی،احتجاج، ج٢،ص٢٨٣
(١٧)متقی ہندی،کنزالعمال، ج ١٠،ص١٣٥
(١٨)ملا فیض کاشانی،محجة البیضائ، ج١،ص٢٩

مقالات کی طرف جائیے