مقالات

 

سورۂ یاسین کی فضیلت

سید مظہر علی رضوی بلرام پوری

انسان ،اللہ کی خلقت کاشاہکار اورایک ایسی باعظمت مخلوق ہے کہ جس میںبے شمار صلاحتیں اور استعداد یں پوشیدہ ہیں کہ اگر وہ اپنی ان تمام صلاحیتوں،استعداد وں اور قوتوں کو بروئے کار لائے تو وہ اسے اس کے لائق کمال تک پہونچا سکتی ہیں،لیکن افسوس!عام طور سے ان قوتوں اور استعدادوں کا ہزارواں حصہ بھی منزل عمل اور عالم ظہور میں نہیں آتا۔
مثلاً ہم سب کے اندر جو چشم باطنی پائی جاتی ہے اگر اسے کھول دیا جائے تو ہم کائنات کے بہت سے حقائق اوراسرار ورموز کو دیکھ سکتے ہیں ، اسی طرح ہمارے اندر جو '' باطنی کان ''پائے جاتے ہیں اگر ہم ان کی سماعت پرلگے ہوئے تالے کو توڑ ڈالیں تو عالم ملکوت کے بہت سے نغموں اورجہان ملکوت کی بہت سی آوازوں کو سن سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر انسان اور بھی دوسری بہت سی پوشیدہ اورباطنی قوتوں کو عمل میںلانے اور بیدار کرنے کا ہنر سیکھ لے تو وہ اپنے واقعی کمال یعنی ''منزل رضوان '' کو حاصل کر سکتا ہے ۔
تلاوت قرآن بھی انسان کے اندر ظاہری اورچھپی ہوئی قوتوں کی طرح کچھ ظاہر اور چھپے ہوئے آثار وبرکات کی حامل ہے، مگر خصوصی طور پر قرآن کے پوشیدہ آثار وبرکات کو آشکار کرنے اور اسے حاصل کرنے کے لئے ایک ''محرک '' آلہ وسبب کی ضرورت ہوتی ہے ، اورسورہ یاسین ایسا ہی ایک محرک اور صلاحیتوں کو ابھارنے والاآلہ اورسبب ہے، جو انسان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو بھی ابھارتا ہے اوراس کی تلاوت، قرآن کریم کے دوسرے سوروں اور آیتوں کے آثار وبر کات کو بھی آشکار کرتی ہے ۔
اب یہاں پر ایک مثال کے ذریعہ سورہ یاسین کی فضیلت کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے:
ایک بہت عالیشان اور انتہائی حسین و خوبصورت ''ہال '' کاتصور کریں کہ جس کی بڑے سلیقہ سے آئینہ بندی کی گئی ہو اور جسے بہت دلکش فانوسوں ،قمقمو ں اورنازک وریشمی پردوں سے سجایاگیا ہو لیکن اس خوبصورت ودلکش ''ہال '' پر اندھیرے کا اس قدر تسلط ہو کہ آپ کچھ بھی نہ دیکھ سکیں، اسی وقت اس میں موجود برقی نظام کا صرف ایک سوئچ دبا دیا جائے تو ''ہال '' کی تمام چھپی ہوئی چیزیں اور خوبصورتیاں آپ کے سامنے آجائیں گی ، اسی طرح ''سورۂ یاسین'' بھی تمام سوروں کے درمیان بجلی کے اس ''سوئچ'' کی مانند ہے کہ جو تنہا دوسرے سوروں کے پوشیدہ آثار وبرکات ہی کو نمایاںنہیںکرتا ہے بلکہ آدمی کے اندرچھپی ہوئی قوتوں کو بھی بیدار کرتاہے ۔
چونکہ اکثرمومنین ''سورہ یاسین'' کی گہری شناخت ومعرفت نہیں رکھتے اور اس کے فضائل و مناقب سے بے بہرہ ہیںاسلئے سختیوں اور مشکلات کے جال میں گرفتارہیں جب کہ درگاہ الہی کے مقربین کی محفل ومودت میں سورہ یس کے سلسلے میں بہت سے بیانات پائے جاتے ہیں ۔
انسان، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ،ائمہ طاہرین علیہم السلام اور ارباب سیر و سلوک کے ارشادات و بیانات میں تھوڑی سی توجہ دے تو وہ اس حقیقت تک پہونچ سکتا ہے کہ یہ سورہ ایک مخصوص مقام و منزلت اور انتہائی بلند مرتبہ کاحامل ہے ، انسا ن اگر واقعاً ا ن فضائل ومناقب سے آگاہ ہوجائے تویقینا اس سورہ سے مکمل طور پر فیضیاب و مستفید ہوسکتا ہے ۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے مومنین کو اس سورہ کے بلند وممتاز مقام ومرتبہ سے آشنا کرنے کی غرض سے فرمایا ہے کہ ''یس '' قرآ ن کا دل ہے .
البتہ یہ بات پوشیدہ نہ رہے کہ جن روایات میں اس سورہ کو قلب قرآن سے تعبیر کیا گیاہے وہ انسان کے اندرچھپی ہوئی قوتوں کو بیدار اور متحرک کرنے کی طرف اشارہ ہے چونکہ جس طرح بدن کے تمام اعضاء '' قلب '' کے چلنے سے چلتے ہیں اوراپنے آثار کو وجود میںلاتے ہیں اسی طرح ''یاسین'' انسان کے اندر اور قرآن کے سوروں میںپوشیدہ آثار وبرکات اور توانائیوں کو جلوہ نما کرتا ہے . ''سورہ یس '' کا یہ کردار اتنا اہم ہے کہ اس کے علاوہ اگر یہ سورہ کوئی اورکردار و اثر نہ رکھتا ہو تو صرف یہی کردار امتیاز و افتخار کے لئے کافی تھا۔ سورہ یس اپنی اسی شان کی وجہ سے اس بات کا حقدار ہے کہ انسان زندگی بھر اس مقدس آستانے کا مطیع وفرمانبر دار بنارہے ، اس کے سہارے بلندی کی طرف بڑھتا رہے ، اسی کے آثار وبرکات کے زیر سایہ علم غیب اورجہان ملکوت سے رابطہ قائم کرے،ان چیزوں کو دیکھے جو دوسرے نہ دیکھ سکیں اوران نغمات کو سنے جو دوسرے نہ سن سکیں ۔
سرورکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ جو اس کے تمام پہلوئوں اورعجائب وغرائب پر عبور رکھتے تھے اور انہیں باقاعدہ محسوس کرتے تھے، یوں ارشاد فرماتے ہیں : ''لوَ دِدتُ انّھا فی قلب کلّ انسان من امّتی '' میںچاہتاہوں کہ یہ سورہ (یاسین) میرے ہر امتی کے دل میںپایا جائے .
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کی یہ تمنا و آرزو اس سورہ کی عظمت واہمیت میں چار چاندلگا رہی ہے۔
پس وہ شخص جو یاسین کو دل میںبسا لے اور اسے حافظہ میں پیوست کر لے وہ اسی کی مانند ہے کہ جس کے وجود کے اندر چشمہ ابل رہا ہو اور جس کا جسم معطر ہو۔

بارہ مرتبہ ختم قرآن کا ثواب
ابی ابن کعب سے منقول ہے '' اگر کوئی شخص خوشنودی خد ا کے لئے سورہ یاسین کی تلاوت کرے تو خداوندعالم اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اسے بارہ مرتبہ ختم قرآن کے عظیم ثواب سے نوازتا ہے۔(١)

آفات سے نجات
حضرت امام جعفر صاد ق علیہ السلام کا ارشاد ہے : جو رات میںسونے سے پہلے سورۂ یاسین پڑھے گا خدا وند عالم اسے ہر شیطان رجیم اورتمام آفات سے محفوظ رکھنے کے لئے ایک ہزار فرشتے معین فرمائے گا،اگر وہ اس دن یا رات میں مرجائے تو اسے جنت میںداخل کرے گا ، وقت غسل تیس ہزار فرشتے اس کے پاس حاضر ہونگے جو سب کے سب اس کے لئے استغفار کریں گے اور استغفار کے ہمراہ اس کی تشییع جنازہ میں شامل ہونگے ،جب اسے لحد میں رکھا جائے گا تو وہ سب کے سب لحد کے اندر ہوںگے ،وہ اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کا ثواب صاحب قبر کو مرحمت کریں گے ،تاحد نگاہ قبر کشادہ ہوجائے گی فشار قبر سے محفوظ رہے گا، دفن کے وقت سے اٹھائے جانے تک اس قبر سے ایک نور آسمان تک ساطع ہوتارہے گا جس دن وہ قبر سے اٹھے گا اللہ کے فرشتے بھی اس کے ساتھ ساتھ ہوں گے اس سے گفتگو کریںگے ،اسے دیکھ کر مسکرائیں گے ، اسے ہر خیر ونیکی کی بشارت دیںگے یہاں تک کہ اسے صراط ومیزان کی منزل سے بھی گذاریں گے (پھر) اسے ایسے مقام پر پہنچائیں گے کہ جو انبیائ، اولیاء اور خدا کے خاص بندوں کے سوا کوئی اور نہیں پاسکتا ،یہ شخص،اللہ کے حضور میں نبیوںکے ہمراہ کھڑا ہوگا (اس وقت تمام لوگ رنج وغم او رخوف میں مبتلا ہوںگے لیکن ) اسے اہل غم کیساتھ کوئی غم نہ ہوگا ، اہل خوف کے ساتھ کوئی خوف نہ ہوگا اورنہ یہ فریاد کرنے والوںکے ساتھ فریاد کرے گا،اسوقت پروردگار عالم اس سے فرمائے گا میرے بندے ! جس کی شفاعت کرنا چاہتاہے اس کی شفاعت کر، تاکہ میں قبول کروں اور جومانگنا چاہتاہے مانگ ،تاکہ میں عطا کروں ،لہٰذا وہ جوکچھ مانگے گا اسے دیا جائے گا ، جس کی شفاعت کرے گا،قبول کی جائیگی، اس سے دوسروں کی طرح حساب وکتاب نہیں ہوگا، وہ گرفتاروںکی طرح گرفتار نہیں ہوگا، اورذلیلوں کی طرح ذلیل نہیں ہوگا ،اسے غلطی وخطا اورکسی بد عملی کی سزا نہیں دی جائے گی، اوراسے (الہی عذاب سے آزادی کا) ایک پروانہ دیاجائے گا ، تاکہ وہ بارگاہ الہی سے نیچے اتر کر آئے اورتمام لوگ اسے دیکھ کر (حیرت سے ) کہیں : سبحان اللہ، کیا کہنا اس بندے کاکہ اس کے دامن پر (اب ) ایک بھی خطا کا دھبہ نہیں ہے اوریہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ کے رفقاء میں قرار پانے والاہے ۔

ایام بیض اورسورۂ یاسین
ہرمہینہ کی ١٣،١٤،١٥، تاریخ کی رات کو''لیالی بیض '' یعنی نورانی راتیں اور دنوںکو ''ایام بیض '' یعنی نورانی ایام کہتے ہیں،ان کے نام رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ ان تین راتوں میں چاند آسمان میں اوپر ہوتاہے اورراتیں روشن ہوتی ہیں اسی وجہ سے ان دنوں کو ایام بیض اورراتوں کولیالی بیض کہا جاتا ہے .
ان دنوں اور راتوں کیلئے روایات میں بہت سے فضائل اوراعمال منقول ہیں، مثلاً ان تین دنوں میں روزہ رکھنا مستحب ہے اورماہ رجب ، شعبان ،اور رمضان میں سورۂ یاسین کے ساتھ پڑھی جانے والی مخصوص نمازکی ان راتوں میں پڑھنے کی سفارش وتاکید کی گئی ہے ۔
چنانچہ امام صادق علیہ السلام نے ایک حدیث میں اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے اور اس کے ضمن میںسورۂ یاسین کی ایک فضیلت کا ذکر کیا ہے کہ یاسین ایک ایسا با فضیلت سورہ ہے کہ گذشتہ امتوں میں سے کسی کونہیں دیاگیا۔
آپ نے فرمایا ہے کہ : اللہ نے اس امت کو تین ایسے مہینے عطاکئے ہیں جو پچھلی امتوں کو عطا نہیں کئے ،اور وہ ' 'رجب ،شعبان ' اورماہ رمضان ہیں'' اس امت کوتین ایسی راتیں دی ہیں جو گذشتہ امتوں کو نہیں دی ہیں اور وہ ہر مہینے کی تیرہویں ،چودہویں اور پند رہویں راتیں ہیں اور اسی طرح اس امت کو تین ایسے سورے مرحمت فرمائے ہیں جو کسی امت کو عطا نہیں کئے گئے وہ سورے، یاسین ،ملک ،اورتوحید ہیں،لہٰذا جوشخص ان فضیلتوں کو ایک ساتھ جمع کرے گا وہ اس امت کے بہترین عطایا کو جمع کرنے والا ہوگا
امام علیہ السلام سے سوال کیا گیا: حضور! ان تینوں کو کیسے جمع کیاجائے ؟
آپ نے جواب میں فرمایا : ان تینوں مہینوں کی بیض والی راتوں میں اس طرح نماز پڑھی جائے کہ تیرہویں شب میںدورکعت نماز پڑھے اور ہر رکعت میں حمد کے بعد ان تینوں سوروں (یاسین، ملک، اور توحید)کی تلاوت کرے ۔
چودہویں شب میں دو دو رکعت کرکے چار رکعت نماز پڑھے اور حمد کے بعد ہر رکعت میں پھر وہی تینوں سورے پڑھے۔
پندرہویں شب دودو کرکے اسی طرح چھ رکعت نماز بجالائے، امام صادق علیہ السلام ان نمازوں کی فضیلت کے بارے میں فرماتے ہیں : جوشخص یہ عمل انجام دے گا ان تین ماہ کی فضیلت کو یکجا حاصل کرے گا اور اللہ عزوجل شرک کے علاوہ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرما دے گا (٢)
حضرت زہرا علیہاالسلام کی خدمت میں ایصال ثواب
حضرت آیة اللہ العظمیٰ وحید خراسانی (دام ظلہ) سورہ یاسین کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور پابندی سے اس کی تلاوت کرتے ہیں ،موصوف اس سورے کو ہر روز بوقت صبح خو د بھی پڑھتے ہیں اور اپنے شاگردوں کو بھی اسی وقت اسکے پڑھنے کی تاکید کرتے ہیں.
کسی شاگرد نے موصوف کی خدمت میںپ ہونچ کر سوال کیا :کیا آپ سورہ یاسین کے سلسلہ میں کوئی خاص تاکید وسفارش رکھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! سورہ یاسین کوہرروز بوقت صبح پڑھا کریں اور اس کا ثواب حضرت زہرا ٭ کو ہدیہ کیا کریں '' انہوںنے د ومرتبہ اس بات کی تاکید کی اور اس پر بہت زور دیا کہ شہزادی عصمت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو اس کا ثواب ہدیہ کیا جائے
تلا وت یاسین کے بارے میں جناب سلمان کا دستور العمل
جناب سلمان فارسی سے روایت ہے کہ جو شخص دس دن تک نماز صبح کے بعد کسی سے بولے بغیر ، کسی بھی (جائز ) حاجت کے لئے سورہ یٰس کی تلاوت کرے اوراس کے بعد یہ دعا پڑھے : ''بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم یَا قَدِیمُ یَا دَائِمُ یَاحَیُّ یَا قَیُّومُ یَا فَردُیَا وِترُ یَا وَاحِدُ یَا اَحَدُ یَا صَمَدُ یَا مَن لَّم یَلِد وَلَم یُولَد وَلَم یَکُن لَّہُ کُفُواً اَحَد وَصَلَّی اللّٰہُ عَلیَ مُحَمَّدٍ وَّآلِہِ اَجمَعِینَ بِرَحمَتِکَ یَا اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ'' تو اس کی حاجت پوری ہوگی ،اگر پوری نہ ہو تو اسے مجھ پر لعنت کرنے کا حق ہے ، کیونکہ اس دعا میں اسم اعظم پایا جاتاہے ۔
اللہ کا فضل وکرم ہے کہ ہم اس مبارک سورہ کے کچھ فضائل ومعارف بیان کرسکے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سورہ بہت سی نا گفتہ بہ باتیں اوربے شمار پوشیدہ راز رکھتاہے جسے اس مختصر تحریر میںادا نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن ایک بات کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے اوروہ یہ ہے کہ اگر سورہ یٰس کی تلاوت و قرائت ، حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے حضور میںہدیہ ثواب کی نیت سے کی جائے تو ''دعوت یٰس'' کے آداب وشرائط کی فراہمی اور تحقق کی راہ میں ایک بہت بڑا قدم ہے اورساتھ ساتھ اس سورہ مبارکہ کی حقیقت سے نزدیک ہونے کے لئے بھی مددگا ر ثابت ہوگا۔

حواشی:
١۔ مجمع البیان ،ج ٤، ص ٤١٣
٢۔اقبال، ص ٦٥٥

مقالات کی طرف جائیے