مقالات

 

خطیب اعظم علامہ سید غلام عسکری صاحب طاب ثراہ

سید وجیہ اکبر زیدی

ولادت:
علامہ سید غلام عسکری طاب ثراہ ١٩٢٨ ء میں شہر رائے بریلی میں پید ا ہوئے آپ کا وطن بجنور ضلع لکھنو ہے ۔

والد ماجد :
آپ کے والد کا نام سید محمد تقی تھا ، کہ جو ڈپٹی انسپکڑ آف اسکولس تھے ،اور کچھ دنو ں کیلئے شیعہ یتیم خانہ کے آنریری جنرل سکریڑی بھی تھے ، آپ نہایت دیند ار اورپرہیز گار انسان تھے اور آپ کے نیک کردار کا اثر خطیب اعظم کی تربیت میں بہت زیادہ ہوا .

تعلیم اور اساتذہ :
ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد والدین کی خواہش کے مطابق آپ کا داخلہ جامعہ ناظمیہ میں ہوا جہاں سے آپ نے ممتاز الافاضل کی سند حاصل کی اسکے علاوہ منشی ،مولوی، عالم ، فاضل طب ، فاضل فقہ وغیرہ کی اسناد سے بھی مزین ہوئے۔
ناظمیہ سے فارغ ہونے کے بعد مدرسة الواعظین میں داخلہ لیا مدرسة الواعظین کی تعلیم کے دوران آپکے کمالات ابھر کر سامنے آئے اور اب ایک طولانی مدت تک اس ادارے سے وابستہ رہے اور ایک واعظ اور آنریری سکریڑی ہونے کے عنوان سے اس دینی ادارے کی خدمت میں مشغول رہے ، آپ کو اس ادارے سے بہت زیادہ لگائو تھا آپ اس ادارے کو سالانہ ایک ہزار روپیہ مرحمت فرمارہے تھے آپ کاارادہ تھا کہ ان کی تعلیم کے دوران جتنا خرچ ہوا ہے وہ اسے آہستہ آہستہ اداکریں آپ کے اساتذہ میں علامہ سید عدیل اختر صاحب طاب ثراہ کانام سب سے زیادہ نمایاں ہے۔

ذاتی خصوصیات :
اچھے انسان: خطیب اعظم کے ایک اچھے اور بہترین انسان ہونے کے بارے میں رئیس الواعظین مولانا کرار حسین واعظ طاب ثراہ فرماتے ہیں: اس حقیقت سے کوئی صاحب عقل انکار نہیں کرسکتاہے کہ سچا مسلمان اور پختہ کار صاحب ایمان وہی ہو سکتاہے جو ایک اچھا انسان بھی ہو چنانچہ سرکار خطیب اعظم میں جو سب سے بڑا کمال تھا وہ یہی تھا کہ وہ بہت اچھے انسان تھے کسی کو درد وتکلیف میںدیکھ کر بے قرار ہوجاتے تھے اور اس تکلیف کو دور کرنے کی امکانی کوشش فرماتے تھے چاہے اس سلسلہ میں خود انہیں زحمتوں کا سامنا کر نا پڑتا ''۔

تواضع وانکساری :
رئیس الواعظین طاب ثراہ کابیان ہے '' ایک مرتبہ خطیب اعظم امین آباد سے رکشہ کے اوپر ایک نداف کے ساتھ نہایت سکون واطمینان سے جوہری محلہ تک آئے نداف کے ساتھ روئی دھنکنے کا سامان بھی تھا میںنے پوچھا : راستہ میںلوگ آپ کو حیرت اور تماشہ کی نظرسے دیکھتے رہے ہونگے کیا اس کواپنے ساتھ رکشہ پر بٹھا کرلانا ضروری تھا ، فرمایا چھوڑو، ان باتوں میں کیا رکھا ہے عزت وہی ہے جو اللہ دیتاہے کسی انسان کو ذلیل سمجھنے کا کسی کو کیا حق ہے وہ جائز روزی کماتا ہے اسکے ساتھ بیٹھ کر آنے میں کون سی قباحت تھی؟

سادگی :
مولانا عابد حسین صاحب مرحوم آپکی سادگی کے بارے میں ایک واقعہ اس طرح بیان کرتے ہیں سیتھل کی کانفرس کے خاتمہ پر رات ہی میں جناب مولاناغلام عسکری صاحب مرحوم اور برادر محترم مولانامرتضیٰ جعفری صاحب لکھنؤ کے لئے چل پڑے تقریبا ًایک بجے شب میں جیپ سے بریلی اسٹیشن پر پہونچے تقریبا ًڈیڑھ بجے ٹرین آئی اور ہم لوگ ایک تھری ٹائر بوگی میں داخل ہوئے سبھی مسافر محوخواب تھے کوئی برتھ خالی نہ تھی کنڈکٹر نے سختی سے اتارنے کی دھمکی دی مگر مولانا نے اس اندازسے گفتگو کی کہ وہ راضی ہوگیا میںنے دیکھا کہ ایسا با عمل عالم جلیل مسافروں کے جوتے ہٹا کر ایک معمولی سی چادر بچھا کر بلا تکلف لیٹ گیا ہم دونوں بھی اسی طرح سیٹوں کے درمیان لیٹ گئے ،نیند کسے آتی !تھوڑی دیر میں اٹھا تودیکھا کہ مولانا نماز شب پڑھ رہے ہیں !

عبادت اورشب زندہ داری :
خطیب اعظم کسی حالت میں بھی نماز شب کو ترک نہیںکرتے تھے اور دوسروں کوبھی نمازشب کی عادت ڈالنے کی نصیحت فرماتے تھے آپ کی اس خصوصیت کے بارے میں آپ کی اہلیہ محترمہ فرماتی ہیں : چاہے کتنا بھی قریبی عزیز ہو اگرنماز نہ پڑھے تو آپ اس سے بیزار ہوجاتے ،انہیں بے نمازی بالکل برداشت نہ تھے ،جب نماز شب کو اٹھتے تومجھے بھی جگاتے تھے اورنماز شب کے فائدے بتاتے تھے مولانا سید عابد حسین صاحب مرحوم فرماتے ہیں: احمد آباد سے مہو ہ ٹیکسی سے سفر تھا، رات بھر سفر کے بعد ایک جگہ گاڑی ٹھہر ی ہم سفر حضرات اترکر فرش پر آرام کرنے لگے لیکن مولانا نے نمازشب شروع کردی مرحوم کو دیکھ کر میںبھی اس سعادت سے مشرف ہوا .

ادارے کی ملکیت میں احتیاط :
خطیب اعظم کبھی بھی ادارے کی کسی بھی چیز یہاں تک کہ کاغذ اورقلم کو بھی اپنے ذاتی مصرف کے لئے استعمال نہیںکرتے تھے اور دوسروں کو بھی سختی سے اس بات کی طرف متوجہ فرماتے تھے ، اس سلسلہ میںرئیس الواعظین طاب ثراہ فرماتے ہیں : ایک دن ایک صاحب تنظیم کے دفتر تشریف لائے کئی قومی ادارے جن کی تحویل میںہیں، انہوںنے دفتر کی میز سے کاغذلیا اور اس پر خط لکھا خطیب اعظم نے ان صاحب سے فرمایا کہ آپ اس ورق کاپیسہ دیدیں ،مگر انہوں نے ہنس کر آپ کی بات کو نظر انداز کردیا تو سرکار خطیب اعظم نے اپنی جیب سے پیسہ لیکر رسید کٹوالی ''۔

صبر وضبط:
خطیب اعظم نے تمام مخالفتوں اورمشکلات کے مقابلہ میں ہمیشہ صبروضبط سے کام لیا اورکبھی بھی انتقام کی فکر نہیں کی بلکہ تمام باتوں کو خدا کے حوالے کرتے رہے ،رئیس الواعظین طاب ثراہ آپ کی اس خصوصیات کے بارے میں اسطرح فرماتے ہیں: کسی نے ایک روز خطیب اعظم سے کہا: فلاں صاحب آپ کو بہت برابھلا کہہ رہے تھے اورگالیاں دے رہے تھے اس وقت مرحوم کچھ لکھ رہے تھے سراٹھا ئے بغیر شکایت کرنے والے سے جواباً کہا : ان سے ملاقات ہوتو میرا سلام کہہ دیجئے گا ''۔
خطیب اعظم کی نیک صفات بے پناہ ہیں جنہیں مکمل طریقہ سے ذکر نہیںکیا جاسکتا ہے ۔
آپ تقویٰ الہی کا پیکر ،علم وعمل کامجسمہ ، اخلاق وسادگی کی مثال اور عفو وبخشش کے بادشاہ تھے محتاجوں کی خبر گیری اور دوسروں کے مال کا خیال کرنا آپکا شعارتھا، خدا پر بھروسہ کرتے تھے امربالمعروف اورنہی عن المنکرترک نہیںکرتے تھے اوراپنے وعدہ پر پابند تھے ، غرض کہ آپ کی زندگی کے مختلف پہلوئوں میں ہمیں بہت سے ایسے واقعات اور نکات ملتے ہیں جو سب کے لئے بہترین درس ہیں۔

تنظیم المکاتب کاقیام :
ادارہ تنظیم المکاتب کاقیام آپ کا ایسا ٹھوس اوراہم قدم ہے کہ جسکا اعتراف قوم کو یہاں تک کہ آپ کے مخالفین کوبھی ہے ، تنظیم المکاتب آپ کی سب سے بڑی یادگارہے آپ نے اس ادارے کے قیام کے ذریعہ دینداری کی ایسی تحریک چلائی کہ جس نے قوم میں ایک انقلاب پیدا کردیا۔
آپ نے اصلاح قوم کے جذبہ کے تحت کہ '' اس قوم کی ہرفرد کودیندار بنادو ، اس قوم سے ہر قسم کی شاہی کو مٹادو '' ہماری قوم بے عمل نہیںبے خبر ہے جیسے نعروں کے ساتھ اپنی تحریک کا آغاز کیا اور١٩٦٨ ء میں ادارہ کی بنیاد رکھی ، آپ کو اس راہ میں بہت زیادہ مشکلات اورمخالفتوںکاسامناکرنا پڑا لیکن آپنے نہایت خلوص اورتوکل کے ذریعہ ہر مرحلہ میں ثبات قدم کامظاہرہ فرمایا اور ادارہ کی ترقی کے لئے شب وروز ایک کردیئے آپ نے جس طریقہ سے اس راہ میں کوششیںکیں اور جن مشکلات کا سامنا کیا انہیں اس مختصر تحریرمیں ذکرنہیںکیاجاسکتا،بہرحال آپکے اسی خلوص اور الہی جذبہ کا اثرتھا کہ ادارہ روز بروز ترقی کرتا رہا اورآپ کے انتقال کے وقت پورے ملک میں ٥١٥ مکاتب وجود میںآچکے تھے اوردینی تعلیم دینے میں سرگرم تھے اورآپ کے انتقال کے بعد سے آج تک آپ کے فعال رفقاء کی بے پناہ کوششوں کے ذریعے سے مزید ترقی کی راہ پر گامزن ہے اورپورے ملک میں ایک ہزار سے زیادہ مکاتب قائم کرکے آپ کی آرزو کو پورا کرچکا ہے ، اس ادارے کی خدمات بے پناہ ہیں اوربہت کم ایسے افراد ملیںگے جو کسی نہ کسی عنوان سے اس ادارہ کی خدمات سے بہر ہ اندوز نہ ہوئے ہوں ادارہ کی بعض نمایاںخدمات کو پورے ملک میںایک ہزار سے زیادہ مکاتب اعلی دینی تعلیم کے لئے جامعہ امامیہ اوردیگر حوزات علمیہ کا قیام ،خواتین کی تعلیم کے لئے جامعة الزہرا کاقیام ،مذہبی اخبار کی اشاعت،اپنی مختلف موضوعات پر سینکڑوں کتابوں کی اشاعت ،تبلیغی کانفرس کاانعقاد ، مبلغین کی فراہمی، غریبوں کے لئے مفت علاج کی سہولت ... کے عنوانسے ذکر کیا جاسکتاہے .

آپ کی خطابت :
خطیب اعظم کی خطابت کے متعلق کچھ لکھنا میرے بس سے باہر ہے اسلئے کہ نہ تومجھے براہ راست آپ کی خطابت سے مستفیض ہونے کا شرف حاصل ہواہے اورنہ ہی مجھ ناچیز میںاتنی جرائت ہے کہ آپ جیسے عظیم خطیب کی خطابت پر کوئی تبصرہ کروں ،لہذا بہترہوگا کہ اس سلسلہ میں ان شخصیتوں کے بیانات کاسہارا لیاجائے جو خود بھی اس فن میں مہارت رکھتے ہوں اور انہوں نے نزدیک سے خطیب اعظم کودیکھا اور سنا ہو .
علامہ ذیشان حیدر جوادی طاب ثراہ آپ کی خطابت کے بارے میں اس طرح تحریر فرماتے ہیں:
مولانا سید غلام عسکری مرحوم نے جب روز اول میدان خطابت میںقدم رکھا تو وہ مولانا سید محمد دہلوی سے بے حد متأثر تھے اور آخر وقت تک انکی خطابت اورانکے کردار کی تعریف کرتے رہے انہوںنے اس دورخطابت میںلطائف سے بھی کام لیا ،عوام پسند نکات بھی بیان کئے اورمذہبی حقائق پر جاندار تبصرہ بھی کیا وہ بیان کے دوران لطائف ضرور بیان کرتے تھے لیکن اسوقت بھی انکی خطابت پر ذہنی عیاشی کالیبل نہیںلگایا جا سکا وہ مشکل پسند تھے اوردشوارترین مسائل پر تبصرہ کرنے کو بے حد عزیز رکھتے تھے ، ... مولانا غلام عسکری کی خطابت کا ایک امتیاز یہ بھی تھا کہ انہوں نے الفاظ کی شیرینی اورلہجہ کی متانت پر زور دیا ہے، انکے یہاں کسی طرح کی کوئی بناوٹ نہیں تھی ...
بات انتہائی متانت سے کہتے تھے اورمجمع بے چین ہوکر ہنس پڑتا تھا او راسکے بعد اپنا مدعا اس خوبصورتی سے بیان کردیتے تھے کہ ایک ایک شخص کے دلنشین ہوجاتاتھا...ا ن کی حرکات و سکنات انتہائی متوازن ہوتی تھیں اورانہوں نے کبھی ، داد طلب ' انداز اختیار نہیںکیا ... خطیب اعظم خطابت کے آسمان چہارم پر جلوہ گر تھے کہاںایک مرتبہ قوم کے حال زاء پر انکی نظر پڑگئی تو انہوںنے یہ دیکھ کر مکاتب کے قیام کا سلسلہ شروع کیا اور مجالس میں مواعظ کی شرکت کو ضروری قرار دیا ... میں نے اکثر دیکھا ہے اور میری طرح بے شمار حضرات نے دیکھا ہے کہ میدان غدیر کانقشہ کھینچتے ہوئے ،خیبر کی فتح، خندق کے معرکہ کاتذکرہ کرتے ہوئے ایک مرتبہ بیان کا رخ موڑ دیا اور کہنے لگے یہ ہمارے عقائد ہیں اور یہ ہمارے رہنما ہیں اوریہ ان کے لئے ہیں ، لیکن افسوس کہ ہم انکی غلامی کے اہل نہیں ہیںکہ پاکیزہ کردار اور معصوم افراد کے غلام ہم جیسے نالائق نہیںہوتے .
رئیس الواعظین مولانا کرار حسین واعظ طاب ثراہ خطیب اعظم کی خطابت میںایک نئے رخ کی طرف تبدیلی کے اسباب کو بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: مرحوم نباض قوم تھے،لہٰذا انقلاب اسلامی ایران کے وقت انہوںنے محسوس کیا کہ لوہاگرم ہے یہی مناسب وقت ہے، ایسے سازگار ماحول میںبھی اگر قوم قرآن کی طرف واپس نہ آئی تو کب آئیگی ،لوگ صرف زبان سے ایران کی حمایت کرتے ہیں خطیب اعظم زبان اور عمل دونوں سے قوم کو انقلاب اسلامی کے ثمرات تک پہنچا نا چاہتے تھے ، دوسرا سبب شہید اسلام حضرت آیة اللہ سید محمد باقر الصدر اعلی اللہ مقامہ کا پیغام تھا جس سے وہ متأثر ہوتے تھے یہ پیغام انکے فرزند روحانی علامہ ذیشان حیدر صاحب قبلہ مجتہد کے ذریعہ آیا تھا جو تنظیم المکاتب کے اخبار میں شائع بھی ہوچکاہے مقصد محمد وآل محمد کواجاگر کرنے کیلئے اگر وہ حضرات اپنا خون تک دے سکتے ہیں تو کیا ہم لوگ اپنی مصنوعی عزت وآبرو کا خون بھی نہیںدیکھ سکتے ؟ جو عزت مصنوعی اورجو آبرو فانی ہے یہ رہے توکیا او ر نہ رہے تو کیا اصل تو آخرت کی عزت ہے ''۔
حجة الاسلام مولانا سید صفی حیدر صاحب آپ کی خطابت کے بارے میں اس طرح تحریر فرماتے ہیں: خطیب اعظم نے اپنی تقریر وںکے ذریعہ دنیائے خطابت میںجو انقلاب پیدا کردیا ہے وہ اظہر من الشمس ہے ،انہوںنے تاریخ خطابت کا رخ ایک نئی منزل کی طرف موڑ دیا ایک ایسی منزل کی طرف جس سے اس سے پہلے عوام و خواص دونوں ناآشنا تھے ... انکی تقریروں کاہدف سامعین کی خوشنودی کے بجائے رضائے پروردگار اور انکا مقصد علمی مظاہروں کی جگہ تعمیر ملت تھا... وہ بالائے منبر کچھ اورزیر منبر کچھ اورنہ تھے بلکہ خلوت اورجلوت ،منظر وپس منظر،گھر میںاور باہر ،عوام میںاور خواص میں غرض ہر جگہ ہم آہنگی کردار کے مالک تھے ... اللہ نے انہیں ترسیل وابلاغ کی بے پناہ قوت ودیعت فرمائی تھی، اہم ترین اورپیچیدہ ترین علمی موضوعات کو عام فہم او رسادہ اور با محاورہ زبان میںاسطرح بیان کردیتے تھے کہ پوری بحث ذہن نشین ہوجاتی تھی ... انکی تقریروں کاخمیر قرآن وحدیث اور مستند تاریخ حوالوں سے تیار ہوتاتھا جیسے خطیب اعظم اپنی پر تاثیر آواز اورمخصوص لب ولہجہ میں اسطرح پیش کرتے تھے کہ پھول کی پتی سے ہیرے کا جگر کٹ جانے والی کیفیت پیدا ہوجاتی تھی ''۔
خطیب اعظم اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن انکی خطابت آج بھی زندہ ہے اورانہوں نے خطباء کو جو راستہ دکھایا آج اس پر چلنے والے بہت سے خطباء موجود ہیں اورتحریک کو آگے بڑھانے کی راہ میں کوشاں ہیں ۔
حقیر کے وطن سیدواڑہ جرگاواں ضلع بارہ بنکی سے بھی خطیب اعظم کا خاص رابطہ تھا جہاں آپ نے سہ روزہ مجالس سالانہ کی بنیاد بھی رکھی جسکا سلسلہ آج تک جاری ہے آپ ہر سال ان مجالس میںتشریف لاتے تھے اور بستی کے بزرگ لوگوں کے ذہنوںمیںآج بھی آپکی بہت سی یادیں محفوظ ہیں آپکا انتقال بھی ایسے وقت میں ہوا جب یہ مجلسیں جاری تھیں اور لوگ آپ کی آمد کا انتظار کررہے تھے کہ اچانک آپ کے انتقال کی خبر نے لوگوں کوشدید غم میں مبتلا کردیا ۔

قلمی آثار:
جس طرح سے آپ خطابت کے میدان میں بے نظیر تھے اسی طرح سے قلم کے میدان میں بھی آپ نے بہت سے گرانقدر آثار چھوڑے ہیں جس سے آپ کی شخصیت کی جامعیت کا پتہ چلتا ہے ، آپ کے قلمی آثار میںسے ایک سب سے زیادہ اہم اورمشہور کتاب'' پیاس ''ہے کہ جو اس موضوع پر نہایت تحقیقی کتاب ہے اور صاحبان علم کو اسکی گہرائی اورمنحصر بہ فرد ہونے کا اعتراف ہے
علامہ جوادی اس کتاب کے بارے میں اس طرح فرماتے ہیں :'' انکی کتاب'' پیاس'' ایک زندہ شاہکار ہے جس کے بارے میں بلاخوف و تردید یہ کہا جا سکتاہے کہ مسئلہ عطش کے سارے مجاہدین میں صرف چند ہی افراد ہیںجنہوںنے اس مسئلہ کا علمی تجزیہ کیا ہے انمیں سرکار مولانا رضی صاحب قبلہ سرکار مولانا وصی محمدصاحب قبلہ اور خطیب اعظم مرحوم تھے اور ان حضرات میں بھی جس شرح وبسط کے ساتھ خطیب اعظم نے یہ کام کیا ہے اسکی کوئی نظیر نہیںہے ''۔
اسکے علاوہ آپکے قلمی آثار میں علامہ احمد امین کی عربی تصنیف ''فی طریقی الی التشیع '' کا اردو ترجمہ ہے جسکا نام ''میں کیوں شیعہ ہوا '' ہے اسی طرح آپ نے آیة اللہ العظمیٰ السید محسن الحکیم طاب ثراہ کی توضیح المسائل کا ترجمہ بھی فرمایاکہ جو ''ارشاد المومنین '' کے نام سے شائع ہوااورآپکے مقلدین کو شرعی اور فقہی ضرورتوں کوپورا کرنے کی راہ میں اہم کردار اداکیا .
آپ کے مقالات کے متعدد مجموعے بھی ادارہ تنظیم المکاتب سے شایع ہوئے ہیں اورجن حضرات نے ان مقالات کامطالعہ کیا ہے یقینا وہ انکی افادیت سے آگاہ ہیں، ان مقالات میں آپنے مختلف علمی موضوعات پر قلم اٹھایا ہے ،اسی طرح آپ نے سماج کی مشکلات اور ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بہت سے حساس موضوعات پر قلم چلاکر قوم کو انکی ذمہ داریوں کی طرف بھی متوجہ کیا ہے۔
آپکی مجالس کے متعدد مجموعے بھی آپ کی حیات میںاور آپکے بعد شائع ہوتے رہے ہیں جن میں سے بعض بہت زیادہ شہرت کے حامل ہوئے ہیں اور آج ان مجموعوں سے ہر طبقہ کے لوگ کسب فیض کررہے ہیں.

رحلت :
خطیب اعظم طاب ثراہ نے بتاریخ ٩ مئی ١٩٨٥ ء شب جمعہ میں منیڈ ضلع پونچھ (کشمیر ) میں اچانک حرکت قلب بندہوجانے کی وجہ سے انتقال فرمایا ... آپ تبلیغی مجالس کے سلسلہ میں تشریف لے گئے تھے ، آپ کی لاش کو وطن لایاگیا اور١١مئی ١٩٨٥ ء میں مقبرہ سادات قصبہ بجنور میں والد بزرگوار کے پہلو میں دفن کیا گیا .

منابع وماخذ
١۔خورشید خاور ،علامہ سید سعید اختر رضوی طاب ثراہ
٢۔ خطیب اعظم نمبر
٣۔ التنظیم ''خصوصی شمارہ ''

مقالات کی طرف جائیے