مقالات

 

امام زمانہ(عج)کے تین سو تیرہ (٣١٣ )سپاہی

سید مظہر علی رضوی بلرامپوری

امام زمانہ (عج) کے بارے میں جو روایات آئی ہیں ان میں مختلف تعبیرات میں یہ ملتاہے کہ امام زمانہ(عج) کے ظہورکے وقت آپ کے ٣١٣ سپاہی ہوں گے جو کعبہ کے اطراف میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گے ،امام زمانہ علیہ السلام ان کے انتظار میں ہیں اور یہ ٣١٣ افرا د ہوں گے جو سب سے پہلے امام زمانہ کے ہاتھ پر بیعت کریں گے اسی وقت سے امام مہدی کاقیام شروع ہوگا ،یہ ٣١٣ افراد تمام کائنات میں امام مھدی کی طرف سے حاکم ہوں گے ،اب ایک سوال کرنے والے کے سوال کو ملاحظہ کریں :

سوال: برائے مہربانی میرے لئے امام مھدی کے ٣١٣ انصار نقل کریں ؟
جواب: یہ حدیث مختلف تعبیرات کے ساتھ نقل ہوئی ہے صرف ایک حدیث نہیں ہے بلکہ ایسی دسیوں حدیثیں ہیں جو کہ تمام ان ٣١٣ انصار امام مھدی کے بارے میں ہیں یہ روایات اس قدر کثرت سے نقل ہوئی ہیں کہ ان کی صحت کا یقین ہوجاتاہے اور اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ یہ ہرگز ممکن نہیں کہ کچھ جھو ٹے لوگوں نے دھو کا دینے کے لئے ایسی حدیثیں گڑھی ہیں۔
سوال: بقول شاعر مولانا رومیؔ :
آب دریا اگر نتوان کشید
پس بہ قدر تشنگی باید چشید
یعنی اگر دریا کے پانی کو کھینچا نہیں جاسکتا توکم از کم پیا س بجھانے کی حد تک تو پینا چاہئے ، لہٰذا آپ بطور نمونہ ایک دو احادیث ان میںسے نقل کریں جو ان ٣١٣ افراکے بارے میںذکرہیں.
جواب : سورۂ ہود ٨٠ کی تفسیر میں آیاہے کہ حضرت لوط نے اپنی سرکش اور باغی قوم سے فرمایا: ''لو ان لی بکم قوہ او آوی الی رکن شدید'' یعنی کاش کہ تم سے مقابلے کے لئے میرے پاس قدرت ہوتی یا میری پشت محکم ہوتی تو تم دیکھتے کہ میں تمہارا کیا حشر کرتا، لہذا امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں '' قوة'' سے آیت میں مراد امام زمانہ ہی ہیں اور ''رکن شدید'' سے مراد امام زمانہ کے ٣١٣ انصار ہیں۔ (١)
ایک دوسری روایت میں امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: '' لکانی انظر الیھم مصجدین من نجف و الکوفة ثلاث ماة وبضعة عشر رجلا کان قلوبھم زبر الحدید'' یعنی میں ان٣١٣انصار حضرت مھدی علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ جو کوفہ ونجف سے بھی آگے بڑھ جائیں گے ان کے قلوب لوہے کے ٹکڑوں کی مانند ہیں۔ (٢)

سوال: کیا ابھی تک وہ ٣١٣افراد تیار نہیں ہوسکے ہیں تاکہ وہ امام زمانہ علیہ السلام کی خدمت میں جائیں اورآپ کاظہور ہو اور دنیا اس ظلم وستم سے نجات پائے ؟
جواب : یہ ٣١٣افراد روایات کے مطابق خاص خصوصیت کے حامل ہیںجس سے معلوم ہوتاہے کہ اب تک دنیا میں ایسی لیاقت رکھنے والے افراد نہیں ہیں جوکہ ظہورامام علیہ السلام کا سبب بنیں .
سوال : مثلاً ان کی کیا خصو صیات ہوں گی ؟
جواب :جیسا کہ امام سجاد علیہ السلام کی روایت سے معلوم ہوتاہے کہ امام مھدی مکہ میں لوگوں کے درمیان اپنا تعارف کرائیں گے اور لوگوں کواپنی طرف دعوت دیں گے بعض لوگ امام زمانہ علیہ السلام کے خلاف قیام کریں گے تاکہ امام کوقتل کردیں۔
''فیقوم ثلاثمأة ونیف فیمنعونہ منہ'' پھر یہ ٣١٣ افراد قیام کریں گے اورامام زمانہ کو مخالفین سے محفوظ رکھیں گے (٣)
دوسری روایات میں ایسے افراد کی توصیف میںآیاہے کہ : ''یجمعھم اللّٰہ بمکة قزعا لقزع الخر یف '' خداوند عالم ان لوگوں کو مکہ کے گرد جمع کرے گا جس طرح سے خزاںکے موسم میں پتوں کوجمع کیا جاتاہے .(٤)
یعنی وہ لوگ تیز وسریع اپنے تمام امکانات کے ساتھ مکہ میں جمع ہوجائیں گے ۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیںکہ :'' وکانی انظر الی القائم علی منبر الکوفہ وحولہ اصحابہ ثلاثماة وثلاث عشر دجل عدة اھل البدر وھم اصحاب الالویة وھم حکام اللّٰہ فی ارضہ علی خلقہ ''(یعنی گویا میں امام قائم علیہ السلام کوکوفہ کے منبر پر دیکھ رہاہوں کہ ان کے ٣١٣انصار جنگ بدر کے جنگجو مسلمانوں کی طرح آپ کے اطراف میں کھڑے ہیںیہ لوگ امام زمانہ کے پرچم کے حصار میں ہیں اورزمین خدا پر خداکی طرف سے حاکم ہیں۔
لہذا حدیث کے تحت وہ ٣١٣افراد علم وکمال و شجاعت اور اسلامی درجات سے ہمکنار ہوں گے، مثلاًاگر تمام کائنات کو ٣١٣ریاستوں میں تقسیم کیا جائے تو ان میںسے ہرایک میں اتنی صلاحیت ہوکہ وہ اس کی رہبری کر سکے ان٣١٣ افراد میں ہرایک اتنی قدر ت وصلاحیت کا مالک ہونا چاہئے کہ اگر امام زمانہ کی عالمی حکومت کے کسی حصے کا حاکم بنایا جائے تو وہ اس کی صحیح رہبری کرسکے۔
سوال: اب اس مسئلہ کی حقیقت واضح ہوئی کہ ابھی تک وہ ٣١٣افراد اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ دنیا میں نہیں ہیں ،لہٰذا اس سلسلے میں زمینہ سازی عمیق ودقیق طریقے سے کرنی چاہئے تاکہ تمام جہان امام مھدی علیہ السلام کے ظہورکا منتظر رہے اور خود کو آمادہ کرے جس طرح پیغمبر اسلامۖ کو اپنے مقدس اہداف کو لوگوں تک پہنچا نے کے لئے ہوشیار ،سیاستداں ،شجاع اورپر صلاحیت افرادکی ضرورت تھی اسی طرح امام زمانہ کوبھی ایسے انصار کی ضرورت ہے تاکہ امام علیہ السلام کے ظہور میںتاخیر نہ ہو۔ میرا دل چا رہا ہے کہ ان افرادکے بارے میں مزید گفتگو سنوں۔
جواب:سورہ بقرہ١٤٨ میںہم پڑھتے ہیں : ''این ماتکونوآ یا ت بکم اللہ جمیعا'' یعنی تم لوگ جہاںکہیںبھی ہوگے خداتمہیں حاضر کریگا ۔
امام صادق علیہ السلام اس آیت کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ ا س آیت سے مراد امام زمانہ کے ٣١٣انصار ہیں خدا کی قسم وہی امت معدودہ ہیں اور خداکی قسم یہ لوگ ایک گھنٹے کے اندر جمع ہوجائیںگے جس طرح خزاں کے موسم میں بکھرے ہوئے پتے تیز ہوائوں سے ایک جگہ جمع ہوجاتے ہیں ۔(٦)
ان کی خصوصیات یہ ہیںکہ وہ لوگ دور ترین ممالک وشہروں سے مکہ میںجمع ہوجائیں گے۔ (٧)
اور امام مھدی مکہ سے ایک فرسخ کے فاصلے پر ان ٣١٣ افراد کا انتظار کریں گے تاکہ وہ سب آجائیں اور سب مل کر کعبہ کے اطراف میں جمع ہوں گے (٨)
یہی وہ افراد ہوںگے جو سب سے پہلے امام زمانہ کے ہاتھ پر بیعت کریںگے (٩)
وہ لوگ اما م مھدی علیہ السلام کی طرف سے امداد غیبی سے ہمکنار ہوںگے امام مھدی علیہ السلام اوران پر خدا کی طرف سے رحمت ہوگی ، چنانچہ امام سجاد فرماتے ہیں کہ گویا میںدیکھ رہاہوں کہ امام مھدی اور ان کے ٣١٣ انصار پشت کوفہ سے نجف میں مشرف ہوں گے جبرئیل ان کے دائیں طرف اور میکائیل ان کے بائیں طرف اور اسرافیل ان کے آگے آگے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاپرچم لئے ہوئے چل رہے ہونگے اور اس پرچم کوکسی بھی اسلامی گروہ کے مخالفین کے سامنے متمایل نہیں کرینگے مگر یہ کہ خدا ان مخالفین کو ہلاک کردے (١٠)
سوال: امام مھدی علیہ السلام کے انصار وں کے سلسلے میں صرف مردوں کی بات کیوں ہوتی ہے خواتین کا ذکر کیوں نہیںہوتا ؟
جواب : یہ جو مردوں کی زیادہ گفتگو ہوتی ہے وہ اسلئے کہ آغاز سے اب تک جہا دکے سلسلے میں زیادہ تر مرد میدان میںجاتے تھے لیکن خواتین بھی مختلف محاذوں سے امام مھدی کے اہداف کا دفاع کریں گی۔
بعض روایات میں امام مھدی کے ٣١٣ انصار میں خواتین کابھی ذکر ہے منجملہ ان روایات میںسے امام با قر علیہ السلام سے جوروایت ہے کہ :'' ویحیء واللہ ثلاث مأة وبضعة عشر رجل فیھم خمسون امرئة یجتمعون بمکة علی غیر میعاد قزعاکعزع الخریف '' (١١)
یعنی خد اکی قسم ان ٣١٣انصار میںتین سو سے کم مرد اورپچاس خواتین ہوں گی جو مکہ میںجمع ہوںگے (پہلے سے اعلان کئے بغیر، موسم خزاں کے بکھرے ہوئے پتوںکی طرح ) مفضل امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیںکہ : امام مھدی علیہ السلام کے ساتھ تیرہ خواتین ہوںگی '' مفضل کہتے ہیں : میں نے عرض کیا کہ مولا ! خواتین امام مھدی علیہ السلام کے ساتھ کس لئے ہوں گی؟ آپ نے فرمایا زخمیوں کامداوا کرنے اور جنگی بیماروں کی عیادت کے لئے ،جیساکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میںبھی خواتین یہی کام انجام دیاکرتی تھیں (١٢)
سوال: ایسے مردوں اور عورتوں کی تعداد جو امام مھدی علیہ السلام کے ہمراہ ہوں گے کم ہوگی ؟
جواب : ایسے لوگ ابتداء ظہور سے امام مھدی کے ہمراہ ہوں گے اور روزبروز ان کی تعداد بڑھتی جائے گی .یہ افرا د خاص خصوصیات کے حامل ہوں گے جو عالمگیر حکومت کو وجود دیں گے جیسا کہ خود روایت میںآیاہے '' ٣٦٠ افراد حجر اسود اورمقام ابراہیم کے درمیان امام مھدی کے ہاتھوں پر بیعت کریںگے اوریہ افراد امام مھدی کے وزراء ہونگے جو عالمی حکومت کی سخت ترین ذمہ داریوں کو سنبھا لیں گے اور اس کا انتظام چلائیں گے .''
ایک اور روایت ملتی ہے : فتح روم کے موقع پر امام مھدی کے انصار شرکت کریں گے اوران کی پہلی صدائے تکبیر سے ایک تہائی روم فتح ہوجائیگا اور دوسری تکبیر سے ایک تہائی روم اورفتح ہوجائیگا اور پھر تیسری تکبیر سے تمام روم آزاد ہوجائیگا (١٣)
ایک اور روایت میں امام محمدباقر سے نقل ہے کہ ستر ہزار افراد امام مھدی کے سچے فدائی اہل کوفہ ہوں گے ۔ (١٤)
اختتام پر بعض زینت بخش حدیثیں ملاحظہ فرمائیں :
١۔ امام صادق علیہ السلام کا ارشادگرامی ہے : '' ان القائم صلواة اللّٰہ علیہ ینادی با سمہ لیلة ثلاث وعشرین ویقوم یوم عاشورہ یوم قتل فیہ الحسین '' ۔(١٥)
یعنی حضرت مھدی علیہ السلام جن پر خداکی طرف سے درودوسلام ہوں ٢٣ رمضان کی شب کو آپ کے نام کی آواز آئے گی اور آپ روز عاشورہ قیام کریں گے۔
٢۔ امام سجاد کا ارشاد گرامی ہے : ''اذا قام قائمنا اذھب اللّٰہ عزوجل عن شیعتنا العامة وجعل قلوبھم کزبر الحدید وجعل قوة الرجل منھم قوة اربعین رجلا ویکونون حکام الارض وسنامھا ''یعنی جب ہمارے قائم قیام کریں گے تو خداوند عالم ہرقسم کی وحشت وآفت کوآپ کے شیعوں سے دور کردے گا اوران کے قلوب لوہے کی مانند محکم ہوجائیں گے اور ان میںسے ہر ایک شخص چالیس افراد کی قوت رکھے گا اوروہ لوگ تمام زمین پرحاکم ہوںگے (١٦)
٣۔ امام محمدباقرکاارشادگرامی ہے :'' فاذا وقع امرنا وخرج مھدینا کان احدھم اجری من اللیث امضی من السنان ویطاء عدونابقدمیہ ویقعلہ بکفیہ''یعنی جب ہمارا امر آئے گا اورہمارا مھدی علیہ السلام خروج کریگا تو ہمارے شیعوں میں سے ہر ایک شیرسے زیادہ دلیر اور نیزے سے زیادہ تیز ہوگا جودشمن کو پامال کردے گا اور اپنے ہاتھوں سے اسے قتل کردے گا(١٧)
٤۔ امام صادق علیہ السلام کاارشادگرامی ہے : '' لتعدن احدکم لخروج القائم ولو سھما '' یعنی تم میںسے ہر ایک کو قیام قائم کے لئے تیار رہنا چاہئے،چاہے ایک عدد تیر ہی مہیا کرکے تیارہیں ''۔(١٨)
٥۔ امام صادق علیہ السلام ہی کا یہ بھی ارشاد ہے : '' یذل لہ کل صعب ''یعنی امام مھدی کے سامنے تمام دشواریاں اورمشکلات زمانہ آسان ہوجائیں گی ۔(١٩)

حوالہ جات
١۔تفسیر برہان، ج ٢، ص ٢٢٨ ۔ اثبا ت الھداة ج ٧ ، ص ١٠٠۔
٢۔ بحار، ج ٥٢،ص ٣٤٣۔ ٣۔ ایضاً ، ص ٣٠٦۔
٤۔ اعیان الشیعہ ،ج٢، ص ٨٤۔
٥۔ بحار الانوار، ج ٥٢ ،ص ٣٢٦ ۔
٦۔ تفسیر نور الثقلین ،ج ١،ص ١٣٩ ۔
٧۔ اثباة الہداة، ج ٧،ص ١٧٦۔
٨۔ اثباة الھداة، ج ٧، ص٩٢ ۔
٩۔ بحار الانوار ،ج ٥٢، ص ٢١٦ ۔
١٠۔ اثبا ت الھداة، ج ٧، ص ١١٣ ۔ اعیان الشیعہ، ج ٢،ص ٨٢ ۔
١١۔بحار الانوار، ج ٥٢، ص ٢٣٣۔اعیان الشیعہ، ج ٢،ص ٨٤ ۔
١٢ ۔ اثبا ت الھداة، ج ٧، ص ١٥٠ ،وص ١٧١۔
١٣۔ المجالس السنیة ،سیدمحسن جبل عاملی ، ج ٥،ص ٧١١و ٧٢٣۔
١٤۔ بحار الانوار، ج ٥٢، ص ٣٩٠۔
(١٥) ارشاد مفید، ص ٣٤١۔ بحارالانوار، ج ٥٢،ص ٣٩٠۔
١٦۔ بحارالانوار، ج ٥٢، ص ٣١٧۔
١٧۔ اثبا ت الھداة ،ج ٧، ص ١١٣۔
١٨۔ غیبة الضماکی، ص ١٧٢ ۔
١٩ ۔ بحارا لانوار ،ج ٥٢، ص ٢٨٣۔

مقالات کی طرف جائیے