مقالات

 

اہمیت روزہ اور اس کے روحانی و جسمانی فوائد

سید ظہیر عباس رضوی الہٰ بادی

ماہ رمضان المبارک وہ بابرکت مہینہ ہے جس کو خدا وند عالم نے اپنا مہینہ قرار دیاہے، تمام آسمانی کتابیں اسی مہینہ میں نازل ہوئی ہیں اس مہینہ کی پہلی تاریخ کو توریت، ١٢ کو انجیل، ١٨ کو زبور اورشب قدر میں قرآن نازل ہوا ہے .
اگرا نسان روزہ کو اسی طرح رکھے جیسا کہ پیغمبراکرم ۖ نے چاہا ہے اور اسی کیفیت اورشرائط کے ساتھ بجالائے جو شریعت نے بیان فرمائی ہے تو ہر روزہ نفس کو پاک کرنے اور تزکیہ میں بہت زیادہ اثر انداز ہے روزہ کا سب سے اہم مقصد ''حفظ نفس اور خواہشات پر قابو'' پانا ہے، روزہ کی وجہ سے انسان اپنی خواہشات پر اس طرح قابو پا لیتا ہے کہ بھوک اورپیاس کے باوجود نہ تو کھاتا ہے اور نہ ہی پیتاہے اور اپنے اعضاء وجوارح پر اس طرح قابو رکھتا ہے کہ انہیں بے راہ نہیں ہونے دیتا درحقیقت یہی شخص سچا روزہ دار ہے ورنہ روزہ دار کو سوائے بھوک وپیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتاجیسا کہ بعض روایت میں وارد ہوا ہے '' کم من صائم لیس من صیامہ الا ظماء '' بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ ان کو روزہ سے سوائے بھوک وپیاس کے کچھ اور نہیں ملتا۔
حقیقی روز ہ دار وہی ہے جو خود کوحرام کاموں سے بچا ئے، اپنے دل ودماغ کو غلط خیالات سے پاک ومنزہ رکھے اور دوسرو ں کو برا بھلا نہ کہے۔ صرف اپنے آپکو کھانے پینے سے روکناروزہ نہیں کہلاتا بلکہ جسم کے تمام اعضاء پرقابوپالینے کا نام روزہ ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ افراد جو اس لذت سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور بد نصیب ہیں و ہ لوگ جو چھوٹی چھوٹی مادی خواہشات کے عوض اس عظیم روحانی دستر خوان سے محروم رہ جاتے ہیں اور انہیں ہر گز حرمت الہی اور بے نیا زی کی اس لذت کی توفیق نہیں ہوتی ۔
( یَاَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمْ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ)۔ (١)
روزہ اسلام کا دوسرا فریضہ ہے جو نماز کے مقابلے میں بہر حال با مشقت عمل تھا اس لئے پروردگار نے اس حساس مشقت کو ختم کرنے اور انسان کو نفسیاتی اعتبار سے اس فریضہ کے لئے آمادہ کرنے کے واسطے چار طریقے بیان فرمائے ہیں ۔
١۔انسانوں کے بجائے صاحبان ایمان کو مخاطب بنایا ہے تاکہ مخاطب کو یہ احساس ہو کہ پرور دگار نے مجھے عام انسانوں سے جدا سمجھ کر صاحب ایمان کا درجہ دیاہے تومیرا کردار بھی عام انسانوں سے بلندہونا چاہئے اور مجھے وہ تمام زحمتیں برداشت کرنی چاہئیں جنہیں ایک عام انسان، انسانیت کے اعتبار سے برداشت نہیں کرسکتا ۔
٢۔ کتب مجہول کا صیغہ استعمال کیا گیاحالانکہ لکھنے والا اور فریضہ قرار دینے والا پروردگار ہے اس لئے کہ اس کی رحمت اس بات کو گوارہ نہیں کر رہی تھی کہ وہ مشقت آمیز عمل کو براہ راست اپنی طرف منسوب کرے اور نادان انسان اس کی رحمت کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے ورنہ جہاں جہاں رحمت کا تذکرہ ہواہے وہاںوہاں اس نے بات کو براہ راست اپنی طرف منسوب کیا ہے اور کتابت ہی کے لہجہ میں تذکرہ کیاہے .
٣۔ گذشتہ امتوں کا حوالہ دیاگیا تاکہ انسان ذہنی طور پر مطمئن رہے کہ اس کے لئے کوئی خاص مصیبت نہیںہے بلکہ گذشتہ امتیں اس سے بہتر بندگی کا مظاہرہ کرچکی ہیں جبکہ روزہ کا قانون اس امت سے زیادہ مشکل تر تھا اوربعض حالات میں تو بات کرنا بھی ممنوع تھا جیسا کہ جناب مریم علیہاالسلام نے قوم سے کہا تھا کہ میںنے روزہ کی نذر کرلی ہے لہٰذا میں بات نہیں کرسکتی ،خود شریعت اسلام میں ابتدائی طور پر روزہ کا یہ قانون تھا کہ اگر انسان افطار کے بعد سوگیا تو روزہ کا سلسلہ شروع ہوجاتاتھا چاہے ابھی سحر کا وقت نہ آیا ہو چنانچہ جنگ خندق کے موقع پر جب دن میں خندق کھودنے کا کا م انجام پا رہا تھا تو ایک مرد مسلمان رات کو تھک کر جلدی سوگیا اور اب جو اٹھا تو کھانا پینا ممنوع ہوچکا تھا نتیجہ یہ ہواکہ اسی عالم میں صبح ہوئی اور حسب قاعدہ خندق کھودنے میں مصروف ہوگیا، گرمی کا زمانہ پیاس کی شدت ،حالات کی تاب نہ لاکر بیہوش ہوگیا تو آیت نازل ہوئی ( َکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکُمْ الْخَیْطُ الَْبْیَضُ مِنْ الْخَیْطِ الَْسْوَدِ مِنْ الْفَجْر ) ۔
اس وقت تک کھاسکتے ہو جب تک فجر کے آثار نمودار نہ ہوجائیں تو اگر کل کا مسلمان ایسے روزہ رکھ کر اس طر ح مشقت برداشت کر سکتا تھا تو آج کا مسلمان اس راحت وآرام کے دور میں کیوںنہیں کرسکتاہے لیکن اس اطمینان قلب کے لئے گذشتہ زمانہ کا حوالہ ضروری ہے چنانچہ قرآن کریم نے یہی کام انجام دیاہے اور صاف اعلان کر دیا ہے کہ تم پر اسی طرح روزے واجب کئے گئے ہیں جس طرح گذشتہ امتوں پر واجب کئے گئے تھے ۔
٤۔ ( لعکم تتقون ) کہہ کر فائدہ کی نشاندہی کی گئی ہے کہ روزہ کو ئی مہمل اوربے سود عمل نہیں ہے اور نہ اس میں خدا کا کوئی فائدہ ہے یہ تمہارے ہی فائدہ کے لئے واجب کیا گیاہے اور فائدہ بھی اتنا عظیم ہے کہ اسے تقویٰ کہا جا تا ہے اور جس کے فائدہ کی طرف قرآن مجید نے مختلف انداز میں اشارہ کیاہے اور صاف لفظوں میں بتا دیا ہے کہ تقویٰ اس دنیا میں بھی کام آنے والاہے اور آخرت میں بھی ۔(٢)

روزہ کے درجات
روزہ کے کچھ مراتب اور درجات ہیں درحقیقت ان مراتب کا تعلق روزہ دار کی حالت اور کیفیت سے ہے کیونکہ روزہ کے ذریعہ جو معنوی اور روحانی قربت حاصل ہوتی ہے اس کے کچھ مراتب ہوتے ہیں اہل دل اور با معرفت علماء نے اس کے تین مراتب تسلیم کئے ہیں ۔
١۔ عام روزہ
یہ وہ روزہ ہے جس کو سارے مسلمان او ردیگر مذاہب کے افراد رکھتے ہیں اس روزہ میں روزہ دار نیت کرتا ہے اور شریعت نے جن چیزوں سے روکا ہے ان سے قربةً الی اللہ اجتناب کرتاہے .
٢۔خاص روزہ
اس روزہ میں چند امور سے اجتناب کے ساتھ ساتھ چند دیگر امور کی رعایت بھی ضروری ہے جیسے زبان آنکھ ، کان ، ہاتھ پیر وغیرہ کی حرام چیزوں سے حفاظت ،ایسے افراد کا روزہ خا ص بہتر اور افضل روزہ ہے اوریہ مرتبہ اللہ کے مخلص اور صالحین بندوں کو نصیب ہوتاہے ۔
٣۔ خاص ترین روزہ
پہلے اور دوسرے مرتبے کی رعایت کے علاوہ یہ تیسرے درجہ کا روزہ ہے اس روزہ میں روزہ دار کا قلب اور اسکی فکر بھی روزہ رکھتی ہے روزہ دار کا دل ہر وقت اللہ کی جانب متوجہ رہتاہے اس کا شکم اعضاء وجوارح دل ودماغ ہر لمحہ اللہ کی مرضی اور خو شنودی چاہتا ہے اور اللہ کا عظیم بندہ ہوتا ہے اور یہ مرتبہ انبیاء صدیقین اور مقربین کامرتبہ ہے ۔

روزہ دار کے فوائد
رسول اکرمۖ نے فرمایا جو کوئی ماہ رمضان کے روزوں میں سے ایک روزہ بھی رکھتاہے پروردگار اس روزہ دار کو ٧ خصلتوں سے نوازتاہے :
١۔ روزہ دار کے بدن سے حرام چیز کو پگھلا تا رہتا ہے.
٢۔ روزہ دار کے بدن کو اپنی رحمت سے نزدیک کرتا ہے.
٣۔ روزہ اس کے باپ آدم کی خطا اور غلطی کا کفارہ قرار پاتاہے .
٤۔ موت کی سختی آسان ہوجاتی ہے .
٥۔ روزہ ، روزہ دار کو روز قیامت کی بھوک وپیاس سے نجات دلاتاہے.
٦۔ روزہ دار جہنم کی آگ سے چھٹکارا اور جنت میں قرار پاتا ہے .
٧۔ روزہ دار جنت کی پاکیزہ نعمات سے غذا فراہم کرے گا.(٣)

روزہ کے جسمانی فوائد
روزہ کے کچھ جسمانی اور روحانی فائدے ہیں جسمانی فائدہ یہ ہے کہ انسان کو صحت و سلامتی دیتا ہے.بدن کے جراثیم اور بیماریوں کو ختم کردیتاہے جیسا کہ رسول گرامیۖ کا ارشاد ہے: ''صوموا تصحوا'' روزہ رکھو(نتیجہ میں) صحت پائو۔ (٤)
قدیم اور جدید علمائے طب کا نظریہ بھی یہی ہے کہ روزہ بدن کی صحت کے لئے ایک معجزہ ہے مختلف بیماریوں کا علاج ہے درحقیقت پرہیز تمام بیماریوں کا علاج اور صحت کی علامت ہے اعضائے جسمانی کے سکون وآرام کا ذریعہ ہے بدن کو ایک مہینہ آرام کی مہلت اسی روزہ کے ذریعہ ہی ملتی ہے جسے اللہ کی مہربانی اور لطف وکرم ہی کہا جا سکتاہے کہ وہ خدا کتنا مہر بان ہے جس نے انسان کی صحت اور اس کے بدن پر نہ پہو نچنے والی اذیت کا خیال رکھاہے .

روحانی فائدہ
سب سے بڑا فائدہ یہی ہے کہ روزہ دار اللہ کا مہمان ہوتاہے اور روزہ کو اللہ نے اپنے لئے مخصوص کیاہے اس لئے کہ اس کے یہاں نقصان کا سوال ہی نہیں ہے فائدہ ہی فائدہ ہے لہذا روزہ قربت کا ذریعہ، اللہ اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی کا وسیلہ ہے، خواہشات نفس پر قابو پانے اور تزکیہ نفس کرنے کا بہترین سبب ہے، روزہ مایوس زندگی کو نئی حیات دیتاہے، عبودیت اوربندگی کے راستے بتاتاہے، روزہ صاحبان اخلاق اور تربیت کے لئے کامل ایمان ہے، ہر مسلمان انسان کا سچا کردار ہے، کیا اللہ کی یہ مہربانی کم ہے کہ انسان سازی اور انسانیت کے سارے اسباب اسی مہینے میں مہیا کر دئیے ہیں! اگر ایک مہینے والی گناہوں سے بچنے کی عادت پورے سال شامل حال رہے تو اسے کمال انسانی کا سب سے بڑا اعجاز کہا جاسکتاہے .

اجتماعی فائدہ
رمضان کے روزوں کاایک فائدہ یہ ہیکہ معاشرے کے افراد چاہے غنی اور ثروتمند ہوں یا کمزور اور فقیر طبقہ،سب کیلئے مساوات اور برابری کے عنوان سے ایک بہت بڑا درس عبرت ہے چونکہ اسی دینی حکم کو انجام دینے سے اغنیاء اور شکم سیر افراد کومعاشرے کے بھوکے اور محروم لوگوں کا احساس ہوگا کہ وہ کس حال میں زندگی بسر کررہے ہیں اور شاید یہی سبب بنے کہ وہ لوگ بھوکوں کو کھانا کھلانے اور ان کی دیگر ضروریات کو پورا کرنے کیلئے آگے بڑھیں ۔
ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام سے روزے کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا :'' انما فر ض اللہ الصیام یستوی بہ الغنی والفقیر ''اللہ نے روزے کو اسلئے واجب کیا ہے تاکہ غنی اور فقیر یکساں اور برابر ہوجائیں۔(٥)

نتیجہ
پرور دگار اس پاک مہینہ کی تمام برکتیں اور رحمتیں ہمارے قلب کی گہرائیوں میں اتار دے اور ہمیشہ گناہوں سے بچنے کی توفیق عنایت کر مومنین، صدیقین اور صالحین و مقربین کے درجات عطا فرما ، پروردگار! ہم نہایت کمزو ر و ضعیف ہیں اور تو نہایت قوی ومہربان! ہمیں ہر حال میں تیری رحمت و قدرت درکار ہے لہٰذا ہمیںاپنی قدرت کاملہ کے ذریعہ سرفراز فرما ۔(آمین )

حوالہ جات
(١) سورہ بقرہ ١٨٣
(٢) از افادات علامہ جوادی
(٣)علل الشرائع ،شیخ صدوق، ص ٣٧٨
(٤) بحار الانوار، ج ٩٣ ، ص ٥٥ ٢
(٥) وسائل الشیعہ، ج ٧، باب اول، کتاب صوم

مقالات کی طرف جائیے