مقالات

 

توبہ

سید عزادار حسین کاظمی

خدا وند عالم نے اپنی مخلوقات میں انسان کو اشرفیت کا درجہ عطافرمایا ہے اور اسکی خلقت کے بعد اپنے آپ کو '' احسن الخالقین'' کہہ کے فخر و مباہات کیاہے،سوال یہ ہے کہ اس بہترین مخلوق کو خدا نے کیوں خلق فرمایا؟
تو اس کا جواب خود قرآن مجید میںہے : ( وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون) میںنے جنات اور انسانوں کو صرف عبادت کے لئے پیداکیاہے۔ (١)
یعنی انسانوں کی خلقت اس لئے ہوئی ہے تاکہ وہ خدا کی عبادت کریں ، بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ انسانوں کی تخلیق معرفت کیلئے ہوئی ہے کیونکہ عبادت کا معیارمعرفت ہے ، لہٰذا جو انسان خد اکے بتائے ہوئے قوانین پر عمل کرتا ہے وہ اپنی خلقت کے مقصد کو پوراکرتاہے اور ایسے لوگوں کے لئے خدانے انعام کا وعدہ کیا ہے، اسی کے برعکس جو لوگ اس کی نافرمانی کرتے ہیں ان کے لئے درد ناک عذاب کا وعدہ کیاہے ، لیکن یہ خدا وند عالم کا کرم ہے کہ اس نے اپنے گنہگار بندوں کو بھی اپنی رحمت کی امید دلائی ہے اور اسی رحمت کی امید کا نام ''توبہ'' ہے۔

توبہ قرآن مجید کی روشنی میں
خداوند عالم نے بہت سی آیات میں توبہ کا تذکرہ کیا ہے اور بندوں کو توبہ کی تاکید فرمائی ہے یہاں بعض آیا ت کی جانب اشارہ کیا جارہا ہے:
١۔(یا ایھا الذین آمنوا توبوا الی اللّٰہ توبةً نصوحاً )۔(٢)
''اے ا یمان والو! خلوص دل کے ساتھ توبہ کرو"۔
اس آیۂ کریمہ میں راہ مستقیم پر ڈگمگانے والے مومنین کو توبۂ نصوح کی دعوت دی گئی ہے توبہ نصوح کے متعلق امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: بند ہ اپنے گناہوں پر پشیمان ہوکر اس طرح توبہ کرے کہ دوبارہ اس سے گناہ سرزد نہ ہو، دوسری روایت میں آپ ہی سے مروی ہے کہ توبہ نصوح یعنی جس طرح انسان کا ظاہر پاکیزہ ہو اسی طرح اس کا باطن بھی اس توبہ کے ذریعہ پاک ہوجائے۔ (٣)
٢۔ ایک دوسری آیت میں خدا وند عالم فرماتا ہے : (ِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَی اﷲِ لِلَّذِینَ یَعْمَلُونَ السُّوئَ بِجَہَالَةٍ ثُمَّ یَتُوبُونَ مِنْ قَرِیبٍ فَُوْلَئِکَ یَتُوبُ اﷲُ عَلَیْہِمْ وَکَانَ اﷲُ عَلِیمًا حَکِیمًا) ۔ (٤)
خدا کے نزدیک توبہ صر ف ان لوگوںکے لئے ہے جو جہالت کی بناپر برائی کے مرتکب ہوتے ہیں اور فوراً توبہ کرلیتے ہیں،تو خدا انکی توبہ کو قبول کرلیتاہے ،وہ علیم ودانا اور صا حب حکمت ہے۔
اس آیت میں خد انے توبہ کو ان لوگوں سے مخصوص فرمایاہے جو جہالت کی بنا پر برائی کرتے ہیں لیکن اکثر ایسے افراد ہیں جو علم رکھتے ہوئے خدا کی نافرمانی کر تے ہیں تو کیا ان کے لئے توبہ نہیں ہے ؟
اس آیت کی تفسیر امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس طرح بیان فرمائی کہ گناہ کا مرتکب انسان جس وقت مرتکب ہوتاہے تو وہ معصیت پروردگار سے جاہل ہوتاہے ''کیونکہ شیطان غالب ہوجاتاہے'' اگرچہ وہ پہلے اس سلسلے میں عالم تھا (٥)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں معصیت کی وجہ سے رحمت خدا وند عالم سے مایوس نہیں ہونا چاہئے بلکہ ہمیں چاہئے کہ توبہ کے تمام شرائط کے ساتھ توبہ کریں ، انشاء اللہ وہ ہماری توبہ ضرور قبول فرمائے گا ۔
٣۔ ایک دوسری آیت میں خد ا کا ارشاد ہے: (ِنَّ اﷲَ یُحِبُّ التَّوَّابِینَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِین) (٦)
بے شک خدا وندعالم توبہ کرنے والوں اور پاکیزہ رہنے والوںکو دوست رکھتاہے ، ملا فیض کاشانی اس کی تفسیر میں ایک جملہ بیان کرتے ہیں کہ جس طرح انسان اپنے ظاہر کو پاک رکھتا ہے اگر توبہ کے ذریعے اپنے باطن کو بھی پاک کرلے تو یقیناوہ خدا کی نظر میں محبوب ہوگا۔
٤۔ (وَتُوبُوا ِلَی اﷲِ جَمِیعًا َیُّہَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُون)(٧)
صاحبان ایمان! تم سب اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتے رہو ،کہ شاید اسی طرح تمہیں فلاح اور نجات حاصل ہوجائے، اس آیت میں خدانے توبہ کرنے والوں کو فلاح او رنجا ت کی نوید سنائی ہے او ریہ بات طے ہے کہ جس کو خدا کی طرف سے نجات کا پروانہ مل جائے تو ایسا انسان گویا کامیابی کے عظیم درجہ پر فائز رہتا ہے۔
٥۔( وَمَنْ لَمْ یَتُبْ فَُوْلَئِکَ ہُمْ الظَّالِمُون)( ٨)
اور جولوگ توبہ نہ کریں تو سمجھ لینا کہ درحقیقت یہی لوگ ظالم ہیں'' اگر کسی انسان نے معصیت پروردگارکے بعد توبہ نہ کی تو اس کا شمار ظالموں میں ہوگا اور یہ شیطانی صفت ہے کیونکہ شیطان نے بھی یہی کام کیاتھا۔

توبہ احادیث معصومین علیہم السلام کے آئینہ میں
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ''التائب من الذنب کمن لا ذنبلہ ' ' یعنی گناہو ںسے توبہ کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے اس سے گناہ ہی سرزد نہیںہوا (٩)
اس حدیث سے استفادہ ہوتاہے کہ اگر انسان کو واقعی توبہ کرنے کی توفیق نصیب ہوجائے تو اس کے لئے ایک بڑی سعادت ہوگی ، اس نے اپنے بے گناہ بندے کو بے گناہ کہا ہے اوریہ خدا کا ایک عجیب لطف وکرم ہے کہ اس موقع پر اسنے اپنے پیغمبر ۖ کے ذریعے گناہگار بندے کو بے گناہ کہا ہے۔
''المؤمن اذا تاب وندم فتح اللہ علیہ من الدنیا والآخرة الف باب من الرحمة''
جس وقت بندۂ مومن خداکی بارگاہ میں پشیمان ہو کر توبہ کرتاہے تو خداوند عالم اسکے لئے دنیا اور آخرت میں اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتاہے (١٠)
پیغمبراکرم ۖ کے فرمان سے یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ توبہ کے وقت انسان ایمان کی دولت سے مالامال ہوتاہے اوریہ طے ہے کہ ایمان کے بغیر توبہ کرنے کی توفیق حاصل نہیں ہوسکتی ، اور جب انسان توبہ کرنے میں کامیاب ہوجاتاہے تو خداوند عالم اسکے لئے رحمت کے دروازے کھول دیتاہے ، اور خدا وند عالم کی رحمت جس بندہ کے شامل حال ہو پھر اس کو دنیا وآخرت میں کوئی بھی محروم نہیں کرسکتا.
٣۔ مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں :'' التوبة تستنزل الرحمة'' ( ١١)
توبہ کے ذریعہ خداکی رحمت نازل ہوتی ہے
٤۔ دوسری جگہ آپ ہی سے مروی ہے : ''التوبة تطھر القلوب وتغسل الذنوب'' توبہ دلوں کو پاکیزہ کرتی ہے اور گناہوں کو دھو دیتی ہے'' (١٢)
اس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ جہاں اسلام نے مومنین کے قلوب کو پاک کرنے کے بہت سے طریقے بیان کئے ہیں ان میں سے ایک اہم طریقہ،توبہ ہے جس کے ذریعہ انسان کا قلب پاک وپاکیزہ ہوجاتاہے ۔

نتیجہ
مذکورہ آیات وروایات سے مندرجہ ذیل چند نکات حاصل ہوتے ہیں
١۔ خداوندعالم اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتاہے
٢۔توبہ کے ذریعہ انسان محبوب پروردگار بن جاتاہے
٣۔ توبہ کے ذریعہ انسان کو فلا ح ونجات ملتی ہے
٤۔ توبہ سے روگردانی ظلم ہے
٥۔ توبہ امید کا نام ہے
٦۔ توبہ کے ذریعہ رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں
٧۔ توبہ رحمت کے نزول کا سبب ہے
٨۔ توبہ سے انسان کا قلب پاکیزہ ہوتاہے
٩۔ توبہ کرنے سے گناہ ایسے زائل ہوتاہے جیسے اس نے گناہ ہی نہیں کیا
١٠۔ توبہ کے سبب انسان کا ظاہر وباطن یکساں ہوجاتاہے ۔

حوالہ جات
(١) سورہ زارعات ٥٦
(٢) سورۂتحریم ٨
(٣) تفسیر صافی :ج ٥ ،ص ١٩٦
(٤) سورہ نسائ ١٧
(٥) تفسیر صافی :ج ١، ص ٤٣١
(٦) سورۂ بقرہ ٢٢٢
(٧) سورۂ نور ٣
(٨)سورۂ حجرات ١١
(٩) مجمع الاحادیث :ج ٣، ص ١٨٣
(١٠) مجمع الاحادیث :ج ٣،ص ١٨٥
(١١) مجمع الاحادیث :ج ٣،ص ١٩٢
(١٢)مجمع الاحادیث: ج ٣،ص ٩٢

مقالات کی طرف جائیے