مقالات

 

فلسفۂ روزہ؛ امام سجاد علیہ السلام کی نگاہ میں

سید وقار احمد کاظمی

"یا ایھا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون"۔ (١)
ترجمہ: اے ایمان لانے والو! تم پر روزے اسی طرح لکھ دئیے گئے ہیں (واجب قرار دیئے گئے ہیں) جس طرح تم سے پہلے والے لوگوں پر لکھے گئے تھے شاید تم اسی طرح متقی بن جاؤ۔
خداوندمتعال ماہ رمضان میں اپنے بندوں کو اس بات کی تشویق و ترغیب دلاتا ہے کہ وہ ایسی راہ کی طرف قدم بڑھائیں کہ جس کی انتہا اس کی خوشنودی، رضا اور بہشت بریں ہے، ایسا راستہ جسے بہت سے منتخب افراد نے طے کیا اور مقام ''رضوان الٰہی'' کے اعلیٰ مرتبہ تک پہونچ گئے۔ مقام رضوان الٰہی حاصل کرنے کا ایک اہم ترین ذریعہ روزہ ہے۔ آیۂ کریمہ میں ارشاد ہوتا ہے (واستعینوا بالصبر والصلاة) جب امام صادق علیہ السلام نے اس آیت کی تفسیر کی تو صبر سے مراد ''روزہ'' بتایا۔ (٢)
''روزہ'' وہ عطیہ الٰہی ہے کہ جس کا اثر انسان کے اخلاق و کردار کی اصلاح میں بے نظیر اور ناقابل بیان ہے، روزہ اس لئے واجب قرار دیا گیا ہے تا کہ انسان تقویٰ اختیار کرے (لعلکم تتقون) متقی انسان کے لئے دو طرح کا اجر و ثواب ہے: ایک تو جنت ہے جس میں بے شمار نعمتیں ہوں گی (ان المتقین جنات و نھر) ۔(٣)
لیکن یہ اجر و ثواب اور درجہ ظاہری اور مادی اعتبار سے ہے۔
دوسرا اجر و ثواب : لقائے الٰہی اور تقرب پروردگار ہے خدا کا ارشاد ہے: (فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر)۔ (٤)
اس اجر میں سیب اور انگور کی باتیں نہیں ہیں۔ جنت، نہر، کھانا اور پینا تو انسان کے جسم اور بدن کا خاصہ لیکن لقائے الٰہی اور اس کا تقرب انسان کی روح کے لئے ہے اور اس کی تقویت کا باعث ہے یہ روزہ کا معنوی اور باطنی مرحلہ ہے۔
اگر اس دنیا میںشہتوت کے پتوں سے ریشم بنایا جا سکتا ہے تو انسان کو بھی فرشتہ بنایا جا سکتا ہے جب اس دنیا میں رشد اور تکامل اس حد تک ممکن ہے کہ ریشم کا کیڑا شہتوت کے پتے سے ریشم بنا دے تو کیا اشرف المخلوقات انسان اپنے اعمال اور کردار کی وجہ سے فرشتہ صفت نہیں بن سکتا؟ اسی لئے پروردگار عالم نے ماہ رمضان میںروزہ قرار دیا تا کہ اس مہینہ میں بندہ روزہ، کلام الٰہی کی تلاوت اور دعا و مناجات کے ذریعہ خود کو فرشتہ صفت بلکہ اس سے بھی افضل بنالے۔ دعا کا سلیقہ تو ائمہ معصومین علیہم السلام نے خاص طور سے امام زین العابدین علیہ السلام نے بتایا ہے، امام سجادعلیہ السلام کا اسم مبارک جب بھی زبان پر آتا ہے تو ذہن میں فوراً راز ونیاز، مناجات اور دعا کا واقعی مفہوم مرتکز ہے گرچہ آپ کو ظاہری طور سے اجتماعی، ثقافتی اور سیاسی امور میں سرگرمی کا موقع فراہم نہ ہو سکا لیکن آپ نے محراب عبادت اور خالق سے راز و نیاز کے ذریعہ وہی کام انجام دیا جو دیگر ائمہ علیہم السلام نے معاشرہ کے فلاح و بہبود کے لئے انجام دیا، اگر آپ کی دعائیں نہ ہوتی تو ہمیں دعا کا سلیقہ نہ ملتا، آپ نے معاشرے کی ہر ضرورت کو دعا اور مناجات کے قالب میں بیان کیا ہے۔ جن کا مجموعہ زبور آل محمد ''صحیفۂ سجادیہ'' کی شکل میں شیعیت کے لئے ایک امتیاز ہے، اس مختصر مضمون میں ہماری یہ کوشش ہوگی کہ امام سجادعلیہ السلام نے روزہ کا فلسفہ بیان فرمایا ہے اسے مختصر طور پر قارئین کی خدمت میں پیش کریں۔ لیکن اس سے قبل مقدمتاً روزہ کی تعریف اور اس کا تاریخی پس منظر بیان کیا جا رہا ہے۔

روزہ کے لغوی معنی
راغب نے مفردات میں روزہ کی اس طرح تعریف کی ہے: ''الصوم فی الاصل الامساک عن الفعل مطعماً او کلاماً او مشیاً و لذٰلک قیل للفرس الممسک عن السیر و العلف ، صائم ''یعنی روزہ در اصل اپنے آپ کو کسی فعل سے بچانے اور روکنے کو کہتے ہیں چاہے یہ اپنے آپ کو کھانے اور پینے سے بچانا ہو یا بات چیت اور گفتگو سے یا راستہ چلنے سے، اسی لئے اس گھوڑے کو جو چلنے سے یا چارہ کھانے سے اپنے آپ کو روک لے اسے ''صائم'' کہتے ہیں''۔ (٥)

روزہ کے اصطلاحی معنی
انسان،خداوندمتعال کی رضا کی نیت سے اذان صبح سے مغرب تک مبطلات روزہ سے پرہیز کرے۔ (٦)

روزہ امام سجاد علیہ السلام کی نظر میں
''انہ حجاب ضربہ اللہ علی لسانک و سمعک و بصرک و فرجک و بطنک لیسترک بہ من النار'' ''روزہ ایک پردہ ہے جو خدا نے تمہاری زبان، تمہارے کان، تمہاری آنکھ، تمہاری شرمگاہ اور تمہارے پیٹ پر ڈال دیا ہے تا کہ اس کے ذریعہ تمہیں آگ سے بچائے''۔ (٧)

روزہ کی مختصر تاریخ
روزہ فقط امت مسلمہ پر واجب نہیں ہوا ہے بلکہ اسلام سے پہلے والی امتوں پر بھی واجب تھا لیکن فرق روزے کے وقت میں تھا، اہل سنت کے مشہور و معروف مفسر ''فخر رازی'' کی تفسیر میں اسلام سے پہلے کے روزہ کی کیفیت کے بارے میں اس طرح مرقوم ہے:
''خداوندمتعال نے ماہ رمضان میں یہودیوں پر روزہ واجب قرار دیا، لیکن یہودیوں نے اس مہینہ کے روزوں کو ترک کیا اور فقط ایک دن روزہ رکھنے کو کافی جانا اور شاید وہ دن فرعون کے غرق ہونے کا دن تھا''۔
عیسائیوں کے روزے کی کیفیت کے بارے میں تاریخ میں ہے:'' پہلے تو وہ لوگ ماہ رمضان المبارک میں روزہ رکھتے تھے لیکن جب ماہ رمضان، گرمی کے موسم میں آنے لگا تو عیسائیوں نے ماہ رمضان کے بجائے شمسی تاریخ کے اعتبار سے روزے رکھنے شروع کر دیئے اور اس تبدیلی کی وجہ سے دس روزے اور زیادہ کر دیئے (یعنی چالیس روزے رکھنے لگے) پھر اس کے بعد ان کے ایک بادشاہ نے کسی مشکل کے حل کے لئے سات دنوں کے روزے کی نذر مانی لہٰذا عیسائیوں نے ان سات روزوں کا بھی اضافہ کیا (یعنی اب ٤٧ روزے ہو گئے) پھر ایک بادشاہ نے تین روزوں کا اور اضافہ کیا جس سے عیسائیوں کے روزوں کی تعداد ''٥٠'' ہو گئی۔
روایات میں ہے کہ خداوندمتعال نے جناب یعقوب پر وحی نازل کی: ''خدا نے تمہیں متواضع اور روزہ دار قرار دیا، تمہیںجنت کا ایسا کھانا عطا کیا کہ نہ تواس کے بارے میں تمہیں علم تھا اور نہ ہی تمہارے آباء و اجداد کو، تاکہ تمہیں یہ بتائیں کہ انسان فقط روٹی کے سہارے زندہ نہیں ہے بلکہ انسان ہر اس کلمہ کے سہارے زندہ ہوتا ہے جو خداوندمتعال کی طرف سے صادر ہوتا ہے''۔

فلسفہ روزہ امام سجاد علیہ السلام کی نظر میں
انسانی عقل اور بشری فکر خدا کے بتائے ہوئے احکام کی حقیقت اور اس کے فلسفہ کو سمجھنے اور درک کرنے سے قاصر ہے اور یہ ممکن بھی کیسے ہوسکتا ہے کہ عقل کمتر ، عقل برتر کے مساوی قرار پائے! لہٰذا عقل کمتر کو اس بات کی فکر بھی نہیں کرنی چاہئے کہ وہ عقل برتر کے ارادے اور تصمیم کے راز ورموز کو سمجھ سکتی ہے، ہاں اگر ایسی ذوات مقدسہ کہ جن کی زبان پر (وما ینطق عن الھویٰ ان ھو الا وحی یوحی) (٨) کا پہرہ ہے، جن کی مرضی خدا کی مرضی اور رضاہے۔(٩)
جنھیں (وما تشاؤن الا ان یشاء اللہ)(١٠) کی سند مل چکی ہے، کسی عبادت الٰہی یا کسی حکم کے بارے میں کوئی راز یا رمز بتائیں تو اس میں شک و شبہ کرنا صف ایمانی سے خروج، کفران نعمت اور قعر جہنم میں دخول کا باعث ہوگا۔ انہیںذوات مقدسہ میں سے ایک ذات کے بتائے ہوئے روزے کے فلسفے کو بتایا جا رہا ہے۔
عابدوں کی زینت، روح عبادت یعنی ہمارے چوتھے امام حضرت علی بن حسین علیہما السلام نے اس عبادت کا فلسفہ بطور کلی، ضبط نفس اور گناہ سے پرہیز کرنا بیان کیا ہے کیونکہ زیادہ تر گناہ، زبان، آنکھ، کان، شکم اور جنسی میلان کی آزادی کی وجہ سے ہوتے ہیں آپ نے روزوں کو پردہ قرار دیا ہے کہ یہ اعضاء کو گناہ سے باز رکھتے ہیں۔
آپ ماہ رمضان کے وداع کی دعا میں فرماتے ہیں: ''السلام علیک ما کان امحاک للذ نوب واسترک لانواع العیوب'' تجھ پر سلام ہو (اے ماہ مبارک) کہ تو گناہ کو مٹانے والا اور ختم کرنے والا ہے، اور عیوب کو پوشیدہ رکھنے والا ہے۔
قرآن مجید نے بھی روزہ کا یہی فلسفہ بیان کیا ہے جیسا کہ سورہ بقرہ میں ارشاد ہے: (یا ایھا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون)
اے صاحبان ایمان! تم پر روزے اسی طرح لکھے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے والے لوگوں (تمہارے آبائو اجداد)پر فرض کئے گئے تھے ، ہو سکتا ہے تم تقویٰ اختیار کرو۔
اس آیۂ کریمہ میں روزہ کا فلسفہ گناہ سے بچنے اور تقویٰ اختیار کرنے کو قرار دیا ہے۔
امام سجادعلیہ السلام نے ماہ رمضان کے وداع کی دعا میں آگے ارشاد فرمایا: ''السلام علیک من ناصر اعان علیٰ الشیطان و صاحب سھل سبل الاحسان'' سلام ہو تجھ پر اے رفیق و ناصر کہ جس نے شیطان پر غلبہ پانے میں ہماری مدد کی۔
گویا روزہ کا ایک فلسفہ شیطان پر غلبہ حاصل کرنا بھی ہے، روزہ اس لئے واجب قرار دیا گیا ہے تا کہ اس ماہ میں شیطان پر غلبہ حاصل کیا جا سکے۔
یقینا انسان اس مہینہ میں شیطان پر غلبہ پا لیتا ہے اور شیطانی باتوں پر کان نہیں دھرتا، اور یہ روزہ اور ماہ رمضان ہی ہے کہ جس کی بنا پر انسان شیطان پر مسلط ہو جاتا ہے نہ فقط یہ کہ سلبی امور میں انسان، شیطان سے چھٹکارا پاتا ہے اور برا کام انجام نہیں دیتا بلکہ ثبوتی امور میں بھی شیطان کو منھ کی کھلاتا ہے اور اچھے کاموں اور امور خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے جو اچھا کام دوسرے مہینوں میں سختی سے انجام دیتا تھا اس مہینہ میں آسانی سے انجام دیتا ہے، خداوندکریم کتنا رحیم ہے کہ اس نے اس مہینہ میں عمل صالح انجام دینے کا اجر بھی عظیم اور دوسرے مہینوں سے جدا رکھا ہے۔
اور اسی دعا میں آپ نے فرمایا: ''السلام علیک ما اکثر عتقاء اللہ فیک'' تجھ پر سلام ہو (اے ماہ مبارک) کہ جس میں خدا نے نہ جانے کتنے بندوں کو آزاد کیاہے۔ خداوندمتعال نے اخلاقی رذائل اور جہنم کی آگ میں گرفتار بندوں کو اس گرفتاری سے آزاد کیا، کیا آزادی سے بڑھ کر کوئی نعمت ہو سکتی ہے؟۔
گویا روزہ اس لئے قرار دیا گیا ہے تاکہ انسان نفسانی خواہشات، دنیا پرستی اور اخلاقی رذائل کی گرفتاریوں سے آزاد ہو سکے، اس مہینہ میں جو وظیفے بندوں کے لئے مقرر کئے گئے ہیں ان میں سب سے اہم ذمہ داری، ہوا وہوس اور دنیا کی رعنائیوں سے آزادی ہے اور آزادی کی راہ، استغفار اور طلب مغفرت ہے لہٰذا کہا گیا ہے کہ شب و روز جتنا ہو سکے ''استغفراللہ ربی و اتوب الیہ''کا ورد کریںجیسا کہ پیغمبر اکرمۖ نے فرمایا: ''میں ہر شب و روز ستّر مرتبہ استغفار کرتا ہوں'' (١١)
روزہ کا فلسفہ تطہیر و تغسیل ہے نہ کہ رنج و مصیبت اور تھکان(خستگی) جیسا کہ امام علیہ السلام اسی دعا میں آگے فرماتے ہیں ''السلام علیک غیر کریہ المصحبة ولا ذمیم الملابسة'' تجھ پر سلام ہو (اے ماہ مغفرت) کہ جب تو ہمارا مہمان تھا تو نہ تو برا رفیق و مصاحب تھا اور نہ ہی ہم تیری وجہ سے بے حال تھے اور نہ ہی ہم نے خستگی محسوس کی بلکہ ہم نے تو تیرے وجود سے لذت حاصل کی اور ہمارے اندر معنویت پیدا ہوئی۔
''السلام علیک کما وفدت علینا بالبرکات و غسلت عنا دنس الخطیئات'' سلام ہو تجھ پر (اے ماہ رحمت) کہ جب تو آیا تو برکت و رحمت کے ساتھ آیا اور ہمیںگناہوں کی گندگیوں اور ناپاکیوں سے پاک کیا۔
امام علیہ السلام نے جب روزہ کے حقوق کو بیان کیا تو اس میں روزہ کا فلسفہ اس طرح بیان کیا ''لیسترک بہ من النار'' یعنی روزہ اس لئے ہے تاکہ اس کے ذریعہ انسانوں کو آگ سے نجات ملے، آپ آگے ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر تم نے روزہ چھوڑ دیا تو تم نے اپنے اوپر پڑے ہوئے پردے کو چاک کر ڈالا۔

امام سجاد علیہ السلام اور ماہ رمضان
اما م صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ امام سجاد علیہ السلام رمضان المبارک کے مہینے میں اپنے غلاموں کی غلطیوں کو تاریخ کے ساتھ لکھ لیتے تھے پھر امام رمضان المبارک کے آخر میں اپنے تمام غلاموں کو ایک ساتھ بلاتے اور وہ سب اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے، پھر امام ان کے درمیان کھڑے ہو کر فرماتے: جو میں کہہ رہوں ہوں تم بھی اس کی تکرار کرو: '' اے علی بن الحسین! آپ ہماری غلطیوں کو بخش دیں جیسا کہ آپ اس بات کے امیدوار ہیں کہ خدا آپ کے گناہوں کو معاف کر دے، اس دن کو یاد کریں جس دن ذلت و خواری کے عالم میں درگاہ الٰہی میں کھڑے ہوں گے، اس خدا نے کہ جس نے ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کیا وہ ہر ذرہ کا اور چھوٹی سے چھوٹی شیٔ کا حساب لے گا، آپ ہمیں معاف کر دیں تا کہ خدا آپ کو معاف کردے چونکہ قرآن مجید کا فرمان ہے ''لیعفوا ولیصفحوا الا تحبون ان یغفراللہ لکم''عفو وبخشش کرو کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ خدا بھی تمہیں مشمول رحمت قرار دے۔
آپ اپنے غلاموں کو ان کلمات کے دہرانے کی تلقین کرتے اور آپ کے تمام غلام ان کلمات کی تکرار کرتے، آپ کی آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب رواں رہتا اور آپ فرماتے: ''خدایا! تونے ہمیں عفو و بخشش کا حکم دیا ہے، ہمیں بھی مورد عفو قرار دے! خدایا! تو عفو و بخشش میں ہم سے شائستہ تر اور افضل ہے! ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ سائل کو اپنے گھر سے ناامید اور محروم واپس نہ کرو'' اب یہ تیرا بندہ بخشش کی امید میں تیری درگاہ میںحاضر ہوا ہے، اور تجھ سے کرم فرمائی کا امیدوار ہے، خدایا! اپنے بندے پر احسان فرما، ہمیں ناامید نہ کر اور ہمیں ان بندوں میں قرار دے کہ جو تیری عطا اور رحمت کے زیر سایہ رہے ہیں۔
پھر غلاموں کی طرف متوجہ ہو کر فرماتے: ''میں نے تمہیں معاف کیا، کیاتم نے بھی ہمیں بخش دیا اور ان کوتاہیوں کو جو ہم سے تمہارے سلسلے سے ہو گئی ہیں معاف کیا؟ اگر میں تمہارا ظالم مالک تھا تو میں خود بھی عادل مالک کے زیر قدرت ہوں''۔
غلام عرض کرتے: ''آقا! گرچہ آپ نے ہمارے ساتھ کوئی بدی اور کوتاہی نہیں کی (پھر بھی) ہم نے آپ کو بخش دیا ''پھر امام فرماتے ہیں کہ کہو: ''اللھم عف عن علی بن الحسین کما عفی فاعتقہ من النار کما اعتق رقابنا من الرق'' خدایا! علی بن حسینـ کو بخش دے جس طرح سے انھوںنے ہمیں معاف کر دیا اور انھیں جہنم کی آگ سے رہائی عطافرما کہ جس طرح سے انھوں نے ہم کو اپنی غلامی سے آزاد کر دیا ہے۔ مولا زار و قطار گریہ فرماتے اور غلاموں کی دعا کے آخر میںآمین کہتے اور فرماتے: میں نے تمہیں آزاد کیا اس امید کے ساتھ کہ خدا ہمیں بھی معاف کرے۔
آخر میں خداوندعالم کی بارگاہ میں دعا گو ہیں کہ خدایا! تو ہمیں ان افراد میں قرار دے جو تیرے حجاب کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور ہمیں وہ تمام ثواب عنایت فرما جو تا قیامت اپنے روزہ دار بندوں کو عنایت کرے گا۔
''الٰھی اوجب لنا عذرک علی ما قصرنا فیہ من حقک واجر لنا من صالح العمل ما یکون درکا لحقک فی الشھرین من شھور من شھور الدھر''۔

حوالہ جات
(١) بقرہ١٨٣۔
(٢) مرأة العقول، ج١٦، ص٢٠١۔
(٣) قمر٥٤
(٤) قمر٥٥
(٥) راغب اصفہانی، مفردات، ص٢٩١۔
(٦) توضیح المسائل آیت اللہ سیستانی مدظلہ
(٧) شرح رسالة الحقوق امام سجاد علیہ السلام، قدرت اللہ مشایخی، ص٢٠٦۔
(٨) نجم٣،٤۔
(٩) بقرہ٢٠٧۔
(١٠) تکویر٢٩۔
(١١) بحارالانوار، ج١٧، ص٤٤۔

مقالات کی طرف جائیے