مقالات

 

ضیافۃ اللہ

رہبر کبیر حضرت آیۃ اللہ خمینی قدس سرہ

ترجمہ: سید علی عباس رضوی الہٰ بادی
ہماری آرزو ہے کہ اللہ کی مدد اور حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خاص توجہات کے زیرسایہ انسانیت کی متلاطم کشتی ساحل نجات سے ہمکنارہو اور دنیا کے کمزور و ناتوان افراد، ظالموں اور برتری خواہوں پر غالب آئیں اور حضرت کی عالمی حکومت قائم ہو اور ہماری اور تما م مسلمانوں کی آنکھیں آپ کے نور سے منور ہوں رجب، شعبان اور رمضان المبارک میں انسانوں کو بہت ساری برکتیں نصیب ہوتی ہیں لیکن ان لوگوں کو جو ان برکتوں سے فیض اٹھانا چاہتے ہیں البتہ ان تمام برکتوں کا سرچشمہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت ہے ماہ رجب میں پیغمبر اکرمصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت اور حضرت علی و امام محمد تقی علیہما السلام کی ولادت ہے، شعبان میں امام حسین و حضرت صاحب الزمان علیہماالسلام کی ولادت ہے اور رمضان المبارک میں قرآن مجید، قلب مبارک پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا ہے۔ ان تین مہینوں کی عظمتیں بیانات، عقلوں اور فکروں میں نہیں سما سکتیں۔ ان مہینوں کی برکتیں وہ دعائیں ہیں جو ان مہینوں میں وارد ہوئی ہیں۔
مناجات شعبانیہ برترین مناجات و عظیم ترین معارف الٰہی ہے کہ جس سے اس کے اہل اپنے ادراک کی حد تک، استفادہ کر سکتے ہیں۔
وہ عرفانی مسائل جو قرآن اور ائمہعلیہم السلام کی مناجاتوں میں موجودہیں مثلاً مناجات شعبانیہ کہ جو عرفانی مسائل پر مشتمل ہے، ہو سکتا ہے فلاسفہ و عرفائ، کسی حد تک اسے درک کر سکیں اور عنوانوں کو سمجھ سکیں لیکن ذوق عرفانی نہ ہونے کی وجہ سے، اس کا حصول ان کے لئے ممکن نہیں ہے۔
خدا سے دعا کریں کہ خداوندمتعال ہمیں توفیق دے کہ ان مہینوں (شعبان اوررمضان شریف) میں ہم ان مسائل میںبڑھ چڑھکر حصہ لیںاور ہمارے دلوںمیں جلوہ نمائی ہو۔ (1)
ماہ مبارک رجب شعبان کی دعائیں خصوصاً ماہ مبارک شعبان کی دعائیں، در حقیقت یہ ایک طرح کی قلبی زیبائی ہے جسے انسان خدا کی ضیافت میں جانے کے لئے انجام دیتا ہے، ایسی ضیافت و دعوت کہ جس کا دسترخوان قرآن مجید ہے۔ (2)

شعبان، رمضان المبارک کا مقدمہ
اس مہینہ (شعبان) کی عزیز ترین دعا ''مناجات شعبانیہ'' ہے، امام امت حضرت امام خمینی قدس اللہ سرہ نے متعدد دفعہ اس کی اہمیت کو بیان کیا ہے، اور اس کے پڑھنے اور اس کے مفاہیم میں دقت کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے: ''اس دعا کے سلسلہ میں وارد ہوا ہے کہ یہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام اور آپ کے فرزندوں کی دعا ہے، ائمہ معصومین علیہم السلام اسی دعا کے ذریعہ خدا سے خطاب کرتے تھے...۔ یہ دعا در حقیقت ماہ مبارک رمضان کے وظائف کو قبول کرنے کا مقدمہ ہے اور اس کی وجہ شاید یہی ہو کہ اس میں آگاہ و بیدار انسانوں کو روزہ کی اہمیت اور اس کے بہترین نتائج سے آگاہ کیا گیا ہے۔ ائمہ معصومینعلیہم السلام نے بہت سے مسائل دعا کی زبان میں بیان کئے ہیں، دعا کی زبان دوسری زبانوں سے کہ جن میںآپ حضرات٪ احکام کو بیان فرماتے تھے، بہت الگ ہے۔ معصومین علیہم السلام نے روحانی مسائل، ماوراء طبیعت کے مسائل، معرفت الٰہی سے مربوط مسئلے، دعا کی زبان میں بیان کئے ہیں۔ ہم پوری دعا پڑھتے ہیںلیکن اس کی طرف توجہ نہیں دیتے، یہ جملہ ''الٰہی ھب لی کمال الانقطاع الیک'' شاید اس بات کی طرف متوجہ کرنے کے لئے ہو کہ خدا کے آگاہ بندے رمضان آنے سے قبل اپنے کو اس روزے کے لئے تیار کریں جو در حقیقت دنیا کی لذتوں سے اجتناب و ترک تعلق کا وسیلہ ہو۔ البتہ یہ انقطاع و اجتناب اتنی آسانی سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے بیش از حد زحمت، تمرین اور ریاضت درکار ہے۔
''مناجات شعبانیہ ان مناجاتوں میں سے ہے کہ اگر ایک دل سوختہ انسان، دل سوختہ عارف (نہ فقط نام کا عارف) اس کی شرح کرے تو یہ شرح قابل قدر ہے، یہ مناجات تفسیر طلب ہے۔
دعا پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس میں غور وفکر ضروری ہے۔ (3)
مقام معظم رہبری حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای مد ظلہ فرماتے ہیں : ایک روز میں نے امام قدس سرہ سے دریافت کیا کہ آپ کون سی دعاؤں سے زیادہ مانوس ہیں تو آپ نے جواب دیا: دعائے کمیل اور مناجات شعبانیہ۔

ماہ شعبان خودسازی کا ایک بہترین زمانہ
''رمضان المبارک آنے میں چند روز رہ گئے ہیں ان چند دنوں آپ اپنی اصلاح کی فکر کریں، اپنے کردار و نازیبا حرکتوں سے استغفار کریں، خدانخواستہ اگر آپ سے کوئی گناہ انجام پایا ہے تو رمضان المبارک آنے سے قبل توبہ کریں۔ اپنی زبان کو بارگاہ الٰہی میں مناجات کا عادی بنائیں''
''آپ حضرات ابھی سے طے کر لیں کہ زبان کو غیبت، تہمت اور بدگوئی سے محفوط رکھ کر کینہ وحسد، برے اور شیطانی صفات کواپنے دلوں سے باہر نکالیں۔ خدا نخواستہ اگر آپ سے گناہ ہوا ہے تو رمضان المبارک شروع ہونے سے قبل، اس سے توبہ کر لیں، اور پاک و پاکیزہ طاہر نفس کے ساتھ رمضان المبارک کا آغاز کریں۔ (4)
ماہ شعبان، ماہ رمضان المبارک کا مقدمہ ہے تاکہ لوگ خود کو ماہ مبارک اور ''ضیافة اللہ'' کے لئے آمادہ کریں۔
ماہ رمضان وہ مہینہ ہے کہ جس نے تمام حجابات برطرف کرکے جبرئیل امین کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرنازل کیا ہے یا بالفاظ دیگر پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبرئیل کو دنیا میں وارد کیا ہے۔ ماہ شعبان ماہ ولایت ہے، ماہ رمضان میں قرآن نازل ہوا ہے تو ماہ شعبان میں ائمہ سے منسوب دعائیںوارد ہوئی ہیں۔

جوانوں کو نصیحت
ہمیں غور کرنا چاہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے مہمان خانہ میں داخل ہوئے یا نہیں؟ ہمیں داخل ہونے کی اجازت ملی یا نہیں؟ کیا ہم نے ضیافت الٰہی سے استفادہ کیا؟ ہم جیسے لوگوں کا حساب تو کرام الکاتبین کے ذمہ ہے لیکن آپ حضرات اور جن حضرت تک ہماری یہ باتیں پہونچیں بالخصوص جوان لوگوں سے عرض کرتا ہوں کہ کیا آپ مہمان خانہ میں داخل ہوئے؟ فیضیاب ہوئے؟ شہوتوں خصوصاً معنوی شہوتوں سے چشم پوشی کی؟ جوان حضرات اس نکتہ کی طرف متوجہ رہیں کہ انسان جوانی میں اپنی اصلاح کر سکتا ہے لیکن جیسے جیسے اس کی عمر زیادہ ہوگی اس کی دنیا پرستی بھی بڑھتی جائے گی۔ جوان ملکوت سے نزدیک ہوتاہے یاد رکھیں کہ اگر آپ اس ضیافت سے صحیح وسالم باہر نکلے تو اس وقت آپ کی عید ہے۔ (5)

ماہ دعا ومناجات
حضرت امام خمینی قدس اللہ سرہ رمضان المبارک کی دعاؤں کو باتوجہ پڑھنے کی بیحد تاکید فرماتے تھے۔ (6)
رمضان المبارک کی دعاؤں میں تدبر کی نصیحت فرماتے تھے منجملہ دعائے حضرت امام سجاد علیہ السلام معروف بہ دعائے ابوحمزہ ثمالی۔ (7)
آپ فرماتے تھے : دعائے ابوحمزہ ایک کم نظیر دعا ہے کہ جسے غور و فکر کے ساتھ پڑھنا چاہئے، یہ دعا اسرار پر مشتمل ہے لہذا ضرورت ہے کہ اہل نظر و اہل معرفت اس کی شرح کریں۔ (8)
گرچہ ہماری عقلوں اور عارفوں کے عرفان سے بالاتر مسئلہ ہے، ایسا مسئلہ ہے کہ صرف اولیاء الٰہی جانتے ہیں کہ کیا قضیہ ہے... ہم کس باعظمت ذات کے سامنے ہیں اور ہمارا سروکار کس سے ہے؟(9)
اس مناجات میں حبیب و محبوب اور عاشق ومعشوق کے درمیان ایسے اسرار ہیں کہ جسے خود اس(خداوندعالم)اور اس کے حبیب کے علاوہ کوئی اور نہیں سمجھ سکتا۔

حواشی:
1۔صحیفہ امام :ج١٧، ص٤٥٦۔٤٥٨
2۔صحیفہ امام :ج١٣، ص٣٣
3۔صحیفہ امام: ج٢٠، ص٢٥٠۔ ج٢١، ص٢
4۔صحیفہ امام: ج٢، ص٣٩١
5۔صحیفہ امام: ج٢١، ص٤٥
6۔صحیفہ امام :ج٢٠، ص٢٦٨
7۔صحیفہ امام: ج٢٠، ص٢٥٠
8۔صحیفہ امام: ج٢٠، ص٢٥٠
9۔صحیفہ امام: ج٢٠، ص٢٦٨

مقالات کی طرف جائیے