مقالات

 

ذکر خدا

سید معراج مہدی رضوی بھیک پوری

ذکر یعنی یاد کرنا، خداکو ہمہ وقت یاد رکھنا، اس کی یاد سے کبھی غافل نہ ہونا، ذکر کے مقابلے میں غفلت ہے، یعنی اس کی یاد سے غافل ہونا اور اس کو یاد نہ کرنا، ذکر خدا کو بعبارت دیگر یوں بھی بیان کر سکتے ہیں : انسان عقل کی روشنی میں اس امر سے آگاہ و باخبر ہو کہ اس دنیا کی خلقت کسی عظیم الشان ذات کی مرہون منت ہے، اس کی ذات علیم وبصیر ،قادر و رب العالمین ہے، وہ ہر چیز کا خالق ہے۔ خلاصہ یہ کہ ساری چیزوں کا وجود اسی کی ذات کی بنا پر ہے۔ اسی آگاہی کا نام ایمان بہ خدا ہے، اور اس سے بے خبری کا نام غفلت ہے۔ اگر اس حالت غفلت میں استمرار و دوام پیدا ہو جائے تو یہ قساوت قلبی کا موجب ہے اس قساوت قلبی کے نتیجے میں انسان ذکر خدا میں کبھی مشغول نہیں ہوگا، یہ حالت انسان میں ہمیشہ باقی نہ رہنے پائے اسی کے لئے پانچ وقت کی نماز واجب کی گئی تا کہ خدا سے آگاہ ہونے کے بعد قساوت قلب کو ختم کر سکے، کیونکہ اس قساوت قلبی کی بنا پر انسان پر نہ تو وعظ و نصیحت کا کوئی اثر ہوگا اور نہ ہی اس کے دل پر کسی مظلوم کی فریاد اور کسی یتیم و اسیر و فقیر کی دردمند آواز کا اثر ہوگا۔ اگر یہ قساوت قلبی آخری حد تک پہونچ جائے تو پھر ہدایت کا امکان ختم ہو جاتا ہے ضلالت و گمراہی کی راہ میں سرگرداں رہ جاتا ہے اور راہ نجات کو گم کر دیتا ہے۔

اقسام ذکر خدا
ذکر خدا کی دو قسمیں ہیں: واجب و مستحب۔
ذکر واجب: جب انسان مخلوقات کا مشاہدہ کرے تو اس کے خالق کے بارے میں غور و فکر کرے کہ جب اس مخلوق میں اس قسم کی صفت کمال موجود ہے تو اس خالق کی توانائی و حکمت کا کیا عالم ہوگا، جب خدا کی شناخت و معرفت حاصل ہو جائے اور اس کا مطیع و فرمانبردار بن جائے تو ہمہ وقت اس کو یاد خدا کرنی چاہئے اور جو بھی نعمت حاصل ہو اسے خدا کی طرف سے عطا کردہ خیال کرے اور خدا کو کسی بھی حال میں فراموش نہ کرے۔ ہر شیٔ کو اس کا مظہر و پرتو خیال کرے ذکر خداکا یہ رتبہ افضل ترین عبادت ہے۔ پس خدا کو کسی بھی حالت میں فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ اسی کی طرف سورۂ آل عمران ١٩١ میں اشارہ موجود ہے: '' (صاحبان خرد و عقل) وہ لوگ ہیں جو اٹھتے بیٹھتے، کروٹ لیتے (غرض ہر حال میں) خدا کا ذکر کرتے رہتے ہیں، اور آسمان و زمین کی خلقت کے بارے میں غور وفکر کرتے رہتے ہیں۔ اور (بے ساختہ) کہہ اٹھتے ہیں کہ خداوندا! تو نے اس کو بے کار خلق نہیں کیا ہے (فعل عبث سے) پاک و پاکیزہ ہے پس ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا''۔سورہ اعراف ٧٤ میں ارشاد ہے: ''خدا کی نعمتوں کو یاد کرو اور روئے زمین پر فساد نہ کرتے پھرو'' اس آیت سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ یاد خدا ہی میں ہماری بھلائی ہے اور اس سے غفلت و فراموشی فساد کی علامت ہے۔جیسا کہ ہمیں معلوم ہوا ذکر کی کثرت سے معرفت و محبت خدا میں اضافہ ہوتا ہے اور دونوں جہاں کی خوشبختی نصیب ہوتی ہے، اسی طرح اس سے غفلت کے نتیجے میں بدبختی و محرومیت نصیب ہوتی ہے اور انسان اپنے آپ کو فراموش کر دیتا ہے۔ جس کی بنا پر مقام شہادت تک نہیں پہونچ سکتا، جب انسان خدا کو فراموش کر دیتا ہے تو خدا اس کوایسا بنا دیتا ہے کہ وہ خود کو بھی فراموش کر دیتا ہے،سورہ حشر ١٩، میں ارشاد ہوتا ہے: ''ان لوگوں کے جیسے نہ ہو جاؤ جو خدا کو بھلا بیٹھے تو خدا نے انہیں ایسا کر دیا کہ وہ اپنے آپ کو بھول گئے یہی لوگ تو بدکردار ہیں'' اس خود فراموشی کا ہی نتیجہ ہے کہ انسان دنیا میں فقط مادی عیش و آرام کے بارے میں فکر کرتا ہے اور اپنی غرض خلقت کو فراموش کر دیتا ہے اور اپنی اصلاح سے غافل ہو جاتا ہے۔
محرمات و واجبات کے وقت ذکر خدا واجب ہے: جب کسی عمل واجب یا حرام کا سامنا ہو تو انسان خدا کو یاد کرے اور اس واجب کو بجا لائے اور حرام کو ترک کرے۔ مثلاً ماہ رمضان میں روزہ ترک نہ کرے، اگر اس پر زکوٰة و خمس واجب ہے تو ادا کرے۔ یعنی عمل واجب و حرام کے انجام دیتے وقت یہ خیال رہے کہ خدا نے ہمیں اس فعل کے بجا لانے کا حکم دیا ہے تو ہم اسے بجا لائیں، اور جو فعل کو ترک کرنے کا حکم دیا ہے اسے ترک کریں یہ خیال کرتے ہوئے کہ وہ ہمارے اعمال کو دیکھ رہا ہے چاہے اسے خلوت میں انجام دیں یا علی الاعلان انجام دیں۔ اس کی مثال اگر دیکھنی ہو تو ہمیں حضرت یوسفؑ و زلیخا کے واقعے میں مل جائے گی۔ ''جب زلیخا نے حضرت یوسفؑ کو خلوت میں اپنے برے مقصد کے لئے بلایا تو اس حجرے میں موجود بت پر کپڑا ڈال دیا حضرت یوسف نے اس کا سبب دریافت کیا تو زلیخا نے کہا مجھے اس بت سے شرم آ رہی ہے میں نے اس لئے چھپایا تا کہ وہ مجھے نہ دیکھے، حضرت یوسف نے کہا: تو اس پتھر کے بت سے شرمارہی ہے، مجھے تو بطریق اولیٰ اس جہاں کے خالق سے شرم کرنی چاہئے۔ اس کے سامنے گناہ انجام نہیں دینا چاہئے یہ کہنے کے بعد وہاں سے فرار کر گئے، پھر اس کے بعد ان کی بے گناہی کی گواہی گہوارہ میں ایک بچے نے دی، اس کی پوری تفصیل قرآن کی تفاسیر میں موجود ہے۔
پس اس ذکر کی اہمیت سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر انسان اپنے رفتار و گفتار میں حلال و حرام کا لحاظ نہ کرے یعنی یاد خدا سے غافل ہو تو یہ عبادت بدنی اور ذکر لسانی بے ارزش و بے فائدہ ہے یا اگر اس کی ارزش ہوگی بھی تو اہمیت کے لحاظ سے اس کی زیادہ قدر و قیمت نہیں ہوگی۔
ذکر خدا کی تیسری قسم ذکر لسانی ہے: اس قسم کے ذکر واجب میں نماز وغیرہ ہے سورہ جمعہ ٨ میں ارشاد ہے: ( یا ایھا الذین آمنوا اذا نودی للصلوٰة من یوم الجمعة فاسعوا الیٰ ذکر اللہ) اس آیت میں ذکر اللہ سے مراد نماز ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے: (اقم الصلاة لذکری) ( سورہ طہ ١٤)یعنی میری یاد کے لئے نماز قائم کرو۔

ذکر مستحب
اس کی بھی چند قسمیں ہیں:
١۔ تہلیل (خدا کی وحدانیت کی گواہی لا الہ الا اللہ)۔
٢۔ تحمید (حمد و تعریف خدا) مثلاً الحمد للہ
٣۔ تسبیح (خدا کا ہر عیب سے پاک و پاکیزہ ہونے کی گواہی) مثلاً سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبرو لا حول ولا قوة الا باللہ، اس کے علاوہ بھی ذکر مستحب ہے جیسے دعا، مناجات، خدا سے راز و نیاز کرنا، تلاوت قرآن، اور محمد وآل محمدۖ پر درود بھیجنا۔
ذکر خدا کی کوئی حد نہیں ہے جتنا زیادہ اس کی یاد میں مشغول ہوگا اسی قدر اس سے مستفیض ہوگا۔ سورہ جمعہ ١٠ ''واذکراللہ کثیرا لعلکم تفلحون'' ذکر خدا کثرت سے کرو تا کہ فلاح پا جاؤ۔اہلبیت علیہم السلام سے مستحبی نمازیں، دعائیں ،مناجات اور مختلف قسم کے ذکر منقول ہوئے ہیں اگر کوئی چوبیس گھنٹے ذکر خدا میں مشغول رہنا چاہے تو بلا جھجھک اس نعمت سے فائدہ اٹھائے۔

مقالات کی طرف جائیے