مقالات

 

دعائے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وسعت

ادیب عصر مولانا سید علی اختر رضوی شعور گوپال پوری

قرآن آسمان کا زمین سے رابطہ ہے اور دعا زمین کا آسمان سے ارتباط ہے، وہ قوس نزولی ہے تو یہ قوس صعودی۔
انسان کی آرزوئیں بے حد ہیں۔ اور حد نہ ہونے ہی کی وجہ سے اس میں افراط و تفریط کے اندیشے ہیں، دعاسے انسان کی آرزوئیں نفسیاتی اعتبار سے اپنے اعتدال پر رہتی ہیں۔
قرآن میں انبیاء اور خاصان خدا کی دعائیں جا بجا مذکور ہیں۔ آدم کی دعا، نوح کی دعا، ابراہیم کی دعا، موسیٰ کی دعا، ایوب اور یوسف کی دعا...
ان دعاؤں پر تدبر کرنے سے معیار زندگی، مقصد زندگی اور منشائے پروردگار کا پتہ چلتا ہے، قرآن میں جہاں جہاں بھی انبیاء کی دعائیں بیان کی گئی ہیں، ان پر غور کیا جائے تو زندگی و بندگی کے آبدار موتی ہاتھ آئیں گے۔
حضرت موسیٰ ایک قبطی کو قتل کرکے مدائن کی طرف خائف و ہراساں بھاگے، سفر کی صعوبت برداشت کرکے آبادی کے باہر ایک کنویں کے قریب پہونچے، شام کا وقت تھا لوگ پانی بھر رہے تھے ، اسی بھیڑ سے الگ دو لڑکیاں اپنے جانوروں کو لئے کھڑی تھیں کہ بھیڑ چھنٹے تو اپنے جانوروں کو پانی پلائیں اور ضرورت کا پانی حاصل کریں، بھوک کی وجہ سے موسیٰ کی طاقت جواب دے رہی تھی، لیکن ان لڑکیوں کی پریشانی دیکھ کر مدد کرنے پر آمادہ ہو گئے۔
انھوں نے خدمت خلق ،خالصة لوجہ اللہ کی تھی، کسی اجرت کی توقع کیا ہو سکتی تھی، بہر حال انھوں نے ان لڑکیوں کی مدد کر دی اور ایک سائے میں جاکر بھوک سے نڈھال بیٹھ گئے، ایسے میں دعا کی:
"رب ان لما انزلت الیّ من خیر فقیر"۔
میرے پروردگار! اس وقت تیری بارگاہ سے جو بھی خیر اور بھلائی میرے لئے نازل ہوجائے میں اس کا محتاج ہوں۔
حضرت موسیٰ نے ایک نیک کام ، خالصة لوجہ اللہ کیا تھا، حدیثوں میں ہے کہ کوئی حسنہ بجا لانے کے بعد دعا مانگنی چاہئے، اس لئے کہ رضائے خداوندی کے امکانات واضح ہوتے ہیں، آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں حضرت موسیٰ کو اس وقت کھانے کی ضرورت تھی کیونکہ وہ بھوکے تھے۔ لیکن حضرت موسیٰ نے اپنی دعا میں وسعت اور احتیاط پیدا کی۔
خدایا! تو میرا پروردگار ہے، میری ساری ضرورتوں کو جانتا ہے، تو یہ بھی جانتا ہے کہ میرے حق میں کیا بھلا ہے اور کیا براہے۔ تو اچھی طرح جانتا ہے کہ اس وقت میں محتاج اور فقیر ہوں، اس طرح انھوں نے بارگاہ خداوندی میں اپنی خودسپردگی کا بھی مظاہرہ فرما دیا۔
انسانی فطرت ہے کہ جو ضرورت زیادہ پریشان کن ہو صرف اس کی طرف اس کا دھیان ہوتا ہے۔
پریشانی کی وجہ سے دوسری ضرورتیں اس کے قلب و دماغ سے اوجھل ہو جاتی ہیں۔ چاہے وہ اس متذکرہ ضرورت سے زیادہ اہم ہو۔
جس وقت حضرت موسیٰ اپنے خدا سے دعا کر رہے تھے اس وقت انھیں بہت سی ضرورتیں لاحق تھیں۔
بھوک سب سے زیادہ پریشان کن ضرورت تھی۔ وہ حکومت فرعون کا ایک جرم کرکے بھاگے تھے ''ولھم علیّ ذنب'' اس لئے انھیں پناہ کی ضرورت تھی۔
وہ غریب اور مسافر تھے، اس لئے ایک مسکن کی ضرورت تھی۔ ان کی زندگی تنہائی کا کرب جھیل رہی تھی اس لئے رفیقۂ حیات کی ضرورت تھی۔
حضرت موسیٰ نے اپنی دعا میں وسعت پیدا کی تو خدا نے ان کی مجموعی ضرورت کا خیال رکھا۔ انھیں پناہ بھی دی، مسکن بھی دیا، رفیقۂ حیات بھی دی اور آئندہ میدان عمل میں جولانی کے لئے حضرت شعیب علیہ السلام جیسی معصوم سرپرستی بھی عطا کر دی جن کی تبلیغی جد و جہد کا تذکرہ سورہ اعراف ٨٥ سے ٩٣ میں مذکور ہے۔
دعا کی اسی وسعت و جامعیت کی وجہ سے خدا نے موسیٰ کی اس تمنا کو قرآن جیسی ابد آثار قانونی کتاب میں جگہ دیدی ہے۔

مقالات کی طرف جائیے