مقالات

 

حضرت آمنہ؛ خاتم الانبیاء کی مادر گرامی

"آمنہ" وہب بن عبد مناف کی بیٹی، جن کی مادر گرامی " برہ" بنت عبد العزی تھیں۔[1] ان کا نسب پاک کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی تک پہنچتا ہے۔ "آمنہ " کے ماں باپ آپس میں چچیرے بھائی بہن تھے۔
"بنو زھرہ " کا خاندان ہمیشہ قریش کے ساتھ بافخر اور با شکوہ واقعات میں برابر کا شریک تھا، مکہ کی تاریخ کو، ان کے بافخر نام سے زینت دی گئی ہے۔
عبد مناف، آنحضرت کے تیسرے جد، کا نام مغیرہ تھا [2] انہیں قمر البطحاء کہا جاتا تھا، انہیں لوگوں کے دلوں میں ایک خاص مقام حاصل تھا ، مورخین نے ان کے بارے میں یہ لکھا ہے: پرھیزگاری ، تقوی کی طرف دعوت ، لوگوں کے ساتھ حسن سلوک ، صلہ رحم ان کا پیشہ تھا۔ حجاج کو پانی پہنچانا اور حجاج بیت اللہ الحرام کی مہمان نوازی عبد مناف کے بیٹوں کے ذمے تھی، یہ عالی منصب ان کے لیے پیغمبر اکرم(ص) کے زمانے تک قائم تھا۔
"آمنہ " قمر البطحاء (مکہ کے چاند) کی بیٹی نہ صرف ظاھری طور پر خوبصورت تھیں بلکہ انھوں نے پرھیزگاری ،مہمان نوازی وغیرہ کو اپنے باپ سے ورثہ میں پایا تھا۔ " برہ" حضرت آمنہ کی ماں بھی " بنی کلاب" کے شریف اور بزرگ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، وہ نسب میں وھب بن عبد مناف کے ساتھ شریک ہیں، "برہ" کی ماں ام حبیبہ بھی اسی نسب سے " ارحام مطھرہ" کے خوبصورت جلوؤں میں سے تھیں۔

حضرت آمنہ(س) کی اعلیٰ خصوصیات
جو بھی چیز انسان کو جاودان اور ہمیشگی عطا کرتی ہے وہ اس کے نیک صفات اور عظیم اخلاق ہیں ، انساںوں کی اخلاقی خصوصیات ان کی شخصیت کی عظمت کو نمایان کرتی ہیں ۔
یہ اعلی ترین صفات شیخ البطحاء حضرت عبد المطلب ، کی زبانی یوں بیان ہوئی ہیں ، عبد المطلب ، آمنہ کا رشتہ مانگنے سے پہلے بنی ہاشم کے باعزت نوجوان عبد اللہ کے پاس آئے اور یوں کہا :
میرے بیٹے، آمنہ ایک ایسی لڑکی ہے جو تمہاری رشتہ دار ہے مکہ میں کوئی اورلڑکی اس جیسی نہیں ہے، پھر فرمایا : خدا کی عزت و جلال کی قسم ، کہ شہر مکہ میں اس جیسی کوئی اور لڑکی نہیں ہے کیونکہ وہ با حیاء اور باادب ہے ، اس کی روح پاک ہے ، وہ عاقل سمجھ دار اور دیندار لڑکی ہے : فو اللہ ما فی بنات اھل مکہ مثلھا لانھا محتشمۃ فی نفسھا طاھرۃ و مطھرہ عاقلۃ دیںہ[3]
اس خاتون کی گہری نظر ، عفت اور پاکدامنی اتنی زیادہ تھی کہ تاریخ نے یوں لکھا ہے[4] : آمنہ اس دور میں نسب اور بیاہ کے لحاظ سے قریش کی با فضیلت لڑکیوں میں تھی۔
اس خاتون کی دوسری عمدہ صفات میں سادہ زندگی، اور مادی جلوؤں سے دوری تھی جیسا کہ آنحضرت نے فرمایا[5]: بے شک میں قریش کے اس خاتوں کا بیٹا ہوں جو سوکھا گوشت کھاتی تھی، انما انا ابن امرءۃ مں قریش تاکل القدید"

حضرت آمنہ کی دینداری
آنحضرت (ص) کو سید الناس و دیان العرب " کہتے تھے۔
بعض لوگ تاریخی اور عقیدتی مسائل کو سطحی نظر سے دیکھ کر یہ کہتے ہیں: چونکہ آمنہ اسلام کے ظہور سے پہلے رہتی تھی لہذا وہ مومنہ نہیں ہوسکتی تھی پس وہ مشرک خواتین میں سے ہیں " لیکن مسلمان مورخین اور محققین کایہ عقیدہ ہے کہ آنحضرت کے آباء اور امہات سب مومن تھے۔
وہ اپنی بات ثابت کرنے کے لیے اس حدیث سے استناد کرتے ہیں: لم یزل ینقلنی اللہ من اصلاب الشامخۃ الی الارحام المطھرات حتی اخرجنی الی عالمکم ھذا و لم یدسننی دنس الجاھلیۃ " [6]
خداوند نے مجھے پاک پشتوں سے پاک رحموں میں منتقل کیا ہے یھاں تک کہ میں اس تمہاری دنیا میں آیا اور کبھی بھی میں جاھلیت کے افکار اور ناپاکیوں سے آلودہ نہیں ہوا ہوں۔
اس حدیث شریف سے جو مختلف عبارتوں میں نقل ہوئی ہے حضرت آمںہ کا پاک ہونا اور ان کا فطری طہارت ثابت ہوتی ہے۔
مسلماںوں میں اھل سنت سے تعلق رکھنے والے مختلف مکاتب فکر کے علماء نے حضرت آمنہ کے پاک ہونے کو ثابت کرنے کے لیے یہ روایت بیان کی ہے کعب الاحبار نے معاویہ سے کہا میں نے بہتر کتابوں میں پڑھا ہے کہ فرشتے حضرت مریم اور آمنہ بنت وھب کے علاوہ کسی اور پیغمبر کی ولادت کے لیے زمیں پر نازل نہیں ہوئے نیز مریم اور آمنہ کے علاوہ کسی اور عورت کے لیے بہشتی حجاب نہیں لے آئے ہیں[7]
واقدی اور اھل سنت کے مختلف مذاھب کے علماء نے اس حدیث کو نقل کرکے بیان کیا ہے.
خداوند متعال کبھی بھی ایک کافر عورت کو حضرت مریم جیسی با ایمان عورت کے مقابلے میں قرار نہیں دے سکتا ہے اگر حضرت آمنہ با ایمان نہ ہوتیں تو کبھی بھی حضرت مریم کے مقامات ان کے لیے موجود نہ ہوتے کیونکہ ایمان اور کفر کے درمیان بہت بڑا فاصلہ ہے اور یہ دو کبھی جمع نہیں ہوسکتے [8]
شیخ صدوق بھی اپنی کتاب اعتقاد میں بیان کرتے ہیں : اعتقادنا فی آباء النبی انھم مسلمون من آدم الی ابیہ و ابا طالب و کذا آمنہ بنت وھب ام رسول اللہ [9]
ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ آنحضرت (ص) کے باپ دادا، حضرت آدم سے حضرت عبد اللہ تک اور ابو طالب اور اسی طرح آمنہ ، حضرت رسول اللہ (ص) کی مادر گرامی بھی مسلمان ہیں.
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: جبرئیل حضرت رسول اکرم (ص ) پر نازل ہوئے اور فرمایا: یا محمد (ص) ان اللہ یقرئک السلام ۔۔۔[10]
اے محمد(ص) خداوند متعال آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے : " میں نے اس صلب اور پشت پر جس میں آپ منقتل ہوئے ہیں اور اس رحم پر جس نے تمہیں حمل کیا اور اس دامن پر جس نے تمہاری تربیت کی آگ حرام کردی ہے۔
مرحوم مجلسی رقمطراز ہیں: یہ حدیث حضرت عبد اللہ ، حضرت آمنہ ، حضرت ابو طالب کے ایمان کو ثآبت کرتی ہے کیوںکہ خداوند متعال نے سب مشرکوں اور کفار پر عذاب کو واجب کیا ہے اگر یہ مومن نہ ہوتے تو آگ ان پر حرام نہیں ہوتی۔

با حجاب ، با حیاء اور محتشمہ
اس خاتون کی ایک اور خصوصیت ان کی حیاء اور ادب تھا ، جس کو عربوں کے درمیان محتشمہ کے نام سے جانتے ہیں۔
لغت کی کتابوں میں اس لفظ کی یوں تعریف کی گئی ہے :احتشام و ھو افتعال من الحشمہ بمعنی الانقباض و الاستحیاء و الحشمہ و الحیاء و الادب ، احتشام حشمت سے لیا گیا ہے جس کے معنی شان و شوکت ، با حیاء اور با ادب ہونے کے ہیں۔[11]
حشمت کے معنی ادب اور حیاء کے ہیں یہ خوبصورت صفات جن خواتین کے اندر موجود ہوتی ہیں وہ اسی کے زیر سایہ جسمانی اور روحانی سکون حاصل کرسکتے ہیں۔
عبد المطلب کی بیوی "فاطمہ" کا حضرت آمنہ سے رشتہ مانگنے کا واقعہ اور جو کچھ اس محفل میں واقع ہوا عرب کی اس عظیم لڑکی کے باادب اور با حیاء ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ جب عبد المطلب کی زوجہ وھب بن عبد مناف کے گھر آئیں، تو آمنہ ان کے سامنے میں کھڑی ہوگئیں اور انہیں خوش آمدید کھہ کر گھر کے اندر لے گئی ، جب فاطمہ نے حضرت آمنہ کی خصوصیات اور ان کے نیک اخلاق کو مشاھدہ کیا تو ان کی ماں سے کہا: میں نے اس سے پہلے بھی آمنہ کو دیکھا تھا مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنی حسین اور با کمال لڑکی ہوگی۔
پھر جب حضرت آمنہ نے گفتگو کی ، تو فاطمہ نے اسے مکہ کی سب سے فصیح خاتون پایا وہ اپنی جگہ سے اٹھیں اور عبد اللہ کے پاس آکر فرمایا: میرے بیٹے میں نے عرب لڑکیوں کے درمیان اس جیسا کسی کو نہیں پایا میں نے اس کو تمھارے لیے پسند کرلیا۔

عقلمندی اور سمجھ داری
سمجھ دار اور عقلمند ہونا اولیاء الھی کے صفات میں سے ہے، عبد المطلب نے حضرت آمنہ کی " عاقلہ" یعنی عقل مند کے نام سے تعریف کی ہے۔ حضرت آمنہ عربوں کی عقل مند خاتون ،فھم اور سمجھ میں بے نظیر تھیں ، موت کے وقت اس عظیم خاتون کی گفتگو سے ان کے فھم اور عقل کا کمال سامنے آیا۔ وہ اپنے بیٹے حضرت محمد (ص) سے کہتی ہیں :"کل حی میت و کل جدید بال و کل کثیر یفنی ، و انا میت و ذکری باق و قد ترکت خیرا و ولدت طھرا "ہر زندہ مرجائے گا ہر نیا پرانا ہوگا ، ہر جماعت فنا پذیر ہوگی میں بھی مرجاؤں گی لیکن میری یاد ہمیشہ رہے گی ، میں نے خیر(اپنا بیٹا) باقی رکھا اور ایک پاک و پاکیزہ مولود کو جںم دیا [12]

فصاحت و بلاغت
مکہ کی اس لائق لڑکی کی ایک اور صفت اس کی شیرین بیانی اور قوت کلام تھی، جو اشعار اس کے موجود ہیں وہ اس کی دلیل ہیں۔ اس نے اپنے بیٹے حضرت محمد(ص) کو خطاب کرکے بیان کیا ہے :۔
ان صح ما ابصرت فی المنام فانت مبعوث علی الانام
من عند ذی الجلال و الاکرام تبعث فی الحل و فی الحرام
تبعث بالتحقیق و الاسلام دین ابیک البر ابراھیم
فاللہ انھاک عن الاصنام ان لا توالیھا مع الاقوام

خلاصہ کے طور پر شعر کے معنی یوں ہیں:
جو خواب میں دیکھا ہے اگر صحیح ہوگا تو تم لوگوں پر مبعوث ہوجاو گے۔
خدا کی طرف سے جو صاحب جلال و الاکرام ہے، حلال اور حرام کو بیان کرنے کے لئے۔
تم مبعوث ہوں گے حق بیان کرنے کےلیے اور اسلام پر جو تمہارے باپ حضرت ابراھیم کا دین ہے ، کیونکہ خدا نے تمہیں بتوں کی عبادت اور بت پرستوں کی پیروی سے دور رکھا ہے۔

پاک و طاھرہ ، عفیفہ
حضرت آمنہ کی طہارت و پاکیزگی اھل مکہ پر پوشیدہ نہیں تھی ، یہ طہارت مختلف مواقع پر عربوں کے مختلف اشعار اور الفاظ میں بیان کی گئی ہے اس کریم خاتون کی توصیف میں یوں لکھا گیا ہے : "انھا کان وجھھا کلفلقۃ القمر المضیئہ و کانت مں احسن النساء جمالا و کمالا و افضلھن حسبا و نسبا"بے شک کہ آمنہ کا چہرہ چمکتے چاند کے مانند تھا وہ عورتوں میں سب سے خوبصورت اور با کمال خاتون تھیں وہ صفات اور حسب و نسب میں سب سے بہترین تھیں"

بہترین شادی
بے شک حضرت عبد اللہ اور حضرت آمنہ کی شادی کا ثمر سب سے عزیز اور شریف النفس انسان کی ولادت تھی ، اس لئے ان کی شادی سب سے اہم اور با برکت شادی مانی جاتی ہے کیونکہ اس شادی کے بے شمار مثبت نتائج کے علاوہ یہ شادی خود بخود بھی مقدس اور دینی رسوم کے مطابق انجام پائی تھی ہمیں اس شادی کے لیے مادی اور ظاھری توجیہ کو مد نظر نہیں رکھنا چاھیئے، کیونکہ عرفان اور فلسفہ کے مسلمات کے مطابق عالم وجود میں کوئی واقعہ خودبخود رونما نہیں ہوتا بلکہ ہر چیز ایک علت و سبب کا معلول اور مسبب ہوتا ہے، اس لئے دو انسانوں کا ملنا بھی اسباب و عوامل کے مطابق ہوتا ہے ، چونکہ خداوند متعال کے علم ازلی میں یہی مقدر تھا کہ سب سے عظیم موجود یعنی حضرت رسول اکرم (ص) (نہ کہ حضرت آدم جو بغیر ماں و باپ کے پیدا ہوئے اور نہ ہی حضرت عیسی جو بغیر باپ کے پیدا ہوئے ) ایک پاکدامن خاتون کے دامن سے اس دنیا میں تشریف لائیں لہذا بے شک ان دو انسانوں کی شادی ایک عام اور معمولی شادی نہیں تھی ، بلکہ یہ سب سے مبارک شادی تھی اور خداوند متعال کی ایک خاص نظر عنایت ان پر تھی [13]

شادی کا طریقہ
حضرت عبد اللہ کی حضرت آمنہ سے شادی کا واقعہ مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے ، عظیم عالم مرحوم شیخ عباس قمی اس سلسلے میں رقمطراز ہیں" جب عبد اللہ نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا نبوت کا نور اس کی پیشانی سے چمکنے لگا ، اس علاقے کے سب اکابر اور اشراف یہ تمنا کرتے تھے کہ ان سے اپنی بیٹی کا نکاح کریں تا کہ اس نور میں شریک ہونے کا شرف حاصل کر سکیں۔ کیونکہ حسن و جمال میں وہ یکتا فرد تھے اور ہر دن کے گزرنے سے ان سے مشک و عنبر کی خوشبو سونگھی جاسکتی تھی ، مکہ کے لوگ انہں "مصباح الحرم" کہتے تھے یہاں تک کہ تقدیر الھی سے عبد اللہ حضرت رسالتماب کے گوھر کے صدف یعنی حضرت آمنہ بنت وھب بن عبد مناف بن زھر بن کلاب بن مرۃ سے متصل ہوگئے۔ [14]
"برہ" آمنہ کی ماں اپنے شوھر وھب کے ساتھ مشورہ کرنے کے بعد عبد المطلب(ع) کے گھر آئیں اور حضرت عبد اللہ کے ساتھ اپنی بیٹی آمنہ کی شادی کی تجویز پیش کی ، انہوں نے بڑے فخر سے کہا: ہماری بیٹی آپ کے فرزند حضرت عبد اللہ کے لیے بہترین ہمسر ہے، عبد المطلب نے اپنے بیٹے کی جانب مڑ کر فرمایا: میرے بیٹے اس سلسلے میں تمھارا کیا خیال؟ خدا کی قسم مکہ کی لڑکیوں کے درمیان آمنہ جیسی کوئی لڑکی موجود نہیں ہے۔ کیونکہ وہ با حیا ، با ادب ، عقلمند ، اور دین دار اور پاک دامن لڑکی ہے۔
حضرت عبد اللہ کی خاموشی سے ان کے والد نے سمجھ لیا کہ وہ اس رشتے سے راضی ہیں۔ اس وقت عبد اللہ کی ماں فاطمہ نے کہا : میں برہ کے ساتھ ان کے گھر جاتی ہوں اور ان کی بیٹی آمنہ کو دیکھ لوں گی ، اگر میں نے اس کو اپنے بیٹے عبد اللہ کے لیے مناسب پایا تو میں اس رشتے پر راضی ہوجاؤں گی۔
جب عبد المطلب کی بیوی فاطمہ وھب بن عبد المناف کے گھر آئی ، آمنہ نے مسکراھٹ سے انہیں خوش آمدید کہہ کر ان کا احترام کیا، آخر کار جب فاطمہ ںے آمنہ کی لیاقت ، معنوی کمالات، اور ظاھری حسن کو نزدیک سے مشاھدہ کیا، اور اس کے چہرے سے جھلکتے نور کو ملاحظہ کیا تو کہا، برہ ، میں نے اس سے پہلے بھی آمنہ کو دیکھا تھا لیکن میں نہیں سوچتی تھی کہ وہ اتنی حسین اور با کمال اور دلنشین ہوگی۔ گفتگو کے درمیان اسے اس بات کا اندازہ ہوا کہ آمنہ بات بھی بڑے فصیح اور ادیبانہ انداز میں کرتی ہے ، تو حضرت عبد المطلب اور عبد اللہ کے پاس آکر کہا: میرے بیٹے ! عرب لڑکیوں کے درمیان اتنی با لیاقت لڑکی موجود نہیں ہےوہ میرے دل میں بیٹھ گئی ہے اور اس کو تمہارے لئے منتخب کیا ہے۔
ابتدائی گفتگو کے بعد عبد المطلب وھب کے گھر آئے اور رسمی طور پر آمنہ کا ہاتھ مانگا آمنہ کے باپ نے خوشی خوشی اور رضایت سے کہا: اے عبد المطلب میری بیٹی آپ کے بیٹے کے لیے ایک ہدیہ ہے مجھے کسی طرح کا مھرنہیں چاھیئے۔
عبد المطلب نے کہا: خدا آپ کو نیک جزا عنایت کرے، لڑکی کا مہر ہونا چاھیئے اور ہماری طرف سے اور آپ کی طرف سے کچھ افراد اس پر شاھد رہیں۔ اس کے بعد ایک محفل جشن کا اہتمام کیا گیا اور دونوں طرف کے رشتہ نے شادی کی تقریب میں شریک ہوکر اس مبارک شادی کے گواہ رہے، یہ جشن چار دن تک جاری رہا اور اس مدت میں عبد المطلب نے پورے اھل مکہ اور اس کے اطراف میں رہنے والے لوگوں کو ولیمہ کے لیے دعوت دی اور اس طرح حضرت عبد اللہ نے آمنہ کے ساتھ عقد نکاح کیا۔ [15]
مسعودی نے حضرت عبد اللہ اور حضرت آمنہ کی شادی کی کیفیت کے بارے میں لکھا ہے ، جب عبد اللہ نے اپنے باپ حضرت عبد المطلب سے کہا : اے میرے بابا ، میں نے خواب میں دیکھا کہ "بطحاء " سے باہر آیا ہوں اور میری پشت سے دو نور نکل آئے ایک مشرق کی جانب اور دوسرا نور مغرب کی جانب پھیل گیا اور وہ دو نور بڑی تیزی سے پلک چھپکتے ہی میری پشت میں چلے گئے۔
حضرت عبد المطلب نے کہا: اگر تمھارا خواب سچا ہوگا تو تم سے عالم کی بہترین مخلوق وجود میں آئے گی۔
کہا جاتا ہے کہ حضرت عبداللہ نے ۲۵ یا تیس سال کی عمر میں شادی کی[16] جو نکتہ قابل توجہ ہے کہ حضرت آمنہ حضرت عبد اللہ کی چچیری بہن تھی۔
تاریخ میں آیا ہے کہ ذبیحہ عبداللہ کے واقعہ کے بعد جس میں ایک سو اونٹ کو نحر کیا گیا عبد المطلب نے عبد اللہ کو وھب بن عبد مناف جو اس زمانے میں اپنے قبیلے یعنی قبیلہ بنی زھرہ کے بزرگ تھے کے گھر لے آئے اور ان کی بیٹی حضرت آمنہ جو اس زمانے میں نسب اور مقام کے لحاظ سے قریش کی عظیم خاتون تھیں، سے شادی کرائی۔[17]
حضرت عبد المطلب نے اس محفل میں خطبہ عقد پڑھا اٹھ کر حمد و ثنا الھی بجا لانے کے بعد لڑکی کے گھر والوں سے مخاطب ہوکر فرمایا: یہ عبد اللہ میرا بیٹا جس کو آپ سب جانتے ہیں ، آپ کی لڑکی آمنہ سے ایک معین مھر کے مقابلے میں رشتہ مانگتا ہے کیا آپ لوگ راضی ہیں؟
آمنہ کے باپ وھب نے کھا ! جی ہاں، ہم اس رشتہ پر مکمل طور پر راضی ہیں۔
عبد المطلب نے کہا: اے حاضرین مجلس ، آپ سب اس پر گواہ رہنا ، پھر دونوں گھرانوں نے آپس میں ہاتھ ملایا ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کی اور گلے لگایا [18]
عبد اللہ نے اپنی پوری عمر میں صرف آمنہ سے شادی کی اور دوسری شادی نہیں کی۔ اس طرح حضرت آمنہ نے عبد اللہ کی موت کے بعد کئی سال تک اس دنیا میں رہ کرہی رحلت فرمائی ، اس مبارک شادی کا ثمرہ صرف ایک فرزند تھا اور وہ بھی حضرت خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی (ص) کا وجود مقدس [19]

حضرت عبد اللہ کا تجارتی سفر اور ان کی رحلت
عبد اللہ کی زندگی میں شادی کے بعد ایک نئی فصل کا آغاز ہوا جس نے اس کی زندگی کے گوشے گوشے کو حضرت آمنہ جیسی بیوی کے ذریعے روشن کیا ، شادی کے کچھ ہی مدت کے بعد وہ تجارت کی غرض سے ایک کاروان کے ساتھ مکہ سے شام کی جانب روانہ ہوئے۔
نکلنے کا وقت آیا اورکاروان چل پڑا اس کاروان نے سو دلوں کو اپنے ساتھ لیا، اس وقت حضرت آمنہ حاملہ تھیں ، کچھ ہی مہینوں کے بعد جب کاروان کی گھنٹیاں سنائی دینے لگی اور مکہ کے بہت سے لوگ اپنے عزیزوں کے استقبال کے لئے شہر کے باہر چلے آئے۔
عبد اللہ کے باپ بھی اپنے بیٹے کے انتظار میں تھے، ان کی بہو کی آنکھیں بھی کاروان میں عبد اللہ کو ڈھونڈ رہی تھیں ، لیکن صد افسوس کہ وہ کارواں کے درمیان موجود نہیں تھے، تحقیق کے بعد پتا چلا کہ عبد اللہ یثرب میں واپسی کے دوران بیمار ہوئے وہ آرام کرنے اور تھکاوٹ دور کرنے کے لیے وہاں اپنے رشتہ داروں کے یہاں ٹھر گئے، اس خبر سے ان دونوں کے چہروں پر غم و اندوہ چھا گیا اور ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب آمڈ آیا۔
عبد المطلب نے اپنے بڑے بیٹے حارث کو یثرب بھیجا تا کہ وہ عبد اللہ کو اپنے ساتھ مکہ واپس لائے ، لیکن جب وہ مدینہ پہنچا تو اسے یہ اطلاع ملی کہ عبد اللہ کاروان نکلنے کے ایک مہیںے کے بعد اسی بیماری کی وجہ سے اس دنیا سے چل بسے۔
حارث نے واپس آکر پورا ماجرا عبد المطلب کو سنایا عبد اللہ اس کی بیوی کو بھی ان کے شوھر کی سرگزشت سے مطلع کیا ، جو کچھ ان کے مال سے باقی رہ گیا تھا وہ پانچ اونٹ ، بھیڑوں کا ایک جھنڈ ایک لونڈی "ام ایمن" کے نام سے تھی جو حضرت رسول اکرم (ص) کی خدمتگار بنی [20]
عفا جانب البطحاء من آل ھاشم
و جاور لحدا خارجا فی القماقم
دعتہ المنایا دعوہ فاجابھا
و ما ترکت فی الناس مثل ابن ھاشم
عشیہ راحوا یحملون سریرہ
تعاورہ اصحابہ فی التزاحم
فان تک غالیہ المنون و ریبھا
فقد کان معطا کثیر التراحم [21]
ترجمہ:
بطحاء (مکہ) کی آغوش میں ، ھاشم کے خاندان کا چشم و چراغ گم ہوگیا ، ( اس نے خاک کا لباس پہنا)
وہ لحد میں سو گیا، جبکہ وہ بخشش اور بزرگواری میں مشہور تھا، (دوسروں کے زباں زد تھا)
موت نے اسے لپیٹ لیا ، اس نے ملک الموت کی دعوت کو لبیک کہا، اور ھاشم کو، فرزند کے مانند لوگوں میں نہیں چھوڑ دیا ،
رات کے وقت چلا گیا اپنا بستر اٹھا کر اس کے احباب اس کے جسد پر جمع ہوئے۔
اگر موت اور زمانے کے حوادث نے اس کو ہم سے چھین لیا کوئی بات نہیں کیونکہ وہ بہت سخی اور مہربان تھا۔

پیغمبر کے نور کی حامل
شوھر کی وفات کے بعد سب سے بڑی عزت حضرت آمنہ کو عطا ہوئی انہیں حضرت رسول اکرم کے نور کا حامل ہونے کا فخر حاصل ہوا ان کے شکم مبارک کو خداوند حکیم نے حضرت رسول اکرم (ص) کے رشد و نمو کرنے کے لیے انتخاب کیا تھا وہ سب سے بہترین جگہ تھی، اسی بناء پر حضرت آمنہ عالم وجود کی سب سے بہترین ماں تھیں ، کیونکہ ان کا شکم مبارک ہی آنحضرت کی پرورش اور تخلیق کے لیے باقی عورتوں کے شکم کی بہ نسبت زیادہ ھموار تھا۔

حمل کے دوران اور اس کے بعد آںحضرت کے معجزات اور کرامات۔
جو غیر معمولی اور غیبی واقعات، کرامات حضرت آمنہ کے حمل کے دوران اور اس کے بعد واقع ہوئیں ان میں سے بعض کا یہاں پر ذکر کرنا ضروری ہے۔
اس عظیم القدر خاتون سے منقول ہے کہ فرمایا: جب میں آنحضرت کے نور سے حاملہ تھی مجھے ان تکالیف اور سختیوں کا احساس ہی نہیں ہوا جو عام عورتیں، حمل کے دوران اٹھاتی ہیں۔ میں نے خواب میں دیکھا جیسے کہ کوئی میرے پاس آیا اور کہا: تم بہترین انسان کی حاملہ ہو جب ولادت کاوقت نزدیک آیا وضع حمل میرے لئے بہت آسان ہوا اور میں حمل سے فارغ ہوئی[22]
تیسری صدی ہجری کے مشہور مورخ ابن ھشام رقمطراز ہیں : حضرت آمنہ نے کہا ہے کہ جب حضرت رسول خدا(ص) میرے شکم میں تھے میں نے ایک آواز سنی جو یہ کہتی تھی اے آمنہ ! کیا تم جانتی ہو کہ تمہارے بطن مبارک میں کون ہیں ، وہ پیغمبر آخر الزمان ہیں ، جب وہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو یہ ذکر اس پر پڑھنا اور اس کے بعد اس کا نام محمد رکھنا ، اعیذہ بالواحد من شر کل حاسد اس کو ہر حسد کرنے والے سے خداوند متعال کی پناہ میں رکھتی ہوں۔
دوسری کرامت یہ تھی کہ مکہ کے لوگوں پر نعمت اور مناسب وقت پر رحمت کی بارشیں ہوتی تھیں۔

کتاب " العدد" میں اس سلسلے میں آیا ہے :مروی ہے کہ قریش کا قبیلہ شدید قحط میں مبتلا ہوا اور زندگی سختی سے گزرتی تھی، یہاں تک کہ حضرت آمنہ بنت وھب حضرت رسول اکرم (ص) سے حاملہ ہوئیں ، تو مکہ کی زمین سر سبز اور درخت پھلوں سے بھر گئے اور ہر جانب سے مسافر مکہ کی جانب آنے لگے اور ان کی وجہ سے تجارت اور اقتصاد کو چار چاند لگ گئے نتیجہ کے طور پر مکہ کے لوگوں کو بہت زیادہ نعمتیں نصیب ہوئیں اس لئے جس سال حضرت رسول(ص) شکم مادر میں آئے اس سال کو سالِ فتح ، استیفاء اور ابتہاج کا نام دیا گیا۔
مشہور روایت کی بناء پر حضرت آمنہ کے فرزند نے اپنے باپ کی رحلت کے دو مہینے بعد ولادت پائی ۔ اسی لئے ان کی سرپرستی ان کے دادا حضرت عبد المطلب نے اپنے ذمہ لی ، ان کو قریش کے درمیان موجود رسم کے مطابق صحرا میں رہنے والی "حلیمہ" کے سپرد کیا گیا جو شرافت اور لیاقت کے لحاظ سے بہت مشہور تھیں تاکہ وہ آنحضرت کو دودھ پلائیں اور آںحضرت، صحرا کی کھلی فضا میں پرورش پائیں۔ اور مکہ میں موجود بیماریوں سے محفوظ رہیں گے۔

نام گزاری
ساتواں دن آن پہنچا عبد المطلب نے خداوند متعال کی بار گاہ میں شکرانہ کی غرض سے ایک بھیڑ ذبح کیا کچھ افرا کی دعوت کی اور اس عظیم الشان جشن میں جس میں سب قریش کو دعوت کی گئی تھی اپنے بیٹے کا نام "محمد" رکھا ، یہ نام عربوں کے درمیان رائج نہیں تھا ، انھوں نے کہا میں چاھتا ہوں کہ آسمان اور زمین میں اس کی تعریف کی جائے اس سلسلے میں آنحضرت کے دور کا مشہور شاعر حسان بن ثابت کہتا ہے:
فَشَقَّ لَہٗ مِنْ اِسمِہِ لِیُجِلّہ
فَذُو الْعَرْشِ مَحْمُودُ وَ ھٰذَا مُحَمّدُ
خداوند متعال نے اپنے ناموں سے آنحضرت کے لیے ایک نام مشتق کیا اسی لئے خدا محمود اور اس کے پیغمبر محمد ہیں دونوں لفظ ایک ہی مادہ سے مشتق ہیں اور ان کے معنی ایک ہی ہیں۔ [23]
اس نام کے انتخاب میں بے شک خدائی الھام موجود تھا ، کیونکہ محمد کا نام اگرچہ عربوں کے درمیان مشہور تھا لیکن بہت کم بچوں کا آج تک یہ نام رکھا گیا تھا ، بعض دقیق تحقیقات کے مطابق جو مورخوں نے انجام دیتی ہیں اس زمانے تک صرف سولہ آدمیوں کا نام محمد تھا اسی لئے شاعر کہتا ہے۔
ان الذین سموا باسم محمد
من قبل خیر الناس ضعف ثمان [24]
جن کا آنحضرت سے پہلے محمد نام رکھا گیا تھا وہ صرف سولہ تھے۔
یہ واضح ہے کہ جتنا بھی ایک لفظ کا مصداق کم ہو اس کے بارے میں غلطی کم ہوتی ہے کیونکہ آسمانی کتابوں نے آنحضرت کے نام ، جسمانی اور روحانی علامتوں اور نشانوں کو بیان کیا ہے، تو آنحضرت کے صفات اتنے واضح ہونے چاھئیں کہ اس میں کسی طرح کی غلطی ممکن نہ ہو ، ان علامتوں میں ایک علامت آنحضرت کا نام گرامی ہے۔اس نام کے مصادیق اتنے کم ہونے چاھئیں تا کہ آنحضرت کی تشخیص میں ہر طرح کا شک و شبہہ ختم ہوجائے ، خصوصا جب دوسری صفات اور علامتیں اس نام میں ضمیمہ ہوجائیں ، تاکہ وہ انسان واضح طور پر پہچانا جائے جس کے ظہور کی خبر توریت اور انجیل نے دی ہے۔[25]

ابواء،حضرت آمنہ کی منزل اورمعراج
ابواء، مکہ اور مدینہ کے درمیان "ودان" نامی جگہ کے نزدیک ایک چھوٹے سے گاؤں کا نام ہے جو سقیا سے انیس اور جحفہ سے ۲۷ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ [26]
اس مقدس جگہ پر حضرت آمنہ کی قبر مطہر واقع ہے اس عظیم خاتوں کو یہاں پر دفنانے کا سبب یہ تھا کہ حضرت عبداللہ ہمیشہ مدینہ ، خرما لے جانے کےلیے یہاں آتے تھے ایک دن وہ مدینہ پہنچ کر ہی اس دنیا سے رحلت کرگئے حضرت عبد اللہ کی وفات کے بعد حضرت آمنہ اپنے شوھر کی قبر کی زیارت کےلئے ہر سال جاتی تھیں جب آنحضرت چھ سال کی عمر کو پہنچے حضرت آمنہ اپنے معمول کے مطابق اپنے شوھر کی قبر مبارک کی زیارت کے لئے مدینہ کی جانب روانہ ہوئیں اس سفر میں حضرت عبد المطلب اور ام ایمن رسول اکرم (ص) کی دائی بھی ان کے ہمراہ تھی حضرت آمنہ کی رحلت ہجرت نبوی کے ۴۵ سال قبل ۵۷۵ ء میں واقع ہوئی ، جب وہ قبر مطہر کی زیارت سے فارغ ہوئیں اور مکہ کی جانب روانہ ہوئیں تو راستے میں ابواء نامی جگہ پر اس دار فانی سے چل بسیں اور ملکوت اعلی کو پہنچ گئیں۔[27]
ایک روایت میں آیا ہے کہ رحلت کے وقت حضرت آمنہ نے رسول اکرم (ص )کے نورانی چہرے پر نظر رکھی اور یہ اشعار پڑھے۔
بارک فیک اللہ من غلام
یابن الذی من حومہ الحمام
نجابعون الملک المنعام
فدی غداہ الضرب بالسھام
بماۃ من ابل سوام
ان صح ما ابصرت فی المنام
فانت مبعوث الی الانام
تبعث فی الحل و فی الحرام
تبعث فی التحقیق و الاسلام
دین ابیک البر ابراھام
فاللہ انھاک عن الاصنام
ان لا توالیھا مع الاقوام
یعنی اے میرے فرزند خداوند تمہیں خیر اور برکت عطا کرے ، اے اس کے فرزند جس کو خدا نے اپنے فضل و کرم سے موت سے محفوظ رکھا۔
اس دن کہ جب عبد اللہ اور اونٹوں کے درمیان قرعہ ڈالا گیا اور ایک سو قیمتی اونٹ اس پر فدا کئے گئے۔
اگر جو کچھ میں نے خواب میں دیکھا سچ ہوگا تو بے شک جلدی تم کائنات کے لئے مبعوث ہوجاؤ گے تا کہ لوگوں کو حلال و حرام سکھاؤ
اسلام کے متحقق ہونے کے لیے وہی دین جو تمہارے دادا حضرت ابراھیم کا دین ہے اسی بر مبعوث ہو گے۔
خدا نے تمہیں اور سب لوگوں کو بتوں کی عبادت سے روکا ہے اور اسی طرح تم کو ان کی دوستی سے دور رکھا ہے۔
اس کے بعد فرمایا:
کل حی میت و کل جدید بال و کل کثیر یغنی و انا میت و ذکری باق و قد ترکت خیرا و ولدت طھرا۔[28]
ہر زندہ مرجائے گا اور ہر نیا پرانا ہوگا ہر زیادہ کم ہوگا میں مرجاؤں گی لیکن میرا ذکر باقی ، زندہ اور جاوداں ہوگا کیوں کہ میں نے ایک نیک اور پاکیزہ فرزند یادگار کے طور پر چھوڑدیا ہے۔

اپنی ماں کے مزار پر آنحضرت کی عزاداری۔
جو کچھ مسلم ہے کہ رسول اکرم(ص) اپنی ماں کی رحلت کے بعد ان کی زیارت کےلیے تشریف لے جاتے تھے اور اس عمل کو کئی مرتبہ انجام دیا ، ایک زیارت کے دوران آنحضرت اپنی ماں کی قبر پر روئے اور عزاداری کی ، آنحضرت کے گریہ سے اصحاب بھی گریہ کرنے لگے ، ابو ھریرہ ، اس سلسلے میں کہتے ہیں: زار النبی قبر امنہ فبکی و بکی من حولہ۔
آنحضرت نے اپنی ماں کے مرقد کی زیارت کرکے گریہ کیا اور جو بھی آنحضرت کے ارد گرد تھے انہوں نے بھی گریہ کیا۔

حوالہ جات:
[1] ریاحین الشریعۃ ، ذبیح اللہ محلاتی ، ج ۲ ص ۳۸۶۔
[2] فرازھایی از تاریخ پیامبر اسلام ، جعفر سبحانی ، ص ۳۸۔
[3] بحار الانوار ، علامہ مجلسی ج ۱۵ ، ص ۹۹۔
[4] مادر پیامبر، ڈاکٹر بنت الشاطی ، ترجمہ دکتر احمد بہشتی ، ص ۹۹۔
[5] ایضا ص ۱۸
[6] ریاحین الشریعۃ ج ۲ ص ۸۸،۸۳
[7] بحار الانوار ج ۱۵ ، ص ۱۱،۱۲،۱۱۷، ۱۳،۹ ۱۰۔
[8] ایضا ص ۱۰۰، ۱۴۹۹،
[9] ریاحین الشریعۃ ، ج ۲ ، ۱۵۳۸۷
[10] ایضا ص ۱۶
[11] خصائص فاطمیہ ، ملا باقر واعظ کجوری ، ص ۲۹۲
[12] تذکرۃ الخواتین ص ۵ ، ۶ ، آخرین گفتار ، ج ۱ ص ۱۶۹ ، ۱۷۰
[13] رجوع کریں مادر پیامبر ، بنت الشاطی ترجمہ احمد بہشتی سازمان تبلیغات اسلامی۔
[14] منتھی الآمال ج ۱ ص ۴۱۔
[15] درسھایی از تاریخ تحلیلی اسلام ج۱ ص ۹۹۔
[16] رجوع کریں تنقیح المقال ج ۳، دوسرا معہ ص ۶۹ و ۷۰
[17] سیرہ ابن ھشام ج ۱ ص ۱۵۶۔
[18] بحار الانوار ج ۱۵ ص ۱۰۲۔
[19] سبل الھدیٰ و الرشا ج ۱ ص ۳۳۱، عیون الاثر ج ۱ ص ۳۶۔
[20] تاریخ پیامبر اسلام ص ۵۴، ، تاریخ طبری ج ۲ ص ۷ ، ۸۔
[21] تذکرۃ الخواتین ، ص ۶۔
[22] بحار الانوار ص ۲۶۹ ، ۲۷۰
[23] سیرت رسول خدا (ص) ابن ھشام ، ترجمہ و انشای رفیع الدین اسحاق بن محمد ھمدانی ، تصحیح مھدوی ، خوارزمی ، طبع دوم ، ۱۳۶۱ ص ۱۴۱ تھوڑی تبدیلی کے ساتھ۔
[24] بحار الانوار ج ۱۵ ، ص ۲۹۶ ، منتھی الآمال ، ج ۱ ص ۴۱۔
[25] ایضا ص ۲۶۱ ، ۲۶۲۔
[26] سیرہ حلبی ج ۱ ص ۹۳۔
[27] رجوع کریں معجم البلدان ج ۱ مادہ ابواء معارف و معاریف ج ۱ ص ۳۴۷۔
[28] تذکرۃ الخواتین ، ص ۵ ، ۶، آخرین گفتار ، ج ۱ ص ۱۶۹ - ۱۷۰

اقتباس از:http://www.hajij.com

مقالات کی طرف جائیے