مقالات

 

حکومت اسلامی اور ولایت فقیہ

سید سعید الحسن نقوی

لغت میں حکومت کے معنی اقبال اور نیک بختی کے ہیں ـ اصطلاح میں حکومت سے مراد انسانی معاشرہ کی قیادت و رہبری ہے تا کہ انسان سعادت سے ہمکنار ہوسکے ـ

حکومت کی ضرورت
ابتدائے خلقت سےلے کر آج حیات انسانی میں حکومت کسی نہ کسی صورت ضوفشانی کرتی نظر آتی ہے ـ انسان ہمیشہ سے فطری طور پر کسی نہ کسی نظام حکومت کے زیر سایہ زندگی گذارتا چلاآرہا ہے قبیلہ کی سرداری سے موجود ممالک کی صدارت مملکت تک سب اسی حکومت کی جھلکیاں ہیں ـ کوئی بھی عاقل انسان حکومت کی ضرورت سے انکار نہیں کرسکتا ـ لوگوں کے لئے ایک حاکم کا ہونا ضروری ہے خواہ وہ اچھا ہویا برا ـ " لابد للناس من امیر براو باجر "1 معاشرہ کو بہرحال ایک قائد کی ضرورت ہے کیونکہ معاشرہ کو سربراہ حکومت کی ضرورت ایک فطری امر ہے اسی لئے تمام قومیں ہر زمانے میں اور ہر مقام پر ایک قائد و رہبر سے بہرہ مند رہی ہیں ـ مختلف مکاتب فکر میں جس چیز پر اختلاف نظر ہے وہ یہ ہے کہ ایک معاشرہ کے سربراہ کو کن خصوصیات واوصاف سے آراستہ ہونا چاہئے ـ

اسلام میں حق حاکمیت
اسلامی فلسفہ سیاست کے مطابق حکومت کا حق صرف خدا کو ہے " ان الحکم الا للہ " 2 لیکن اس کی شان براہ راست حکومت سے اجل ہے لہذا حاکم وہی ہوگا جسے خدا نے حق حاکمیت عطا کیاہے " انی جاعل فی الارض خلیفہ " 3 اس بات کی غماضی کرتا ہے کہ انسان کی ابتدا خلافت الہی کے ساتھ ہوتی ہے اول بشر حضرت آدم علیہ السلام نے خدا سے حاکمیت کا حق لے کر اس دھرتی پر قدم رکھا ہے اور جب تک یہ دنیا قائم ہے حکومت کا حق صرف اسی کو ہے جو الہی ولایت و خلافت کا حقدار ہے ـ

حکومت اسلامی کا مقصد
مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ حکومت اسلامی کا مقصد بنی نوع انسانی کو دونوں جہاں میں سعادت سے ہمکنار کرنا ہے اور اس مقصد تک پہونچنے کے لئے کچھ جزئی اہداف بھی پائے جاتے ہیں ـ
الف) تلاوت آیات تزکیہ نفس تعلیم حکمت " ھو الذی بعث فی الامیین رسولا منھم یتلو علیھم آیاتہ " 4
ب ) عدالت اجتماعی " لقد ارسلنا رسلنا بالبیات و انزلنا معھم الکتاب و المیزان لیقوم الناس بالقسط " 5
ج) حکم بالحق " یا داؤد انا جعلناک خلیفة فی الارض فاحکم بین الناس بالحق " 6
و) نظم و ضبط " الامامة نظاما للامة " 7

قرآن اور ولایت
اسلام میں حکومت کا دا رو مدار ولایت و خلافت پر ہے جو خداوند عالم کی طرف سے عطا ہوتی ہے اور پیامبر اسلام (ص) کو بھی ابھیں اصول کی بنیاد پر حق حاکمیت عطا ہوا ہے قرآن کی متعدد آیات پر دلالت کرتی ہیں جیسے :
الف) النبی اولی بالمومنین من انفسھم 8
ب) انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین الذین یقیمون الصلوة و یوتون الزکاة وھم راکعون 9
ج) یا ایھا الذین آمنو اطیعو اللہ ورسولہ الامر منکم 10

پہلی اسلامی حکومت
امامت وولایت کے ان سنہرے اصول کے ساتھ پیامبر (ص) نے ہجرت کے بعد انسانی سعادت و ارتقاء کے لئے مدینہ منورہ میں ایک عظیم اسلامی حکومت کی بنیاد ڈالی جو تھوڑی ہی مدت میں پورے جزیرہ العرب پر چھاگئے آپ نے مختلف صوبوں میں اپنے گورنر منصوب کئے اور قضات تعین فرمائے ـ آپ نے مختلف جنگوں کی قیادت کی اور ہجرت کے چھٹے سال مختلف ممالک کے سربراہوں کے نام خطوط ارسال فرمائے جن میں قیصر و کسری بھی شامل ہیں آپ نے عبداللہ بن خدافہ سلہمی کو خسرو پرویز بادشاہ ایران کے پاس اور وحیہ بن خلیفہ کلبی کو قیصر کے پاس اپنا سفیر بنا کر بھیجا ـ آپ نے اس وقت کی دوبڑی طاقتوں کو قبول اسلام اور خدا پرستی کی دعوت دی 11
فتح مکہ کے وقت جب کفار قریش کے سردار نے شب کے سناٹے میں مکہ کی بلند چوٹیوں سے چھپ کر اسلامی فوج کا معاینہ کیا تو بے ساختہ بول اٹھا کہ " میں نے اس (محمد (ص) جیسا بادشاہ نہیں دیکھا نہ کسری کو دیکھا نہ قیصر کو نہ شاہ بنی الا صغر کو دیکھا 12
اسلام دن دونی رات چوگنی ترقی ترقی کرتا گیا یہاں تک کہ پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ کے آخری دن پہونچے آپ نے اسلامی نظام حکومت کی بقا کے لئے ایک لاکھ مسلمانوں کے درمیان غدیر کے میدان میں خدا کے حکم سے حضرت علی علیہ السلام کو امت کا حاکم و مولی بنایا تا کہ اسلامی نظام الہی قیادت کے ذریعہ پوری دنیا پر چھا جائے " لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون " 13 لیکن قبل اس کے کہ حقیقی وارث حکومت کی باگ ڈور سنھالتا کچھ دوسرے لوگوں نے اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کر لیا اور عنان حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی اور خلیفہ رسول (ص) کے عنوان سے امت پر حکمرانی کرنے لگے اور انھوں نے اگر چہ اپنی حکومت کا نصب العین دین اسلام کے نفاذ کو قرار دیا لیکن علمی اعتبار سے اسلامی نظام حکومت کو اس کے اصولوں سے منحرف کردیا کیونکہ اسلامی حکومت میں جس طرح قانون کا حق خدا کو حاصل ہے اسی طرح قیادت کا تعین کرنا بھی خدا کی جانب سے ہوتا ہے ـ تعیین قیادت کو الہی اختیار سے ہٹا کر نام نہاد اجماع امت کے حوالہ کرنا دراصل اسلامی حکومت کا عملی اور تدریجی خاتمہ تھا اور نتیجے میں تاریخ کا ایک ادنی طالب علم بھی بہ آسانی سمجھ سکتا ہے کہ یہی حکومت اسلامی کی قیادت الہی سے جدائی کے نعرہ کو پروان چڑھایا ـ کیونکہ امام خمینی (رح) کے بقول دین وسیاست کی جدائی کا مسئلہ نیا نہیں ہے بلکہ یہ مسئلہ بنی امیہ کے دور حکومت میں پیدا ہوا اور بنی عباس کے دور حکومت میں پروان چڑھا 14 جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ خلافت بنی امیہ کا بانی معاویہ بن ابی سفیان اسی دسترخوان کا خوشہ چین تھا اور یہی وہ شخص تھا جس نے اس حکومت اسلامی کو جو ۲۵ سال کے بعد دوبارہ اپنے حقیقی وارث کے پاس پہونچی تھی اپنے مکرو فریب اور قوت و طاقت کے بل بوتے پہ چھین لیا تھا اور پھر اس کے بعد الہی قائد کو کبھی بھی حکومت کرنے کا موقع نہ مل سکا البتہ اتنا ضرور ہے کہ امام علی علیہ السلام کی حکومت کا مختصر دور انسانی تاریخ حکومت کا سنہرادور بن گیا اور آج بھی جب کوئی اس دور حکومت کا مطالعہ کرتا ہے تو عیسائی ہونے کے باوجود بھی لکھنے پر مجبور ہے کہ " الامام علی صوت العدالة الانسانیة " اور کیوں نہ ہو جب کہ حکومت اسلامی کا طرہ امتیاز ہی عدالت اجتماعی ہے " لیقوم الناس بالقسط " جناب احمد حسین یعقوب اردنی کے بقول اگر رسول (ص) کے بعد اسلامی نظام سیاسی کو الہی طرز حکومت پر قائم کیا جاتا تو مندرجہ ذیل خرابیاں پیدا نہ ہوتیں :
الف) حکومت اسلامی زوال پذیر نہ ہوتی ـ
ب) وہ فتنے اور قتل و غارت نہ ہوتے جن کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں ـ
ج) امت اسلام کا اتحاد پارہ پارہ نہ ہوناـ

د) اسلام کی بابرکت وسیع خد اس منزل پر نہ رکتی جس پر آج رک گئی ہے بلکہ اسلام پوری دنیا میں پھیل گیا ہوتا اور بشری تاریخ میں ایک بنیادی تغیر پیدا کردیتا ـ
ایک انگیز مفکر و پلز اپنی کتاب " تمر د در تاریخ عمومی " میں لکھتا ہے کہ اگر اسلام اپنی ابتدائی اور اولی سیرت پر چلتا اور اس میں فتنے فساد نہ ہوتے تو یہ پوری دنیا کو فتح کرلیتا ـ 15
دیکھا آپ نے اس انحراف نے اسلام کو کتنا نقصان پہونچایا ـ اور اب تو یہ نوبت آگئی ہے کہ خود فرزندان اسلام ہی اسلام کو ناقابل عمل چیز سمجھ بیٹھے ہیں ـ اور اکثر مسلمان اس بات کے قائل ہیں ـ کہ سیاست دین اسلام سےجدا ہے لیکن مسلمانوں کے درمیان ایک قوم ایسی بھی ہے جس نے نہ صرف کہ الہی قیادت سے بغاوت نہیں کی بلکہ آج بھی اسی نظام کے زیر سایہ زندگی گذاررہی ہے اور اسی نظام کے تحت ایک عالمی حکومت کی تاسیس کی خواہاں ہے ـ شیعہ قوم تاریخ کی وہ واحد قوم ہے جس نے دینی قیادت سے کبھی منھ نہیں موڑا ـ شیعیان اہلبیت علیھم السلام نے اپنا رابطہ ائمہ ہدی سے کبھی نہیں توڑا اور ہمیشہ دنیاوی امور میں ان ذوات مقدسہ کی اطاعت کرتے رہے اور امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کے زمانہ میں آپ ہی کے فرمان کے مطابق اس نیابت سے جو ولایت فقیہ کے نام سے موسوم ہے ابتک منسلک ہیں ـ

ولایت فقیہ پر دلائل
الف) امام زمانہ علیہ السلام اسحاق بن یعقوب کے جواب میں فرماتے ہیں" واما الحوادث الواقعة فارجعو ا فیھا الی رواة حدیثنا فانھم حجتی علیکم وانا حجة اللہ 16

ب) امام صادق علیہ السلام نے عمر بن حنظلہ سے فرمایا : ِِ ـ ـ ـ ـ ینظر ان الی من کان منکم ممن قدرأی حدیثنا ونظر فی حلالنا و حرامنا و عرف احکامنا فلیرضوا بہ حکما فانی قد جعلتہ علیکم حاکماً " 17
ج) امام موسی کاظم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا : لان المومنین الفقھا ء حصون الاسلام کحصن سورالمدینة لھا" 18
د) عن امیر المومنین علیہ السلام قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم :" اللھم ارحم خلفائی و قبل یا رسول اللہ ومن خلفائک ؟ قال الذین یاتونن من بعد ویروون حدیثی و سنتی فیعلمون الناس من بعد " 19
ہ ) العلماء حکام علی الناس 20

ولایت فقیہ تاریخ کے آئینہ میں
طول تاریخ میں شیعہ ہی وہ مکتب ہے جو ہمیشہ طاغوتی حکمرانوں سے ٹکراتا رہا نتیجے میں ظالم حکمرانوں نے اس قوم کو ختم کرنے میں کسر نہ رکھی اس زمانہ میں شیعہ ہونا ایک جرم تھا ـ اور اس لفظ سے منسوب ہر شخص کو تہ تیغ کردیا جاتا تھاـ شیعوں کی جان مال عزت آبرو سب ہی خطرہ میں تھیں اور شیعہ تقیہ کرنے پر مجبور ہوگئے انھیں آوارہ وطنی اور بے چارگی کی زندگی گذارنی پڑتی اور سب سے تلخ بات یہ تھی کہ امام معصوم (ص) سے رابطہ قائم کرنا مشکل ہوگیا تھا لیکن ان سب باتوں کے باوجود یہ ارتباط ٹوٹنے نہیں پایا ہمیشہ دینی اور دنیاوی امور میں امام معصوم (ع) کی اطاعت کرتے رہے ـ مگر ان ایام میں امام معصو م (ع) کی حکومت کے سلسلے میں شیعوں کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا اور آخر کار وہ گھڑی بھی آگئی جب امام معصوم (ع) کو حفظ جان کی خاطر امر خداوندی سے غیبت اختیار کرنی پڑی مگر اس وعدے کےساتھ کہ ایک دن ظہور فرماکر پوری دنیا میں حق وعدالت کی حکومت قائم کرینگے لیکن امت کی طرف سے جب یہ سوال اٹھا کہ غیبت سےلے کر ظہور تک کے اس طولانی دور میں امت کی زعامت ورہبری کے فرائض کون انجام دے گاتو آپ نے جواب میں فرمایا " ـ ـ ـ ـ واما الحوادث الواقعة فارجعو ا فیھا الی رواة حدیثنا فانھم حجتی علیکم و انا حجة اللہ " 21
غیبت سے لے کر آج تک شیعہ قوم اسی خدائی رہبری نظام کے تحت زندگی گذارتی چلی آرہی ہے اور اسی مرجعیت کی بنیاد پر آج تشخص برقرار رکھے ہے ـ شیعہ علماء نے طول تاریخ میں حریم تشیع کے دفاع کی خاطر کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیااور ہمیشہ اس بات کےلئے کوشاں رہے کہ ملت تشیع اپنا تشخص قائم رکھ سکے اور شیعہ حکومت کے قیام کے لئے پراگندہ قوم کو ایک مرکز پر جمع کرنے کی کشش کی ـ فقہاء نے اس سلسلے میں مختلف بادشاہوں کو اپنی جان کی بازی لگا کر شیعہ کرنے کے کوشش کیں اور اس امر میں کوفی حد تک کامیاب رہے ـ نتیجے میں شیعہ قوم کو بڑی حد تک وسعت حاصل ہوئی اور مختلف مقامات پر علماء کی نگرانی میں شیعہ حکومت پر انھیں کا سکہ جا رہا اور کسی بھی بادشاہ کی حکومت اس وقت تک قانونی حیثیت حاصل نہیں کرپائی تھی جب تک علماء اس کی تائیدنہ کردیں ـ فقہا ء امامیہ کا یہ امتیاز رہا ہے کہ تاریخ کے کسی بھی دور میں حاکم کے محکوم بن کر نہیں رہے اور جب بھی حکومت نے شریعت کے احکام سے روگردانی کا ارادہ کیا تو فقہا ء نے حاکم وقت کے خلاف انقلاب برپا کرنے سے گریز نہیں کیا ـ تحریک تنباکو انقلاب عراق انقلاب مشروط اور بقیہ دوسری تحریکیں اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں ـ تاریخ کے مطالعہ کی روشنی میں کبھی ایسابھی ہوا ہے کہ حاکم وقت نے مجبور کو کر تخت و تاج فقیہ عادل کے حوالہ کردینے کی کوشش کی اگر چہ فقیہ عادل کے اسی زمانے کی مصلحتوں کے مدنظر حاکم وقت سے اس بات کا عہد لے کر کہ وہ فقہ جعفری پر عمل کرے گا تاج دوبارہ حاکم کے سر پر رکھ دیا ـ جیسے ہندوستان میں " اودھ کے نواب غازی الدین حیدر نے انگریزوں کے اشارے پر مرکزی شہنشاہیت سے رابطہ توڑلیا اور خود مختار بادشاہت کا اعلان کردیا تو اس اقدام کے شرعی جواز پر سوالیہ نشان لگ گیا ـ اس لئے بادشاہ سلامت سے مولانا سید محمد مجتہد کا رابطہ بس واجبی ساہی رہا لیکن نصیرالدین شاہ سے تو کشمکش کی نوبت آگئی ـ اور رشتے اتنے تلخ ہوئے کہ مولانا نے دربار میں آنے کا بلاوہ ہی رد کردیا ـ محمد علی شاہ کے عہد میں حالات سدھرے لیکن شرعی جواز کا سوالیہ بدستور قائم رہا ـ جب ربیع الثانی سنہ ۱۳۵۸ھ مئی سنہ ۱۸۴۲ ء میں محمد علی شاہ کے بیٹے امجد علی شاہ تخت نشین ہوئے تو انھوں نے سنجیدگی سے یہ مسئلہ حل کرنے کی سعی کی اور تخت و تاج " نائب امام " کی حیثیت سے سلطان العلماء کی خدمت میں پیش کرنا چاہا ـ مگر آپ نے یہ عہدلے کر کہ حکومت فقہ جعفری کے الہی نظام پر چلے گی ـ تاج امجد علی شاہ کے سر پر رکھ کر زمام سلطنت انھیں سونپ دی 22 اسی طرح ایرانی شاہ طہما سب نے تخت و تاج " نائب امام" کی حیثیت سے محقق کرکی کی خدمت میں پیش کیااور آپ نے بھی اس شرط پر کہ حکومت فقہ جعفری پر عمل کرے گی زمام حکومت شاہ طہماسپ کے حوالہ کردی ـ لیکن زمانے نے ایک بار پھر کروٹ بدلی اور حکومت نے غیروں کے اشاروں پر جب اسلامی احکام کو پامال کرناشروع کردیا تو فقہاء میدان عمل میں اترے آئے اور ۲۸ رجب سنہ ۱۳۰۷ ھ میں ناصر الدین شاہ نے انگلیند کی حکومت سے تنباکو کو معاہدہ کیا تو حضرت آیہ اللہ شیرازی نے تحریم تنباکو کا ایسا فتوی دے دیا کہ جس نے شاہ کے اس معاہدہ کو خاک میں ملادیا ـ عوام کے اس بھر پور تعاون سے فقہا ء نے یہ سمجھ لیا کہ ولایت فقیہ کی حکومت کے لئے حالات سازگار ہوچکے ہیں اور اب فقیہ کی حکومت کے قیام کے لئے جدوجہد شروع کردینی چاہیئے ـ پھر کیا تھا علماء کی قیادت میں نقلاب برپا ہونے لگے ـ اور ہزاروں لوگوں نے اس مقدس راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ـ
آخر کار وہ وقت آہی گیا جس کا سب کو انتظار تھا وہ یہ کہ امام خمینی (رح ) کی قیادت میں خطہ ارض کے ایک حصے پرولی فقیہ کی حکومت قائم ہوگئی ـ
طلوع فجر
اور اب عصر حاضر کی واحد اسلامی حکومت کے قیام کا تاج زرین شیعوں کی مرجعیت کےسر ہے ـ ولی فقیہ کی طاقت و قوت نے شہنشاہیت کو خاک میں ملاکر بغیر کسی افتراق و انتشار کے اسلامی حکومت قائم کی پوری ملت نے ایک مرجع تقلید کی سربراہی میں ایسی مثالی حکومت کی داغ بیل ڈالی جس نے اس کرہ ارض کی دوبڑی اور اہم ترین طاقتوں یعنی بلاک شرق (لیکن اب مشرقی حکومت روس ٹوٹ چکی ہے) و غرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ ثابت کردیا کہ خدائے وحدہ لاشریک کی طاقت کے مقابلے میں کائنات کی ہر طاقت ہیچ ونیست ہے ـ
مصری مفکر صالح الوردانی کی تحریر کے مطابق انقلاب اسلامی کی کامیابی در حقیقت مکتب تشیع کی جیت ہے اورمکتب تشیع کی جبیت یعنی مکتب اہل تسنن کی موت ہے ـ مرجیعت کے نظام سے محروم فرقے اپنے بے پناہ ذرائع اور مسلسل کوششوں کے باوجود پوری طرح ناکام رہے ہیں ـ مصر الجزائر اور افغانستان اور بقیہ دوسرے ممالک میں اسلامی انقلاب کا شکست سے روبرو ہونا دراصل ولایت فقیہ کے فقدان کا عملی نتیجہ ہے ـ اس لئے ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ حکومت اسلامی کا قیام ولایت فقیہ کے بغیر ناممکن ہے اور غیر قانونی بھیـ

سرانجام
مجھے اس بات کا یقین ہے کہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب تمام نبی نوع انسانی اپنے خود ساختہ نظاموں سے عاجز و پریشان ہوکر ولایت الہی کی حکومت قبول کرلینگے ـ کیونکہ انسان نے شہنشاہیت سےلے کر جمہوریت تک تمام خود ساختہ نظاموں کو آزمالیا ہے لیکن اس کی مشکلات میں اضافے کے سوا کمی نہیں آئی ہے ـ آج بنی نوع انسان میں پستی اور انحطاط پایا جاتا ہے وہ خود ساختہ قیادت کی لائی ہوئی مصیبت ہے ـ
اے بادصبا ایں ہمہ آوردہ توست
لکین میرا دل کہتا ہے کہ ایک دن یہ انسان الہی ولایت کے آگے ضرور گھٹنے ٹکے گا اور وہ دن ایسا ہوگا جب " جاء الحق ذھق الباطل ان الباطل کان ذھوقا " کی پرکشش آواز پورے عالم میں کونج رہی ہوگی ـ

حوالہ جات:
۱. نھج البلاغہ
۲. انعام ۵۷ ـ
۳. بقرہ ۳۰ ـ
۴. جمعہ ۲ ـ
۵. حدید ۲۵ ـ
۶. ص ۲۶ ـ
۷. نھج البلاغہ حکمت ۲۲۵ ـ
۸. احزاب ۶ ـ
۹. مائدہ ۵۵ـ
۱۰. نساء ۵۹ـ
۱۱. مکاتیب الرسول ج۱ ص ۹۰ و ۱۵۰ ـ
۱۲. سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۷۹ ـ
۱۳. صف ۹ ـ
۱۴. حکومت اسلامی از دیدگاہ امام خمینی (رح) ص ۲۰ ـ
۱۵. عدالت صحابہ کا نظر یہ کافی ص ۱۳۸ ـ
۱۶. وسائل الشیعہ ج۱۸ ص ۱۰۰ ـ
۱۷. اصول کافی ج۱ ص ۵۴ ـ
۱۸. اصول کافی ج۱ ص ۳۰ ـ
۱۹. وسائل الشیعہ کتاب قضا ء باب ۸ حدیث ۵۰ ـ
۲۰. مستدرک الوسائل ج۱۷ ص ۳۱۶ ـ
۲۱. وسائل الشیعہ ج۱۸ ص ۱۰۰ ـ
۲۲. امجد علی شاہ سبط ص۲۲۲ ـ

مقالات کی طرف جائیے