مقالات

 

ولایت فقیہ ، فقہاء کی نظر میں

محمد رضا معروفی

سب سے پہلے جس فقیہ نے ولایت فقیہ کے نظام کو خدائی نظام کے طور پر بیان کیا وہ شیخ مفید ہیں۔ ان کا عقیدہ تھا کہ ’’ولایت ایک حکومتی نظام ہے اور فقیہ کو اسلامی سلطان، حاکم اور اسلامی سلطان کے نائب جیسے عناوین سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ منصب آئمہ معصومینؑ کی وراثت کے طور پر فقہا کی طرف منتقل ہواہے کیونکہ العلماء ورثۃ الانبیاء۔‘‘
وہ فقہا کی ولایت کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’حدود کا جاری کرنا اور اسلامی احکام کا انتظام و انصرام، اسلامی سلطان کی ذمہ داری ہے، جو خداوندِ متعال کی جانب سے مقرر کیا گیا ہو اور سلطان سے مراد آئمہ علیہم السلام یا وہ لوگ ہیں جو ان کی طرف سے متعین ہوے ہوں۔ آئمہ نے اس اختیار کو شیعہ فقہا کے سپرد کیا ہے تا کہ جب بھی اس ذمہ داری کا پورا کرنا ممکن ہو تو وہ اسے انجام دیں۔‘‘

1۔ سید مرتضیٰ علم الہدیٰ (355ھ سے 436 ہجری قمری)
سید مرتضیٰ نے اپنے والد، سید حسین موسوی بغدادی، جن کے پاس حکومتی قاضی القضات کا منصب تھا، کے برخلاف کسی بھی قسم کے سیاسی منصب کو قبول کرنا گوارا نہ کیا۔ اس کے باوجود شیخ مفید علیہ الرحمۃ کی رحلت کے بعد بغداد کے شیعوں کی رہبری کا عہدہ قبول کیا اور باطنی میل کے برخلاف، بڑے بھائی سید رضی کی وفات کے بعد، نظامت حج، قاضی القضات، ناظم اعلیٰ اور عوامی شکایات اور مظالم کے ازالہ کی نظامت جیسے عہدوں پر فائز رہے۔ شیعہ مکتب میں وہ عقلیت پسندی کے زمرے میں آنے والے علماء میں سرِ فہرست شمار ہوتے ہیں۔
سید مرتضیٰ کے عقیدے کے مطابق سیاسی طور پر، عقلی اور شرعی وجوہات موجود ہونے کی صورت میں، کوئی بھی ذمہ داری قبول کرنے والا شخص حاکم کا نمائندہ نہیں بلکہ آئمہ برحق کا نمائندہ ہوتا ہے۔
سید مرتضیٰ کے قول کے مطابق؛ ہمیشہ سے مختلف زمانوں کے متقی اور دانشور افراد ظالم حکمرانوں کی طرف سے سونپی گئی ذمہ داریوں کو بعض دلائل کی بناء پر قبول کرتے رہے ہیں۔ ایسی ذمہ داری قبول کرنا، اگر اس میں اچھا پہلو موجود ہو، گو کہ ظاہراً ایک ظالم حکمران کی طرف سے ہوتی ہے لیکن باطنی طور پر یہ آئمہ برحق کی طرف سے ہو گی۔

2۔ شیخ طوسی علیہ الرحمہ:
ابوجعفر بن حسن طوسی ملقب شیخ طوسی، شیخ مفید اور سید مرتضیٰ کے شاگرد تھے۔ وہ سید مرتضیٰ کے بعد عملاً اپنے زمانے میں علمی لحاظ سے اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہوئے اور شیعہ اور سنی دونوں مذاہب کے افراد کے درمیان انتہائی عزت اور احترام کے حامل تھے اسی وجہ سے انہیں شیخ الطائفہ کا لقب دیا گیا۔ سن 447 ہجری قمری بمطابق 1095ء میں سلجوقی حکمرانوں میں سے طفرل بیگ نے بغداد پر حملہ کیا تو شیعوں کے عظیم کتابخانے جن میں شیخ طوسی کا کتابخانہ بھی شامل تھا جلا ڈالا گیا۔ اس واقعے کے بعد شیخ طوسی نے مجبوراً بغداد سے نجف اشرف مہاجرت کی اور نجف اشرف کے عظیم شیعہ حوزہ علمیہ کی بنیاد ڈالی۔
شیخ طوسی کی نظر میں معاشرے کی رہبری اور حکومت کا وجود اور وجوب ایک عقلی بحث ہے کہ جس کے مفقود ہونے پر معاشرے تباہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ اسلامی معاشرے میں رہبر کے ایک یا متعدد ہونے کو شریعت اور دینی اصولوں کے تابع سمجھتے تھے۔ ان کی سوچ کے مطابق عقلی لحاظ سے ایک علاقے میں رہبروں کے متعدد ہونے پر کوئی حرج پیش نہیں آتا، بلکہ یہ شرعی احکام اور قوانین ہیں جو رہبری کی وحدت پر تاکید کرتے ہیں۔
ایک سیاسی نظام یا حکومت میں امام یا ان کے جانشین کے اختیارات کی حدود سے متعلق وہ اس نکتے کو بیان فرماتے ہیں کہ ایک معاشرے کی سیاست میں تمام منصب دار، ذی مرتبہ اور عہدہ دار صرف امام کی طرف سے مقام حاصل کر سکتے ہیں اور اس جواز کی بنیاد پر ہی وہ سیاسی اور سماجی مسائل کے بارے میں فیصلے کر سکتے ہیں، البتہ ان کے لیے عصمت کی صفت ضروری نہیں ہے کیونکہ ان کے اعمال اور کردار پر ایک معصوم امام کی نگرانی موجود ہوتی ہے۔

3۔ محقق حلی (602 سے 676 ہجری قمری):
نجم الدین ابوالقاسم جعفر بن حسن مشہور بہ محقق حلی (محقق اول) بلند مرتبہ شیعہ فقیہ تھے، جنہوں نے منگول لشکر کے اسلامی سرزمین پر حملے اور اسلامی تمدن اور ثقافت پر لگائی کاری ضرب اور وجود میں آنے والی مشکلات اور تباہی کے زمانے میں انتہائی اہم علمی اور ثقافتی کام سرانجام دیئے۔
محقق حلی نے عادل سلطان کے اختیارات اور ذمہ داریوں سے متعلق اپنی فقہی بحث میں عادل سلطان کی ولایت کو جائز بلکہ کئی موارد میں واجب قرار دیا ہے، جبکہ عادل فقیہ کی حکومت کو دوسروں کی نسبت فوقیت اور برتری دی۔

4۔ علامہ حلی (648 سے 726 ہجری قمری)
حسن بن یوسف بن مطہر حلی، مشہور بہ علامہ حلی، اپنے ماموں محقق حلی کے انتقال کے بعد شیعوں کے مرجع اور راہنما بنے۔ اپنی انتھک کوششوں سے اہلِ بیتؑ کی فقہ اور ان کے علوم کو خوب پھیلایا اور فقہ میں ایک عظیم انقلاب برپا کیا۔ علامہ کے دور میں جہانِ اسلام کے گوشہ و کنار تک اہلِ بیتؑ کے مذہب کی حقانیت اور علم و دانش کو بے انتہا ترویج اور ترقی نصیب ہوئی۔ سلطان محمد خدابندہ (الجاتیو) علامہ حلی کے مناظروں کی وجہ سے شیعہ ہو گیا اور اس نے جعفری مذہب کا قانوی طور پر اعلان کیا۔ ایران بھر میں اسی وجہ سے شیعہ مذہب رائج ہوا، یوں شیعہ تاریخ کے ایک جدید دور کا آغاذ ہوا۔
وہ ولایت سے متعلق فرماتے ہیں: اسلام میں موجود سزاؤں کا نفاذ معصوم امام کے ہوتے ہوئے خود ان کے یا ان کے مقرر کردہ افراد کے ذریعے اور امام کی غیبت کے زمانے میں شیعہ فقہا کے ذریعے انجام پاتا ہے اور اسی طرح خمس و زکات لینے اور ان کی تقسیم اور فتویٰ جاری کرنا۔

5۔ شہید اول (734 سے 786 ہجری قمری تک)
شمس الدین محمد بن مکی عاملی معروف بہ شہید اول، ایوبیوں کے ہم عصر تھے۔ فقہ، اصول، کلام و شعر وغیرہ پر ان کے بیش قیمتی آثار موجود ہیں جن میں ان کی ایک کتاب اللمعۃ الدمشقیہ اب تک حوزہ علمیہ کی تدریسی کتاب ہے۔ شہید اول غیر منطقی قسم کے الزامات مثلاً غیر اسلامی عقائد اور سربداران نامی تحریک سے بے دلیل تعلقات کی بناء پر شیعہ دشمن حکمرانوں کے ہاتھوں شہید ہوئے۔
شہید غیبت کے زمانے میں جامع الشرائط فقیہ کی ولایت کے استحکام کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’اسلامی سزائیں (حدود اور تعزیرات) امامؑ یا ان کے خاص یا عام نائب کے ذمہ ہیں لہٰذا غیبت کے زمانے میں اگر ممکن ہو تو ان احکام کا جاری کرنا جامع الشرائط فقیہ کے لیے جائز ہے اور اس صورتحال میں فقیہ کے لیے فتویٰ دینا بھی واجب ہو گا۔‘‘

منابع:
طوسی، شیخ ابو جعفر، عدہ الاصول، ج 2، ص 42، چاپ1، قم، دارالکتب الاسلامیہ، 1396ھ۔ق۔
شریعتی، روح اللہ، مقالہ؛ حکومت در اندیہ سیاسی محقق حلی، فصل نامہ علوم سیاسی، شمارہ 14، ص70۔
علامہ حلی، حسن بن یوسف، تذکرہ الفقہا، ج1، ص 450، قم، انتشارات بعثت، 1364۔
عاملی، محمدبن‌مكی شهیداول، الدروس الشرعیہ، ج2، ص 47، مشھد، بنیاد پژوهشهای اسلامی، 1384

مقالات کی طرف جائیے