مقالات

 

عظمتِ غدیر؛معصومین علیہم السلام کی نظر میں

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

''یوم غدیر'' تاریخ اسلام کا وہ اہم ترین دن ہے جس دن خداوند کریم نے مسلمانوں پر اپنی نعمتیں تمام کردیں ،احکام دین کا مل و استوار ہوگئے ،ہدایت کے رسالتی سلسلوں کو امامت سے متصل کیاگیا ،بندگی کی راہ پر گامزن امت محمدیؐ کو ولایت کی سرپرستی عطا ہوئی ،مسلمانوں کا آئندہ رہبرمعین کیاگیا اور فرزند کعبہ مسند امامت پر جلوہ افروز ہوا ۔
کتنا حسین اور خوش گوار دن تھا ،درختوں کے جھنڈ میں ایک طرف مبارک ،سلامت کی صدائیں تھیں تو دوسری طرف شعرائے اسلام اپنی فکر رسا کے ذریعہ سریلا پیغام مؤدت لوگوں تک پہونچاکر داد تحسین وصول کر رہے تھے،نثر ہو یا نظم سب اپنے اپنے انداز سے حضرت علی کو مسند خلافت و امامت پر براجمان ہونے کی تبریک و تہنیت پیش کر رہے تھے ۔ رسول اسلامؐ کی خوشی تو قابل دید تھی ایک طرف ان کی تیئس سالہ محنت شاقہ بار آور ہو رہی تھی تو دوسری طرف اسلام وقرآن کاتابناک اور درخشاں مستقبل نگاہ تصور میں گردش کر رہاتھا ۔
لیکن افسوس صد افسوس !ادھر رہبر اسلامؐ کی آنکھیں بند ہوئیں اور ادھر مفاد پرست ،نام نہاد مسلمانوں نے دین کی آ ڑ میں اپنا الّو سیدھا کرنا شروع کردیا ۔اونے پونے خلافت تقسیم ہوئی اور دین کے ساتھ کھلواڑ کیا جانے لگا ۔
اپنے لبوں سے ''انا اول المظلومین ''کہنے والے حضرت علی کی کیا حالت تھی اس کا اندازہ لگانا محال ہے لیکن آپ کی دلی کیفیت کی غمازی آپ کا یہ جملہ کر رہاہے :رایت ان الصبر علی ھانا احجی فصبرت و فی العین قذی و فی الحلق شجا اریٰ تراثی نھبا ''پس میں نے دیکھا کہ صبر کرنا عقل سے نزدیک تر ہے اسی لئے میں نے صبر کیا جب کہ میری آنکھوں میں خس و خاشاک تھے اور میرے گلے میں ہڈی تھی اور میں اپنی میراث کو لٹتاہوا دیکھ رہاتھا''۔(١)
ایسا نہیں ہے کہ معصومین علیہم السلام نے اس حالت زار پر آواز احتجاج بلند نہیں کی بلکہ تاریخ بتاتی ہے کہ رسول اسلامؐ سے لے کر آخری امام تک سب نے اپنے اپنے انداز میں غدیر و ولایت کی اہمیت بیان کی اور لٹتی ہوئی میراث کے خلاف آواز احتجاج بلند کیا تاکہ لوگ معصو مین کے ارشادات و فرمودات کے آئینہ میں حقیقت و واقعیت کا عکس دیکھ لیں اور پوری طرح حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرسکیں ۔لیجئے یہاں معصومین کی نظر میں غدیر کی اہمیت و عظمت کو بالترتیب بیان کیاجارہاہے :

رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ
شیخ صدوق نے اپنی کتاب''الامالی''میں امام باقر علیہ السلام اور آپ نے اپنے جد بزرگوار سے نقل کیا ہے کہ ایک دن رسول خداؐنے علی علیہ السلام سے فرمایا: اے علی خداوند عالم نے آیت "یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک''(٢)کو تمہاری ولایت کے بارے میں نازل کیا ہے۔ اگر اس ولایت کو کہ جس کا خدا نے مجھے امر کیا، نہ پہنچاتا تو میری رسالت باطل ہو جاتی۔ اور جو شخص خدا سے تمہاری ولایت کے بغیر ملاقات کرے اس کا کردار باطل ہے۔ اے علی !میں وحی خدا کے علاوہ بات نہیں کرتا۔(٣)

حضرت علی علیہ السلام
حضرت علی نے وفات رسول کے بعد آپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے لوگوں کو غدیر کی اہمیت بتائی اور غاصبین غدیر کے خلاف کھل کر آواز احتجاج بلند کی چنانچہ آپ برابر آنحضرت ؐکے اصحاب و انصار سے روز غدیر سے متعلق سوال کرتے تھے اور لوگ سر جھکا کر اثبات کا اظہار کرتے تھے ۔روایت میں ہے کہ انس ابن مالک نے جواب میں عذر خواہی کرتے ہوئے کہا: میں بوڑھا ہوگیاہوں مجھے کچھ یاد نہیں رہا۔ حضرت نے بددعا کی : خدایا ! اگر یہ شخص دروغ گوئی سے کام لے رہاہے تو ایسا مرض اس پر نازل فرما کہ یہ اسے چھپا نہ سکے ۔چنانچہ وہ برص کے مرض میں اس طرح مبتلا ہوئے کہ ان کی پیشانی تک پھیل گیا ۔
آپ نے شوریٰ جیسے اہم ترین دن میں بھی اپنی غدیری خلافت کے ذریعہ لوگوں پر برتری جتائی ،آپ کے اس احتجاج کو بہت سے علمائے اہل سنت نے بھی نقل کیاہے ، مناقب خوارزمی کے الفاظ ہیں: حضرت نے لوگوں سے فرمایا :تمھیں خدا کی قسم ہے !بتائو میرے سوا تم میں کوئی ایسا ہے جس کے لئے رسول اللہ ؐنے فرمایاہو: ''من کنت مولاہ فعلی مولاہ اللہم وال من والاہ وعاد من عاداہ وانصر من نصرہ'' اور اس پیغام کے متعلق حاضرین کو غائبین تک پہونچانے کی تاکید کی ہو؟سب نے کہا : خدا کی قسم ! نہیں ۔(٤)

حضرت فاطمہ بنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ
شمس الدین ابو الخیر جزری دمشقی مقری شافعی نے اپنی کتاب ''اسنی المطالب فی مناقب علی ابن ابی طالب ''میں اپنی سند (جس سند کو لطیف اور انتہائی عجیب طریق حدیث کہاہے )سے فاطمہ بنت رسول ۖ سے روایت کی ہے کہ حضرت نے فرمایا : انسیتم قول رسول اللہ یوم غدیر خم : من کنت مولاہ فعلی مولاہ و قولہ : انت منی بمنزلة ھارون من موسی'' کیا تم لوگ غدیر خم میں ارشاد رسول ؐ:'' من کنت مولاہ فعلی مولاہ ''اور آنحضرت کا ارشاد:'' انت منی بمنزلة ھارون من موسی '' بھول گئے ''۔(٥)

سبط اکبر امام حسن علیہ السلام
حافظ کبیرابوالعباس بن عقدہ نے اخراج کیا ہے ۔امام حسن نے معاویہ سے صلح کے بعد خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے خدا کی حمد وثنا اور محمدمصطفی ؐ کی نبوت ورسالت کے تذکرے کے بعد فرمایا:
''ہم اہل بیت کو خدا نے اسلام کے ذریعے مکرم فرمایا،ہماراانتخاب کر کے ہم سے تمام قسم کے رجس کو دور کیا اور ہمیں اچھی طرح پاک کیا،آدم سے لے کر جدامجد مصطفےٰۖ تک اگر انسانوں کے دوگروہ بھی ہوئے تو ہمیں بہترین گروہ قراردیا ،جب خدا نے محمدؐ کو نبوت کے لئے مبعوث اور رسالت کے لئے منتخب فرمایا تو ان پر کتاب نازل فرمائی اور لوگوں کو دعوت کا حکم دیا ،اس وقت میرے والد ماجد نے خدا و رسول ؐکی دعوت پر سب سے پہلے لبیک کہی،سب سے پہلے ایمان لائے اور تصدیق کی۔انھیں کے متعلق قرآن میں یہ آیت ہے :
(اَفَمَنْ کَانَ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَّبِّہِ وَیَتلُوہُ شَاہِد مِنْہُ ...).(پھر بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے صاف دلیل رکھتا ہوپھر اس کے بعد ایک گواہ بھی اس کی تائید میںہو)۔
اس آیت میں رب کی دلیل میرے جد اور ان کے گواہ میرے والد ماجد ہیں ۔پھر آپ نے فرمایا: اس قوم نے میرے جد کا یہ ارشاد سنا ہے کہ کسی قوم نے بہتر دانشور کو چھوڑ کر کسی کو اپنا ولی بنایاتو اس کے معاملات پستی کی طرف چلے جائیں گے۔یہاںتک کہ پھر وہ اسی کی طرف رخ کریںگے جسے چھوڑدیا تھا۔اس قوم نے میرے جد کا یہ ارشاد بھی سنا ہے کہ میرے والد کے لئے فرمایا:اَنتَ منِّی بمنزِلةِ ہارون مِن مُوسیٰ(تمھیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی لیکن میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا)۔
انھوں نے دیکھا اور سنا ہے کہ رسول خداؐنے غدیر خم میںمیرے والد کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:من کنت مولاہ فعلی مولاہ اللہم وال من والاہ وعاد من عاداہ۔پھر رسول اللہ نے لوگوں کو تاکید فرمائی کہ یہاں موجود لوگ غائب افراد تک میرا پیغام پہونچا دیں''۔احتجاج سے بھر پور یہ خطبہ قندوزی کی ینابیع المودةمیں بھی ہے۔(٦)

فرزند رسول ؐامام حسین علیہ السلام
بزرگ تابعی ابوصادق سلیم بن قیس ہلالی نے اپنی کتاب میں شیعیان علی پر معاویہ کی سخت گیری اور ان کے احتجاج کا بلیغ تجزیہ کیا ہے۔ امیرالمومنین کی شہادت کے بعد کا حال یوں لکھتے ہیں:
معاویہ کی موت سے دو سال قبل امام حسین نے حج بیت اللہ کا ارادہ فرمایا،آپ کے ہمراہ عبداللہ بن عباس وعبداللہ بن جعفر بھی تھے۔اس موقع پر امام نے بنی ہاشم کے مردوزن حاجی وغیرحاجی ،دوست دار شیعوں کے علاوہ معرفت شناس انصار جو صحابہ وتابعین میں عبادت گزار اور نیکیوں سے آراستہ تھے،سب کو جمع کیا ،منیٰ کے میدان میں لگ بھگ سات سو آدمیوں میں معزز تابعین کی اچھی خاصی تعداد تھی۔اور تقریباً دو سو اصحاب رسولۖ بھی تھے،ان کے درمیان کھڑے ہو کر حمد وثنائے الٰہی کے بعد فرمایا:
''امابعد!اس بدکار سرکش(معاویہ)نے ہمارے شیعوں کے ساتھ جو برتائو کیا اسے تم جانتے ہو،تم نے دیکھا اور مشاہدہ کیا،تمھارے پاس خبریں بھی پہنچتی ہیں،میں تم سے کچھ سوالات کرنا چاہتا ہوں،اگر میری بات سچ ہو تو تصدیق کرنا ،غلط کہوں تو جھٹلادینا ۔توجہ سے سنواور لکھ لو۔ پھر تم اپنے وطن واپس جائو اور وہاں جسے لائق اعتماد سمجھو اسے ہمارے حقوق کی طرف دعوت دو اور جو کچھ تمھیں علم ہے بتاؤ ۔کیوں کہ مجھے یہ خوف ہے کہ کہیں یہ حق ملیا میٹ اور مغلوب نہ ہو جائے ۔حالانکہ خدا اپنے نور کو تمام کر کے رہے گا اگر چہ کافروں کو ناگوار ہی گزرے''۔
اس موقع پر امام نے اپنے بارے میں نازل آیات کی تلاوت اور اس کی تفسیر بیان کی۔رسول خداؐ نے آپ کے والد ماجد ،مادر گرامی اور آپ نیز آپ کے اہلبیت کے بارے میں جو کچھ فرمایا تھا،اس کی روایت کی۔آپ کی تقریر کے دوران بار بار صحابہ کہہ رہے تھے:خدا گواہ !یہ سب سچ ہے ۔اور تابعین کا نعرہ تھا:یہ سب معتبر صحابہ سے نقل ہوتا آیا ہے ۔
حضرت نے فرمایا:میں تمھیں قسم دیتا ہوں ،کیا تم جانتے ہو کہ رسول ؐنے بروز غدیر خم(علی کو)ولایت کے لئے تعین فرمایااور اعلان کر دیا کہ جو یہاں حاضر ہیں غائب لوگوں تک پہنچا دیں ۔سب نے کہا :خدا گواہ ہے ،بالکل سچ ہے ...آخر حدیث۔(١)
اس تقریر میں فضائل کی متواتر سندیں ہیں،اصل کی طرف رجوع کیاجائے۔

امام زین العابدین علیہ السلام
ابن اسحاق، مشہور تاریخ نگار، کا کہنا ہے: علی بن حسین سے کہو: " من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ" کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا: " اخبر ھم انہ الامام بعدہ"۔ پیغمبر اسلام ؐنے لوگوں کو یہ خبر دی کہ ان کے بعد علی امت کے امام ہیں۔(٨)

امام محمدباقر علیہ السلام
ابان بن تغلب کا کہنا ہے: امام باقر علیہ السلام سے پیغمبر اسلام ؐکے اس قول: ''من کنت مولاہ فعلی مولاہ''کے بارے میں سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: اے ابو سعید پیغمبر اسلام ؐنے فرمایا: امیر المومنین لوگوں کے درمیان میرے جانشین ہوں گے۔(٩)

امام جعفر صادق علیہ السلام
زید شحام کا کہنا ہے: میں امام صادق علیہ السلام کے پاس تھا، مکتب معتزلہ کے ایک آدمی نے آپ سے سنت کے بارے میں سوال کیا۔ آپ نے جواب دیا: ہر وہ چیز جس کی انسان کو ضرورت ہے اس کا حکم خدا اور اس کے پیغمبر کی سنت میں موجود ہے۔ اگر سنت نہ ہوتی خدا وند عالم کبھی بھی اپنے بندوں پر حجت تمام نہ کرتا۔
اس آدمی نے پوچھا: خداوند عالم نے کس چیز کے ذریعے ہمارے اوپر حجت تمام کی ہے؟
آپ نے فرمایا: الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیم نعمتی و رضیت لم الاسلام دینا؛ اس نے اس طریقے سے ولایت کو مکمل کیا اس سنت کے ذریعے اس نے حجت کو تمام کیا ہے۔(١٠)

امام موسی کاظم علیہ السلام
عبد الرحمن بن حجاج نے حضرت موسی بن جعفر سے غدیر خم کی مسجد میں نماز(١١) کے بارے میں سوال کیا : آپ نے جواب میں فرمایا: صل فیہ فان فیہ فضلا و قد ان اب یامربذ ل (١٢)اس میں نماز پڑھو اس لیے کہ اس میں نماز پڑھنے کی بہت فضیلت ہے اور بہ تحقیق میرے بابا نے اس امر کے لیے حکم کیا ہے۔

امام رضا علیہ السلام
محمد بن ابی نصر بزنطی کہتے ہیں: امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اس حال میں کہ مجلس لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔وہ لوگ آپس میں غدیر کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔ بعض لوگ اس واقعہ کا انکار کر رہے تھے امام علیہ السلام نے فرمایا: میرے والد نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ روز غدیر آسمان والوں کے درمیان زمین والوں سے زیادہ مشہور اور مقبول ہے۔ اس کے بعد فرمایا: اے ابی بصیر، " این ما کنت فاحضر یوم الغدیر" جہاں بھی رہو غدیر کے دن امیر المومنین کے پاس جانا۔ یقینا اس دن خداوند عالم مسلمان مرد و زن کے ساٹھ سال کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے اور دوبرابر زیادہ لوگوں کو ماہ رمضان کی نسبت ،جہنم کی آگ سے نجات دلاتا ہے۔
اس کے بعد فرمایا: واللہ لوعرف الناس فضل ہذا الیوم بحقیقہ لصافحتہم الملائہ ل یوم عشر مرات''اگر لوگ اس دن کی قد و قیمت کو جان لیتے تو بغیر شک کے ہر روز دس بار فرشتے ان سے مصافحہ کرتے''۔(١٣)

امام محمد جوادعلیہ السلام
ابن ابی عمیر نے ابو جعفر ثانی سے اس آیت(یا ایھا الذین آمنوا اوفوا بالعقود) (١٤)کے ذیل میں یوں نقل کیا: پیغمبر اسلام نے دس جگہوں پر اپنی خلافت کی طرف اشارہ کیا اس کے بعد آیت(یا ایھا الذین آمنوا اوفوا بالعقود) نازل ہوئی۔(١٥)
اس روایت کی وضاحت میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ متذکرہ آیت سورہ مائدہ کے شروع میں ہے، یہ سورہ آخری سورہ ہے جو پیغمبر اسلام ؐپر نازل ہوا ہے، اس سورہ میں آیت اکمال اور آیت تبلیغ ہیں کہ جو واقعہ غدیر کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔

امام ہادی علیہ السلام
شیخ مفید نے کتاب ارشاد میں امیر المومنین علی کی زیارت کو امام حسن عسکری اور آپ نے امام ہادی [س] سے نقل کرتے ہوئے یوں بیان کیا ہے کہ امام جواد نے غدیر کے دن حضرت علی علیہ السلام کی زیارت کی اور فرمایا: اشہد ان المخصوص بمدحاللہ المخلص لطاع اللہ ...؛ گواہی دیتا ہوں کہ خدا کی مدح و ثنا آپ سے مخصوص ہے اور آپ اس کی اطاعت میں مخلص ہیں۔
اس کے بعد فرمایا: خداوند عالم نے حکم دیا:(یا ایہاالرسول بلغ ما انزل الی من رب و ان لم تفعل فمابلغت رسالتہ و اللہ یعصم من الناس)۔
اس کے بعد فرمایا: پیغمبر اسلام ؐنے لوگوں کو خطاب کیا اور ان سے پوچھا: کیا میں نے جو کچھ میرے ذمہ تھا تم لوگوں تک نہیں پہنچایا؟
سب نے کہا: پہنچا دیا یا رسول اللہ۔
اس کے بعد فرمایا: خدا گواہ رہنا۔ اس بعد فرمایا : الست اول بالمومنین من انفسہم؟ فقالوا بل فاخذ بید و قال من نت مولاہ فہذا عل مولاہ، اللہم وال من والاہ و عاد من عاداہ و انصر من نصرہ و اخذل من خذلہ؛ کیا میں مومنین پر ان کے نفوس سے زیادہ حق نہیں رکھتا ہوں؟ سب نے کہا: ہاں، یا رسول اللہ آپ رکھتے ہیں۔ اس کے بعد علی کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں...۔(١٦)

امام حسن عسکری علیہ السلام
حسن بن ظریف نے امام حسن عسکری علیہ السلام کو خط لکھا اور پوچھا: پیغمبر اسلام ؐکے اس قول''من کنت مولاہ فعلی مولاہ''کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے جواب میں فرمایا: اراد بذل ان جعلہ علما یعرف بہ حزب اللہ عند الفرق؛ خدا وند عالم نے ارادہ کیا کہ یہ جملہ علامت اور پرچم قرار پائے تاکہ اللہ کا گروہ اختلاف کے وقت اس کے ذریعے پہچانا جائے۔
اسحاق بن اسماعیل نیشابوری کہتے ہیں: حضرت حسن بن علی نے ابراہیم سے یوں کہا: خداوند عالم نے اپنی رحمت اور احسان کے طفیل واجبات کو تمہارے اوپر مقرر کیا یہ کام اس کی ضرورت کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اس کی رحمت کا تقاضا تھا جو تمہارے شامل حال ہوئی۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس نے ایسا کیا تا کہ ناپاک و پاک لوگوں سے جدا کرے اور تمہارے باطن کو پرکھے تاکہ اس کی رحمت تمہارے شامل حال ہو اور بہشت میں تمہارا مقام معین ہو۔
اسی وجہ سے حج، عمرہ، نماز کی ادائیگی ، زکات، روزہ اور ولایت کو تمہارے اوپر چھوڑا اور تمہارے راستے میں ایک دروازہ رکھا تاکہ اس کے ذریعے دوسرے واجبات کے دورازوں کو اپنے اوپر کھول سکو۔ اس دروازے کو کھولنے کے لیے ایک چابی رکھی ہے اور ہے محمد اور آل محمد۔ اگر محمد اور آل محمد نہ ہوتے تم لوگ حیوانوں کی طرح سرگرداں گھومتے رہتے۔ اور کسی بھی فریضہ کی ادائیگی نہ کر پاتے۔ مگر گھر میں دروازے کے علاوہ انسان داخل ہو سکتا ہے؟ جب خداوند عالم نے پیغمبر کے اپنے اولیا کو معین کر کے اپنی حجت تمہارے اوپر تمام کر دی تو فرمایا:( الیوم املت لم دینم و اتممت علیم نعمت و رضیت لم الاسلام دینا)(١٧) کہ آج میں نے دین کو تمہارے اوپر کامل کر دیا اور نعمت کو تمام کر دیا اور اسلام سے راضی ہو گیا۔ اس کے بعد اس نے اپنے اولیا کے کچھ حقوق تمہاری گردنوں پر رکھے اور تمہیں حکم دیا کہ ان کے حقوق کو ادا کرو تاکہ تمہاری عورتیں، مال و دولت، خوراک و پوشاک تمہارے اوپر حلال ہو۔ اور اس کے ذریعے برکت اور ثروت کو پہچنوائے اور تم میں سے اطاعت کرنے والوں کو غیبت کے ذریعے پہچنوائے۔(١٨)

امام زمانہ عج
دعائے ندبہ میں جو بظاہر آپ سے منسوب ہے وارد ہوا ہے:" فلما انقضت ایامہ اقام ولیہ علی بن ابی طالب صلواتک علیھما و آلھما ھادیا اذ کان ھو المنذر و کل قوم ھاد فقال و الملا امامہ من کنت مولاہ فعلی مولاہ..."۔

حوالہ جات
١۔ نہج البلاغہ خطبہ ٣
٢۔سورہ مائدہ، آیہ٧١
٣۔ امالی شیخ صدوق، مجلس ج٧٤ ص٤٠٠
٤۔مناقب خوارزمی ص٢١٧(ص٣١٣ حدیث نمبر٣١٤)
٥۔ الضوء اللامع،سخاوی ج٩ ص ٢٥٦ ؛ البدر الطالع،شوکانی ج٢ ص ٢٩٧
٦۔ینابیع المودةص٤٨٢،باب٩٠
٧۔کتاب سلیم بن قیس (ج٢ص٧٨٨حدیث ٢٦)
٨۔معانی الاخبار، ص٦٥؛ بحارالانوار، ج٣٧، ص٢٢٣
٩۔معانی الاخبار، ص٦٦
١٠۔تفسیر برہان، ج١، ص٤٤٦
١١۔اس مسجد کی اہمیت کو جاننے کے لیے مجلہ میقات حج(فارسی) شمارہ١٢کی طرف رجوع کیا ۔
١٢۔اصول کافی، ج٤، ص٥٦٦
١٣۔تہذیب الاسلام، شیخ طوسی، ج٦، ص٢٤، ح٥٢؛ مناقب ابن شہرآشوب، ج٣، ص٤١
١٤۔سورہ مائدہ، آیہ١
١٥۔تفسیرقمی، ج١، ص١٦٠
١٦۔بحارالانوار، ج١٠٠، ص٣٦٣
١٧۔ایضاً، ج٣٧، ص٢٢٣
١٨۔علل الشرائع، ج ١، ص٢٤٩

مقالات کی طرف جائیے