مقالات

 

فقاہت، عظیم نعمت الٰہی

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

"فقاہت" دنیائے تشیع کے لئے روحانی و معنوی فیضان ہے ، عبادت و بندگی کی معتبر ضمانت اور قومی وحدت کی شناخت ہے ، طول تاریخ میں فقاہت نے حساس اور نازک گھڑیوں میں اسلامی معاشرے کی رہنمائی کرکے بیڑا پار لگایاہے ۔
موجودہ زمانے میں ارباب ایمان کے دینی ، عبادی ، سماجی اور معاشرتی مسائل پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتے جارہے ہیں اور یہ دائرہ وسیع ہوتا جارہاہے ، نئے حالات و مسائل نے نئی سوچ کے غیر متوقع دروازے کھول دئیے ہیں ، یہ تو عمومی نظریاتی مسائل کی بات ہوئی ، باہمی تعلقات و معاملات نے بھی اپنے ہاتھ پائوں پھیلالئے ہیں ، قومی و اجتماعی مسائل خواہ وہ داخلی سطح پر ہوں یا خارجی سطح پر ، اپنے مناسب حل کا مطالبہ کررہے ہیں ، ''حوادث ''کا ناگ عالمی سطح پراپنے پھن پھیلائے ہوئے انسانیت کے لئے عام طور پر اور اسلام اور مسلمانوں کے لئے خاص طور پر ایک چیلنج بناہواہے ، ان حالات میں اسلام کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہے ۔
اس پیچیدہ اور نازک تصور کے پیش نظر غیبت کبریٰ اختیار کرتے ہوئے امام زمانہ نے شیعوں کو حکم فرمایا تھا : واما الحوادث الواقعة فارجعوا فیھا الی رواة احادیثنا فانھم حجتی علیکم و انا حجة اللہ علیہم "اگر حوادث پیش آئیں تو ایسی صورت میں ہمارے راویان احادیث '' علماء و فقہاء '' کی جانب رجوع کرو اور ان سے اپنا رابطہ برقرار رکھو کیونکہ وہ میری جانب سے تمہارے اوپر حجت ہیں اور میں ان پر خدا کی حجت ہوں "۔(١)
اس حدیث نے بندوں کا خدا سے تعلق استوار رکھنے کا جو زینہ متعین کیاہے اس کا اولین مرحلہ یہی علم و فقہ ہے ؛ اس حدیث میں غور و فکر کرنے سے مندرجہ ذیل نکات سامنے آتے ہیں :
١۔ امام علیہ السلام نے مذکورہ حدیث میں حوادث کو مطلق بیان فرمایا ہے یعنی جیسے بھی حوادث و حالات پیش آئیں خواہ وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی ، علاقائی ہوں یا آفاقی....ان سب میں ہماری احادیث کے رواة کی جانب رجوع کرو ، وہ تمہیں ان حالات سے نکلنے کا طریقہ بتائیں گے ۔
٢۔امام علیہ السلام نے واضح الفاظ میں بیان فرمایاہے کہ یہ علماء و فقہاء تمہارے اوپر میری حجت ہیں ؛ یعنی اگر کوئی شخص فقہاء کے دستورات پر عمل پیرا نہ ہو تو گویا اس نے اپنے امام کی مخالفت کی ہے ، فقہاء کے دستوارت کی پیروی کرنا ، امام کے احکامات کی اطاعت کرنے کے مترادف ہے ۔
٣۔ جس طرح فقہاء تمہارے اوپر میری حجت و دلیل ہیں اسی طرح میں فقہاء پر خداوندعالم کی حجت و دلیل ہوں ؛ میں ہر وقت ان پر ناظر ہوں ، ان کی دیکھ بھال کررہاہوں ، اگر ان سے کسی مقام پر خطا و نسیان سرزد ہوجائے تو میں انہیں ان کی غلطی کی جانب متوجہ کروں ۔ اس سلسلے میں بے شمار واقعات ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں کہ امام علیہ السلام نے فقہاء کی زندگی میں بعض مسائل کی وضاحت فرمائی ہے اور غلطی کی صورت میں اصلاح کرنے کا حکم دیاہے۔
ایک دوسری حدیث میں امام زمانہ (عج) فرماتے ہیں :و اما من کان من الفقہاء و صائنا لنفسہ حافظا لدینہ تارکا لھواہ مطیعا لامر مولاہ فللعوام ان یقلدوہ۔(٢)
ترجمہ :'' فقہاء میں سے جو شخص اپنے نفس کی روک تھام کرنے والا ، اپنے دین کی حفاظت کرنے والا ، اپنی نفسانی خواہشات کا مخالف اور اپنے خالق کے امر کا مطیع ہو تو عوام کو چاہئے کہ اس کی تقلید کریں ''۔
یعنی ایسے موالیان امامت جن کا معیار نظر اجتہاد کے درجے تک نہیں پہونچا ہو ا ہے انہیں چاہئے کہ ایسے فقہاء کی تقلید کریں جن میں چار اہم صفات پائی جاتی ہیں :
١۔ اپنے نفس کو معصیت سے آغشتہ کرنے والے محرکات سے بچانے والا ہو۔
٢۔دین کا محافظ ہو ؛ صرف نظریاتی سطح پر ہی نہیں بلکہ عملی میدان میں بھی اس کے عظیم اور ناقابل فراموش کارنامے ہوں ، اسے تحفظ دین کے تمام حدود و معیار کی خبر ہو ، مسائل کا دقت نظر اور باریک بینی سے مطالعہ کرکے ایسے ٹھوس اقدامات کرسکتاہوکہ موضوعِ تحفظ یقینی بن جائے ۔ دوسرے لفظوں میں اس کے پاس حفاظت دین کے وسائل بھی موجود ہوں ، سخت آزمائشوں میں اس کے پائے استقامت میں ذرا لغزش نہ ہو ۔ وہ تحفظ دین کی علامت بن کے اپنوں اور غیروں پر اس طرح اثر انداز ہو کہ احکام خداو رسول کی بالا دستی یقینی بن جائے ۔
٣۔ ہوا و ہوس اور خواہشات نفسانی سے اپنی ذات اور شخصیت کو الگ تھلگ رکھنے والا ہو ، حب نفس ، حب جاہ اور اقتدار کی ہوس اس کے اندر نہ ہو ۔
٤۔ وہ صرف رب العالمین کا اطاعت گزار ہو ، طاغوت کی اقتصادی و معاشی ناکہ بندیاں ، کفار و مشرکین کی دھمکیاں اس کے عقیدہ و عمل کو متاثر نہ کریں بلکہ اگر اس راہ میں اس فقیہ کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے تو اس کا موقف مزید مستحکم ہو۔
ایک حدیث امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے ، اس میں آپ فرماتے ہیں :
من کان منکم قد روی حدیثنا و نظر فی حلالنا و حرامنا و عرف احکامنا فلیرضوابہ حکما فانی قد جعلتہ علیکم حاکما فاذا حکم بحکمنا فلم یقبلہ منہ فانما استخف بحکم اللہ و علینا رد والراد علینا کالراد علی اللہ و ھو علی حد الشرک باللہ ۔(٣)
''تم میں سے جو کوئی ہماری حدیث کا راوی ہو اور ہمارے حلال و حرام پر تحقیق کرے ، اہل نظربھی ہو اور ہمارے احکام کی معرفت رکھتاہو ، اس کو حاکم کے عنوان سے قبول کرو بے شک میں نے اس کو تمہارے اوپر حاکم قرار دیاہے پس اگر وہ کوئی حکم دے اور تم قبول نہ کرو تو خدا کے حکم کو سبک سمجھا ہے اور ہمارے حکم کو رد کیاہے اور جو کوئی ہمیں رد کرے اس نے خدا کو رد کردیا ہے اور خدا کو رد کرنا خدا وندعالم کے ساتھ شرک کی حد تک ہے''۔
اگر ان تمام احادیث کا باریک بینی سے تجزیہ کیاجائے تو مرکزی مفہوم صرف تحفظ دین ہی قرار پاتاہے اور اسی کو یقینی بنانے کے لئے صیانت نفس ، ترک ہوا اور اطاعت مولا کی شرط رکھی گئی ہے ۔آج کے دور میں ایران اسی فقاہت و مرجعیت کا مرکز ہے ، اس وقت ایران تحفظ شیعیت کی عظیم اور ناقابل تسخیر قوت ہے ، علم و دانش ، اجتہاد و فقہ ، عمل و اقدام اور دیگر بے شمار وسائل و امکانات کے اعتبار سے مرجعیت ایران میں نمایاں ہے ، اس دوپہر کے سورج کی طرح واضح حقیقت کا اعتراف نہ کرنا ، دین و دیانت سے بعید بات ہوگی ۔
ایران کے تمام علماء و فقہاء اس حساس مرحلے میں چوکنا بھی ہیں اور فعال بھی ، انہیں اس بات کا احساس ہے کہ اس وقت تحفظ دین و شریعت اور تشیع کی قیادت بڑی کٹھن آزمائشوں سے دوچار ہے ، استعمار اسے بارود بنانا چاہتاہے تاکہ اگرکبھی '' تحریم تمباکو '' جیسی صورت حال پیدا ہوجائے تو اپنی عیاریوں سے سے دوسرے وسائل و امکانات بروئے کار لائے جاسکیں ۔ جو لوگ مغربی نشریات سنتے ہیں انہیں استعماری ہتھکنڈوں کا کسی حد تک علم ہوگا ، ایسے میں ذہنی انتشارہمارے فقہاء کی حساسیت کا بین ثبوت ہے۔
اس وقت جب کہ تشیع نے اپنی عظمت و اہمیت کا لوہا تمام دنیا سے منوالیا ہے ، پوری دنیا میں اس کا چرچا عام ہے اورسبھی اس کی افادیت و اہمیت سے واقف ہیں تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے دوام کا اہم ترین ذریعہ یعنی فقاہت جیسی عظیم نعمت الٰہی کا احترام و اکرام کریں ،فقہاء کے دستورات پر اسی طرح سر تسلیم خم رکھیں جس طرح امام کے حکم کے آگے تسلیم ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ کچھ اور نہیں بلکہ نائب امام ہیں، ان کی بات امام کی بات کے مترادف ہے ۔ ہمیں اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ چند لمحوں کے ذاتی مفادات ، فقہاء کی اطاعت میں رکاوٹ نہ بنیں ، ان کے احکامات کو اپنے ذاتی مفادات کے سایہ میں نہ دیکھیں اور ان پر عمل کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہ کریں اس لئے کہ فقیہ صرف ایک شخص کے لئے فتویٰ صادر نہیں کرتا بلکہ اس کی نظر میں پورے اسلام کی بقا ہوتی ہے ، وہ پورے اسلام کا مفاد دیکھتا ہے کسی ایک شخص کا معمولی فائدہ نہیں ۔
افسوس کی بات ہے کہ آج کچھ لوگ اپنے ذاتی فائدے کے لئے فقاہت پر انگلی اٹھاتے ہیں ، ولی فقیہ کو اپنے تیر ہدف کا نشانہ بناتے ہیں اور اس طرح استعمار کا آلۂ کار بن رہے ہیں ۔وہ اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی فقیہ جامع الشرائط اور ولایت فقیہ سے متنفر کرنے کی ناکام کوششیں کررہے ہیں ۔
ایسے لوگوں کی باتیں نہیں سننا چاہئے جو اسلامی طریقہ کار کے مخالف ہیں اور اپنے آپ کو روشن فکر سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ولایت فقیہ کو قبول نہ کریں۔ اگر فقیہ بیچ میں نہ ہو اور ولایت فقیہ کی دخالت نہ ہو تو طاغوت کی دخالت ہو گی۔ یا خدا ہے یا طاغوت۔ یا طاغوت ہے یا خدا۔ اگر خدا کا حکم مد نظر نہ رکھا جائے اگرکسی حکم اسلامی کو ولایت فقیہ کے بغیر نافذ کیا جائے تو وہ غیر شرعی ہو گا اور جب غیر شرعی ہو گا تو اس نظام میں خدا نہیں ہو گا طاغوت ہو گا۔ اس کی اطاعت، طاغوت کی اطاعت ہو گی۔
ہمیں چاہئے کہ اپنی بصیرت کو بروئے کار لاکر اسلام کے اس اہم ترین رکن کی حقیقت و واقعیت کو سمجھیں اور ان چار لوگوں سے خوف زدہ نہ ہوں جو خود نہیں جانتے کہ اسلام کیا ہے؟ نہیں جانتے کہ فقیہ کیا ہے؟ انہیں کیا معلوم فقاہت کیا ہوتی ہے؟
چونکہ وہ اپنے گھناؤنے ارادوں میں فقاہت کو عظیم رکاوٹ سمجھتے ہیں اسی لئے اسے مصیبت سمجھتے ہیں حالانکہ فقاہت تشیع کے لئے مصیبت نہیں بلکہ رحمت ہے ۔

حوالہ جات :
١۔ کمال الدین ، شیخ صدوق ج١ ص٤٨٣
٢۔وسائل الشیعہ ، حرعاملی ج٨١ ص ٤٩
٣۔ اصول کافی ، کلینی ، ج١ ص ٦٧؛ وسائل الشیعہ ج٨١ ص ٩٩

مقالات کی طرف جائیے