مقالات

 

خطبہ غدیر، دومسلمانوں کے اختلاف کا حل

حضرت آیة اللہ العظمی جعفرسبحانی دام ظلہ

ایک زائرنے غدیرخم سے متعلق سوال کیاکہ سعودی عرب کی پولس نے اس سے یوں کہا: غدیرخم کا واقعہ حقیقت میں دومسلمانوں کے درمیان اختلاف کی وجہ سے پیش آیا(یعنی یہ ایک عام واقعہ تھا جو کسی کی برتری یافضیلت کواجاگرنہیں کرتا(جس کے رفع ودفع کرنے پرپیغمبرؐمامور ہوئے)۔ اس کے بعدوہ یوں کہتاہے: تاریخ گواہ ہے کہ حدیث غدیرکاحضرت علی علیہ السلام کی خلافت سے کوئی تعلق نہیں ہے اورنہ ہی حضرت علی علیہ السلام نے اس کے بارے میں کبھی کسی طرح کاکوئی دعویٰ پیش کیا!!۔
جواب:
اس پولس والے(مطوع) نے اپنی گفتگومیں درواقع تین طرح کے دعوے کئے :
١۔ غدیرخم کاواقعہ دومسلمانوں کے درمیان رفع اختلاف کے سبب پیش آیا ۔
٢۔ واقعہ غدیرکاحضرت علی علیہ السلام کی خلافت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
٣۔ حضرت علی علیہ السلام نے خلافت سے متعلق کسی طرح کاکوئی دعویٰ نہیں کیا ۔
میں یہاں پرواقعہ غدیرکوبطورخلاصہ پیش کرتاہوں تاکہ اس کے دعوؤں کی حقیقت واضح ہوجائے، داستان کچھ یوں ہے :
پیغمبراسلام ؐجب مقام جحفہ پرپہنچے تو امین وحی ، حضرت جبرئیل کانزول ہوا ،کہنے لگے : تم پرلازم ہے کہ خدائی پیغام کولوگوں تک پہنچادواوراگرایسانہ کیاتوگویااپنی رسالت کوانجام نہیں دیا۔ اندازسخن کچھ ایساتھا:''یَااَیُّھَاالرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکْ ، وَاِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَابَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ، وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ، اِنَّ اللّٰہَ لَایَھْدِیْ الْقَوْمَ الْکَافِرِیْنَ'' ۔ (١)
آیہ کریمہ متعدد پیام کی حامل ہے من جملہ :
١۔ اگریہ کا م انجام نہ دیا تواپنی رسالت کوانجام نہ دیا۔
٢۔ پیغام رسانی کی صورت میں لوگوں(منافقین)کی جانب سے شورش کابھی احتمال ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے (وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ)کہہ کر پیغمبرؐکواطمینان دلایاکہ وہ انہیں لوگوں (منافقین) کے شرسے محفوظ رکھے گا ۔
ا س کے بعد پیغمبراسلام ؐنے دوپہرکی چلچلاتی دھوپ میں قافلہ کوروکنے کاحکم دیتے ہوئے فرمایا: جولوگ آگے نکل گئے واپس لوٹیں اورجوپیچھے رہ گئے ہیں ان کاانتظارکیاجائے ، اس کے بعد اونٹوں کے کجاووں کامنبربنایاگیا، آنحضرت ؐاس پرتشریف لے گئے ، خطبہ پڑھا،پھر لوگوں سے تین چیزوں سے متعلق گواہی مانگی ، فرمایا: الستم تشھدون ان لاالہ الااللہ؟ سب نے کہا: جی ہاں! یارسول اللہ ، اس کے بعد مرسل اعظم ؐنے لوگوں سے اپنی رسالت اورقیامت کی حقانیت کااعتراف کروا یا،اس کے بعداصول وقواعداسلامی کوبیان کرتے کرتے حضرت علی علیہ السلام کی خلافت وجانشینی کامعاملہ اٹھایا توطرزکلام کچھ ایساتھا : الست اولی بکم من انفسکم ؟ کیامیں تمہارے نفسوں پرتم سے زیادہ شائستہ نہیں ہوں؟۔ قالوا: بلی یارسول اللہ ۔ سب نے کہا: ہاں!آپ ہی ہیں اے اللہ کے رسول!اس موقع پرآنحضرت ؐنے یہ تاریخی جملہ ارشادفرمایا: من کنت مولاہ فھذاعلی مولاہ ، اللھم وال من والاہ ، وعادمن عاداہ ، وانصرمن نصرہ ، واخذل من خذلہ، الافلیبلغ الشاھدالغائب ۔
اس کے بعد اس آیت کانزول ہوا : اَلْیَوْمَ اَکَْمَلْتُ لَکُمْ دَیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ اْلِاسْلَامَ دِیْنًا ۔ (٢)
آج میں نے تمہارے دین کوکامل کردیا، تم پراپنی نعمتیں تمام کردیں اورتمہارے لئے دین اسلام سے راضی ہوگیا۔
گرمی کی شدت کاعالم یہ تھاکہ حاجیوں نے اپنی عباکاایک حصہ سر پرتودوسرازمین پربچھارکھاتھا، اتنی شدیدگرمی کے باوجود پیغمبر اسلام ؐنے موضوع کی اہمیت اورمنزلت کے پیش نظرصحرا وبیابان، چلچلاتی دھوپ اور تپتے سورج کی بھری دوپہر میں امرالٰہی کو پہنچانے کے لئے اس عظیم اجتماع کااہتمام کیاتاکہ حاجیوں کے متفرق ہونے سے پہلے خدائی پیغام بصورت احسن لوگوں تک پہنچ جائے۔
یہاں پرسوال یہ اٹھتاہے کہ رسول اکرم ؐ کون سااورکتناعظیم پیغام پہنچاناچاہتے تھے؟ کیاوہ دو مسلمانوں کے مابین اختلاف ختم کرناچاہتے تھے؟ کیایہ مضحکہ خیزبات نہیں ہے کہ دولوگوں کے درمیان کی رنجش دورکرنے کے لئے اتنا بڑا قدم اٹھایاجائے اورقرآن بھی اسے ایک عظیم الشان ورفیع المنزلت پیغام ، اکمال دین واتمام نعمت کے عنوان سے تعبیرکرے ؟۔
اگرواقعاًرفع اختلاف ہی مقصد تھاتو خطبہ کے آغازمیں پیغمبراسلام ؐنے اسلامی اصول و معارف منجملہ : خداکی وحدانیت، اپنی رسالت اورروزجزاکی حقانیت وغیرہ کی تبیین کیوں فرمائی ؟۔
یہ سارے قرینے اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہدف صرف ایک تھا ؛ اوروہ اپنے بعدکے لئے حضرت علی علیہ السلام کی جانشینی اوران کی رہبری کااعلان ، اوربس۔اسی لئے پیغمبراکرم ؐنے اپنے خطبہ کی ابتدامیں ہی خاص طورسے اپنی رحلت کے نزدیک ہونے کاحوالہ دیتے ہوئے بیان کیا کہ میرے اس دنیاسے چلے جانے کے بعدرہبری کاخلاحضرت علی علیہ السلام کے ذریعہ پرہوجائے گا ۔
اس کے بعد پیغمبراسلام ؐنے خلافت کے نفاذ اوراس کی تحکیم کی غرض سے حضرت علی کوایک خیمہ میں بٹھایاتاکہ مسلمان رسول خدا ؐکے بعدکے لئے ایک رہنماکے عنوان سے حضرت علی کی بیعت کریں اورخود شیخین نے بھی یہ کہتے ہوئے بیعت کی : بخٍ بخٍ لک یابن ابی طالب! اصبحت مولای ومولیٰ کل مومن ومومنة۔ ابھی تک جوہم نے بیان کیااس کے حوالے اتنے زیادہ ہیں جنہیں دوچارصفحات میں درج نہیں کیاجاسکتا، ہمارے علماء نے حدیث غدیراور اس کے مصادرو مدارک سے متعلق بہت سی مستدل کتابیں تحریر فرمائی ہیں اورحضرت علی علیہ السلام کی شان میں ان دو آیتوں کے نزول کو بہت سی دلیلوں سے ثابت کیا ہے ہم یہاں پران میں سے صرف دوکتابوں کی طرف اشارہ کررہے ہیں :
١۔ عبقات الانوار؛ نگارش: میرحامدحسین۔٢ ۔ الغدیر؛ تالیف : علامہ امینی۔
کیایہ صحیح ہے کہ ہم اس عظیم واقعہ کودولوگوں کے درمیان حل اختلاف کے عنوان سے تفسیر کریں ؟۔
اگریہ دولوگ حضرت علی علیہ السلام سے ہٹ کر کوئی اورہیں تواس واقعہ سے ان کاکیارابطہ ہے ؟ اور اگر حضرت علی علیہ السلام بھی ان میں سے ایک ہیں تو ان کااختلاف ایک خصوصی جلسہ میں قابل حل تھا۔ غدیرخم کے واقعہ کودولوگوں کے درمیان رفع اختلاف کے عنوان سے تحلیل و تفسیر کرنا ایسا ہی ہے جیسے جاپان میں آنے والے ریسٹری زلزلہ کوالماری سے چندکتابوں کے گرجانے جیسے الفاظ سے تعبیرکرتے ہوئے کہیں کہ الماری سے چندکتابوں کاگرناہی اس بھیانک زلزلہ اورتباہ کن سونامی کا باعث بنا۔
یہاں تک اس (سعودی شرعی پولس)کے دودعوے (یعنی واقعہ غدیرکا رفع اختلاف سے مخصوص ہونا اوردوسرے یہ کہ اس کا خلافت علی علیہ السلام سے کوئی ربط نہیں ہے)باطل ہوگئے ۔
اب اس کے تیسرے دعوے کوبھی دیکھتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام نے کبھی اس سلسلے میں کوئی دعویٰ نہیں کیا ۔
وہ کہتاہے: علی نے حدیث غدیرسے متعلق کسی طرح کاکوئی دعویٰ نہیں کیا۔ اس کایہ دعویٰ کرنادرواقع ایک طرح سے مسلم تاریخی حقائق اور مصادر سے چشم پوشی ہے کیونکہ حضرت علی نے متعددمقامات پرحدیث غدیرسے استدلال کیاہے حتی اصحاب پیغمبرؐسے اس پرگواہی بھی طلب کی ہے جس کا ایک نمونہ''مقام رحبہ کاواقعہ'' ہے جہاں حضرت علی علیہ السلام نے متعدد اصحاب رسول ؐکے درمیان تقریرکرتے ہوئے فرمایا: مجھے بتائو!کیاتم اس بات پرگواہی دیتے ہوکہ پیغمبراکرم ؐنے میرے بارے میں فرمایا: من کنت مولاہ فھذاعلی مولاہ ۔ اس مقام پرسبھی نے آنحضرت کی صداقت کی گواہی دی ، فقط انس بن مالک ہی ایک ایسے تھے جنہوں نے شہادت دینے سے خودداری کرتے ہوئے کہا: میں اب بوڑھاہوگیاہوں ، مجھ پرمرض نسیاں غالب آچکاہے!۔
امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام نے کہا: اگرجھوٹ بول رہے ہوتوخداتمہیں ایسے مرض میں مبتلاکرے جوتمہیں رسواکر کے رکھ دے ، اس کے بعدانس سفیدداغوں کے مرض میں کچھ ایسے مبتلاہوئے کہ زندگی بھرعمامہ سے چھپاتے رہے (پھربھی نہ چھپاسکے)۔
کتنی عجیب بات ہے!ایک ایسی حدیث جسے١١٠ صحابہ، تقریباً٩٠/ تابعین اور٣٦٠ /سنی علماء نے نقل کیا ہو، خطباء اورشعرائے عرب نے جسے اشعار کے قالب میں ڈھالا ہوکہ جوادبیات عرب کا جزء لاینفک شمارہوتاہے ، خودامام اوران کی اولاد نے مسلسل آنحضرت کی خلافت کی حقانیت کوثابت کرنے اور غاصبوں کی غاصبانہ اجارہ داری پرمہربطلان لگانے کے لئے جس حدیث نبوی ؐسے مسلسل استدلال کیا ہو، کیااس کے بارے میں کوئی منصف مزاج، یہ تصورکرسکتاہے کہ اس کا مقصد صرف دومسلمانوں کے بیچ اختلاف کاختم کرناتھااوربس ؟حضرت علی علیہ السلام کی خلافت وزعامت سے اس کاکوئی واسطہ نہیں؟ اورامام نے بھی اس سلسلہ میں کوئی دعویٰ نہیں کیا ؟کیاوہابیت اس طریقے سے سنت رسول ؐ کا تحفظ اوربدعتوں کا مقابلہ کرناچاہتی ہے؟۔
اس سے قطع نظر؛ حدیث غدیرہمیشہ سے ہی صحابہ ، تابعین اورتبع تابعین کے درمیان خلافت سے متعلق معاملات میں استدلال کامرکزرہی ہے کہ جب بھی کسی مخالف کوخاموش کرنا ہوتا یہ حدیث غدیر پیش کردیتے ، لیکن آج کل کے مولوی نماان پڑھ ، اصل حدیث یالااقل اس کی دلالت کے منکربن بیٹھے ۔
سورہ مائدہ کی ٦٧ویں آیت کے غدیرسے متعلق شان نزول کوتیس سنی عالموں نے نقل کیاہے اس سلسلہ میں کتاب الغدیر؛ ج١ ص٤٢٣ کی جانب رجوع کیاجاسکتاہے ۔
اسی طرح سورہ مائدہ کی تیسری آیت کے غدیرسے متعلق شان نزول کوسولہ(١٦) سنی عالموں نے نقل کیاہے اس سلسلہ میں کتاب الغدیر؛ ج١، ص٤٤٧ تا٤٥٩کی طرف رجوع کیاجاسکتا ہے ۔ نیزفضائل الصحابہ ؛ ج٢ص٥٨٦ پر مشاہدہ کیاجاسکتاہے ۔

ترجمہ :سید محمد ظہیر
حوالہ جات:
١۔سورۂ مائدہ٦٧
٢۔سورۂ مائدہ٣

مقالات کی طرف جائیے