مقالات

 

شیخ مفید علیہ الرحمہ

حجۃ الاسلام احمد نعمانی

استاذ الامة
شیعیت کی تاریخ بےشمار افتخار اور انقلاب سے سرشار ہے وہ تبدیلیاں ذمہ دار علماء اور روشن فکر دانشوروں کے ہاتھوں وجود میں آئی ہیں ۔ اسی درمیان ہم ہجری کی چوتھی صدی سے روبرو ہوتے ہیں جس کو تاریخ شیعہ کا " فتح الفتوح " کہا جا سکتا ہے وہ ایسے ایام تھے جب ایک عظیم ہستی اور زبردست عالم نے اسلامی معارف پر " دائرةالمعارف جامع " کی تالیف کی اور تقریباً پچاس سال تک مسلمانوں کی علمی، فکری اور ثقافتی میدانوں میں علمبرداری کرتے رہے اور اس حد تک پہونچ گئے کہ دوست اور دشمن سب نے آپ کی مدح و ثنا میں دہن وا کئے اور قلم کو آپ کی تعریف میں حرکت دی اور آپ کو " مفید " سے ملقب کیا ۔
آپ کی اپنی روشن فکری اور علمی خلّاقیت کے ساتھ دشمنوں کے حالات سے آشنائی اور اطراف کی دنیا سے آگہی نے جب ایک سنگم پر آکر ہاتھ ملایا اور آپ کو چوتھی صدی کے علم کی حیات نو اور فکری تحریک کا بلند مینار بنادیا ۔ اور اس مقام تک پہونچ گئے کہ امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی توقیع آپ کی شان میں صادر ہویی اور حضرت (عج) نے آپ کو اپنا محترم بھائی کہا ۔

شیخ کی ولادت
اس روشن اور تابناک مشعل نے ۱۱ذیقعدہ ۳۳۶ 1 میں بغداد کے عکبری نامی علاقہ میں آنکھ کھولی ۔ اس کا نام محمد قرار پایا آپ کے والد چونکہ ایک مذہبی اور پرہیزگار شخص تھے اور تعلیم و تربیت میں مشغول تھے لہٰذا ان کا لقب " ابن المعلم " ہوا اور بعد میں عکبری اور بغدادی کے القاب بھی انھیں ملے ۔ 2
محمد کمسنی ہی میں عظیم شخصیت ہوگئے ان کی فراست اور ذہانت ان کے اپنے خاندان کے پاک ماضی اور بغداد و اسلامی دنیا میں روشن مستقبل کی خبر دے رہے تھے ۔ تعلیم سے عشق اور لگاوٴ باعث بنا کہ اپنے والد کے ہمراہ بغداد جاکر علم و دانش کے حصول کا آغاز کریں ۔ وہ بھر پور نشاط و فرحت کے ساتھ مطالعہ کرتے تھے ۔ محمد کے وجود میں اخلاص کی خوشبو نے وہ کام کیا کہ پانچ سال کی عمر میں ہی آپ کے لیے ابو الیاس سے روایت کی اجازت مل گئی 3 اور جب کہ آپ سات سال اور کچھ مہینہ کے تھے تو ابن سمّاک نے روایت نقل کرنے کی اجازت دی ۔ 4
وہ ایک ایسے کوشاں اور جیّد عالم ہوئے کہ بارہویں سال سے پہلے ہی بعض محدثین سے روایات اخذ کی ہیں اور اپنے استاد شیخ صدوق سے بیس سال کے ہونے سے پہلے ہی حدیثیں سنی ہیں ۔

آپ کی تعلیم اور اساتذہ
ابن المعلم نے اپنے سراپا وجود کو بغداد کے چشمہٴ علم و دانش سے طراوت اور شادابی بخشی اور ستّر سے زیادہ علماء سے کسب فیض کیا ۔ مظفر ابن محمد، ابو یاسر اور ابن جنید اسکافی سے کلا م و عقائد کا علم حاصل کیا، حسین ابن علی بصری اور علی ابن عیسیٰ رمّانی کے دروس سے بھی استفادہ کیا، علم فقہ جعفر ابن محمد بن قولویہ کی خدمت میں حاصل کیا، ماہر ادیب اور زبردست موٴرخ محمد بن عمران مرزبانی سے علم حدیث سیکھا ۔
ابن حمزہ طبری، ابن داوٴد قمی، صفوان اور شیخ صدوق وغیرہ محمد کے استادوں میں سے ہیں جنھوں نے علم کی شیرینی کو ان کے دہن میں ڈال دیا ۔ آپ کے استادوں میں مختلف شہروں کے افراد مثلاً قم، کوفہ، بصرہ، ساری، طبرستان، حلب، قزوین، بلخ، مراغہ، ہمدان اور شہر زور کے علماء نظر آتے ہیں ۔

عصر مفید کی اسلامی دنیا
رسول خدا کی رحلت کے تقریباً تین سو سال ہو رہے تھے ۔ اس زمانے میں شیعہ اور ائمہ علیہم السلام بنی امیہ کے دبدبہ اور بنی عباس کی ناگوار فضا میں سانس لے رہے تھے ۔ خلفاء اور حکام کی جانب سے جسمانی اور روحانی اذیتیں مسلسل جاری تھیں یہاں تک کہ چوتھی صدی ہجری آپہونچی جس کے اواسط میں شیعوں پر سے کافی حد تک سختیاں کم ہوگئی تھیں ۔
فاطمی خلفاء نے (جو اسماعیلیہ شیعہ تھے ) مصر میں ایک مستحکم حکومت تشکیل دی ۔ اس حکومت کی تشکیل سے بغداد کے دربار کا رعب و جلال کم ہوگیا اور دوسری طرف سیف الدولہ حمدانی اور اس خاندان کے حکام شام میں حکومت کررہے تھے انھیں بھی شیعیت کا شرف حاصل تھا ۔ ان دونوں کے ساتھ غوری، صفاری اور طاہری حکومتیں خاص طور سے آل بویہ کی حکومت جو اہل بیت اطہار علیہم السلام کے مخلص شیعوں میں سے تھے انھوں نے ایران و عراق کے علاقوں پر تسلط حاصل کئے ہوئے تھے ۔
شیخ مفید کی ولادت سے دو سال پہلے احمد معز الدولہ (۳۳۴) نے بغداد میں داخل ہوکر اس شہر میں حکومت آل بویہ کی ایک شاخ کی تاٴسیس کے ذریعہ تاریخ بغداد کا ایک نیا صفحہ کھول دیا، بہاری فصل ہاتھ آ گئی اور شیعوں نے آل بویہ کی پناہ میں آزادی پا کر اپنے عقائد کی خوب نشر و اشاعت کی ۔ شیعوں نے سب سے پہلے آزادی کے ساتھ جو علانیہ عزاداری کی ہے وہ روز عاشورہ ۳۵۲ھ کا دن تھا اور اسی کے بعد عید غدیر کے جشن کے انعقاد سے بھی شیعوں کے بدن میں گویا ایک تازہ روح پھونک دی گئی ۔ ۳۵۶ میں عزّ الدولہ حاکم ہوئے اور ۳۶۷ عضد الدولہ کی ریاست کے ذریعہ بغداد کو ایک نئی رونق نصیب ہوئی اور اسے خاص قسم کا علمی نشاط حاصل ہوا ۔ محمد ابن محمد ابن نعمان، شیخ مفید اسی زمانے میں زندگی گذار رہے تھے اور حالات کے اعتبار سے خاص مقام اور منزلت کے حامل تھے کہ جب شیخ مفید مریض ہوئے تو عضد الدولہ آپ کی عیادت کے لئے گئے، دوسروں کے حق میں آپ کی سفارش بھی قابل قبول تھی جب کہ ابھی شیخ مفید کی پر برکت عمر کے چھتیس سال سے زیادہ نہیں گذرے تھے اسی وقت آپ مسلمانوں اور شیعوں کے ایک عظیم مرجع اور عالی قدر رہبر ہوگئے تھے ۔

شیعہ قیادت کی مسند پر
عضد الدولہ کی وفات سے حادثات کا ایک طوفان اٹھنے لگا اور شیعیت کے خلاف دشمنی کی گرد و غبار پھر سے چھانے لگے ۔ ۳۷۲ میں خادندان بویہ کے دوسرے لوگ حکومت کے عہدہ پر فائز ہوئے (۴۸۱ میں) عباسی خلیفہ قادر کے حاکم بنتے ہی عباسی خلافت کو نئی زندگی مل گئی اور آل بویہ کا نفوذ کم ہوگیا، مذہبی فسادات، عیار اور مکار افراد کے فتنہ، کہانی اورقصہ پڑھنے والوں کی قصہ گوئی، جاہل واعظوں کے خطبے، اہل شغل افراد کی فتنہ انگیز سیاست طلبی فساد کی آگ اور زیادہ بھڑکا رہی تھی 5 اوراس زمانے کو وحشتناک زمانے اور حالات کو ایک عقیدتی جنگ کے طور پر پیش کر رہے تھے، لیکن شیعیت کے رہبر وقت شیخ مفیدکی عالمانہ اور مدبرانہ توجہ نے باطل اور گمراہ لوگوں پر راستہ بند کردیا اور منحرف افراد کے ذریعہ دئے گئے " مدینہ فاضلہ " جیسے جھوٹے وعدہ کی پول کھول دی ۔
چوتھی صدی میں علم جنگ آپ صاحب بصیرت عالم کے ہی ہاتھوں میں تھا، آپ نے وحی کے پاکیزہ اور شفاف چشمہ سے علم و معرفت کے گوہر حاصل کئے، معتزلہ کے نظریات سنے، غالیوں کے آراء و نظریات سے آشنا ہوئے، زیدیہ کے عقائد سے بھی آگاہ ہوئے اور ہر ایک کو مناسب اور منطقی جواب دیا اور یہاں تک آگے گئے کہ جس جس گروہ نے شیخ کے ساتھ مناظرہ کیا چند لمحات میں ہی شرمندگی اور خاموشی کے ساتھ واپس ہوگئے اور اپنی عاجزانہ خاموشی کے ذریعہ نشان افتخار شیخ مفید کے حوالہ کردیا ۔ آپ کے مستحکم، متین اور دقیق کتابچہ اور شیعہ عقائد کی صحیح اور بےنظیر اسلوب کے ساتھ بیان خصوصی توفیق تھی جس نے آپ کے طور پر شیعیت کی رہبری کو اور زیادہ ثمر آور بنادیا ۔ 6

سبز اوراق
استاد امت شیخ مفید کی زندگی کا صحیفہ اتنا سفید اور نورانی ہے کہ آل یٰسین حضرت بقیة اللہ الاعظم ارواح العالمین لہ الفداء کی دستخط اس پر صاف نظر آتی ہے ۔ ماہ صفر ۴۱۶ھ کے آخری ایام تھے کہ حضرت (عج) کی جانب سے شیخ مفید کو ایک نامہ موصول ہوا آپ نے شکر کے ساتھ اس کا بوسہ لیا اشک شوق خط کے اوپر گر پڑے اور جیسے ہی اسے کھولا ایک حسین اور پرنور تحریر پر نظر نواز ہوئی : " للاخ السّدید و الولی الرّشید الّشیخ المفید..." 7 امین بھائی اور رشید دوست شیخ مفید ...
روز پنجشنبہ۲۳ ذی الحجہ حضرت حجت (عج) کی طرف سے ایک اور لطف اور توقیع کے ساتھ دوسرا نامہ شیخ کے لیے صادر ہوا " بسم اللہ الرحمن الرحیم سلام اللہ علیک ایھا الناصر للحق الدّاعی الیہ بکلمة الصدق..." اس خدا کے نام سے جو رحمٰن اور رحیم ہے، خدا کا سلام ہو تم پر اے حق کی نصرت کرنے والے اور صدق و صداقت کے ساتھ اس کی طرف دعوت دینے والے ..." 8
بعض کا کہنا ہے کہ حضرت کی طرف سے شیخ مفید کے لیے تیس سال کی مدت میں تین سو توقیعات اور خطوط صادر ہوئے جن میں اکثر کے شروع میں محترم بھائی، امین دوست شیخ مفید جیسے عنوانات ملتے ہیں ۔ 9

شیخ علماء کی نگاہ کے آئینہ میں
شیخ طوسی، سید شرف الدین عاملی، علامہ بحر العلوم، قاضی نور اللہ شوستری، ابن شہر آشوب مازندرانی، شیخ آقا بزرگ طہرانی اور الحاج میرزا حسین نوری جیسے دیگر نیک سیرت اور شیعہ علماء نے شیخ کو ایک مرد فقیہ، برجستہ موٴلف، دو سو کتابوں کے حامل، بلند فکر، بہترین ذہانت والے اور ایک مقبول شخصیت کے طور پر جانا ہے اور آپ کو گناہ اور خطا سے مبرّا، فقاہت و عدالت میں کامیاب، ذہانت نیز دوسری بےشمار خوبیوں سے آرستہ اور نایاب شخصیت شمار کیا ہے ۔
علمائے اہل سنت میں بھی بعض شخصیتیں جیسے ابن ندیم، ابن جوزی، ابن حجر عسقلانی وغیرہ نے اس طیب و طاہر اور پاکیزہ سیرت کی تعریف میں لب کشائی کی ہے انھوں نے آپ کو علم کا پاسدار، منکسر مزاج اور اعلیٰ مرتبہ، فقہ، کلام اور روایت میں صاحب نظر جانا ہے دوسری جانب سے شیعہ امامیہ کی زعامت کی نسبت بھی آپ کی طرف دی ہے اور شیخ کے رفیع اور بلند مقام کے سامنے سر تعظیم خم کیا ہے ۔ 10

شیخ کی زندگی کے واقعات
شیخ کے اخلاص و استقامت کے ساتھ ان کا " راسخ الایمان " علم کا ذخیرہ ایسا کیمیا تھا جس نے شیخ کو ایسی نورانیت بخشی جو تمام آنکھوں کو خیرہ کئے ہوئے تھی اور اس مقام تک پہونچ گئے کہ اگر سہواً غلط فتویٰ دے دیا تو حضرت ولی عصر عجل اللہ فرجہ الشریف نے پیغام دے کر اصلاح فرما دی، کچھ مدت کے بعد جب مرحوم مفید اس قضیہ سے آگاہ ہوئے تو انھوں نے فتویٰ دینا ہی چھوڑ دیا، حضرت حجت عج نے ایک خط میں شیخ کو خطاب کرکے فرمایا : فتویٰ دینا تمھارا کام ہے اور اصلاح کرنا اور خطا سے دور رکھنا ہمارا ۔
شیخ کا علمی اور معنوی مقام و منزلت کا یہ عالم تھا کہ خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی بیٹی حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو دیکھا کہ اپنے دونوں فرزندوں حضرات حسنین علیہما السلام کے ہاتھوں کو پکڑے ہوئے شیخ سے مخاطب ہوکر فرماتی ہیں : اے شیخ ان دونوں کو فقہ کی تعلیم دو ۔ چندلمحہ بعد ہی مرحوم مفید کی یہ حیرت برطرف ہوگئی کیونکہ سید رضی اور سید مرتضیٰ کی مادر گرامی پر نظر پڑی جو اپنے دونوں فرزندوں کے ہاتھ پکڑے ہوئے آئیں اور شیخ سے کہا : اے شیخ ! انھیں علم فقہ کی تعلیم دو ۔
اس وقت جب کہ ایک فقہی مسئلہ کے بارے میں استاد و شاگرد، شیخ مفید اور سید مرتضی کے درمیان اختلاف نظر ہوا اور بحث و مباحثہ اور دلائل سے مشکل حل نہ ہو سکی تو دونوں امام امیر المومنین علیہ السلام کی قضاوت پر راضی ہوئے اور مسئلہ کو ایک کاغذ پر لکھ کر حضرت کی ضریح مبارک میں رکھ دیا، دوسرے دن جب صبح کاغذ اٹھاکر دیکھا تو ایک خوبصورت اور مزین تحریر دکھائی پڑی : " انت شیخی و معتمدی و الحق مع ولدی علم الھدیٰ " اے شیخ تم ہمارے لئے مورد اطمینان ہو اور حق میرے فرزند سید مرتضی علم الہدیٰ کے ساتھ ہے ۔ 11

معنویت "شیخ" اور اخلاق "مفید"
سماجی مشغولیات، علمی اور تحصیلی مصروفیات والے دل نے شیخ کو معنوی ترقیوں سے غافل نہیں رکھا ۔ روز بروز اخلاقی شگفتگی اور ملکوتی خوشبو اس فقیہ جلیل القدر کے وجود کی شاخ پر جلوہ افروز ہوتی جارہی تھی ۔ صدقات کی کثرت، خضوع اور خشوع کی فراوانی، نماز اور روزوں کی کثرت اور شیخ کی سادگی ہر دیکھنے والے دوست و دشمن کے اندر ایک گہرا اثر ڈالے ہوئے تھی ۔ قبیلہ کے غریبوں اور فقیروں کے ساتھ انھیں جیسا بن کے رہنا، دنیائے فانی سے دوری اس عظیم الشان گوہر کے لئے سکون قلب اور اطمینان نفس کا باعث تھا، گویا کمالات کی بلندیوں تک پہونچنا اور تہذیب نفس آپ کے لئے آسان ہوگیا اور شیخ کی عظیم شخصیت کو نمایاں کردیا ۔ شیخ کے اقوال اور دستور العمل نہ یہ کہ صرف مفید نسخے ہوں بلکہ شفا بخش دوا کا کام کرتے تھے اور خاص نورانیت کے حامل تھے ۔ شیخ کے کلام اور آپ کی اخلاقی تربیت کی تاٴثیر میں یہی کافی ہے کہ شیخ کے بیٹے ابوالقاسم علی نے اپنے والد کی نورانی اور روشن راہ کو آگے بڑھایا اور دنیائے تشیع میں ایک قابل توجہ شمار کئے گئے ہیں ۔

تدریس اور تاٴلیف کے میدان میں
شیخ مفید کا غیر معمولی جاذبہ اور آپ کی سعی بلیغ اور انتھک کوششیں کثیر لوگوں کے حوزہ علمیہ کی طرف جذب ہونے اور گرانقدر اور اہم تاٴلیفات کے وجود میں آنے کا سبب بنیں ۔ اس فہیم اور بلند ہمت عالم نے فکری احاطہ اور تسلط کے ساتھ علمی اور ثقافتی میدان کارزار میں قدم رکھا اور علم کلام، اصول اور فقہ کو اصل و اساس قرار دیکر شیعوں کے لیے بحث و استدلال کا ایک واضح اور آسان راستہ کھول دیا ۔
ایک طرف مختلف مذاہب کے علماء کی تربیت کی اور سید مرتضی، سید رضی، شیخ طوسی اور نجاشی جیسے شمع فروزاں اور دوسرے دسیوں افراد کو علمی اور دینی حوزوں کے حوالہ کیا اور دوسری جانب ہاتھ میں قلم اٹھایا اور اس عمیق اور تیز رفتار اسلحہ سے ایک انقلاب برپا کردیا ۔
اصول فقہ کے لئے ایک آسان اور دلچسپ انداز اختیار کیا ۔ علم کلام کو بےنیازی عطا کی اور اصول دین و عقائد میں حضرت علی علیہ السلام کی امامت کا قرآن سے اثبات جیسے خاص موضوعات پر نہایت دقیق تاٴلیف انجام دی ۔ اس عالم شیخ کا دلچسپ اور رواں قلم تھا کہ غیبت امام زمانہ عج کی بہترین وضاحت کی اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی سوانح حیات کو مختلف کتابوں مثلاً الارشاد، الجمل میں صفحہٴ قرطاس پہ ثبت کیا ہے ۔
مفید کے آثار کی تاثیر، انسان سازی آپ کی تحریر میں اخلاص، مختلف ادیان و مذاہب سے آشنائی، عقائد کی مرکزیت اور محوریت، رہبری اور اسلام کے سیاسی فلسفہ کے معنوی خمیر اور معجون کا ماحصل ہے ۔ اس بزرگ اور کوشاں عالم کی جامعیت عقلی اور منطقی استدلال اور زمانے کے تقاضوں کی شناخت نے ان کے آثار کو جاودانہ جامہ پہنا دیا اور مختصر گفتگو، قلم کی روانی، روشن فکری اور عالی خیالات نے مرحوم مفید کی تحریروں کو خاص نورانیت اور رونق عطا کردی ۔

ہدایت کے پھول

الف:علم کلام اور عقائد
وہ علم جس میں اصول عقائد عقلی استدلال کے ہمراہ بیان ہوتے ہیں اور وہ اسی طریقہ کے ساتھ لوگوں کے شبہات اور سولات کے جوابات دیئے جاتے ہیں اسے علم کلام کہاجاتا ہے ۔ " اوائل المقالات "، " شرح عقائد صدوق "، " اجوبة المسائل السرویہ " اور " نکت الاعتقادیہ " جلیل القدر عالم مرحوم مفید کی یہ کتابیں اس فکری موضوع کے لحاظ سے ہیں ۔

ب:علم فقہ
فقہ وہ مقدس علم ہے جو قدیم الایام سے مسلمانوں کے علمی اور تکلیفی واجبات و محرمات اور شرعی وظائف کو بیان کرتا رہا ہے ۔ اور شیعہ فقہاء ان وظائف کو بیان کرنے کے لئے گویا معنویت کے غوطہ زن معارف اہل بیت کے عمیق دریا سے قیمتی مروارید اور گوہر حاصل کرتے رہے ہیں ۔ شیخ کی کتاب المقنع فقہ کے بہت سے عناوین پر مشتمل ہے جس کی مختلف فصلوں میں شرعی احکام اور وظائف کی وضاحت کی گئی ہے ۔
الاعلام، المسائل الصاغانیہ، جوابات اہل الموصل فی العدد الرویة، اور جواب اہل الرقہ فی الاہلہ و العدد اس عالم حکیم کی ان تصنیفات میں سے ہیں جو فقہ کے بارے میں ہیں ۔

ج:اخلاق اسلامی
شیخ کی " امالی " انسان کے فضائل اور اسلامی اخلاق کے متعلق ہے ۔ ایسے زرّیں صحیفے ہیں جسمیں تقویٰ کی دعوت، یقین کی گفتگو، اخلاص اور نفس کے محاسبہ کو بیان اور الہی محبت، نفسانی خواہشات اور ہواوہوس سے جنگ کا تذکرہ ہوتا ہے ۔

د:حدیث
علوم قرآن کے بعد علم حدیث کا ذکر ہوتا ہے ۔ یہ گرانقدر علم معصومین کے وہ اقوال و احادیث جو سنت کے چشمہ کے گھونٹ نیز آفتاب وحی کی شعاعیں ہیں اس کے بارے میں گفتگو کی جاتی ہے ۔ ولایت کی اہمیت، اطاعت امام کی ضرورت، امیر المومنین علی علیہ السلام کے فضائل کی منجملہ بحثیں شیخ مفید کی امالی میں مفکرین کی نگاہوں کے سامنے آتی ہیں ۔

ھ:امامت اور اسلام میں سیاسی فلسفہ
شیخ مفید نے امامت اور رہبری کے لئے عدالت اور عصمت کو اصلی شرط مانا ہے ۔ انھوں نے حدیث ثقلین اور قرآنی آیات کے ذیل میں اس اہم اور دقیق بحث کو بیان فرمایا ہے ۔ پھر انھوں نے الافصاح فی الامامہ، الارشاد، الجمل، الامالی، الفصول المختارة، تفضیل امیر المومنین علی سائر الصحابہ میں اس بحث کو اور بھی زیادہ صراہت کے ساتھ بیان کیا ہے اور اس کے مختلف ابواب اور فصلوں کی یادآوری کرتے ہیں ۔ شیخ مفید کی تقریباً ۲۰ دقیق تاٴلیفات امامت و رہبری کے بارے میں ہیں ۔

و: امام مہدی عج کی غیبت
شیخ مفید نے اپنے مولا حضرت مہدی عج سے عشق، عقیدت و ارادت کے راز کا ذکر کیا اور آنحضرت عج کی آسمانی شخصیت کے بارے میں کتابوں کو وجود عطا کیا ہے ۔ ارشاد کا کچھ حصہ، کتاب الفصول العشرہ فی الغیبة اور الجواب فی الخروج المہدی عج کے علاوہ اس شیدائے اہل بیت علیہم السلام اور علامہ کی دوسری پانچ تاٴلیفات حضرت بقیة اللہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے بارے میں ہیں ۔ 12

مناظرہ کے مختلف میدان
مختلف عقائد اور متعدد اعتقادی فرقوں کی نشو و نما نے شیخ مفید کے زمانے کو نظریات کا معرکہ اور مناظرات کا زمانہ بنادیا تھا ۔ ان کے پرجوش بیانات، قابل ملاحظہ تسلط اور ان کی بےپناہ بصیرت باعث ہوئی کہ وہ ہمیشہ علمی و تمدنی پیکار میں برتر اور کامیاب رہتے تھے ۔ " تصحیح الاعتقاد " الفصول المختارہ " شیخ کے ان بعض مناظرات کا مجموعہ ہیں جو انھوں نے بیس سے زیادہ علماء اور مختلف عقائد کے ماہرین کے ساتھ انجام دیا ہے جن میں سے اشاعرہ، معتزلہ، اہل حدیث، متصوفہ اور مرجئہ کے ساتھ کے مناظرہ کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے ۔ 13
اس عرصہ میں شیخ کے نئے اور جاوداں تفکرات نے اپنے اخلاص اور شرافت کا اظہار کیا اور ان کی سراپا معرفت آمیز بصیرت برملا ہوگئی ۔ شیخ مفید کی نگاہ میں ولایت فقیہ، فقہی آراء، سیاسی افکار اور ان کی کلامی نظریات نے افق دانش و بصیرت میں ایک مبارک سورج طلوع کیا اور سب کی ایک معطر اور نئی فضا کی طرف رہنمائی کی ۔ 14
اگرچہ حوادث کے طوفان نے گرفتاری کی گرد و غبار کو اس عظیم دانشمند کے وجود پر ڈال دیا اور ان کو بہت سے شہر بدری، مصائب اور مشکلات میں لاکھڑا کیا لیکن حکام کا سامنا بدکاروں کی بدخواہی اور پلید افراد کی چغلخوری شیخ کے محکم ارادہ و عزم کو متزلزل نہ کرسکی اور ان کے لئے ہر دن روشن ترین اور ہردن نورانی ترین دن کی صورت ظاہر ہوتا تھا ۔ 15

بے وقت کا غروب
رمضان 413 ھ کے شروع کے ایام تھے کہ غم کے غبار نے تمام پاک دلوں کو گھیر لیا ۔ شہر بغداد سیاہ پوش ہوگیا ۔ غم و اندوہ کا دریا اور چاروں طرف سے ماتم اور عزا کا سیلاب میدان شہر کی طرف جارہا تھا ۔
شیخ مفید کا پیکر شیعوں کے جمع غفیر کے ہاتھوں پر آگیا اور سید مرتضیٰ کی امامت میں سب نے ان کی نماز جنازہ پڑھی ۔ کچھ دیر بعد اس آسمانی و ملکوتی شخصیت کے جسد کو کاظمین میں دفن کردیا گیا ۔ بغض و کینہ سے بھرے دلوں اورحکمت و ہوشیاری کے احساس سے عاری افراد نے ان کے لئے آخری کام سمجھا اور سادہ لوح افراد نے جشن منایا لیکن یہ عظیم شخصیت چھپنے اور فراموش ہونے والی نہیں تھی ۔ 16
اور آج بھی صدیاں بیت جانے کے باوجود " مفید" مفید ہیں ۔ نظریات کے معرکہ میں ان کا کلام، مناظرہ کا خورشید اور گفتگو کا آفتاب ہے اور کل اور تمام آنے والے کل اس کے ہیں اور اسی کی طرف جانے والے ہونگے ۔

مفید کی رحلت پر مرثیہ
اس مصیبت عظمیٰ کے سوگوار اور غمگین افراد کے رئیس و رہبر عالم وجود کا قلب خلقت کے گوہر کے سلسلہ میں حضرت بقیة اللہ عج بھی تھے ۔ آپ نے حزن و ملال میں ڈوبے ہوئے اشعار کے ذریعہ اپنے احساس کو اس طرح بیان فرمایا ہے:
لا صوت الناعی بفقدک انّہ یوم علی آل الرسول عظیم
وہ آواز جس نے تمھاری رحلت کی اطلاع دی ہے کانوں تک نہ پہونچے کیوں کہ تمھاری رحلت کا دن آل رسول کے لئے عظیم مصیبت کا دن ہے ۔ اگرچہ تم زیرخاک پنہاں ہوگئے لیکن حقیقت میں علم و خدا پرستی نے تمھاری جگہ لے لی ہے ۔ قائم مہدی عج اس وقت خوشحال ہوجاتا تھا جب تم مختلف علوم کی تدریس کیا کرتے تھے ۔ 17
سید مرتضی جو سالوں سے شیخ مفید کے وسیع علم و دانش سے خوشہ چینی کررہے تھے وہ بھی لوگوں میں سب سے زیادہ فصیح و بلیغ اور بہترین مرثیہ کے ذریعہ گویا ہوئے اور مندرجہ ذیل مطلع سے قصیدہ کہا:
من علی ھذہ الدیاراقاما
اٴو صفّاًملبس علیہ و داما
اس دیار میں کون ساکن ہوگیا جو جاودانی کا جامہ زیب تن کئے ہے اور ہمیشہ کے لئے باقی ہے ۔ 18

شیخ کی ولادت کے ہزار سال گذرجانے کے بعد عالمی انجمن کی تشکیل
صحیح تشیع اور شیعہ علماء کہ جن کی علمی عظمت، تفکر ایجاد فکر، تقویٰ کی رفعت و بلندی نے شیعیت کی شان و عظمت کے پرچم کو مسلسل تاریخ کی بلندیوں پر لہرایا ہے ان کے تعارف کی ذمہ داری باعث ہوئی کہ اس عظیم عالم دین شیخ مفید کی ہزارویں برسی کی مناسبت سے قم میں ایک بین الاقوامی انجمن اور ہزارویں سالانہ یاد کا انعقاد ہو ۔ یہ عظیم تحریک حوزہ علمیہ قم کے مدرسین کی کاوشو ں سے انجام پائی جس کی بیشمار برکتیں تھیں ۔ شیعی افکار سے متعلق شیخ مفید کی تالیفات اور آثار کے موضوعات میں سے تقریباً سو عناوین کو مقالہ کی شکل میں آمادہ کیا گیا ۔ اور کمپیوٹر کے ذریعہ اس روشن فکر عالم کی تاٴلیفات کی موضوع بندی بھی ایک شائستہ اور جاوداں اقدام کی صورت میں انجام پائی ۔ مرحوم مفید کی تمام تاٴلیفات کو نئی چھاپ کی شکل میں پیش کیا گیا اور اس باعظمت عالم کے حکمت افروز پھولوں کی دوسری مرتبہ بہار آگئی ۔
مقام معظم رہبری حضرت آیة اللہ خامنہ ای کا جامع اور بصیرت افروز پیغام جو معرفت کا دیباچہ تھا سب سے پہلے دن (۱۸ فروردین ۱۳۷۲ش) پڑھا گیا جب کہ اسی کے ساتھ صدائے سبز و شب شعر کا انعقاد ہوا ۔ ایران کے شیریں سخن شعراء نے نہایت خوبصورت انداز میں شاعری اور قصیدہ سرائی کی اور شیعوں کے شیخ الشیوخ کو اس طرح خراج عقیدت پیش کی کہ سبھی نے آدمیت کے مقام اور منزلت کو دیکھ لیا جاوید حقیقت کا نظارہ کرلیا اور شیخ کے قلبی ذخیروں کا ادراک کیا ۔

کیمیا است عجب بندگی پیر مغاں
خاک او گشتم و چندین در جانم دادند

منابع و مآخذ:
1. رجال نجاشی، رقم ۱۰۶۷۔
2. مقالات فارسی کنگرہ جہانی شیخ مفید، ش۶۷، ص۸
3. امالی شیخ مفید، اوائل جزء ششم؛ تاریخ بغداد،ج۸،ص۴۴۹۔
4. ایضاً ،ص۳۴۰،ایضاً، ج۱۱،ص۳۰۲۔
5. الکافی فی التاریخ، ابن اثیر،ج۵،ص۵۔
6. مراجعہ: مقالہ ۶۱ و ۵۵ کنگرہ جہانی شیخ مفید
7. مستدرک الوسائل، حاج میرزا حسین نوری،ج۳،ص۵۱۷ و ۵۱۸۔
8. مستدرک الوسائل، حاج میرزا حسین نوری،ج۳،ص ۵۱۷و ۵۱۸۔
9. مستدرک الوسائل، حاج میرزا حسین نوری،ج۳،ص ۵۱۷و ۵۱۸۔
10. مراجعہ: الفہرست، شیخ طوسی۱۵۷و ۱۵۸؛ رجال علامہ بحر العلوم، ج۳،ص۳۱۱
مستدرک الوسائل، ج۳، ص۵۱۷؛ فہرست ابن ندیم، ص۳۳۲،مقالہ ۶۳ مقالات کنگرہ ہزارہ شیخ مفید،ص۱۰۔
11. قصص العلماء،میرزا محمد تنکابنی،ص۳۹۹-۴۰۳۔
12. مراجعہ: مفید نامہ،ش۱،ص۳۷وحوزہ،یادمان ہزارہ شیخ مفید،ص۲۷۹-۳۰۱۔
13. مراجعہ: "بررسی مناظرات شیخ مفید" مفید نامہ ،ج۱،ص۳۲-۳۷۔
14. اوائل المقالات فی المذاہب و المختارات،مطبوعہ تبریز،ص۴۹۔
15. مقالات فارسی کنگرہٴ شیخ مفید،ش۶۳،ص۱۸۔
16. از پیام حکیمانہ رہبر فرزانہ انقلاب حضرت آیةاللہ خامنہ ای در کنگرہ جہانی ہزارہٴ شیخ مفید رحمة اللہ علیہ فروردین ۱۳۷۲۔
17. قصص العلماء،ص۳۹۹-۴۰۴۔
نوٹ مقالہ گلشن ابرار نامی کتاب میں شائع ہوا ہے جس کا اردو ترجمہ "زہرا نقوی صاحبہ" نے کیا ہے۔
18. دیوان سید مرتضیٰ،ج۳،ص۲۰۴-۲۰۶۔

مقالات کی طرف جائیے