مقالات

 

عید غدیر کی مناسبت سے امام خمینیؒ کا پیغام

مولانا سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

آج عید غدیر ہے ، یہ عید مذہبی عیدوں میں سب سے افضل اور اہم ترین عید ہے ، یہ محروموں اور مظلوموں کی عید ہےِ، یہ ایسی عید ہے جس میں خداوندعالم نے اپنے رسول اکرم ؐ کے ذریعہ الٰہی مقاصد کے نفاذ اور راہ انبیاء کے استمرار کے لئے حضرت علی کو اپنا جانشین اور خلیفہ مقرر فرمایا لیکن افسوس جب حکومت کی باگ ڈور آپ کے ہاتھوں میں آئی تو خائن ہاتھوں اور بے وجہ جنگ و جدال کے شعلے بھڑکانے والوں نے اس عظیم شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر نہ ہونے دیا حالانکہ آپ کی شخصیت تمام تر صفات و کمالات کا مجموعہ ہے جنہیں کماحقہ بیان نہیں کیاجاسکتا لیکن یہ تذکرہ اس لئے ضروری ہے تاکہ جن لوگوں کی معلومات وسیع ہیں اور اسلامی معارف سے ان کا سابقہ ہے ان کے لئے فکر کی راہیں کھل سکیں اور وہ صحیح طریقے سے اس عظیم شخصیت کی زندگی کو آئینہ بنا کر موجودہ صورت حال کا جائزہ لے سکیں۔
حضرت علی ؑاسماء اور صفات الٰہیہ کا مظہر ہیں ، آپ کی شخصیت کا حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ آپ کی زندگی کے مخفی پہلو ، آپ کے نمایاں کارناموں سے کہیں زیادہ ہیں ، ابھی تو آپ کی زندگی کے بہت سے گوشے انسانوں نے درک بھی نہیں کئے ہیں ۔آپ کی شخصیت جامع اضداد ہے ، آپ میں متضاد امور موجود تھے ، انسان یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ ایک شخص جو زہد کے عظیم ترین مقام پر فائزہو وہ کیونکر عظیم ترین جنگجو اور بے مثال بہادر بھی ہوسکتاہے ، اس لئے کہ عام انسانوں کی یہ کیفیت ہے کہ اگر کوئی جنگجو ہے تو وہ زاہد نہیں ہوتا لیکن امیر المومنین کے زہد و تقویٰ کا عالم یہ تھا کہ خوراک و پوشاک وغیرہ کے معاملے میں بھی کمترین چیز پر اکتفا کر تے تھے ، اس کے باوجود بھی آپ کے بازؤوں میں بے نظیر قوت و طاقت تھی ۔
آپ کو مختلف علوم و فنون پر اس قدر دسترسی حاصل تھی کہ ہر شعبہ کا ماہر آپ کو اپنے ہی شعبے سے وابستہ سمجھتا تھا ، فقہاء آپ کو اپنا ہم صف قرار دیتے ہیں اور جو دوسرے شعبوں کے ماہرین ہیں وہ آپ کو اپنے ہی فن سے متعلق بتاتے ہیں حالانکہ آپ کی ذات وہ ذات ہے جو تمام صفات و کمالات کی حامل ہے اور آپ کو کسی ایک شعبے میں محدود و مخصوص نہیں کیاجاسکتا ۔
میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ ہم کس شباہت کی بنیاد پر اس عظیم شخصیت کے شیعہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ، اگر مفکرین ، اہل قلم اور صاحبان نقد و نظر حضرت علی کی زندگی کے تمام مادی و معنوی پہلوؤں کا جائزہ لیں جو ابتدائی عمر سے بستر شہادت تک آپ کی شخصیت میں موجود رہے ہیں تو کیا ہم تب بھی اپنے بارے میں آپ کے شیعہ ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہیں ...؟! در حقیقت اگر ہم اپنی حالت کا منصفانہ تجزیہ کریں تو ہم اپنے اور حضرت امیرؑ کے درمیان شباہت کا ایک نمونہ بھی پیدا نہیں کرسکتے ۔
حضرت علی علیہ السلام نے عبادت کو تین حصوں میں تقسیم کیاہے :
١۔ غلاموں کی طرح ڈر ڈر کر عبادت ؛
٢۔ جنت کی لالچ میں عبادت ؛
٣۔ خدا کی محبت کی بنا پر عبادت ؛
پھر آپ ان تینوں کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :پہلی عبادت غلاموں کی ہے ، دوسری تاجروں کی ہے اور تیسری خدا وندعالم سے محبت رکھنے والوں کی عبادت ہے ۔
اب آپ انصاف سے بتائیے اگر آپ سے یہ وعدہ کرلیاجائے کہ آپ میں سے کوئی بھی جہنم میں نہیں جائے گا اور سب کے سب جنت میں جائیں گے تب بھی آپ خدا کی عبادت کریں گے ...؟اگر آپ سے کہاجائے کہ تمہارے اوپر دوزخ کے دروازے بند ہیں لیکن میری محبت کی خاطر عبادت کرو تو کیا آپ اپنی ذات میں ایسی محبت محسوس کرتے ہیں جو آپ کو عبادت الٰہی کی جانب مائل کرسکے ...؟
میں عرض کرچکا ہوں کہ اس طرح کے دعوے تو بہت ہوسکتے ہیں لیکن عمل سے اس کا ثبوت پیش کرنا انتہائی مشکل ہے اس لئے کہ ہمارے اندر اگر کہیں محبت ہے تو وہ نفس کی محبت ہے ، ہم ابھی تک نفسانی مدارج سے ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکے ہیں ، حتی وہ پہلا قدم بھی نہیں بڑھا سکے ہیں جسے اہل سلوک لفظ ''یقظہ'' یعنی بیداری سے تعبیر کرتے ہیں ، ہم ابھی تک ظاہری دنیا کے حجات میں گرفتار ہیں اور شاید آخرت تک بھی گرفتار ہی رہیں مگر یہ کہ خداوندعالم کی خاص عنایتیں شامل حال ہوجائیں۔
آج کے اس مبارک موقع پر روایتوں میں وارد ہے کہ ہمیں اس ذکر کی زیادہ سے زیادہ تکرار کرنی چاہئے:''الحمد للہ الذی جعلنا من المتمسکین بولایة امیر المومنین و اھل بیت علیہم السلام ''۔
میں پوچھنا چاہتاہوں کہ تمسک کا مطلب کیا ہے ..؟ کیا تمسک کا مطلب یہی ہے کہ ہم ان کے کلمات کو پڑھ لیں اور آگے بڑھ جائیں حالانکہ ہم جس تمسک کو اپنی زبان سے ادا کررہے ہیں وہ محبت سے مربوط نہیں ہے بلکہ حضرت علی کی ولایت سے تمسک کرنا ہے اور ولایت حضرت علی ؑسے تمسک اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک ہم ان تمام مقاصد کی پیروی نہ کریں جو حضرت علی ؑکے اہداف و مقاصد تھے ...۔

ماخوذ از صحیفۂ نور ، امام خمینی ج٢٠ ص١١١؛ ج١٨ ص ١٢٧

مقالات کی طرف جائیے