مقالات

 

امام حسینؑ کی پاپیادہ زیارت کرنے کی اہمیت ؛ روایات کی روشنی میں

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری


امام حسین ؑکے چہلم کے موقع پر زیارت کرنے کی بے پناہ فضیلت و اہمیت بیان کی گئی ہے ، اہل بیت ؑسے مروی بعض روایتوں میں امام حسین ؑکی زیارت کی فضیلت کے سلسلے میں جو لہجہ اور انداز اختیار کیاگیاہے وہ ہر انسان کے لئے حیرت و استعجات کا موجب ہے ۔ اس وقت یہ حیرت اور بڑھ جاتی ہے جب انسان یہ دیکھتاہے کہ ائمہ معصومین ؑسے مروی بعض روایتوں میں پیدل زیارت کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
یہ بات پیش نظر رہے کہ روایتوں میں دیگر ائمہ طاہرین ؑکی زیارت کے لئے بھی پا پیادہ جانے کی تاکید کی گئی ہے ؛ مثال کے طور پر امیر المومنین حضرت علی ؑ کی زیارت کے لئے پیدل جانا بے پناہ فضیلت کا حامل ہے اور اس کے بے شمار فوائد و آثار بتائے گئے ہیں لیکن امام حسین ؑ کی زیارت، خاص طور سے زیارت اربعین کے لئے پیدل سفر کرنے کی جتنی تاکید کی گئی ہے، اتنی تاکید کسی بھی امام کے لئے نہیں کی گئی ہے۔
یہاں ان روایتوں میں سے بعض کا تذکرہ کیا جارہاہے جن میں امام حسین ؑکی پاپیادہ زیارت کرنے کی تاکید کی گئی ہے اور اس کے بے پناہ فوائد و اثرات کو بیان کیا گیاہے :

1۔ہر قدم کے بدلے ہزار نیکیاں
ابو صامت نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کیاہے کہ آپ نے فرمایا :
من اتیٰ الحسین ماشیاً کتب اللہ لہ بکل خطوۃ الف حسنۃ و محا عنہ الف سیئۃ و رفع لہ الف درجۃ فاذا اتیت الفرات فاغتسل و علق نعلیک و امش حافیا وامش العبد الذلیل فاذا اتیت باب الحیر فکبر اللہ اربعا "جو شخص پاپیادہ امام حسین ؑکی زیارت کے لئے جائے تو خداوندعالم اس کے نامۂ اعمال میں ہر قدم کے بدلے ہزار نیکیاں لکھ دیتاہے اور اس سے ہزار گناہوں کو پاک کردیتاہے اور اس کا درجہ ہزار گنا بڑھا دیتاہے ۔ لہذا جب تم فرات پر پہنچو تو غسل کرو اور اپنے جوتے اتار دو اور پاپیادہ راستہ طے کرو ، بالکل اسی طرح جیسے ایک ذلیل بندہ راستہ چلتا ہے ، جب تم حرم کے دروازے پر پہونچو تو چار مرتبہ اللہ اکبر کہو ، پھر تھوڑی دور جانے کے بعد دوبارہ چار مرتبہ اللہ اکبر کہو"۔(1)

2۔ حج و عمرہ اور جہادکے برابر ثواب
بشیر دہان کا بیان ہے کہ ہماری اور امام صادق علیہ السلام کی ایک طویل گفتگو ہوئی ، اس گفتگو کے آخر میں امام علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا:
ویحک یا بشیر ان المومن اذا اتاہ عارفا بحقہ و اغتسل فی الفرات کتب لہ بکل خطوۃ حجۃ و عمرہ مبرورات متقبلات و غزوۃ مع نبی او امام عادل "اے بشیر !بے شک ایک بندۂ مومن جب امام حسین بن علی علیہ السلام کی زیارت کے لئے جائے اور ان کے حق کو پہچانتا ہو (اور زیارت سے قبل ) وہ فرات کے پانی سے غسل کر لے تو اس کے ہر قدم کے بدلے اس کے نامہ اعمال میں مقبول حج و عمرہ اور نبی یا امام عادل کی رکاب میں جنگ و جہاد کرنے کا ثواب لکھ دیا جاتاہے "۔(2)

3۔حج مقبول اور زیارت
حسین بن سعید سے منقول ہے کہ امام صادق علیہ السلام سے کسی نے امام حسین ؑکی قبر مطہر کی زیارت کے بارے میں سوال کیا تو حضرت نے اس کے جواب میں فرمایا :
من اغتسل فی الفرات ثم مشی الی قبر الحسین کان لہ بکل قدم یرفعھا و یضعھا حجۃ متقبلۃ بمناسکھا"جو شخص فرات میں غسل کرے پھر پاپیادہ امام حسین ؑکی قبر کی طرف جائے تو وہ جو قدم بھی اٹھائے گا اور زمین پر رکھے گا اس کے بدلے میں تمام مناسک حج کے ساتھ ایک مقبول حج کا ثواب اس کے لئے لکھ دیا جائے گا"۔(3)

4۔ دس گنا نیکیوں کا ثواب
رفاعہ بن موسیٰ سے منقول ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :
ان من خرج الی قبر الحسین عارفا بحقہ و اغتسل فی الفرات و خرج من الماء کان کمثل الذی خرج من الذنوب فاذا مشی الی الحیر لم یرفع قدما و لم یضع اخری الا کتب اللہ لہ عشر حسنات "
امام صادق علیہ السلام:بے شک جو شخص زیارت کے لئے قبر امام حسینؑ کی جانب معرفت رکھتے ہوئے جائے (اور زیارت سے قبل ) فرات میں غسل کرے اور پانی سے خارج ہو تو وہ اس شخص کے مانند ہوجاتاہے جو گناہوں سے باہر نکلتا ہے ۔ لہذا جب وہ باب الحسین تک پہنچتا ہے تو جیسے جیسے قدم اٹھاتا ہے خداوند عالم اس کے لئے دس نیکیاں لکھتاہے اور دس گناہوں کو پاک کردیتاہے"۔(4)

5۔ حرم امام حسینؑ، حرم الٰہی
حسین بن ثویر نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کیاہے کہ حضرت نے فرمایا:
اذا اتیت ابا عبداللہ فاغتسل علی شاطی الفرات ثم البس ثیابک الطاھرۃ ثم امش حافیا فانک فی حرم من حرم اللہ و رسولہ بالتکبیر والتھلیل " جب تم سید الشہداء حضرت امام حسین ؑکی زیارت کے لئے جاؤ تو پہلے نہر فرات میں غسل کرو اور پاکیزہ لباس پہنو ، پھر پا پیادہ راستہ طے کرتے ہوئے حرم تک جاؤ ؛ تم سمجھ لو کہ اس وقت تم خدا اور رسول خداؐ کے حرم میں ہو ، تمہارے لئے ضروری ہے کہ تکبیر کہو اور لا الہ الا اللہ کا ورد کرو"۔(5)
حسین بن ثویر سے ایک دوسری روایت بھی منقول ہے جسے ابن قولویہ قمی نے نقل کیاہے کہ امام علیہ السلام نے فرمایا :
"اے حسین !جب کوئی شخص گھر سے نکلتا ہے اور اس کے دل میں زیارت امام حسین ؑکا ارادہ ہوتا ہے ،اگر وہ پاپیادہ ہوتاہے تو اس کا ہر قدم ایک عمل صالح شمار ہوتاہے اور اس کے ایک گناہ کو بخش دیاجاتاہے "۔(6)

6۔ ملائکہ زائر امام حسین ؑکے موکل ہوتے ہیں
علی صائغ سے منقول ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اے علی !امام حسینؑ کی زیارت کے لئے جاؤ اور اسے ترک نہ کرو ۔ علی صائغ کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا: امام علیہ السلام کے زائر کون سا اجر و ثواب دیا جاتاہے ؟
امام نے فرمایا :
من اتاہ ماشیا کتب اللہ لہ بکل خطوۃ حسنۃ و محا عنہ سیئۃ و رفع لہ درجۃ فاذا وکل اللہ بہ ملکین یکتبان ما خرج من فیہ من خیر و لا یکتبان ما یخرج من فیہ من سیئی و لا غیر ذالک فاذا انصرف ودعوہ و قالوا یا ولی اللہ مغفور لک انت من حزب اللہ و حزب رسولہ و حزب اھل بیت رسولہ واللہ لا تری النار بعینک ابدا و لا تراک و لا تطعمک ابدا"جو شخص امام حسین ؑکی زیارت کے لئے جاتاہے تو خداوندعالم اس کے ہر قدم کے بدلے ایک حسنہ لکھتاہے اور اس کے گناہ کو پاک کردیتاہے اور اس کا مرتبہ ایک درجہ بلند کردیتاہے ۔ لہذا جب وہ قبر امام حسین ؑپر پہونچتا ہے تو خداوندعالم دو فرشتوں کو مامور فرماتاہے تاکہ اس کے منھ سے اس وقت جو بھی خیر و نیکی کی باتیں خارج ہوں وہ سب اس کے نامہ اعمال میں تحریر کریں ، اگر کسی ایسی چیز کا مطالبہ کرے کہ وہ اس کے لئے مناسب نہ ہو تو اسے نہ لکھیں ؛ جب وہ زیارت کرکے واپس ہونے لگتا ہے تو فرشتے اسے وداع کرتے ہوئے کہتے ہیں : اے خدا کے محب!تمہاری مغفرت کردی گئی ہے ، تم خدا ، رسول اور اہل بیت طاہرین ؑ کے گروہ میں سے ہو ، خدا کی قسم !تم کبھی بھی اپنی آنکھوں سے آتش جہنم کو نہیں دیکھوگے اور آتش جہنم بھی تم کو نہیں دیکھے گی اور تمہیں جلائے گی نہیں "۔(7)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :
اذا اراد الانصراف اتاہ ملک فقال لہ ان رسول اللہ یقرئک السلام و یقول لک استانف العمل فقد غفر اللہ لک ما مضی " جب وہ رخصت ہوکر جانے لگتا ہے تو ایک فرشتہ اس کے پاس آکر کہتاہے : بے شک رسول خداؐ نے تم کو سلام کہاہے اور تم سے کہا ہے کہ اپنے عمل کو دوبارہ انجام دو کیونکہ خداوندعالم نے تمہارے گزشتہ تمام گناہوں کو بخش دیاہے "۔(8)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ وداع کے وقت جو فرشتہ آتاہے وہ کہتاہے کہ میں خداوندعالم کی جانب سے آیا ہوں ، وہ تمہیں سلام کہتا ہے اور فرماتاہے کہ اپنے اعمال کو پھر سے شروع کرو اس لئے کہ تمہارے گزشتہ تمام گناہوں کو بخش دیاگیاہے۔(9)
7۔ نیکی لکھی جاتی ہے اور گناہ محو ہوجاتےہیں
سدیر صیرفی سے منقو ل ہے کہ میں باقر العلوم امام باقر علیہ السلام کی خدمت میں موجود تھا ، اسی وقت ایک جوان نے امام حسین علیہ السلام کی قبر مطہر کا تذکرہ کیا ؛ امام نے اس سے فرمایا:
ما اتاہ عبد فخطا خطوۃ الا کتب لہ حسنہ و حطت عنہ سیئۃ " جو شخص قبر امام حسین ؑکی زیارت کے لئے قدم اٹھاتا ہے تو اس کے لئے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور ایک گناہ محو کردیاجاتاہے"۔(10)

8۔زیارت کے ذریعہ گناہوں کی بخشش
ابن مشکان نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کیاہے کہ آپ نے فرمایا:
من زار الحسین من شیعتنا لم یرجع حتی یغفر لہ کل ذنب و یکتب لہ بکل خطوۃ خطاھا و کل ید رفعتھا دابتہ الف حسنۃ و محی عنہ الف سیئۃ و یرفع لہ الف درجۃ "ہمارے شیعوں میں سے جو بھی امام حسین ؑکی زیارت کے لئے جاتا ہے تو اس کے واپس آنے سے پہلے ہی اس کے تمام گناہ بخش دئیے جاتے ہیں ، اس راہ میں وہ جو بھی قدم اٹھاتا ہے اور جس شخص کے توسط سے آسمان کی طرف ہاتھ بلند کرتاہے تو اس کے بدلے میں ہزار نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور اس کے ہزار گناہوں کو محو کردیتا جاتاہے اور اس کا مرتبہ ہزار گنا زیادہ کردیاجاتاہے"۔(11)

توجہ طلب :
ایک مومن جب امام حسین ؑکی زیارت کے لئے پیدل راستہ طے کرتاہے اور راستے میں اسے جو زحمتیں ہوتی ہیں اور گرمی کی وجہ سے پسینہ آتا ہے تو خداوندعالم اس زحمت کی وجہ سے بھی بے پناہ اجر و ثواب عطا فرماتاہے ، بعض روایتوں میں ہے کہ راستہ چلتے ہوئے گرمی کی بناپر پسینہ بہتا ہے تو اس کے ہر قطرے کے عوض خداوندعالم ستر ہزار فرشتے خلق فرماتاہے جو زیارت کرنے والے کی طرف سے تسبیح و تہلیل اور استٖغفار کرتے ہیں ۔ فرشتوں کے توسط سے زیارت کرنے والے کی طرف سے تسبیح و تہلیل اور استغفار ایک دو روز یا ایک دو مہینہ تک نہیں ہوتا ہے بلکہ قیامت تک جاری و ساری رہتاہے ۔(12)
ایک حدیث میں ہے کہ جب وہ سفر کرکے حرم کی طرف جاتاہے تو راستہ میں جیسے جیسے سورج کی شعاعیں پڑتی ہیں تو اس کی وجہ سے اس کے گناہ محو ہوتے جاتے ہیں ؛ چنانچہ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :
"جب امام حسین ؑکا زائر سورج کی شعاعوں تلے آتا ہے تو اس کے گناہ محو ہوجاتے ہیں ، جس طرح آگ ہر چیز کو جلا دیتی ہے اسی طرح آفتاب کی شعاع اس کے گناہوں کو بھی ختم کردیتی ہے ، جب وہ زیارت سے واپس آتاہے تو وہ گناہوں سے پاک و پاکیزہ ہوجاتاہے اور اس مرتبہ پر فائز ہوجاتاہے جس پر راہ خدا میں شہداء بھی فائز نہیں ہوتے "۔(13)

نتیجہ اور خلاصۂ کلام
مذکورہ تمام حدیثوں میں ایک زائر کی فضیلت و اہمیت کے حوالےسے اہم ترین نکات و پیام پائے جاتے ہیں ، ہر حدیث کی وضاحت کے لئے متعدد صفحات درکار ہیں ، زیر نظر مقالے میں ان کی وضاحت مقصود نہیں ہے ، یہاں صرف یہ اشارہ کرنا مقصود تھا کہ احادیث میں امام حسین ؑکی پا پیادہ زیارت کرنے کی کتنی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔
یہ بات پیش نظر رہے کہ اس سلسلے میں بے شمار حدیثیں مروی ہیں ، یہاں صرف ان میں بعض کو قلمبند کیاگیاہے ؛ امید ہے خداوندعالم کی بارگاہ میں شرف قبولیت سے ہمکنار ہوگا اور اس کے تناظر میں امام حسین ؑکی زیارت کرنے والے اپنی اہمیت و عظمت سے آگاہ ہوتے ہوئے زیارت کے وقت مخصوص آداب کی رعایت کریں گے ۔

والسلام علیکم رحمۃ اللہ

حوالہ جات :
1۔ بحار الانوار ، علامہ مجلسی ج98 ص143
2۔ بحار الانوار، ایضاً
3۔بحار الانوار ج98 ص 147
4۔بحار الانوار ج98 ص 147
5۔ بحار الانوار ج98 ص 152
6۔کامل الزیارات ص 375
7۔بحار الانوار ج98 ص 24
8۔بحار الانوار ج98 ص 28
9۔ وسائل الشیعہ ، ج14 ص 439
10۔بحار الانوار ج98 ص 25
11۔ بحار الانوار ج98 ص 25
12۔ المزار الکبیر ، محمد مشہدی ص 417
13۔کامل الزیارات ص 496

مقالات کی طرف جائیے