مقالات

 

زیارت امام حسین علیہ السلام ،فریضۂ الٰہی

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے سلسلے میں بہت سی احادیث مروی ہیں ، جن میں شیعوں کو بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے کہ وہ امام حسین ؑکی زیارت کے لئے جائیں اور معنوی و اخلاقی برکتوں سے بہرہ مند ہوں ؛ ان احادیث کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ ائمہ معصومین ؑکی نظر میں امام حسین ؑ کی زیارت کی کس قدر اہمیت تھی ۔
لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ بعض احادیث میں زیارت امام حسین ؑ کے لئے شدید لب و لہجہ اختیار کیاگیاہے اور اس زیارت کو الٰہی فریضہ بتاتے ہوئے تمام مسلمانوں پر واجب و ضروری قرار دیاگیاہے ۔
یہاں ان میں سے ایک حدیث کو نقل کرکے اس کی وضاحت پیش کی جارہی ہے :
عبد الرحمن بن کثیر سے مروی ہے کہ صادق آل محمد ؐ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
لوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ حَجَّ دَهْرَهُ ثُمَّ لَمْ يَزُرِ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ علیه السلام لَكَانَ تَارِكاً حَقّاً مِنْ حُقُوقِ رَسُولِ اللَّهِ صلی الله علیه وآله. لِأَنَّ حَقَّ الْحُسَيْنِ علیه السلام فَرِيضَةٌ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ
ترجمہ :
اگر تم میں سے کوئی پوری زندگی حج کرتا رہے لیکن امام حسین علیہ السلام کی زیارت نہ کرے تو اس نے رسول خداؐ کے حقوق میں سے ایک حق کو ترک کردیا ہے ؛ اس لئے کہ امام حسین ؑکا حق الٰہی فریضہ ہے اور ہر مسلمان پر لازم و ضروری ہے۔
مذکورہ حدیث شریف کی صحت و وثاقت کے لئے یہی کافی ہے کہ اسے مکتب اہل بیت ؑکے برجستہ علمائے کرام نے اپنی معتبر کتابوں میں نقل کیاہے ۔(1)

حدیث کی وضاحت
اس حدیث پر ایک سرسری نظر ڈالی جائے تو مندرجہ ذیل نکات حاصل ہوتے ہیں :

1۔ امام حسین علیہ السلام کی زیارت سے مربوط بہت سی احادیث میں زیارت کی تشبیہ ، فریضۂ حج سے دی گئی ہے اور بعض حدیثوں میں دونوں کا مقائسہ کیاگیاہے ، حالانکہ دین اسلام میں ایسے واجبات ہیں جو حج سے بھی زیادہ اہم ہیں اور اہم ترین رکن دین کی حیثیت رکھتے ہیں جیسے نماز ؛ پھر بھی تمثیل و تشبیہ کے لئے حج ہی کو کیوں اختیار کیاگیا…؟
اس کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں :
الف ) حج کا پر شکوہ اجتماع دشمنان اسلام کی نگاہوں کو خیرہ کرتاہے ، وہ اس اجتماع کو دیکھ کر اسلام و مسلمان کے استحکام کا احساس کرتے ہیں اسی لئے تاکید کی گئی ہے ہر مستطیع پہلی فرصت میں حج کا فریضہ انجام دے ؛ اسی طرح زیارت اربعین اور قبر امام حسین ؑکی زیارت کا اجتماع بھی دشمنان ایمان و تشیع کے لئے بے چینی کا موجب ہوتا ۔ عہد حاضر میں زیارت اربعین کا اجتماع دیکھ کر دشمنوں کی آنکھیں خیرہ ہورہی ہیں اور ان کے تلوؤں میں آگ لگ رہی ہے۔
ب) دوسری عبادتیں انسان اپنے وطن میں رہ کر انجام دے سکتا ہے صرف فریضۂ حج ہے جسے انجام دینے کے لئے سفر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ،قبر امام حسین کی زیارت کے لئے بھی شیعوں کو اپنے ملک سے دوسرے ملک میں سفر کرنا پڑتا ہے ۔
ج) حج کے لئے استطاعت شرط ہے اسی طرح زیارت امام حسین ؑکے لئے بھی مالی آمدنی شرط ہے ، لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ امام حسینؑ کی زیارت کے لئے جتنا خرچ ہوتاہے اسے واپس کردیا جاتاہے ۔(2)حالانکہ حج کے سلسلے میں ایسی کوئی حدیث مروی نہیں ہے (میری نظر سے نہیں گزری ہے)۔

2۔ اگر کوئی شخص امام حسین علیہ السلام کی زیارت کو (مالی حالت اچھی ہوتے ہوئے)ترک کرے تو گویا اس نے رسول خداؐ کے ایک حق کو ترک کردیاہے ۔رسول اعظم ؐ کے ایک حق کو چھوڑ دینا …ہر مسلمان کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔

3۔ رسول خداؐ کے حق کا تذکرہ کرنے کے بعد خود امام حسین علیہ السلام کے حق کا ذکر کیاگیاہے ، یعنی امام حسین ؑکے حق کی رعایت کرنا ایک الٰہی فریضہ ہے ؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو انسان بھی خداوندعالم کی نعمتوں سے بہرہ مند ہے اور اس کی وسیع و عریض زمین پر رہ کر کائنات کے گوناگوں معنوی و مادی برکات سے فائدہ اٹھا رہاہے اس کے اوپر امام حسین ؑکی زیارت ضروری ہے ۔

4۔ عام طور سے شیعوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ امام حسین ؑکی زیارت کے لئے جائیں یہاں تک کہ زیارت اربعین کو مومن کی علامت قرار دیاگیاہے لیکن اس حدیث شریف میں مومنین سے ہٹ کر تمام مسلمانوں پر امام حسین کی زیارت کو واجب قرار دیاگیاہے " واجبۃ علی کل مسلم "۔اس کا مطلب یہ ہے کہ امام حسین ؑکا حق تمام مسلمانوں کی گردن پر ہے، اس لئے کہ امام حسین ؑنے اپنی شہادت کے ذریعہ اور اپنا خون جگر دے کر اسلام اور اس کے آئین و قوانین کو زندگی عطا فرمائی ہے ، اگر امام اپنی اور اصحاب و انصار کی شہادت پیش نہ کرتے تو اسلام کی حقیقی تصویر مسخ ہوجاتی ۔
اسی لئے ہر حقیقی مسلمان کے لئے لازم و ضروری ہے کہ وہ اپنے محسن کی زیارت کے لئے جائے اور زیارت کے آثار و برکات سے بہرہ مند ہو۔

5۔حدیث میں دو الفاظ بہت اہم ہیں :"فریضۃ "اور"واجبۃ"۔جو لوگ ایام تحصیل میں زیارت امام حسین ؑکی ممانعت کرتے ہیں اور ان ایام میں جواز زیارت کی دلیل کا تقاضا کرتے ہیں ، ان کے لئے یہ حدیث بہترین دلیل ہے، اس میں لفظ فریضہ بھی ہے اور واجبہ بھی ؛ جو ظاہر ہے استحباب سےبالاتر امر پر دلالت کرتے ہیں ۔
خدایا! ہم سب کو امام حسین علیہ السلام کی زیارت نصیب فرما؛ آمین

حوالہ جات:
1۔شیخ حر عاملی ، وسائل الشیعہ ج14 ص 428؛ شیخ طوسی تہذیب الاحکام ج6 ص 42؛ کامل الزیارات ، ابن قولویہ قمی ص 122ح/4؛ بحا ر الانوار ،علامہ مجلسی ج101ص 3ح/10
2۔تهذیب الاحکام، ج۶، ص۴۵

مقالات کی طرف جائیے