مقالات

 

اکمال دین، غدیر کے آئینہ میں

حجة الاسلام والمسلمین آقای حسینی بوشہری

ترجمہ : سید حسن عباس بلگرامی
خداوندعالم قرآن مجید میں فرماتاہے :''آج کفار تمہارے دین سے مایوس ہوگئے ہیں لہذا ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو ، آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا، نعمتیں تمام کردیں اور تمہارے لئے اسلام کو بطور دین پسند کرلیا''۔(١)

اکمال دین:
اہل بیت علیہم السلام کے نورانی کلمات میں شیعوں کو اس بات کی خصوصی تاکید کی گئی ہے کہ اہل بیت سے تمہارا رابطہ دوطرفہ ہونا چاہئے یعنی تم لوگ اہل بیت کے مقام و مرتبہ کی معرفت حاصل کرو، ان سے محبت کرو اور اہل بیت بھی تمہارے دعوائے محبت کو قبول کریں ۔ جب تک یہ دو طرفہ رابطہ متحقق نہیں ہوگا ، سعادت و خوش بختی اور حصول جنت کی توقع بھی بے معنی اور لغو ہوجائے گی ۔
یہ نکتہ معصوم کے نورانی کلمات میں واضح طور پر ملاحظہ کیاجاسکتاہے ؛ چنانچہ امیر المومنین حضرت علی فرماتے ہیں :'' بے شک امر خدا کو لوگوں کے درمیان قائم کرنے والے اور بندوں کو خدا کی معرفت سے بہرہ مند کرنے والے ہیں جو بھی ان کی معرفت حاصل کر لے اور ائمہ اسے پہچان لیں وہی جنت میں جائے گا اور جو ان کی معرفت حاصل نہ کرے اور ائمہ بھی اسے نہ پہچانیں تو وہ جہنم میں جائے گا ''۔ (٢)
مذکورہ حدیث میں مولا نے انتہائی حسین تعبیر استعمال کی ہے ، حضرت فرماتے ہیں : کیا تم لوگ ائمہ کے منصب اور ان کی منزلت سے واقف ہو ؟ انما الائمة قوام اللہ ''ائمہ معاشرے کے امور کو نافذ کرنے والے ہیں ، وہ بندگان خدا کے معاملات سے پوری طرح واقف ہیں ''۔لائق توجہ بات یہ ہے کہ حضرت نے فرمایا: ولا یدخل الجنة الا من عرفھم وعرفوہ۔صرف اس کو جنت کی توقع کرنی چاہئے جس نے اہل بیت سے دو طرفہ رابطہ برقرار کیاہو ۔ ہمیں مجلسوں اور تقریروں میں اس نکتہ کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے کہ ہم ائمہ کی معرفت حاصل کریں لیکن اس بات کی طرف کم متوجہ کیاجاتاہے کہ ہمیں ایسا کام کرنا چاہئے کہ ائمہ طاہرین بھی ہمیں پہچان لیں اور اپنا بنالیں ورنہ اگر دعوائے محبت یکطرفہ ہو تو مولاعلیؑ کے قول کی روشنی میں ایسا شخص بھی جنت میں نہیں جاسکتا ۔ ہمیں اس کی طرف تو توجہ دلائی جاتی ہے کہ اماموں کی معرفت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ '' زیارت جامعہ کبیرہ '' ہے جس میں ایک معصوم امام کی زبانی ائمہ طاہرین کے فضائل بیان ہوئے ہیں لیکن ہمیں اس بات کی طرف کم توجہ دلائی جاتی ہے کہ ایسا عمل کرو کہ خود امام خوش ہوکر تمہیں اپنا کہیں ۔مذکورہ حدیث میں اسی نکتہ کی طرف امام نے توجہ دلائی ہے : لا یدخل الجنة الا من عرفھم و عرفوہ '' فقط وہ شخص جنتی ہے جو ائمہ کی معرفت رکھتاہو اور ائمہ اسے اپنا بنالیں ''۔ولا یدخل النار الا من انکرھم و انکروہ '' اور جسے اہل بیت کی پہچان نہ ہو یا اہل بیت اسے نہ پہچانیں وہ جہنمی ہے ''۔
اس حدیث سے یہ واضح ہوتاہے کہ اہل بیت سے ایک طرفہ رابطہ ناکافی ہے ، اہل بیت سے محبت کا دعویٰ اس وقت فائدہ مند ہوگا جب اہل بیت اسے اپنا کہہ دیں ۔اصبغ بن نباتہ کی شخصیت سے اہل علم بخوبی واقف ہیں ، آپ کا شمار مولائے کائنات کے با وفا اصحاب میں ہوتا ہے ، تاریخ گواہ ہے کہ جس وقت ابن ملجم نے مولاکے سر پرضرت لگائی اور لوگ مولا کو لے کر بیت الشرف آئے تو امام حسن نے چاہنے والوں سے فرمایا : بابا کی حالت نازک ہے ، آپ لوگ یہاں سے تشریف لے جائیں،کچھ دیر بعد امام حسن نے دیکھا کہ تمام لوگ چلے گئے لیکن گوشہ میں ایک شخص بیٹھا گریہ کررہاہے ،امام نے فرمایا: اصبغ !تم گھر کیوں نہیں جاتے ؟ اصبغ نے عرض کی : آقا!جی چاہتا ہے مولا کی زندگی کے آخری لمحات میں ان کی زیارت کروں ۔ امام حسن نے مولا علی سے اجازت طلب کی ، مولا کی اجازت پاکر اصبغ نے مولا کا دیدار کیا ۔یقینا ایسے ہی لوگ '' من عرفھم و عرفہ '' کا مصداق ہیں اور ان کا رابطہ اہل بیت سے دوطرفہ ہے ۔یہاں اصبغ کے حالات قلمبند کرنے کا مقصد وہ روایت ہے جسے اصبغ نے بیان کیاہے تا کہ ہمیں ان باتوں کی طرف متوجہ رہنا چاہئے ۔چنانچہ اصبغ بیان فرماتے ہیں کہ میں ایک دن امیر المومنین علی کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک شخص نے حضرت کی خدمت میں آکر عرض کی آقا! خدا کی قسم !میں آپ سے بے حد محبت کرتاہوں ، امام نے تھوڑی دیر اپنے سر کو جھکایا پھر سر اٹھاتے ہوئے فرمایا: تم اپنے دعوے میں جھوٹے ہو ، میںنے اپنے چاہنے والوں کی فہرست میں تمہارا نام نہیں دیکھا ۔ اسی کے برعکس دوسرے شخص نے آکر دعوائے محبت کیا تو امام نے فرمایا : تم اپنے دعوے میں سچے ہو، تمہارا نام میں اپنے چاہنے والوں کی فہرست میں دیکھ رہاہوں۔ یقینا ائمہ طاہرین اپنے علم کی بنیاد پر لوگوں کی نیتوں سے بھی آگاہ ہوتے ہیں۔

امام اور علم امامت پر طائرانہ نظر :
امام علی رضا کے دور میں دو لوگ امام کی خدمت میں آئے اور انہوں نے سوال کیا : مولا !ہم دونوں کی نماز قصر ہے یا پوری ؟ امام نے ایک سے فرمایا کہ تمہاری نماز قصر ہے اور دوسرے سے فرمایا کہ تمہاری نماز پوری ہے۔آنے والوں نے حیرت سے عرض کی : آقا!ہم دونوں ایک ہی جگہ اور ایک ہی محلہ کے رہنے والے ہیں ، پھر یہ کیسے ہوسکتاہے کہ ایک کی نماز قصر ہو اور دوسرے کی پوری ؟ امام نے جواب دیا : تمہاری نماز قصر ہے اس لئے کہ تم نے ہماری زیارت کے قصد سے سفر کیاہے لہذا تمہارا سفر ، سفر معصیت و گناہ نہیں ہے بلکہ عبادت ہے لیکن تمہارے ہم سفر کی نیت مامون سے ملاقات ہے اور مامون ایک ظالم و ستمگر بادشاہ ہے لہذا اس کا سفر ، سفر گناہ ہے اور اس کی نماز پوری ہے ۔ درحقیقت یہ رابطہ ، دو طرفہ رابطہ ہے ، اسی لئے امام نے اسے قبول فرمایا اور اس دو طرفہ رابطے کا اظہار کرکے اسے اپنی طرف منسوب کیا ، جیسا کہ ایک شخص کا بیان ہے کہ میں حج کے سفر کے دوران امام صادق کے ہمراہ تھا ، میں نے مولا سے سوال کیا : امام حسین اپنے زائروں پر کیا عنایات فرماتے ہیں ؟ امام نے کہا: انہ لینظر الی زوّارہ وانہ اعرف بھم و باسمائھم و اسماء آبائھم و ما فی رحالھم من احد بولدہ (٣)'' بے شک امام اپنے زائروں پر نظر رکھتے ہیں ، اپنے چاہنے والوں کے نام اور ان کے آباء و اجداد کے اسماء نیز سفرمیں اس کے پاس موجود ساز وسامان کے متعلق خود اس سے زیادہ آگاہی رکھتے ہیں ، ایک شخص اپنی اولاد کے سلسلے میں جتنی معرفت رکھتاہے امام کی معرفت اور آگاہی اس سے کہیں زیادہ ہے''۔
مذکورہ روایت کی بنیاد پر امام حسین اپنے زائروں پر نظر رکھتے ہیں اور ان کے حالات سے آگاہ ہیں ، لہذا ہمیں بھی چاہئے کہ ہم بھی ائمہ کے سلسلے میں اپنی معرفت کو زیادہ سے زیادہ کریں اور ان کی شناخت حاصل کریں ۔ اس تناظر میں یہ کہاجاسکتاہے کہ ابھی ہم نے امیر المومنین اور غدیر کی خصوصیات کو اس طرح نہیں پہچانا جس طرح پہچاننے کا حق ہے ، ہم اس بات سے ناواقف ہیں کہ غدیر کا واقعہ کیوں رونما ہوا ؟ ہم ابھی غدیری آیات کے معنی و مفاہیم سے پوری طرح واقف نہیں ہیں۔

آیات غدیر کے پیغامات
''آج کفار تمہارے دین سے مایوس ہوگئے ہیں لہذا ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو ، آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا، نعمتیں تمام کردیں اور تمہارے لئے اسلام کو بطور دین پسند کرلیا''۔(٤)
مذکورہ آیت چار اہم ترین پیغامات کی حامل ہے :
١۔ روز غدیر وہ دن ہے جس دن کفار مایوس ہوگئے ۔
٢۔ غدیر وہ دن ہے جس دن دین کامل ہوا ۔
٣۔ غدیر وہ دن ہے جب نعمت الٰہی تمام ہوئی ۔
٤۔ غدیر وہ دن ہے جس دن خدا کی رضایت و خوشنودی حاصل ہوئی۔
یہاں یہ سوال ہوتاہے کہ وہ کونسا اہم دن ہے ؟ جب ہم کتب تفسیر کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں اس ''دن'' کے متعلق مختلف نظریات پائے جاتے ہیں ؛ایک گروہ کہتاہے : آیت میں الیوم سے مراد روز بعثت رسول اکرم ہے اس لئے کہ جس دن محمد مصطفی ؐمبعوث بہ رسالت ہوئے تو مشرکین مایوس ہوگئے ، دین کامل ہوگیا اور نعمتیں تمام ہوگئیں ۔ اس نظریہ کی سب سے بڑی مشکل اور اس پر سب سے اہم اعتراض یہ ہوتاہے کہ روز بعثت نبی ، روز آغاز دین ہے ، اکمال دین اور اتمام نعمت کا دن نہیں ہے ۔
ایک دوسرا گروہ کہتاہے : اس دن سے مراد روز عرفہ ہے ۔ اس نظریہ کے جواب میں یہ کہاجاسکتاہے کہ روز عرفہ میں ایسی کوئی اہم خصوصیت موجود نہیں ہے کہ الیوم سے مراد عرفہ ہو۔
بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں یہاں الیوم سے مراد ''سال فتح مکہ '' ہے جب کہ یہ نظریہ بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ ٨ ھ میں فتح مکہ واقع ہوا اور مسلمان درحقیقت مشرکین کے مقابلہ میں فاتح قرار پائے لیکن مشرکین مایوس نہیں ہوئے بلکہ یہ امید باقی تھی کہ شاید پیغمبر پر فتح حاصل ہوجائے ۔ اب ان تمام نظریوں کے بعد یہ سوال باقی رہ جاتاہے کہ آخر وہ کون سا دن ہے جو ان تمام خصوصیات کا حامل ہے؟۔
تاریخ کے مطالعہ سے اس بات کا اندازہ بخوبی ہوجاتاہے کہ گرچہ یہودی پیغمبر کے مقابلے میں اور مشرکین فتح مکہ کے موقع پر تسلیم ہوگئے تھے لیکن ان کے اندر یہ امید باقی تھی کہ ایک دن رسول کے مقابلے میں کامیاب ہوں گے کیونکہ پیغمبر کے کوئی اولاد نہ تھی جو ان کے بعد ان کے مشن کو آگے بڑھاسکے ، ابھی یہ لوگ اسی امید میں تھے کہ آیۂ کریمہ نازل ہوئی :''اے پیغمبر !جو پیغام تمہارے خدا کی طرف سے نازل کیاگیاہے اسے پہونچا دو ''۔ اس نورانی پیغام کو پیغمبرؐنے اس انداز سے پہونچایا : الست اولی بکم من انفسکم قالوا بلی فاخذ بید علی فقال : من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ۔ جیسے ہی پیغمبر نے اعلان کیا فوراًآیۂ کریمہ نازل ہوئی :اے پیغمبر !آپ نے ہمارے پیغام کو پہونچایا اور علی کو اپنا جانشین معین فرمادیا پس آج کافر مایوس ہوگئے چونکہ انہیں احساس ہوگیا کہ امامت کے آنے سے نبوت کا مشن اب رکنے والا نہیں ہے اور یہی کمال دین ہے :( الْیَوْمَ َکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وََتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَرَضِیتُ لَکُمْ الِْسْلاَمَ دِینًا)۔
یہ بات واضح ہونے کے بعد کہ مذکورہ آیت غدیر میں حضرت علی کی شان میں نازل ہوئی ، یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ آخر حضرت علی ہی میں کون سی خصوصیات پائی جاتی ہیں کہ رسول نے انہیں اپنا جانشین قرار دیا؟۔

حضرت علی کی خصوصیات:
١۔ حضرت علی کی ولادت :
حضرت علی کی بہت سی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت کعبہ میں آپ کی ولادت ہے ، حضرت علی اس خصوصیت میں منفرد اور ممتاز ہیں ، اس لئے کہ حضرت عیسیٰ کی ولادت کے موقع پر ان کی ماں کو حکم ہوا کہ یہ خدا کا گھر ہے '' بیت المقدس'' ہے ولادت کی جگہ نہیں اس لئے یہاں سے باہر جاؤ لیکن مولا علی کی ولادت کے موقع پر ان کی ماں کے لئے کعبہ کی دیوار میں شگاف پیدا ہوا اور فاطمہ بنت اسد اندر داخل ہوگئیں اور اس طرح آپ اور آپ کی والدہ تین دنوں تک خدا کی مہمان رہیں۔(٥)
٢۔ایمان :
حضرت علی کی ولادت کی طرح آپ کا ایمان بھی منفرد اور بے مثال ہے اس لئے کہ سب سے پہلے نبی پر ایمان لانے والی علی کی ذات ہے ، ظاہر ہے دوسروں کے مقابلے میں سب سے پہلے اسلام لانا اور ایمان کی دولت سے مالامال ہونا ، بے پناہ اہمیت کا حامل ہے ، لہذا اسے منفرد اور ممتاز ایمان کہاجاسکتاہے ۔(٦)
٣۔ پیغمبر ، حضرت علی کے معلم:
اپنے استاد اور معلم کے اعتبار سے حضرت علی انفرادی حیثیت کے حامل ہیں اس لئے کہ ان کے معلم رسول خداہیں ، نبی کا ارشاد گرامی ہے : یا علی ان اللہ امرنی ان اربیک و اعلمک لتعیننی ''اے علی !خدا نے مجھے حکم دیاہے کہ میں تمہارا معلم و مربی رہوں تاکہ تم ہمارے مددگار بنو ''۔مذکورہ حدیث کا حیرت انگیز اور قابل غور پہلو یہ ہے کہ اس میں معلم ''رسول'' کو سفارش کی گئی کہ معلم بنیں ، حضرت علی کو حکم نہیں دیاگیاہے کہ وہ رسول سے علم حاصل کریں۔
٤۔ پیغمبر ، علی کو پہچنوانے والے :
رسول خداؐنے جس طرح حضرت علی کو پہچنوایا اس طرح کسی اور کو نہیں پہچنوایا ، آپ کا ارشاد گرامی ہے: یا علی ماعرفک حق معرفتک غیر اللہ و غیری(٧)'' اے علی جس طرح تمہیں پہچاننے کا حق ہے اس طرح کسی نے نہیں پہچانا سوائے خدا کے اور میرے ''۔لہٰذا ان خصوصیات کے تناظر میںیہ بات ملحوظ خاطررہے کہ ہم غدیر کے دن ایسی منفرد شخصیت کی خلافت و ولایت کا جشن منارہے ہیں۔

ولایت ، رکن اسلام :
امیر المومنین کی ولایت اسلام کا اہم ترین رکن ہے ، روایت میں وارد ہوا ہے : بنی الاسلام علی خمسة اشیاء علی الصلاة والزکاة والصوم والحج ، قال زرارة: ای شئی من ذلک افضل ؟ قال: الولایة افضل لانھا مفتاحھن والولی ھوالدلیل علیھم (٨)'' امام باقر نے فرمایا : اسلام کے پانچ ارکان ہیں : نماز ، زکوة ، روزہ ، حج اور ولایت ؛ زرارہ نے سوال کیا کہ ان میں سے افضل رکن کون سا ہے ؟ امام نے فرمایا: ولایت ،اس لئے کہ یہ ان سب کی کنجی ہے ''۔
اب یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ آخر انہیں پانچ اشیاء میں کون سی خصوصیت پائی جاتی ہے کہ معصوم نے ان چیزوں کو اسلام کا رکن قرار دیا ؟ اس کے جواب میں یہ کہاجاسکتاہے کہ انہیں پانچ چیزوں کے انتخاب کی وجہ یہ ہے کہ نماز خالق و مخلوق کے رابطہ کا نام ہے ، زکات مخلوق سے مخلوق کے رابطہ کا نام ہے ، روزہ یہ خود انسان کے لئے فائدہ مند ہے اس لئے کہ روزہ کے ذریعہ انسان اپنے نفس پر کنڑول کرتاہے اور خود کو گناہوں سے بچاتاہے ، حج انسان کا تمام مسلمانوں سے رابطہ برقرار کرنے کا بہترین ذریعہ ہے لیکن ولایت وہ اہم چیز ہے جس کی وجہ سے یہ تمام چیزیں قائم ہیں ، اگر ولایت نہ ہو تو ان تمام چیزوں کا قیام ناممکن ہوجاتاہے لہذا ولایت اہم ترین رکن دین ہے ۔

دوست اور دشمن:
امیر المومنین کی ان تمام فضیلتوں کے سبب بعض آپ کے مخلص دوست ہوئے تو بعض بدترین دشمن ، جو افراد آپ کی محبت کا دم بھرتے ہیں ، وہ محبت کی بلندی پر ہیں ، جیسے میثم تمار ، عدی بن حاتم ؛چنانچہ ایک دن عدی بن حاتم معاویہ کے دربار میں آئے تو معاویہ نے پوچھا کہ تمہارے بیٹے کہاں ہیں ؟ عدی نے جواب دیا کہ جس وقت تم دائرۂ اسلام سے خارج تھے اس وقت ہمارے بیٹوں نے علی کی رکاب میں اپنی جان قربان کردی ۔ معاویہ نے کہا: اے عدی !علی نے تمہارے ساتھ انصاف نہیں کیا ، علی کے بچے ابھی تک زندہ ہیں لیکن تمہارے بچے شہید ہوگئے ۔عدی نے جواب دیا : اے معاویہ !میں نے علی کے ساتھ انصاف نہیں کیا کہ علی شہید ہوگئے اور میں ابھی تک زندہ ہوں۔(٩)اس کے بعد عدی نے علی کے مختلف اوصاف کو بیان کیاکہ جسے سن کر معاویہ جیسے ''قسّی القلب '' شخص کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔
علی نے میثم جیسے انسانوں کی تربیت کی ہے اور انہیں افراد نے درحقیقت شخصیت علی اور غدیر کو پہچانا ہے ، چنانچہ جب مولائے کائنات نے میثم سے پوچھا کہ جس دن ہماری محبت میں تمہارا ہاتھ پیر کاٹا جائے گا ، تمہاری زبان کاٹی جائے گی اور تمہیں سولی دی جائے گی اس دن کیاکروگے ؟ میثم نے سوال کیا کہ جس دن ایسا ہوگا ہم اپنے دین اور آپ کی محبت پر قائم رہیں گے یا نہیں ؟ مولانے فرمایا: ہاں! اس دن ہماری محبت میں اور اضافہ ہوگا۔ یہ سن کر میثم نے عرض کی : یا علی !اصبر انہ فی اللہ قلیل(١٠) '' مولا !میں صبر کروںگا اس لئے کہ خدا کی راہ میں (یہ امتحان و آزمائش )بہت کم ہے ''۔
یہ ہے حضرت علی کے دوستوں کے کردار کے نمونے ؛ لیکن اس کے برخلاف علی کے دشمنوں کا عالم یہ ہے کہ انہوںنے کوئی موقع ایسا نہیں چھوڑا جہاں علی سے دشمنی اور بغض کا اظہار نہ کیا ہو ، چنانچہ ایک دن ایک شخص کو حجاج کے پاس لایا گیا ، اس نے حکم دیا کہ اسے کوڑے لگائے جائیں اور قید کردیاجائے ۔ اس شخص نے کہا: حجاج !لگتا ہے تو نے ہمیں پہچانا نہیں ۔حجاج نے کہا: تو کون ہے ؟ کہا: میں اس خاندان سے ہوں جس میں کسی شخص کا نام بھی علی ، حسن حسین اور فاطمہ نہیں ملے گا ۔ حجاج نے کہا : اس کا مطلب تو دشمن علی ہے ، لہذا تو ہمارا دوست ہے ۔ پھر حکم دیا کہ اسے آزاد کردیاجائے ۔
حقیقت یہ ہے کہ حضرت علی کی شخصیت کا تعارف خود رسول خدانے کرایاہے : یا علی !ہمارے اور تمہارے درمیان صرف ایک فرق ہے ۔ چنانچہ جب ایک دن علی نے رسول خداسے فرمایا: جس وقت آپ پر وحی نازل ہوئی میں شیطان کی فریاد کی آواز سن رہاتھا کہ جو اپنی ناکامی پر گریہ کررہاتھا ۔ رسول خدانے فرمایا : یا علی !انک تسمع ما أسمع و تری ما أری الا انک لست بنبی (١١) ''اے علی جو میں سنتا ہوں تم سنتے ہو ، جو میں دیکھتاہوں تم دیکھتے ہو ، ہمارے اور تمہارے درمیان بس فرق یہ ہے کہ میں نبی ہوں اور تم نبی نہیں ہو ''۔
ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اہل بیت کی معرفت حاصل کریں ، غدیر کو پہچانیں اور اہل بیت سے دو طرفہ رابطہ برقرار کریں ۔

حوالجات
١۔ مائدہ ٣۔
٢۔.نہج البلاغہ خطبہ ١٥٢۔
٣۔ کامل الزیارات ، ابن قولویہ ص٢٠٦۔
٤۔ مائدہ ٣
٥۔ الطرائف فی معرفة مذاہب الطوائف ، سید بن طائوس ص١٧؛ مستدرک حاکم ج٣ ص ٤٨٣
٦۔ سلسلۂ موضوعات الغدیر ٥ ص ٢٧۔٤٦
٧۔ مناقب آل ابی طالب ، ابن شہر آشوب ج٣ ص ٦٠؛ بحار الانوار ، علامہ مجلسی ج٢٩ ص ٨٤
٨۔المحاسن ، احمد بن محمد برقی ج١ ص ٢٨٦ ؛ اصول کافی ، کلینی ج٢ ص ١٨
٩۔امالی ، سید مرتضی ج١ ص ٢١٧
١٠۔ جامع احادیث الشیعہ ، آیة اللہ بروجردی ج١٤ ص ٥٧٧

مقالات کی طرف جائیے