مقالات

 

کربلائے معلی

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری


بچو! آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے تیسرے امام مولا حسین علیہ السلام کاقافلہ 28/رجب المرجب کو مدینہ سے روانہ ہوا تھا ، وہ قافلہ مکہ سے ہوتا ہوا آج کربلا نامی سرزمین پر پہونچ چکا ہے ۔آج دو محرم ہے ۔
جب یہ قافلہ کربلا پہونچا تو امام حسین ؑنے وہاں موجود لوگوں سے اس کا نام پوچھا ۔ سب نے الگ الگ نام بتایا ، آخرکار ایک ضعیف شخص نے جب اس کا نام کربلا بتایا تو امام نے قافلہ ٹھہرانے کا حکم دیا۔
گھوڑوں سے اصحاب اترنے لگے ، اونٹوں کو بٹھایاگیا اور اس پر محملوں سے خواتین اور چھوٹے چھوٹے بچے اترے،جوانوں نے وہیں پر مناسب زمین دیکھ کر خیمے لگادئیے ۔
بچے بہت خوش تھے ، وہ آج کی رات خیموں میں آرام سے سو سکتے تھے ۔
جہاں خیمے لگائے گئے تھے ، وہاں سے ذرا فاصلہ پر ایک تالاب تھا جہاں صاف و شفاف پانی موجود تھا ۔ بچے چاہتے تھے کہ وہ بھی بڑوں کی طرح مشکوں کو پانی سے بھریں ،وہ پانی سے اپنے ہاتھ منھ دھو کر تر و تازہ ہورہے تھے ۔
تھوڑی ہی دیر میں سارے مشک پانی سے بھر چکے تھے ۔
شام ہوتے ہوتے جو کربلا ویران تھی ، وہ آباد ہوگئی ، فرات کے کنارے چہل پہل تھی ، ہربچہ بچہ خوش وخرم تھا۔
لیکن پھر بچوں نے دیکھا کہ کچھ لوگ امام کے سامنے کھڑے ہیں ، ان کے چہروں سے لگ رہاتھا کہ وہ اچھے نہیں ہیں ، ان کے ہاتھوں میں تلوار اور نیزے تھے اور چہرے پر غصہ تھا ۔
امام حسین ؑکسی سے ڈرے نہیں ، وہ شجاع اور بہادر انسان تھے ، ان کو کسی سے خوف محسوس نہیں ہوا ۔وہ سپاہی کچھ دیر بعد چلے گئے ۔
بچوں کے لئے وہ منظر بہت افسوس ناک تھا ، انہوں نے دیکھا کہ جو خیمے فرات کے پاس لگے ہوئے تھے ، وہ اکھاڑے جارہے ہیں ۔چچا عباس سب سے آگے ہیں اور خیموں کو اکھاڑنے میں دوسروں کا ساتھ دے رہے ہیں ۔
وہ خیمے فرات سے دور لگا دئیے گئے ۔اب فرات سے پانی لانے میں مشکل ہورہی ہے ۔
بچوں کو یہ دیکھ کر اور افسوس ہوا جب دشمنوں نے فرات پر پہرے لگادئیے تاکہ ہمارے خیموں تک پانی نہ پہونچ سکے ۔ بچے اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ فرات کے اس طرف جو لوگ رہتے ہیں وہ بہت گندے اور بداخلاق ہیں ، ان کے پاس انسانیت نہیں ہے ورنہ وہ بچوں پر پانی بند نہ کرتے ۔
اسی عالم میں دس محرم کا دن آگیا ، امام کے سبھی ساتھی شہید چکے ہیں ، امام حسین ؑبچوں کے پاس خدا حافظی کے لئے آئے ہیں، بچے نہیں چاہتے کہ امام ان سے جدا ہوں ۔
انہوں نے نا چاہتے ہوئے بھی امام علیہ السلام کو خدا حافظ کہا ۔امام علیہ السلام میدان جنگ پہونچے ، دشمنوں نے چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا ، امام نے ان کو سیدھے راستے کی ہدایت کرنے کی کوشش کی ، لیکن وہ سنگ دل تھے اور ان کے پیٹ حرام غذا سے بھرے ہوئے تھے، اسی لئے امام کی باتوں کا ان کے اوپر کوئی اثر نہیں ہوا ۔
آخر کار امام علیہ السلام نے شجاعت و جوانمردی کے ساتھ جنگ کی ، بہت سے دشمنوں کو اپنی تلوار سے قتل کیا ۔
لیکن امام تین دن کے بھوکے پیاسے تھے ، کب تک جنگ کرتے ، دشمنوں نے چاروں طرف سے گھیر کرامام پر حملہ کیا اور امام کو شہید کردیا۔
امام علیہ السلام کی شہادت کے بعد بچوں پر بہت زیادہ ظلم و ستم کیاگیا لیکن انہوں نے ہمیشہ اچھے بچے بن کر زندگی گزاری اور ہمیں درس دیا کہ مصیبت میں بھی اچھائی کا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہئے ۔

بچو! آئیے ہم سب کربلا کے بچوں سے عہد کریں کہ ہم ان کی طرح ہمیشہ نیکی اور اچھائی کا ساتھ دیں گے اور اپنے بڑوں کی بات مانیں گے ۔
خداحافظ

مقالات کی طرف جائیے