مقالات

 

معیار دوستی؛ حبیب بن مظاہر کی نظر میں

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

انسانی زندگی میں دوست کی بے پناہ اہمیت سے انکار نہیں کیاجاسکتا ، دوستی وہ نمک ہے جو تمام رشتوں کو ذائقہ عطاکرتی ہے ، ہم دیکھتے ہیں کہ آج کل بھائیوں ، بہنوں ، ماں ، باپ اور بیٹوں میں شدید ترین جنگ جاری ہے ، جس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر خونی رشتہ تو ہے لیکن آپس میں محبت و دوستی نہیں ہے ، جس کی وجہ سے قتل و خونریزی پر خونی رشتہ آمادہ ہوجاتاہے ۔ روز مرہ کا تجربہ یہ ہے کہ دوستی ، قرابت اور رشتہ داروں پر سبقت لے جاتی ہے ، انسان رشتہ داروں سے زیادہ دوستوں پر اعتماد کرنے لگتا ہے، آج کا نوجوان اپنے دل کی بات والدین کے بجائے اپنے دوستوں کو بتاتا ہے ۔
مختصر یہ کہ دوست بننا اور بنانا انسانی فطرت میں شامل ہے ، یہ سلسلہ ابتدائی مراحل سے لے کر زندگی کے آخری لمحہ تک جاری و ساری رہتاہے ، دوستی کے متعلق حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے کہ'' وہ شخص سب سے زیادہ عاجز ہے جو دوست نہ بناسکے ،اور اس سے بھی زیادہ عاجز وہ شخص ہے جو دوستوں کو ضائع و برباد کردے ''۔مولا کی اس حدیث سے ثابت ہوتاہے کہ دوست بنانا یا دوستی کا ماحول پیدا کرنا ایک قابل تعریف بات ہے ۔
دوستی کی اہمیت کو صرف امام نے نہیں بلکہ امام کے حقیقی چاہنے والوں اور ماننے والوں نے بھی دوستی کی عظمت کو اجاگر کیا ہے ، انہیں چاہنے والوں میں سے ایک وہ مرد فقیہ بھی ہے جس کو ہم حبیب بن مظاہر اسدی کے نام سے جانتے ہیں ، جس نے دوستی کے معیار کو زندگی کے ابتدائی مراحل سے لے کر حیات کے آخری لمحہ تک اس طرح سمجھایا کہ اگر دوست تمہارے غریب خانہ پر آنے والا ہو تو اس کی زیارت میں بے چین ہوکر جان بھی دی جاسکتی ہے اور اگر کسی سے سچی دوستی ہو اور وہ نصرت کے لئے طلب کرے تو کوفہ کی سختی کے باوجود نصرت کے لئے کربلا پہنچ جائے ، جی ہاں! حبیب نے ابتدائی دور میں بھی امام حسین کی دوستی کو واضح و آشکار کیا ہے اور معیار دوستی کو ہمارے سامنے پیش کیاہے ۔

حبیب کا بچپنا اور معیار دوستی
ارباب سیرت اور محدثین تحریر فرماتے ہیں کہ حبیب امام حسین علیہ السلام کے بچپن کے دوست اور ساتھی تھے ،منتخب طریحی حبیب کے بچپن کا واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول خدصلی اللہ علیہ وآلہ اپنے چند اصحاب کے ساتھ تشریف لے جارہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ امام حسین علیہ السلام کچھ بچوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں ، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے ان بچوں میں سے ایک کا بازو پکڑا ، اس کی پیشانی چومی اور والہانہ پیار کرنے لگے ، تھوڑی دیر تک یہ کیفیت جاری رہی ، اس کے بعد رسول نے اس بچہ کو چھوڑ دیا ۔ اصحاب نے پوچھا : یا رسول اللہ !یہ کون تھا اور اس کے ساتھ اتنی شفقت برتنے کا مقصد کیاتھا ؟ رسول اللہ نے جواب میں فرمایا :یہ مظاہر اسدی کا لڑکا حبیب ہے ، میں نے دیکھا ہے کہ یہ لڑکا میرے حسین کے پیچھے پیچھے چل رہاتھااور حسین کے قدموں کی خاک اپنے سر پر رکھتا جاتا تھا ، اسی دن سے مجھے اس بچہ سے پیار ہوگیا ہے ۔ یقینا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے سامنے واقعہ کربلا آگیا ہوگا کہ یہی دوستی اور یہی چاہت ہوگی جو میدان کربلا میں مرد فقیہ بن کر ظاہر ہوگی ، حبیب کی یہ دوستی گزر تے زمانہ کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہی کیونکہ بزرگوں نے بھی ان پر شفقت اور خصوصی توجہ دی ۔ تاریخ میں ہے کہ حبیب مولائے کائنات کے شاگرد رشید تھے اور مولا ان پر خصوصی توجہ فرماتے تھے ۔

کربلا میں حبیب کا ورود
حبیب کو امام حسین سے جو محبت اور دوستی تھی ، اس وقت انتہائی حساس بن گئی جب آپ گھر میں اپنی زوجہ کے ساتھ طعام نوش فرما رہے تھے کہ اچانک دق الباب ہوا ، حبیب نے پوچھا : کون ؟ جواب آیا : قاصد حسین ۔ حبیب مضطرب ہوگئے ، پہلو بدلا اور عجلت میں دروازے پر پہنچے ، امام کا خط لیا ، آنکھوں سے لگایا اور بوجھل قدموں سے گھر میں آنے لگے۔ امام حسین نے اپنے بچپن کے دوست کو لکھاتھا : من الحسین الی الرجل الفقیہ حبیب بن مظاہر الاسدی ؛ امابعد ! فقد نزلنا فی الکربلا و انت تعلم قربتی من رسول اللہ فان اردت نصرتنا اقدم الینا عاجلا ''یہ خط حسین کی جانب سے مرد فقیہ حبیب بن مظاہر اسدی کے لئے ، امابعد !اے حبیب ہم کربلا میں وارد ہوگئے ہیں اور تم تو جانتے ہی ہو کہ میری رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ سے کیسی قربت تھی ، پس اگر تم ہماری نصرت کا ارادہ رکھتے ہو تو جلد از جلد ہماری جانب آجائو''۔
یہ خط بظاہر ہمارے اور آپ کے لئے انتہائی مختصرہے لیکن جو بچپن سے معیار دوستی کو پہچانتا ہو ، جو امام کی خاک پا کو سرمۂ چشم بناتا ہو ، جس کی نظر میں دوستی سرمایۂ حیات ہو ، اس کے لئے یہ خط بڑی عظمتوں کا حامل تھا ، ایک طرف حبیب معیار دوستی کو نبھانے کے لئے ترکیبیں سوچ رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ امام کا خط بھیجنا یہ بتاتا ہے کہ میرا نام بھی محضر شہادت میں رقم ہے ، لہذا جلد از جلد بارگاہ حسینی میں پہنچ جانا چاہئے لیکن اس معیار دوستی اور محبت کو نبھانے میں کوفہ کا ماحول حارج تھا ، ابن زیاد کے آنے سے باپ بیٹے کا جاسوس تھا ، بیوی شوہر کی جاسوس تھی ، شوہر بیوی کا جاسوس تھا اور انعام کی لالچ میں اہل بیت علیہم السلام کے چاہنے والوں کے راز فاش کرنے کے لئے آمادہ تھے ، ایسے پر آشوب ماحول میں حبیب کو اپنے دل کی بات چھپانی بڑی مشکل تھی ، اسی لئے وہ بوجھل قدموں سے گھر میں داخل ہوئے اور جیسے ہی دسترخوان پر بیٹھے بیوی نے پوچھ لیا : کون تھا ؟ حبیب نے جواب دیا :قاصد حسین تھا ۔ زوجہ نے پوچھا : کیوں کیا بات تھی، کس لئے آیاتھا ؟حبیب نے کہا کہ نصرت کے لئے بلایا ہے ۔ زوجہ نے پوچھا : تب کیاارادہ ہے ؟ اس سوال سے حبیب کانپ گئے کہ اب تو راز فاش ہوہی جائے گا لیکن حبیب نے کہا : میں سوچ رہاہوں کہ دو بادشاہوں کی جنگ میں دخل اندازی کرنا مناسب نہیں ہے ۔ زوجہ نے کہا : حبیب !حق و باطل کی جنگ کو دو بادشاہوں کی جنگ سے تعبیر کررہے ہو ، تمہاری غیرت کو کیا ہوگیا ہے ، آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ کی نصرت کے لئے میں جائوںگی ، لو یہ میری چادر اوڑھ لو اور گھر میں بیٹھ جائو ، حبیب نے زوجہ کی پیشانی چومی اور دعائیں دی اور کہا: میں تو تمہارا امتحان لے رہاتھا ، ورنہ جس کا دوست نرغۂ اعداء میں گھر جائے اس کا دوست نصرت کے لئے نہ جائے اور میری کیا مجال جو میں اقدام فرزند رسول کو دو بادشاہوں کی جنگ سے تعبیر کروں ، اس لئے کہ میں تو مولا علی کا شاگرد ہوں ، مجھ سے زیادہ حق و باطل کو کون پہچان سکتاہے ، حبیب نے غلام کو حکم دیا کہ گھوڑے کو لے کر کوفہ سے باہر چلا جائے اور میرا انتظار کرے ، ادھر حبیب نے تیاری شروع کی ۔
ذرا غور کیجئے کہ دوست کی نصرت کے لئے حبیب نے کسانوں کا لباس پہنا تاکہ کوئی دشمن رسول و امام ،مشکوک نگاہ سے میری جانب نہ دیکھے اور میں حق دوستی ادا کرنے کے لئے کربلا پہنچ جاؤں ۔ حبیب زوجہ سے رخصت ہوئے اور کوفہ سے باہر پہنچ گئے اور غلام سے کہا کہ جا میں نے تجھے راہ خدا میں آزاد کیا ، غلام نے عجیب نگاہ سے حبیب کی طرف دیکھا اور کہا : آقا!جب اپنی خدمت کی بات تھی تو آپ نے مجھے ساتھ رکھا اور جب دین خدا پر آنچ آئی ہے تو مجھے آزاد کررہے ہیں ، میں بھی آپ کے ساتھ کربلا تک جائوںگا ، حبیب نے غلام کو بھی ہمراہ لیا اور میدان کربلا میں وارد ہوئے ، حبیب در خیمہ پر آئے ، بہت دنوں بعد بچپن کے دوست سے ملاقات ہوئی تھی ، لہذا محو گفتگو تھے کہ اچانک فضہ کی آواز کانوں میں گونجی : اے حبیب !شہزادی زینب تم کو سلام کہتی ہیں اور تمہارا شکریہ ادا کرتی ہیں کہ مصیبت کے وقت بھی تم نے ہم اہل بیت کو یاد رکھا ۔ جیسے ہی یہ آواز حبیب کے گوش حق شناس سے ٹکرائی ، دل کی دنیا تہہ و بالا ہوگئی ، برجستہ کہا : ہائے اہل بیت پر یہ دن آگیا کہ شہزادی غلام کو سلام کرے اور شکریہ اداکرے ۔

حبیب کا شب عاشور مسکرانا
رجال کشی میں ہے کہ شب عاشور یہی حبیب اپنے خیمے سے مسکراتے ہوئے نکلے ، جب اس مسکراہٹ کو امام کے ایک چاہنے والے'' ہمدانی'' نے دیکھاتو کہا : اے حبیب !ایسے پر آشوب ماحول میں مسکرانا مجھے قطعی اچھا نہیں لگا ، بھیانک رات کی مناسبت سے یہ مسکراہٹ میری سمجھ میں نہیں آئی ۔ حبیب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا : اے ہمدانی !تمہاری نظر میں یہ پر آشوب رات ہوگی میری نظر میں تو حصول جنت کے لئے یہ رات بہت اچھی ہے ، ایسے موقع بار بار نہیں آتے ، اپنی جان کو حسین پر نثار کردو اور جنت حاصل کرلو۔ یہ جملہ حبیب اپنے دہن مبارک سے خارج نہیں کررہے ہیں بلکہ معیار دوستی اور جذبۂ فداکاری کا ثبوت دے رہے ہیں کہ وہی دوست اچھا ہے جو مصیبت میں کام آئے ۔

مقالات کی طرف جائیے