مقالات

 

گوپال پور کی عزاداری

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

اس دنیامیں زندگی گزارنے والا ہر شیعہ اپنی جان سے زیادہ امام حسین ؑ کی عزاداری کو اہمیت دیتاہے ، یہ عزاداری ہر شیعہ کی پہچان ہے،ایک شیعہ اپنی جان پر بڑی سے بڑی مصیبت برداشت کرلیتاہے لیکن عزاداری پر ہلکی سی آنچ بھی برداشت نہیں کرپاتا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امام حسین ؑنے صرف انسانیت کے لئے اپنی جان بلکہ اپنا بھرا گھر قربان کردیا ، لہذا جس کے دل میں بھی انسانیت کا جذبہ ہوگا وہ امام حسین ؑاور آپ کی عزاداری کے لئے ضروربے چین ہوگا ۔
اس عزاداری کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ صرف شیعوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ دوسرے مذاہب کے ماننے والے بھی محبت و عقیدت کے ساتھ امام کا غم مناتے ہیں اور عزاداری اور تعزیہ داری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ، منتیں مانتے ہیں اور حاجتیں طلب کرتے ہیں اور امام بھی ان کی منتیں اور حاجتیں پوری کردیتے ہیں؛اسی لئے آج پوری دنیا میں عزاداری کی شکل میں امام حسین ؑکا غم منایاجاتاہے ۔شہر ہو یا دیہات ہر جگہ اور ہر طرف اس عزاداری کی گونج محسوس کی جاسکتی ہے ، اس سے نہ کوئی شہر الگ ہے اور نہ کوئی دیہات بلکہ چھوٹے سے چھوٹے دیہات میں بھی امام حسین اور آپ کی عزاداری موجود ہے ۔ ''گوپال پور'' بھی ان جگہوں میں سے ایک ہے جہاں امام کی عزاداری بڑے زور و شور سے منائی جاتی ہے ۔
گوپال پور صوبۂ بہار کے سیوان ضلع کی ایک چھوٹی مگر مشہور بستی ہے ، اس چھوٹی سی بستی میں کچھ شخصیتیں ایسی پیدا ہوئی جنہوں نے اپنے علمی ، ادبی ،مذہبی ، سیاسی اور سماجی کارناموں سے اس بستی کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا ۔یہ بستی ہمیشہ سے علم و ادب کا مرکز رہی ہے ،ایک سے ایک شخصیتوں نے اپنے علم و ادب کی جلوہ سامانیاں بکھیری ہیں ، فقہ و اصول ، حدیث و تفسیر ، عرفان و فلسفہ ، شعر و ادب تقریباً ہر فن میں قیمتی کتابیں اور رسالے دیکھے جاسکتے ہیں ۔ان بزرگوں نے عزاداری کے سلسلے میں بھی خاص اہتمام کیاہے اور اس طرح عزاداری کا پروگرام مرتب کیاہے کہ یہاں کی عزاداری قرب و جوار کے علاقوں کے لئے قابل رشک بن گئی ہے ۔
عام طور سے دنیا کے ہر عزادار کا طریقہ یہ ہے کہ وہ جہاں بھی ہوتاہے کوشش کرتاہے کہ کسی طرح اپنے وطن پہونچ جائے ، اس لئے کہ اپنے وطن کی عزاداری کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے ۔ گوپال پورکے اکثر لوگ کام کاج یا دوسری وجہوں سے وطن سے دور رہتے ہیں ، اسی لئے عام دنوں میں یہاں کی آبادی نصف ہوجاتی ہے لیکن جیسے ہی محرم کے ایام قریب آتے ہیں سبھی اپنے وطن آنے کی کوشش کرتے ہیں ، لوگوں کی آمد کا سلسلہ محرم کے دو تین دن پہلے سے شروع ہوجاتاہے اور تین یا چار محرم تک جاری رہتاہے ، زیادہ سے زیادہ چار محرم تک ہر شخص گوپال پور پہونچ جاتاہے ، وطن آنے کی حساسیت کا عالم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مجبوری کی وجہ سے نہیں آپاتا تو سال بھر افسوس کرتاہے ۔

استقبال ماہ عزا :
عام طور سے اکثر جگہوں پر چاند رات سے مجالس کا سلسلہ شروع ہوتاہے لیکن گوپال پور میں مجالس کا سلسلہ ٢٦ ذی الحجہ سے شروع ہوجاتاہےجسے استقبال ماہ عزا کہاجاتاہے ، استقبال عزا کی مجلسیں مولانا سید رسول احمد صاحب قبلہ مرحوم کے دولت کدے پر منعقد ہوتی ہیں ، یہ مجلسیں عام طور سے نماز مغربین کے فوراًبعد منعقد ہوتی ہیں اور بستی میں موجود سبھی لوگ ان مجلسوں میں شرکت کرکے محرم کے لئے اپنی آمادگی کا اظہار کرتے ہیں۔

چاند رات کی مجالس :
محرم کی مجلسوں کا سلسلہ باقاعدہ طور پر چاند رات سے شروع ہوجاتاہے ،یہ مجلسیں تینوں بڑے امامباڑوں میں منعقد ہوتی ہیں ، جن کا سلسلہ نماز مغربین کے فوراً بعد سے شروع ہوکر تقریباًرات کے گیارہ یا بارہ بجے تک چلتاہے ،یہی مجلسیں رات میں محرم کے دس دنوں تک منعقد ہوتی ہیں ، رات میں یہی تین مجلسیں ہوتی ہیں ان کے علاوہ کوئی مجلس نہیں ہوتی، ہرمجلس بہت اہم ہوتی ہے ۔

محرم کی مجالس :
پہلی محرم سے سلسلہ وار مجلسیں شروع ہوجاتی ہیں ، سب سے پہلی مجلس صبح سات بجے ہوتی ہے ، پھر ہر ڈیڑھ گھنٹے کے فاصلہ سے پوری بستی میں مجلسیں ہوتی ہیں جس کا سلسلہ نماز ظہرین تک چلتاہے ، پھر نماز ظہرین با جماعت ہوتی ہے اس کے بعد لوگ اپنے اپنے گھرچلے جاتے ہیں ۔ کھانے وغیرہ سے فراغت کے بعد مجالس کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوتاہے اور نمازمغربین تک چلتاہے ۔ مجموعی طور پر پورے دن ٩ مجلسیں ہوتی ہیں اور رات میں تین مجلسیں تینوں بڑے امامباڑوں میں منعقد ہوتی ہیں۔یہ عام دنوں کی بات ہے ورنہ تاریخ کے اعتبار سے دو دو تین تین مجلسوں کا اضافہ ہوتا رہتاہے ۔

سات محرم کا تاریخی دن :
گوپال پور کا سات محرم بہت مشہور ہے ، یہ تاریخ حضرت ابو الفضل العباس سے منسوب ہے ، صبح سے عزاداری کی رونق قابل دید ہوتی ہے ، بچے بوڑھے سبھی ننگے پیر ہوجاتے ہیں گرمی ہو یا سردی اس معمول میں تبدیلی نہیں آتی ، اس تاریخ میں دو تین مجلسیں روزانہ کی مجلسوں میں اضافہ ہوجاتی ہیں جس کی وجہ سے مجلسوں کا وقت بھی محدود ہوجاتاہے ۔
اس تاریخ کی شہرت کے دو اسباب ہیں : شبیہ تابوت اور علم مبارک ۔اس تاریخ میں حضرت عباس علمدار کا شبیہ تابوت برآمد ہوتاہے ۔ پورے ہند و پاک کا سرسری جائزہ لیاجائے تو معلوم ہوگا کہ مولا عباس کا شبیہ تابوت بہت کم جگہ برآمد ہوتاہے ، اسی انفرادیت کی وجہ سے قرب و جوار کے لوگ بھی اس دن گوپال پور آتے ہیں اور مجلسوں میں شریک ہوکر حضرت زہراء کو ان کے لال کا پرسہ دیتے ہیں ۔
شبیہ تابوت :
شبیہ تابوت دو عزاخانوں سے بر آمد ہوتاہے : عزیز صاحب مرحوم کے عزاخانے سے اور خلوت سے؛ دونوں مجلسوں میں تل رکھنے کی جگہ نہیں ہوتی ہے ،فضائل و مصائب دونوں کا انداز عام دنوں سے مختلف ہوتاہے ، جس طرح فضائل میں دل کھول کر داد دی جاتی ہے اسی طرح مصائب میں بھی دل کھول کر گریہ کیاجاتاہے ،تابوت نظر آتے ہی لوگ مصائب کے دوران ہی کھڑے ہوکر بلند آواز سے روتے ہوئے اس کا استقبال کرتے ہیں، ہر عزادار تابوت کو بوسہ لینا چاہتاہے اسی لئے صحن سے عزاخانے تک تابوت آنے میں تاخیر ہوتی ہے ؛ عزاخانے تک تابوت آتے آتے ٢٠ یا ٢٥ منٹ صرف ہوتے ہیں ، اس دوران گریہ و زاری میں ذرا بھی کمی واقع نہیں ہوتی ہے ۔ تابوت کی زیارت کے بعد ماتم کا سلسلہ شروع ہوتاہے اور تابوت زنان خانے میں چلا جاتاہے ، جہاں عورتیں معصومۂ کونین کو ان کے لال کا پرسہ دیتی ہیں۔ماتم کے دوران ہی مخصوص دلسوزنوحہ ''پانی چچا عباس نہ لائے'' شروع ہوتا ہے۔نوحہ کے بول ، گریہ کی آواز اور ماتم کی صدائیں ایسا سماں باندھتی ہیں جسے لفظوں میں بیان نہیں کیاجاسکتا۔ نوحہ کے اختتام پر ماتم کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوجاتاہے ، بعد کی مجلسوں کے محدود وقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ماتم کو روکنے کے لئے درمیان میں بلند آواز سے زیارت پڑھائی جاتی ہے تب کہیں جاکر جوانوں کا جوش و ولولہ کم ہوتاہے ۔
وہاں سے لوگ خلوت تشریف لے جاتے ہیں جہاں مجلس کے بعد شبیہ تابوت برآمد ہوتاہے اور اسی جوش و ولولہ کے ساتھ لوگ گریہ کرتے ہیں ، نوحہ پڑھتے ہیں اور ماتم کرتے ہیں ۔
جلوس علم مبارک :
اس تاریخ کی شہرت کی ایک وجہ علم مبارک کا جلوس ہے ، ہزاروں کی تعداد میں علم مبارک بر آمد ہوتے ہیں اور بڑے کربلا کی طرف روانہ ہوتے ہیں ،نماز ظہرین کے بعد یہ جلوس نکلتاہے ؛ سب سے پہلے مخصوس مرثیہ پڑھتے ہوئے بستی کے اطراف میں گشت کرتاہے :'' جب کٹ گئے دریا پہ علمدار کے بازو ''۔جب تمام محلوں کے علم ایک جگہ جمع ہو جاتے ہیں تو نوحہ پڑھتے ہوئے کربلا کی طرف روانہ ہوتے ہیں، نماز مغربین کے بعد تک یہ جلوس جاری رہتاہے ، جلوس کے دوران مختلف نوحے پڑھے جاتے ہیں اور دل کھول کر ماتم کرتے ہوئے کربلا کے نزدیک مخصوص جگہ پر آخری رسومات ادا کی جاتی ہیں ۔ وہاں کا منظر بھی بڑا دل پذیر ہوتاہے ، ایک بڑے میدان میں سبھی گھیراو کرکے علم لئے کھڑے رہتے ہیں اور الوداعی نوحے پر گریہ کرتے ہوئے اپنے مولا کو پرسہ دیتے ہیں ۔اس کے بعد چائے پلائی جاتی ہے پھر اس کے بعد لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس ہوتے ہیں ۔ یہ یاد رہے کہ بستی سے کربلائے معلی کا فاصلہ ایک کیلو میٹر یا اس سے تھوڑا زیادہ ہے ۔

دس محرم الحرام :
دس محرم اپنی ہیئت اور نوعیت کے اعتبار سے بہت منفرد ہے ، یہ دنیا کے ہر عزادار کے لئے غم و اندوہ کا دن ہے ، ہر دن سے زیادہ اس دن عزاداری کا خصوصی اہتمام کیاجاتاہے ؛ گوپال پور میں بھی یہ دن بڑے اہتمام کے ساتھ منایاجاتاہے ،شب عاشور کی شب بیداری اور عزاداری کے باوجود صبح سے ہی نذر ونیاز کا سلسلہ شروع ہوجاتاہے ، چاروں بڑے امامباڑوں کے چوک پر نماز صبح سے پہلے ہی تعزیہ رکھ دیاجاتاہے ، یہ تعزیے مخصوص نوعیت کے بنائے جاتے ہیں جن پر سال بھر کام ہوتاہے ، بڑے خوبصورت اور دیدہ زیب ہوتے ہیں ، کافی بڑے اور بھاری بھی ہوتے ہیں جنہیں اٹھانے کے لئے پچاس ساٹھ لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔تعزیہ رکھنے کے بعد شیعوں کے علاوہ اہل سنت حضرات بلکہ ہندوبھی نذر دلواتے ہیں اور پھول چڑھاتے ہیں ۔
دس محرم کو تعزیوں کی تعداد بھی حیرت انگیز طور پر بڑھ جاتی ہے ، صرف شیعہ ہی نہیں بلکہ بہت سے اہل سنت حضرات بھی قرب و جوار کے علاقوں میں چھوٹے بڑے تعزیے بناتے ہیں بلکہ بعض تعزیے تو ہندو بناکر لاتے ہیں اور امام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔جب آس پاس کے تمام علاقوں سے تعزیے جمع ہوجاتے ہیں تو نماز ظہرین سے پہلے '' آج شبیر پہ کیا عالم تنہائی ہے '' پڑھتے ہوئے تعزیہ اٹھایاجاتاہے ۔یہ بات حیرت انگیز ہے کہ قدیم سے یہ روایت چلی آرہی ہے کہ شیعوں کے تعزیے بھی اہل سنت حضرات اٹھاتے ہیں ، شیعہ بھی ہوتے ہیں لیکن زیادہ تر اٹھانے والے اہل سنت ہوتے ہیں اور یہ لوگ بڑی عقیدت و محبت کے ساتھ یہ تعزیہ اٹھاتے ہیں ، حتی اگر عام دنوں میں کسی وجہ سے اختلاف بھی ہوجاتاہے تب بھی وہ اختلاف بھلا کر تعزیہ اٹھانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔اہل سنت حضرات کا عقیدہ ہے کہ ان تعزیوں پر مانی گئیں منتیں بہت جلد پوری ہوتی ہیں ، بہت سے بے اولاد صاحب اولاد ہوتے ہوئے نظر آئے ہیں ، اسی لئے ان کا عقیدہ بہت محکم ہے ۔
مرثیہ پڑھتے ہوئے تمام امامباڑوں کے تعزیوں کو مخصوص جگہ پر اکٹھا کیاجاتاہے پھر وہاں سے باری باری تمام انجمنیں نوحہ پڑھتے ہوئے کربلا جاتی ہیں ، جب تعزیے کربلا پہونچ جاتے ہیں تو وہاں الوداعی نوحہ پڑھا جاتاہے اور اس وقت تک نوحہ و ماتم ہوتا رہتا ہے جب تک تعزیہ کے تمام سہرے اور پھول مدفون نہیں ہوجاتے ۔
آخری رسومات کے بعد فاقہ شکنی ہوتی ہے ، فاقہ شکنی کے لئے مخصوص کھچڑا بنایا جاتاہے ، بڑے بڑے دیگوں میں کھچڑا کربلا پہونچایاجاتاہے جسے بلاتفریق مذہب و ملت ،تمام لوگوں میں تقسیم کیاجاتاہے ، تقسیم کے وقت کافی افراتفری ہوتی ہے ، لوگ ایک دوسرے پر ٹوٹ کر کھچڑا حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اگر چہ فاقہ شکنی کا یہ تبرک مہذب انداز میں سلیقہ سے بھی تقسیم کیاجاسکتا ہے لیکن تقسیم کے وقت یہ افراتفری ابھی تک چلی آرہی ہے ، اس کی وجہ شاید تبرک کی اہمیت اور جذابیت ہو ۔

مجالس شام غریباں :
کربلا سے لوگ گھر واپس آتے ہیں اور ہاتھ پیر دھو کر فوراًہی مغربی امامبارگاہ چلے جاتے ہیں ؛ زیادہ تر لوگ واپس آتے ہی گھر نہ جاکر امامباڑے میں جاتے ہیں جہاں مجلس شام غریباں ہوتی ہے ، غالباًنماز کے فوراًبعد یہ مجلس شروع ہوجاتی ہے ، اس مجلس میں صرف مصائب شام غریباں پڑھا جاتاہے ، مجلس میں بڑی رقت ہوتی ہے ، لوگ دل کھول کر گریہ و زاری کرتے ہیں ، ذاکر کے اترتے ہی'' یاحسین ''کی بلند بانگ صدائوں کے ساتھ ماتم شروع ہوتاہے ، تھوڑی دیر ماتم کرنے کے بعد شام غریباں کی مناسبت سے ایک نوحہ پڑھا جاتاہے اور نوحہ کے بعد ماتم کا طویل سلسلہ شروع ہوجاتاہے ، تقریباً ٣٠ یا ٤٥ منٹ ماتم کرنے کے بعد درمیان ماتم زیارت پڑھائی جاتی ہے تب کہیں جاکر جوانوں کا جوش و ولولہ کم ہوتاہے ، اختتام پر چائے تقسیم کی جاتی ہے۔چونکہ شام غریباں کا وقت بہت کم ہوتاہے اس لئے مغربی امامبارگاہ کے ماتم کے دوران ہی مشرقی امامبارگاہ میں مجلس شروع ہوجاتی ہے اسی لئے لوگ چائے لے کر فورا مشرقی امامبارہ تشریف لے جاتے ہیں جہاں عام طور سے مجلس شروع ہوچکی ہوتی ہے ، مصائب میں گریہ و زاری کے بعد ماتم ہوتاہے اور جناب شیدا گوپال پوری اپنی مخصوص آواز میں نوحہ پڑھتے ہیں ، نوحہ کے بعد پھر ماتم کا طویل سلسلہ شروع ہوجاتاہے ۔
شام غریباں کی ایک مخصوص مجلس حسینی امامبارگاہ میں بھی ہوتی ہے ، جہاں عام طور سے جوان طبقہ شرکت کرتاہے اور کافی دیر تک گریہ و زاری اور ماتم میں مصروف رہتاہے ، یہاں مجلس کے اختتام پر دودھ کا مخصوص شربت تقسیم کیا جاتاہے ۔

اٹھارہ بنی ہاشم کا تابوت :
گوپال پور بستی کا ایک مخصوص پروگرام اٹھارہ بنی ہاشم کے تابوت ہیں جو 12محرم الحرام کو اٹھائے جاتے ہیں ، اس پروگرام کی مدت حیات گر چہ بہت مختصر ہے لیکن اس نے اپنی مختصر سی زندگی میں بھی کافی شہرت حاصل کی ہے ، قرب و جوار کے علاوہ دور دراز علاقے سے بھی لوگ تشریف لاتے ہیں اور اس پروگرام میں شرکت کرکے ثواب دارین حاصل کرتے ہیں ۔
چہلم امام حسین ؑ:
چہلم امام حسین کی مناسبت سے بھی گوپال پور کی عزاداری خاص اہمیت کی حامل ہے ، قرب و جوار میں اس عزاداری کی شہرت کی وجہ تابوت و جھولے کی شبیہ کے علاوہ "آگ پر ماتم "ہے ، مغربی امامبارگاہ کے قریب موجود چوک کے پاس اس آگ کو روشن کیاجاتاہے۔ تقریبا مغربین کے فوراً بعدنذر و نیاز کے ذریعہ آگ روشن کرنے کا کام شروع ہوجاتاہے جس کا سلسلہ رات کے 11،12 بجے تک چلتا رہتاہے ،پھر اسی دوران تینوں امامبارگاہوں میں مجلسیں ہوتی رہتی ہیں ، آخری مجلس مغربی امامبارگاہ میں ہوتی ہے ، جس کے بعد ایک مخصوص نوحہ ہوتاہے اور پھر اسی کے بعد جوانان بنی ہاشم کے شیدائی علم کے سایہ میں آگ پر ماتم کرتے ہیں ، اس وقت ان کے لبوں میں صرف یہی شعر ہوتاہے :
ہم آگ کے شعلوں کو جب روند کے جائیں گے محشر میں صلہ اس کا شبیر سے پائیں گے
تقریباًایک گھنٹہ تک آگ پر ماتم کیاجاتاہے ، جس کی زیارت کے لئے دور دراز علاقوں سے بھی لوگ آتے ہیں ، شیعوں کے علاوہ اہل سنت اور ہندئوں کا بھی ہجوم ہوتاہے ۔
آخر میں 28رجب کی عزاداری کا تذکرہ بھی ضروری ہے ، یہ بھی اپنے مخصوص انداز میں منایاجاتاہے ، مغربی امامباگاہ کی پشت سے ذوالجناح اور عماریاں برآمد ہوتی ہیں ، ذوالجناح نکلنے کا منظر بڑا پردرد اور دلسوز ہوتاہے ، مخصوص انداز میں تقریر ہوتی ہے جس کے بعد ذوالجناح برآمد ہوتاہے ، لوگ زیارت کے لئے ٹوٹے پڑتے ہیں ۔چونکہ 28/رجب کا یہ مخصوص پروگرام آس پاس علاقوں میں نہیں ہوتاہے اسی لئے قرب و جوار کے تمام لوگ اس پروگرام میں شرکت کے لئے تشریف لاتے ہیں ۔
یہ جلوس پوری بستی میں گشت کرتاہے ، درمیان میں تقریریں بھی ہوتی ہیں اورپھر مخصوص راہ و منزل سے ہوتاہوا چھوٹی کربلا جو جمعہ مسجد کی پشت پر واقع ہے وہاں لاکر مدفون کردیاجاتاہے ۔
یہ تھا گوپال پور کی عزاداری کا مختصر خاکہ ؛ ظاہر ہے اس مختصر سی تحریر میں ساری باتیں قلمبند نہیں کی جاسکتیں ، اس مختصر سے خاکے کی تفصیل کے لئے ایک کتاب درکار ہے جس کا سر دست امکان نہیں ہے ۔آخر میں حضرت شعور گوپال پوری مرحوم کے ایک قطعہ پر اپنی بات ختم کی جارہی ہے :
جذب دل کی آس ہے اور کچھ نہیں
نغمہ احساس ہے اور کچھ نہیں
شہ کے غم میں آنسوئوں کا سلسلہ
اک بھڑکتی پیاس ہے اور کچھ نہیں

مقالات کی طرف جائیے