مقالات

 

غدیر ؛ہماری پہچان ہے

رئیس الواعظین مولاناسید کرار حسین واعظ

''واقعہ غدیر ''تاریخ اسلام کا وہ واحد واقعہ ہے جس کی حقیقت و واقعیت اور عظمت و اہمیت کا پورا پورا ثبوت تاریخ ، حدیث اور تفسیر کے علاوہ قرآن حکیم سے بھی فراہم ہوتاہے ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ واقعہ کے فوراًبعد سے آج تک مسلسل چودہ سوسال تک مسلمانوں کی اکثریت جس کو جھٹلانے ، مٹانے اور دبانے کی کوشش کرتی رہی ہے ، واقعہ کے خد و خال کو بگاڑنے اور تاویلات کے دبیزپردے ڈالنے کی کوشش میں عوام و خواص ، سلاطین و رعایا ، مدرسین و طلباء ، علماء و فقہاء ، خطباء و شعراء ، مفسرین و محدثین ، متکلمین و مورخین ... سب کی اجتماعی کوششیں صدیوں سے جاری ہیں ،لیکن غدیر کے دن دوپہر کا یہ اعلان خلافت بلافصل مولانا علی بن ابی طالب علیہ السلام اتنے بڑے مجمع میں اس انداز سے کیاگیا تھا کہ اعلان کے بعد خلافت غدیری کی خبر دیکھتے دیکھتے تمام بلاد اسلامیہ اور دیار عربستان میں لوگوں تک پہونچ گئی ، منکرین اعلان غدیر کے جھٹلانے کی سعی ناکام اور منصوبۂ کذب و افتراء سے پہلے پہلے واقعہ غدیر نے شہرت پالی ، خود ان لوگوں نے بھی اس واقعہ کو بیان کیا جنہوں نے بعد میں جھٹلانے ، دبانے اور مٹانے کی کوشش کی۔
جنگل کی آگ بھی شاید اتنی تیزی سے نہ پھیلتی ہوگی جس تیزی سے واقعہ غدیر اور اعلان خلافت علی بن ابی طالب علیہ السلام بستی بستی تک پھیلا اور لوگوں تک پہونچا ...اللہ اور رسول اللہ نے اس واقعہ پر اتنا اصرار کیا اور اسے حیرت انگیز طور پر دنیا کے سامنے پیش فرمایا کہ حاضرین بزم غدیر صحابہ و حجاج کو بیان کئے بغیر نہ چین مل سکتا تھا نہ سکون میسر آسکتا تھا ، ان کے دماغوں میں آندھیاں چل رہی تھیں اور پیٹ میں شدید اینٹھن ہورہی تھی ۔ اس اعلان غدیر کے سلسلہ میں جس مجمع پر حیرتوں کا پہاڑ ٹوٹا ہو اور تین دن سے زیادہ مدت تک جو مجمع غرق دریائے استعجاب رہاہو ، بھلا وہ خاموش کیسے رہ سکتاتھا ...؟
واقعہ غدیر کو چھپانے ، مٹانے اور دبانے کی سازش تو بعد میں کی گئی... اس کے خلاف منصوبۂ کذب و افتراء پہلے بنایا گیا ...مگریہ بھی حسن اتفاق ہے کہ واقعہ غدیر اس سازش اور منصوبہ سے پہلے پہلے شہرت پاچکا اور بستی بستی پھیل چکا تھا ، نبوت کی کمان سے نکلاہوا اعلان خلافت کا تیر دل و دماغ اور فکر و نظر میں پیوست ہوچکا تھا لہذا اس کی واپسی کا تو کوئی ادنیٰ امکان بھی نہیں تھا ، تمام ہنگامہ آرائیوں اور شو رپکار کے باوجود اعلان غدیر ''جریدۂ عالم '' پر حکم خدا اور اعلان مرسل اعظم کی شکل میں ثبت ہوگیا ۔ اعلان غدیر کی صداقت و حقیقت مستقل ، دائمی اور ابدی بن گئی۔چنانچہ تمام کوششوں کے باوجود واقعہ غدیر اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ تفسیر و حدیث اور تاریخ کی کتابوں میں ایک روشن حقیقت کے عنوان سے آج بھی موجود اور باقی ہے ،جس پر سرد و گرم زمانہ کا کوئی اثر نہ ہوا ، اعلان غدیر کی صداقت کو نہ تو گزرتی صدیوں نے بوسیدہ کیا ،نہ اس کی حقیقت پر منکرین غدیر خاک ڈال سکے ۔ اللہ اور رسول اللہ کی طرف سے اعلان خلافت بلافصل امیر المومنین حضرت علی کے لئے ایسا عجیب و غریب ، حیرت انگیز اور تعجب خیز اہتمام و انتظام کیاگیا تھا جس کی وجہ سے نہ وہ چھپائے چھپ سکتاتھا اور نہ مٹائے مٹ سکتا تھا۔
اعلان غدیر اپنی تمام تر سچائیوں ، تفصیلات کی رعنائیوں اور حقائق کی برنائیوں کے ساتھ موجود ہے ، یہ کوئی کارنامہ نہیں بلکہ ایک تاریخی معجزہ ہے ...اور اس حقیقت سے پورا عالم اسلام آگاہ ہے کہ یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ جو معجزہ دیکھے ، وہ اس کا اقرار واعتراف بھی کرے ۔اگر ایسا ہواہوتا تو معجزۂ شق القمر اور رجعت شمس کو دیکھ کر پورا جزیرہ نمائے عرب نہ سہی پورا مکہ تو حقیقت نبوت کا اعتراف کرکے اسلام کا کلمہ پڑھ ہی لیتا مگر ایسا نہیں ہوا ، پیہم معجزات کو دیکھنے کے باوجود مکہ کی اکثریت کافر ہی رہی ، اس لئے اگر معجزۂ اعلان غدیر کو اسلام کی اکثریت تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے تو تعجب کی کوئی بات نہیں ہے۔
اگر خلافت بلافصل علی بن ابی طالب کے تسلیم کرنے سے دوسری موذی خلافتوں کا ترک لازمی نہ ہوتا، اگر اعلان غدیر کے ماننے سے کچھ مانی ہوئی چیزوں کا انکار ضروری نہ ہوتا ، اگر خداو رسول ۖکی طرف سے بیان کی ہوئی سچائیوں کے قبول کرنے میں تاریخی جھوٹوں کے چھوڑنے کی شرط نہ ہوتی تو اس بات کی توقع کی جاسکتی تھی کہ اعلان غدیر کو لوگ فکر کی روشنی اور سمجھ کے اجالے میں دیکھ کر قبول کرلیںگے ۔ قبولیت اعلان غدیر کے سلسلے میں دنیا کے سامنے سنگین دشواریاں اور شدید مزاحمتی طاقتیں وہی ہیں جو کبھی عربی سرداروں ، قبائلی شیوخ اور صنادید قریش کے سامنے تھیں ، وہ لوگ عقل و فکر سے معذور یا دیوانے نہیں تھے ، وہ سب آنحضرت ؐکی پاکیزہ سیرت اور بے داغ کردار کو دیکھ رہے تھے ، وہ آنحضرت کی زبان فیض ترجمان سے قرآن حکیم کو سن رہے تھے مگر نہ آنحضرت کو نبی مان سکتے تھے ، نہ اسلام کا کلمہ پڑھ سکتے تھے ۔
اللہ کو ماننے میں نہ کوئی دشواری تھی نہ قباحت ، مصیبت پیدا کردی تھی ''لاالہ '' کی قید نے ، وہ لوگ سوچتے تھے: اس حقیقت '' الا اللہ ''کے ماننے کا مطلب ہے اپنی قدیم مشرکانہ تاریخی تہذیب و رسوم اور عقائد و اعمال کے ترک کے ساتھ ساتھ اپنے پیش رو بزرگوں اور آباء و اجداد کی تحمیق کرنا ۔ بالکل یہی مصیبت حقیقت غدیر کو نہ تسلیم کرنے والوں کے سامنے ہے ۔
حضرت علی کی خلافت کے تسلیم کرنے اور اعلان غدیر کے مان لینے میں کسی کے سامنے کوئی زحمت نہیں ہے ، ان کی محبت کا اقرار بھی نہایت آسان ہے ، مگر ''بلافصل '' کی قید یقینا ناقابل برداشت مصیبت ہے ۔ اس کے تسلیم کرنے کا مطلب ہے چودہ سوسالہ تاریخی تہذیب و تمدن اور عقائد و اعمال کو کالعدم قرار دینا ، اپنے پیشرو بزرگوں اور آباء و اجداد کو جادۂ حقیقت و صداقت سے ہٹا ہواماننا ....اور یہ بڑے جگرے کی بات ہے۔
اگر یہ سودا آخرت کا نہ ہوتا اور رضائے خدا و خوشنودیٔ رسول خداؐکے حصول کا مسئلہ نہ ہوتا تو سچی بات یہ ہے کہ کل صنادید قریش کے انکار میں جو وزن تھا وہی وزن حقیقت غدیر کے نہ تسلیم کرنے والوں کی بات میں بھی ہے ۔لیکن جویائے حقیقت ہر طرح کی قربانی دے کر رضائے خدا اور خوشنودیٔ رسول خداؐکو حاصل کرتاہے ،آخر اس دور میں بھی وہ جماعت تیار ہوہی گئی تھی جو صنادید قریش کے نظریات کو نہ صرف ناپسند کرتی تھی بلکہ ان کے نظریات سے اسلامی معاشرہ کی اس اولین جماعت کو شدید نفرت و بیزاری پیدا ہوگئی تھی ۔ اگر باطل نظریات ، خیالات اور معتقدات سے اسلامی معاشرے کی اس اولین جماعت نے انکار کرکے اسلامی حقائق و معارف کو قبول کرکے اپنی جرأت و ہمت کا دائمی نقش سینۂ تاریخ پر چھوڑ اہے اور اپنی بے مثال قربانیوں کے ذریعہ ہمارے دلوں میں اپنی محبت کے لئے جگہ پیدا کرلی تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ آج ہم تاریخ کے باطل نظریات و خیالات اور اس کے افواہی حکایات و معتقدات سے چپکے رہیں ۔ تفکر و تعقل کی وہ نعمت جو مبداء فیاض نے ہمیں مرحمت فرائی ہے اس کے سہارے ہم بھی اسلامی حقائق و معارف کو تلاش کرسکتے ہیں ، سچائیوں کو ڈھونڈھ سکتے ہیں ، حقیقتوں کو گلے لگا سکتے ہیں۔ اسی جذبۂ حق پسندی کے تحت واقعۂ غدیر کو قرآن ، تفسیر ، حدیث اور تاریخ کی روشنی میں دیکھنا چاہئے ۔
علمائے اسلام شاہد اور ان کی کتابیں اس امر کی گواہ ہیں کہ اعلان غدیر کے بعد آیۂ( اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ )نازل ہوئی ، یعنی اعلان خلافت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہما السلام کے بعد دین اسلام پایۂ تکمیل کو پہونچا ، اللہ کی نعمت تمام ہوئی اوراللہ نے اسلام کو دین کے عنوان سے پسند فرمایا۔ اس پیغام الٰہی کو سننے کے بعد آنحضرت ؐنے کلمات شکر ادا فرمائے ، صحابہ کرام اور تمام امہات المومنین نے حضرت علی کو حکم پیغمبر سے تہنیت اور مباکبادیں پیش کیں ، حسان نے قصیدہ خوانی کی اور آنحضرت نے جملہ حاضرین بزم غدیر کو حکم دیا کہ میری زندگی کے اس اہم ترین اعلان غدیر کو تم لوگ ان لوگوں تک پہونچائو جو اس وقت یہاں موجود نہیں ہیں۔
اعلان غدیر ہمارا سرمایۂ دین و ایمان ہے ، اعلان غدیر ہماری پہچان ہے ، دنیا و دین میں ولایت و خلافت بلافصل امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہما السلام ہماری اور ہمارے مذہب کی شناخت اور علامت ہے ، ہم سے زیادہ اس موضوع پر بولنے اور لکھنے کا حق کس کو ہے ...؟
(ماخوذ از : کتاب علی ولی اللہ مطبوعہ ١٤١٠ھ)

مقالات کی طرف جائیے