مقالات

 

محرم الحرام کے موقع پر خطباء و ذاکرین کو آیۃ اللہ سیستانی مد ظلہ کی کچھ نصیحتیں

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری


محرم الحرام کا مہینہ آنے والا ہے ، اس مہینے کی آمد ایک عظیم انقلاب کی یاد دلاتی ہے ، ایسا انقلاب جو ایک ذات کے ذریعہ دنیا کی اصلاح ,انسانی معاشرے کی ترقی , ملت کے ارادوں کی بیداری اور ان کے حالات کی بہبودی کے لئے وقوع پذیر ہوا۔ ہاں !یہ نہضت اوربا برکت قیام کویٔی اور نہیں بلکہ قیام حسینی ہے۔
اس آفاقی قیام کی یاد ہم عزاداروں اور امام حسین ؑکے چاہنے والوں پر بہت بڑی ذمہ داری قرار دیتی ہے اور وہ ذمہ داری اس قیام کا تحفظ اور اس کے آثار اور نتایج کو لوگوں کے دلوں تک پہونچانا اور اس کی تبلیغ و اشاعت ہے ۔
یہاں ٹھہر کر ایک سوال کرنا چاہتا ہوں کیا ہم زمانے کے تحول و تغیر اور حالات و شرائط کے اعتبار سے حسینی پیغامات کی نشر و اشاعت کررہے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں حسینی آثار کو پہونچا رہے ہیں ؟یہ سب کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔
اس تبلیغی مہم میں سب سے اہم رول خطباء اور ذاکرین کا ہوتاہے ، منبر حسین ؑان کے اختیار میں ہوتاہے اس لئے ان کے اوپر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔
اسی لئے درج ذیل سطور میں خطباء و ذاکرین کے لئے بعنوان نصیحت بعض مطالب بیان کئے جارہے ہیں :

۱۔ مختلف مطالب بیان کئے جائیں ؛اس لئے کہ معاشرے میں روحانی ، تربیتی اور تاریخی موضوعات کو بیان کرنے کی ضرورت ہے ، اس کے لئے ضروری ہے کہ خطیب اپنی تقریر میں مختلف مطالب بیان کرے تاکہ نیچے بیٹھے ہوئے سامعین اس تقریر کے تناظر میں اپنی ضرورتیں پوری کرسکیں ۔

۲۔خطیب کو چاہئے کہ وہ اپنے زمانے کے تہذیبی (اجتماعی اورمبتلاء بہ ) امور سے آگاہ ہو جیسے اعتقادی شبہات جو ہرسال سامنے آتے ہیں،ان کے تناسب سے تحقیق و تفحص کرے نیز معاشرے کے مختلف طرز تفکر پر بھی نظر رکھے تاکہ اسی اعتبار سے اپنی تقریر کو منظم کرے اور سامعین کے افکار کی تصحیح و تقویت ہوسکے ۔

۳۔ قرآن کریم کی آیات سے استفادہ کرے اور احادیث وواقعات کو معتبرکتابوں سے نقل کرنے کی کوشش کرے کیونکہ احادیث وواقعات کے مصادر میں دقت نہ کرنے سے منبر حسینی کی عظمت و اہمیت سننے والوں کی نظر میں ختم ہوجائے گی ۔

۴۔ مجلسوں میں خیالی اور مصنوعی واقعات سے مدد لینے سے پرہیز کرے، کیونکہ یہ کام امام حسینؑ کی کسر شان کا موجب ہوتاہے اور منبر کو تبلیغ کے دوسرے وسائل کی طرح بے اہمیت قرار دیتا ہے جو سننے والوں کی فکری اور تہذیبی سطح کے مناسب نہیں ہے۔

۵۔ مطالب ایک اچھی کیفیت کے ساتھ تیار کیاجائے، خطیب کو چاہئے کہ جن مطالب کو بیان کر رہا ہے ان کی جانب پوری طرح متوجہ رہے اس طرح سے کہ موضوع کی ترتیب اوراس کے نظم کی رعایت کرے ، آسان اور واضح طریقے سے بیان کرے اور ایسی عبارات اور روش سے استفادہ کرے کہ سننے والوں کے لئے اور ان افراد کے لئے جو اس کی مجلسوں پر نظر رکھتے ہیں، جذابیت کا حامل ہو ۔کیونکہ خطیب کا مجلس کو بہتر روش پر تیار کرنا اور موضوعات کے مرتب کرنے اور اچھے انداز میں بیان کرنے کی کوشش کرنااس بات کا موجب ہوتاہے کہ مجلس سید الشہداء (علیہ السلام ) کے سامعین پڑھنے والے کا سننے میں بھرپور ساتھ دیتے ہیں ۔

۶۔اہل بیت علیہم السلام کی تمام میراث گران بہا اورقابل قدر ہیں لیکن خطیب کی مہارت اور اس کا ہنر اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب ایسی احادیث کا انتخاب کرے جو تمام قوموں کے لئے فکری اور اجتماعی اختلاف کے باوجود کشش رکھتی ہو ۔ چنانچہ معصوم سے مروی ہے کہ "إنّ الناسَ لو علِمُوا محاسِنَ کلامِنا لاتّبعُونا"اگر لوگ ہمارے کلام کے حسن کو جانیں تو ہماری پیروی کریں گے۔ ان کے کلام کا حسن ان کی میراث ہے جس میں انسان کوبا عظمت بنانے والی چیزیں موجود ہیں ۔ اور یہ بات ہر اس شخص کے لئے مفید ہے جو انسان دوست ہوتاہے چاہے وہ کسی بھی مذہب و ملت سے تعلق رکھتاہو۔

۷۔معاشرے میں موجودہ مشکلات کو اس کے مناسب راہ حل کے ساتھ بیان کیا جائے ؛ اس تناظر میں یہ مناسب نہیں کہ خطیب گھروں کے آپسی اختلافات نیزجوان نسلوں کی گذشتہ نسلوں سے دوری اور طلاق وغیرہ جیسی مشکلات کو بیان کرنے پر اکتفا کرے کیونکہ ان مطالب کے بیان کرنے پر اکتفاء کرنا بجائے یہ کہ منبر اس کے لیٔے کارساز ہو ،مزید مشکل ساز بن جاتا ہے۔
اس لئے امام حسین علیہ السلام کے ذاکرین سے یہ توقع ہےکہ وہ ماہر اور تجربہ کار افراد نیز معاشرہ شناسی میں مہارت رکھنے والے افراد سے مشورہ کریں تاکہ معاشرے کی ہر طرح کی مشکلات کو تلاش کیا جاسکے اورپھر اس کا مناسب راہ حل بیان کیاجا سکے۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ معاشرہ شر و فساد سے محفوظ رہے گا اور الٰہی ہدایت و رہبری کی راہ پر گامزن رہے گا ۔

۸۔ سید الشداء (علیہ السلام) کی مجلس کی شان کے خلاف ہے کہ خطیب شیعوں کے فکری اور دینی شعائر کے اختلافات میں پڑے، کیونکہ ایسے اختلافات میں پڑنا سبب بنے گا کہ مجلس کا رخ ایک خاص گروہ کی طرف ہو جایٔے یا معاشرے میں بے نظمی یا مومنین میں اختلاف کا باعث ہو، جب کہ مجلس کا مقصد کلمۂ حق کی سربلندی ہے ، یہی حسینی نور کا رازہے جو سید الشہداء (علیہ السلام) کے چاہنے والوں کے دل کو ایک راستے اور ایک دوسرے کے تعاون پر جمع کرتاہے ۔

۹۔عبادی اعمال اور مبتلا بہ معاملاتی مسائل کو اہمیت دی جائے اور انہیں جذاب اور واضح طریقے سے بیان کیا جائے تاکہ سامعین احساس کریں کہ سید الشہداءعلیہ السلام کی مجلس ان کی واقعی زندگی اور اس کے مختلف حالات و مسائل سے مربوط ہے۔

۱۰۔ دینی مرجعیت، حوزہ علمیہ اور علمائے دینی کا اسلامی معاشرے میں کیا کردار ہے اس کی اہمیت پرتاکید کی جائے کیونکہ یہ امور مذہب شیعہ کی سر بلندی اور سر فرازی کی اصل و اساس ہیں۔

خدا وند متعال کی بارگاہ اقدس میں دعا گو ہیں کہ سب کو سید الشہداء (علیہ السلام )کی راہ میں خدمت کرنے کی توفیق دے اور دنیا و آخرت میں امام حسین ؑکے واسطہ سے عزت و آبرو نصیب کرے ۔آمین
والحمد للہ رب العالمین
https://www.sistani.org/urdu/archive/

مقالات کی طرف جائیے