مقالات

 

غدیر؛ اہل سنت کی نگاہ میں

سید غافر حسن رضوی

کوئی بھی حقیقت ہو،لاکھ پردے ڈالنے کے با وجودبھی نہیں چھپتی،چاہے وہ حقیقت ،شب تار میں رو نما ہوئی ہو،چہ جائیکہ وہ حقیقت جو سورج کی روشنی میں وجود میں آئی ہو۔
ایسی ہی ایک حقیقت ''غدیر''ہے جو کہ تاریکی شب میں نہیں بلکہ آفتاب کو گواہ بناتے ہوئے وجود میں آئی ،وہ بھی کسی بند قہوہ خانہ میں نہیں بلکہ کھلے میدان میں (جہاں دور دور تک سایہ نہیں تھا)عرب کی گرمی،تمازت آفتاب ،ایسے موقع پر جب حاجیوں کا قافلہ غدیر خم نامی جگہ پر پہونچا تو سرور کائناتۖ نے حکم دیاکہ قافلہ کو روکا جائے،تمام روایتوں کے مدنظر ،اس کاروان میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد کی تعداد تھی۔
اتنی آشکار حقیقت کے بعد ،کون ایسا جسور انسان ہے جو اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرے ،اگر کوئی نا سمجھ پردہ ڈالنے کی کوشش بھی کرے تو کیا پردہ ڈال سکتا ہے؟یہ ممکن ہی نہیں ہے چونکہ ایک تو آفتاب کی کرنیں، دوسرے میدان،تیسرے ایک لاکھ سے زیادہ جمّ غفیر،اس حقیقت پر پردہ ڈالا ہی نہیں جا سکتا ،یہی سبب ہے کہ اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتابلکہ بلا تفریق مذہب و ملت ،ہر انسان اقرار کرنے پر مجبور ہے۔
غدیر خم پہونچنے کے بعد جبرئیل امین یہ آیت لیکر نازل ہوئے...یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک و ان لم تفعل فما بلغت رسالتہ واللہ یعصمک من الناس(مائدہ:٦٧)یعنی اے میرے رسول ۖ وہ پیغام پہونچادو جو تم پر نازل کیا جا چکا ہے اور اگر تم نے یہ کام انجام نہ دیا تو گویا کوئی بھی کار رسالت انجام نہیں دیا(اور اے حبیب اگر تمھیں دشمنوں سے خوف ہے تو یاد رکھو)اللہ تمھیں لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا(حبیب السیر:ج:١ ص:٤١١)
حضور ۖ کے حکم کے مطابق پالان شتر کا منبر بنایا گیا ،حضورۖ منبر پر تشریف لے گئے اور ایک طولانی خطبہ ارشاد فرمایا،اس خطبہ میں آپۖ نے فرمایا:میں تم لوگوں سے پہلے حوض کوثر پر پہونچوں گا او ر تم مجھ سے وہیں ملاقات کروگے،دیکھو....میرے بعد میری چھوڑی ہوئی دو میراثوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہو؟مجمع میں سے کسی ایک شخص نے سوال کیا یا رسول اللہ وہ دو گرانقدر چیزیں کونسی ہیں؟
حضورۖ نے فرمایا:ایک کتاب خدا ہے جس کا ایک سرا خدا کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سراتمھارے ہاتھوں میں،پس اس کو مضبوطی سے پکڑے رہو تا کہ گمراہ نہ ہو۔
اور دوسری چیز میری عترت (اہلبیت) ہیں اور خدا وند عالم نے مجھے خبردی ہے کہ ان میں سے کوئی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونگے یہاں تک کہ قیامت کے دن حوض کوثر پر مجھ سے آملیں ،ان سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ ہلاک ہوجائو گے ،اس کے بعد علی کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر اتنا بلند کیا اتنا بلند کیا کہ سفیدی بغل نمایاں ہوگئی ،اس کے بعد فرمایا :اے لوگو!مومنین کے نفسوں پر خود ان سے زیادہ تسلط کا حق کس کو ہے؟سب نے کہا خدا اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں تو حضورۖ نے فرمایا:خدا،میرا مولا ہے اور میں تمام مومنوں کا مولا اور سرپرست ہوں اور مومنوں پر ان سے زیادہ تسلط رکھتا ہوں پس''من کنت مولاہ فھٰذا علی مولاہ''جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی بھی سرپرست اور مولا ہیں(کنز العمال:ج١٣ ص١٠٤ ح٣٦٣٤٠ و ص١٣٣ ح:٣٦٤٢٠)
اور اس جملہ کی تین مرتبہ تکرار کی تاکہ جس نے پہلی بار نہ سنا ہو وہ دوسری بار میں سن لے اگر کوئی دوسری بار بھی نہیں سن پایا تو تیسری مرتبہ سن لے ،چونکہ تین مرتبہ سننے کے بعد یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہم نے سنا ہی نہیں،ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کے سننے کے باوجود بھی ان سنی کردی۔
اس جملہ کے بعد حضورۖ نے بارگاہ ایزدی میں دست دعا بلند کئے ،خدایا!تو ہر اس شخص کو دوست رکھ جو علی کو دوست رکھے اور ہر اس شخص سے دشمنی کر جو علی کا دشمن ہو(کنزالعمال:ج:١٣ ص:١٣٨)
خدایا !تو اس کی مدد کر جو علی کی مدد کرے اور جو علی کو تنہا چھوڑ دے تو تو بھی اسے بے یارو مددگارچھوڑدے(فرائدالسمطین:ج:١ص:٧٣)پروردگار!حق کو علی کے ہمراہ رکھ چاہے علی کہیں بھی رہے(سیرۂ حلبی:ج٣ ص٣٣٦ و مجمع الزوائد:ج٩ ص١٠٤)
اس کے بعد لوگوں سے خطاب کیا ،اے لوگو!میرا یہ پیغام ان لوگوں تک بھی پہونچادینا جو اس بزم میں نہیں آسکے(معجم کبیرطبرانی:ج٥ ص١٦٦ و نزل الابرار:ص٥١)
ادھر حضورۖ خطبہ تمام ہوا اور ادھر جبرئیل دوبارہ آ پہونچے اور اب یہ پیغام لیکر آئے...الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا یعنی آج ہم نے تمھارا دین کامل کردیا تم پر نعمتیں تمام کردیں اور اللہ تمھارے دین اسلام سے راضی ہو گیا(مناقب ابن مغازلی:ص١٩۔فرائد السمطین:ج١ ص٧٣)

مبارکبادی کا سلسلہ:۔
روضة الصفا کے مورخ واقعہ غدیر کو تحریر کرنے کے بعد ،رقمطراز ہیں:۔حضور اکرمۖ خطبہ کے بعد ایک خیمہ میں تشریف فرما ہوئے اور علی کو دوسرے خیمہ میں بٹھایا گیا ،حضورۖ نے حکم دیا کہ تمام لوگ علی کے پاس جائیں اور انھیں مبارک باد ی دیں ،تمام لوگوں نے مبارک باد دی ، جب سب لوگ فارغ ہوگئے تو امھات المومنین(مومنوں کی مائیں)یعنی ازواج رسول نے مبارکباد پیش کی(تاریخ روضة الصفا:ج:١ ص:٧٣)
حبیب السیر کے مورخ کچھ اس طرح گویا ہیں:۔تمام اصحاب نے مبارک بادی پیش کی ،انھیں میں سے جناب عمر ابن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کچھ اس ناداز میں مبارکبادی پیش کی....بخ بخ یابن ابی طالب اصبحت مولای ومولیٰ کل مومن و مومنة...یعنی مبارک ہو مبارک ہو اے ابو طالب کے لعل کہ آپ میرے اور کل مومنین و مومنات کے مولا ہوگئے(تاریخ حبیب السیر:ج:١ ص:٥٤١ و غدیر از دید گاہ اہل سنت :ص:٢٦)
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس جملہ کوبہت سے راویوں نے نقل کیا ہے انھیں میں سے ....ابن عباس،ابو ھریرہ،براء بن عازب،زید بن ارقم،سعد بن ابی وقاص،ابو سعید خدری،انس ابن مالک وغیرہ ہیں۔

روز غدیر،روز عید ہے:
چونکہ غدیر کے روز وہ دین کامل ہوا جو خدا وند عالم کا پسندیدہ دین ہے ،اسی دن نعمتوں کا اتمام ہوا اور جہاں اسلام کے لئے اس سے زیادہ خوشی کا موقع کیا ہو سکتا ہے کہ دین سالام کامل ہو گیا لہٰذا رسول اکرمۖ نے بذات خود روز غدیر کو روز عید شمار کیا اور مسلمانوں سے فر مایا: ھنئونی ھنئونی ان اللہ تعالیٰ خصنی بالنبوة و خص اھل بیتی بالامامةیعنی اے لوگو! مجھے مبارکبادی دو مبارکی دو کہ خدا وند عالم نے مجھ کونبوت سے مخصوص کر دیا اور میرے اہل بیت کو امامت سے مخصوص کردیا(الغدیر:ج١ ص:٢٧٤)
ابو ریحان بیرونی اپنی کتاب ''الآثار الباقیہ''میں رقمطراز ہیں کہ ذی الحجہ کی اٹھارھویں تاریخ کو ''عید غدیر خم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ،غدیر وہ جگہ ہے جہاں حضور اکرم حج آخر کی واپسی پر قیام پذیر ہوئے اور پالان شترکا منبر بنا یا گیا ،حضور ۖ اس منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا:جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی مولاہیں(ترجمہ الآثار الباقیہ:ص:٤٦٠)
ابن طلحہ شافعی اپنی کتاب ''مطالب السئوول ''میں تحریر کرتے ہیں :۔روز غدیر، روز عید شمار کیا گیا طونکہ یہ وہ وقت تھا کہ رسول خدا نے ان(علی )کو منصوب کیا اور تمام لوگوں میں سے انھیں کو یہ شرافت حاصل ہوئی (مطالب السئوول:ص:١٦)
اسی طرح دیگر دانشمندوں نے بھی غدیر کی فضیلت میں اظہار نظر کیا ہے ،اختصار کے مد نظر اسی پر اکتفا کی جا تی ہے ،بس خلاصہ کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر اتحاد بین المسلمین کو دیکھنا چاہیں تو واقعۂ غدیرکو دیکھیں چونکہ اس واقعہ سے کسی نے بھی انکار نہیں کیا ہے۔

مقالات کی طرف جائیے