مقالات

 

سورۂ ھل اتیٰ

شعور ولایت فاؤنڈیشن

ہجرت کے چھٹے سال امام حسن اور امام حسین علیہما السلام بیمار ہوجاتے ہیں ، پیغمبر اکرم(ص) امام حسن و امام حسین علیہماالسلام کی عیادت کے لئے تشریف لاتے ہیں اور امیر المومنین علیہ السلام سے فرماتے ہیں : اگر اپنے بچوں کی شفا کے لئے نذر مان لو تو خدا انھیں شفا عطا فرمائے گا۔ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا کہ ان کی شفا کے شکرانہ کے طور پر ہم تین دن روزہ رکھیں گے ،حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے بھی یہی نیت کی ،امام حسن و امام حسین علیہما السلام نے بھی بچے ہونے کے باوجود فرمایا کہ ہم بھی تین روزے رکھیں گے ،گھر کی کنیز فضہ نے بھی یہی نذر کی۔
خدا وندعالم نے انھیں شفا عطا فرمائی اور ان حضرات نے بھی دوسرے دن سے روزہ رکھنا شروع کردیا ،حضرت علی علیہ السلام نے اپنے ایک پڑوسی سے بھیڑ کے بالوں کو بٹنے کا کاروبار تھا اس سے تھوڑا سا بال اور تھوڑا جو لیا تاکہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا ان بالوں کو بٹیں اور اس کی مزدوری وہ جو قرار پائے اور اس جو کو پیس کر اس کی روٹیاں بنائیں ۔
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے اس میں سے ایک تہائی جو کو پیسا اور پانچ روٹیاں بنائیں اور افطار کے لئے دسترخوان پر رکھ دیا،ایک مسکین نے دروازہ کھٹکھٹا کر مدد کی درخواست کی، سب نے اپنی اپنی روٹیاں اس مکین کو دے دی اور خود پانی سے افطار کرلیا ۔
دوسرے دن حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے پھر جو پیسے اور پانچ روٹیاں بنائیں دوسری رات بھی ایک یتیم نے اہل بیت اطہار کا دروازہ کھٹکھٹایااور ان حضرات نے اپنی روٹیاں اس یتیم کو دے دیںاور پانی سے افطار کرلیا ۔
تیسرے دن افطار کے وقت ایک اسیر آیا اور اس نے مدد کا تقاضا کیا اور اہل بیت نے اپنا کھانا اسے دے دیا اوراس کے بعد امام حسن و امام حسین علیہما السلام کے ساتھ پیغمبراکرم(ص) کی خدمت میں پہونچے ،حالت یہ تھی کہ بھوک کی شدت سے بدن لرز رہا تھا ،پیغمبراکرم(ص) نے ان کی حالت دیکھ کر فرمایا:میرے لئے بہت سخت ہے کہ میں تمہیں اس حال میں دیکھوں، آپ نے حضرت زہرا (س)کو دیکھا کہ محراب عبادت میں ہیں اور بھوک کی شدت سے آنکھیں دھنس گئی ہیں ،آپ(ص) نے انھیں کلیجے سے لگالیا ۔اسی اثنا میں جبریل امین سورۂ دہر لے کر نازل ہوئے :(ہَلْ َتَی عَلَی الِْنسَانِ حِین مِنَ الدَّہْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَذْکُورًا ... یُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَیَخَافُونَ یَوْمًا کَانَ شَرُّہُ مُسْتَطِیرًا ٭ وَیُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَی حُبِّہِ مِسْکِینًا وَیَتِیمًا وََسِیرًا ٭ ِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اﷲِ لاَنُرِیدُ مِنْکُمْ جَزَائً وَلاَشُکُورًا)۔(١)
پھر جبرئیل امین آسمان سے ایک بڑی سی تھال لے کر آئے جس میں انواع و اقسام کے بہشتی کھانے تھے جسے اہل بیت نے تناول فرمایا اور سیر ہوگئے۔ یہ صورت حال دیکھ کر رسول خدا(ص) نے شکر ادا کیا کہ جناب مریم علیہاالسلام کی طرح ان کے اہل بیت کے لئے جنت سے غذا آتی ہے؛ قرآن میں جناب مریم کے لئے خداکا ارشاد ہے :(کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْہَا زَکَرِیَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَہَا رِزْقًا)'' جب جناب زکریا محراب میں داخل ہوئے تو آپ نے دیکھا کہ وہاں رزق موجود ہے ''۔(2)
جس تھالی میں جبرئیل غذا لے کر نازل ہوئے تھے وہ اس وقت امام زمانہ(عج)کے پاس موجود ہے، آپ اسی میں غذا تناول فرماتے ہیں: ''وھی الجفنة التی یاکل منھا القائم''۔(3)

سورۂ مبارکہ سے مذہب امامیہ کی حقانیت پر استدلال
١۔ خود سے پہلے دوسروں کا خیال رکھنا اہل بیت اطہار کا شیوہ ہے؛ قرآن میں خدا کا ارشاد ہے :(وَیُؤْثِرُونَ عَلَی َنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَة )۔(4)یا حضرت زہرا سلام اللہ علیہا پوری رات صرف اور صرف پڑوسیوں کے لئے دعا فرماتی تھیں، جب امام حسن نے اس کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا: ''الجار ثمّ الدار''۔
٤۔ مومنین کے لئے بہتر یہ ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کے لئے ان تین دنوں کا یہ نام رکھیں:''تین دن صیام برائے تعجیل ظہور صاحب قیام ''۔
٥۔ امیر المومنین نے فرمایا:میں شکرانہ کے طور پر تین دن روزہ رکھتاہوں؛''اصوم ثلاثة ایام شکراً للّٰہ''۔ اور اس سورہ میں خداوندعالم نے فرمایاہے:(ِنَّا ہَدَیْنَاہُ السَّبِیلَ ِمَّا شَاکِرًا وَِمَّا کَفُورًا)۔(5) '' انسان یا کافر ہیں یا شاکر اور امیر المومنین شاکر ہیں اور ان کامخالف کافر ۔ پھر خداوندعالم فرماتاہے :(ِنَّا َعْتَدْنَا لِلْکَافِرِینَ سَلَاسِلًا وََغْلَالًا وَسَعِیرًا)۔(6)
٤۔ اس سورۂ مبارکہ میں خدا وندعالم نے اہل بیت اطہار کے بہشتی ہونے کی خبر دی ہے اور حدیث میںہے :من مات ولم یعرف امام زمانہ مات میتةً جاہلیة'' جو شخص اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر مر جائے وہ جاہلیت کی موت مرا ہے ''۔اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا شہادت کے وقت کس امام کی امامت کو مانتی تھیں؟جدھر بھی آپ ہوں گی ادھر ہی حق ہوگا اور مخالف گروہ جاہلیت کی موت مریں گے۔
٥۔خدا وندعالم نے فرماتا ہے :(ولٰکنّ البرّ من آمَنَ باللّٰہ)۔(7)ایک دوسری آیت میں نیکی تک پہنچنے کے بارے میں فرمایا ہے کہ (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ)(8)''تم اس وقت تک نیکی نہیں پاسکتے جب تک ان چیزوں کو راہ خدا میںانفاق نہ کروجنھیں تم دوست رکھتے ہو ''۔اور اس سورۂ مبارکہ میں اہل بیت کی توصیف بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے :( وَیُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَی حُبِّہِ مِسْکِینًا وَیَتِیمًا وََسِیرًا)(9)پس یہ لوگ کھانے کی محبت رکھتے ہوئے اسے مسکینوں، یتیموں اور اسیروں کو کھلا کے نیکی تک پہونچ گئے ہیں جس کامطلب یہ ہے کہ یہی حضرات واقعی مومن اور کامیاب ہیں جیسا کہ خدا نے فرمایا(قد افلح المومنون)۔(10)اور جب یہ حضرات کامیاب اور راہ ہدایت پر ہیں تو ان کے مخالفین یقینا راہ ضلالت و گمراہی پر گامزن ہیں ۔
٦۔خداوندعالم نے اس سورہ میں فرمایا ہے (ِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اﷲِ )(١1) ''ہم تمہیں اللہ کی رضا کے لئے کھلا رہے ہیں ''۔، ایک دوسری آیت میں ارشاد ہوا ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ رہو جو رضائے الٰہی کے طلبگار ہیں ( وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِینَ یَدْعُونَ رَبَّہُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِیِّ یُرِیدُونَ وَجْہَہ)'' اور اپنے نفس کو ان لوگوں کے ساتھ صبر پر آمادہ کرو جو صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور اسی کی مرضی کے طلبگار ہیں ''۔(12)جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خدا نے اہل کے ساتھ رہنے کا حکم دیا ہے ۔
٧۔خداوندعالم عمل کی کیفیت کو اہمیت دیتا ہے،کمیت کو نہیں ؛خدا کا ارشاد ہے :(لِیَبْلُوَکُمْ َیُّکُمْ َحْسَنُ عَمَلاً )۔(13)اس آیت میں '' اکثر عملا'' نہیں کہاگیاہے ۔اور اس واقعہ میں ١٥ روٹیوں کے عوض ٣٠ آیتوں سے زیادہ نازل فرمائی ،بالکل اسی طرح جیسے جنگ خندق میں پیغمبراکرم(ص) نے فرمایا:ضربةُعلیِِ یوم الخندق افضلُ مِن عِبادة الثقلین''خندق کے دن عمرو بن عبدود کے سر پر لگنے والی علی کی ایک ضربت دونوں جہان کی عبادتوں سے بہتر ہے''۔ یعنی علی کی زندگی کا ایک لمحہ تمام جن و انس کی ہزاروں سال کے انواع و اقسام کی عبادتوں سے بہتر ہے ،اس کا مطلب یہ ہے کہ علی کی زندگی کا ایک لمحہ تمام صحابہ اور خلفا سے بہتر ہے۔
ماخوذ از : انوار غدیر ؛ ترجمہ : شعور ولایت فاؤنڈیشن

حوالہ جات
١۔سورۂ انسان ١۔١٠
2۔سورۂ آل عمران ٣٧
3۔تفسیر عیاشی ،ج١،ص١٧٢
4۔سورۂ حشر ٩
5۔سورۂ انسان ٣
6۔سورۂ انسان ٤
7۔بقرہ١٧٧
8۔آل عمران ٩٢
9۔انسان٨
10۔مومنون١
11۔انسان٩
12۔کہف٢٨
13۔ملک ٢

مقالات کی طرف جائیے