مقالات

 

آیۂ مباہلہ

شعور ولایت فاؤنڈیشن

تاریخ اسلام کی ایک اہم ترین عید ''عید مباہلہ'' ہے، اس عظیم عید کے موقع پر خداوندعالم نے اہل بیت کی فضیلت کے سلسلے میں ایک عظیم آیت نازل فرمائی جسے ''آیہ مباہلہ'' کہا جاتا ہے ۔
مباہلہ کا واقعہ یہ ہے کہ ٩ ہجری میں نبی اکرم (ص) نے خداوند متعال کے حکم سے اہل نجران کو اسلام کی دعوت دی اور انہیں اختیار دیا کہ یامسلمان ہوجائیں یاٹیکس دیں اور اپنے دین پر باقی رہیں۔
نجران کے علما ء نے آپس میں مشورہ کیا اور اپنے ٨٨/بڑے علماء کو تحقیق و جستجو کے لئے مدینہ بھیج دیا۔رسول کی خدمت میں پہونچ کر انہوں نے کہا : :جناب عیسیٰ اللہ کے بیٹے ہیں کیونکہ انکا کوئی باپ نہیں ۔
اللہ نے وحی نازل فرمائی کہ جناب آدم کے تو نہ باپ تھے اور نہ ہی ماں (لہٰذا انہیں کیوں اللہ کا بیٹا نہیں کہتے )۔متعدد مناظرے اور بحث و مباحثہ ان سے ہوئے ،اہل نجران کو تمام مناظروں میں شکست کا منھ دیکھنا پڑا،پھر آخری مرحلہ میں انہوں نے کہا کہ چلیں مباہلہ کر لیتے ہیں ،اسی موقع پر آیت نازل ہوئی :( فَمَنْ حَاجَّکَ فِیہِ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَکَ مِنْ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ َبْنَائَنَا وََبْنَائَکُمْ وَنِسَائَنَا وَنِسَائَکُمْ وََنْفُسَنَا وََنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ اﷲِ عَلَی الْکَاذِبِینَ)۔(١)
مباہلہ کے دن پیغمبر اکرم (ص) صرف مولائے کائنات ، حضرت فاطمہ زہرا (س)،امام حسن اور امام حسین کے ساتھ مباہلہ کے لئے تشریف لے گئے ،اہل نجران نے جب عذاب کے آثار دیکھے تو ڈر گئے اور مباہلہ سے منع کردیا ،ان میں سے بعض تو مسلمان ہوگئے اور باقی ٹیکس دینے پر راضی ہوگئے اوراسلام کی عیسائیوں پر یہ عظیم کامیابی زبان زد عام و خاص ہوگئی۔

آیۂ مباہلہ سے شیعی عقائد کی حقانیت پر استدلال
ا۔اس آیت میں اللہ نے امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کو پیغمبر اکرم کے فرزند کے طور پر ذکر کیا ہے جبکہ بظاہر آپ دونوں مولائے کائنات کے بیٹے ہیں۔ ایک روایت میں امیر المومنین نے جنگ صفین میں جب محمد حنفیہ کو دو بار میدان جنگ میں بھیجا تو محمد حنفیہ نے سوال کر دیا :بابا! آپ بھائی حسن اور حسین کو کیوں نہیں بھیجتے ؟مولا نے جواب دیا :تم ہمارے بیٹے ہو اور حسن و حسین نبی کے فرزند ہیں ۔
٢۔ مباہلہ کے وقت اگرچہ دوسری مومنہ خواتین حتیٰ پیغمبر اکرم (ص) کی بیویاں بھی موجود تھیں مگر کسی کو بھی مباہلہ کے لئے جانے کی دعوت نہیں دی گئی ،بلکہ پیغمبر اکرم (ص) صرف جناب زہرا (س)کو مباہلہ کے لئے لے گئے جو اس بات کی علامت ہے کہ تمام عورتوں میں صرف جناب زہرا سلام اللہ علیہا اس بات کی صلاحیت رکھتی تھیں کہ میدان مباہلہ میں تشریف لائیں ۔
٣۔اس آیت میں اللہ نے مولا ئے کائنات کو نفس پیغمبر قرار دیا ہے جو نبی اور علی کے وجود کے متحد ہونے اور دونوں کے مساوی ہونے پر دلالت کرتاہے۔
٤۔اگررسول خدا(ص) ''اولیٰ بالتصرف ''ہیں تو نفس پیغمبر کو بھی اولیٰ بالتصرف ہونا چاہئے ۔
٥۔نبی کے ہوتے ہوئے کوئی دوسرا اس امت کی سرپرستی کا حق نہیں رکھتا ہے اسی طرح نفس پیغمبر (امیر المومنین )کے ہوتے ہوئے کوئی دوسرا امت کی سرپرستی کا حق نہیں رکھتا ۔
٦۔انا و علی من شجرة واحدہ''ہم اور علی ایک درخت سے ہیں''۔(2) ؛انا وعلی ابوا ھذہ الامة''میں اور علی اس امت کے باپ ہیں''۔(3)؛یا : ھو منی وانا منہ''وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں''۔ یا: من حاربک فقد حاربنی''جس نے تم سے جنگ کی گویا اس نے ہم سے جنگ کی ہے''۔(4)...یہ تمام روایتیں(َاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَکُم)(5)کی تفسیر ہیں ۔
٧۔چونکہ پیغمبر اکرم (ص) افضل الانبیاء ہیں ،لہٰذا نفس رسول بھی تمام انبیاء سے افضل وبرتر ہیں،نیز آیۂ مباہلہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جناب زہرا (س)کا مقام ومرتبہ تمام ازواج رسول اکرم(ص) اور تمام اصحاب سے برتر اور افضل ہے۔
٨۔داستان مباہلہ میں امام حسن اور امام حسین کا کمسن ہونا اس عظیم فضیلت کے حصول میں رکاوٹ نہ بن سکا...توجن لوگوں نے سقیفہ میں مولائے کائنات کے جوان ہونے کو نقص شمار کیااور بعض اصحاب کے بوڑھے اور پیر ہونے کو خلافت کا معیار قرار دیا ۔ یہ اللہ کے بیان کئے گئے معیار وملاک کے خلاف ہے ۔
٩۔افراد کی تعدادکا زیادہ ہونا ان کے بر حق ہونے کی دلیل نہیں ہے،جیسا کہ عیسائیوں کا پنجتن کے مقابلے میں تعداد کے اعتبار سے زیادہ ہوناان کی حقانیت کی دلیل نہیں تھی ، لہذا عیسائیوں اورسنیوں کی تعداد کا شیعوں کی بہ نسبت زیادہ ہونا ان کے برحق ہونے کی دلیل نہیں ہے ۔
١٠۔معاشرہ میں اثر و رسوخ کے باوجود خلفائے ثلاثہ اور پیغمبراکرم (ص)کی بیویوں کا واقعہ مباہلہ میں مدعو نہ ہونا، قابل غور ہے کیونکہ استجابت دعا کے لئے لیاقت کی ضرورت ہے نہ کہ عمردراز کی۔
١١۔خداوند متعال نے پیغمبر اکرم (ص)کوتنہا میدان مباہلہ میں جانے کے لئے نہیں کہابلکہ اہل بیت کوبھی ساتھ لانے کوکہا۔ اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ہمیں دعا کرتے وقت اور استجابت دعا کیلئے اہل بیت اطہار علیہم السلام کو وسیلہ قرار دینا چاہئے۔
١٢۔میدان مباہلہ میں اہل بیت کاوجودتشریفاتی یا نمائشی نہیں تھا بلکہ رسول اکرم کی حقانیت کا دارو مدار انہیں ذوات پر تھا۔آنحضرت (ص) انہیں میدان میں اس لئے لائے تاکہ جب آپ (ص) دعا کریںتو وہ آمین کہیں ،لہذا اہل بیت کا آمین کہنا استجابت دعا کی شرط ہے ۔
١٣۔ واقعہ سقیفہ کے بعد جس گھر میں آگ لگائی گئی اس میں رہنے والے اہل مباہلہ تھے یعنی جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا مولائے کائنات ،امام حسن اور امام حسین ۔
١٤۔خداوندعالم کا ارشاد ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) جو کچھ بھی کہتے ہیں وہ وحی ہے؛(وَمَا یَنْطِقُ عَنْ الْہَوَی٭ِنْ ہُوَ ِلاَّ وَحْی یُوحَی)۔(6)اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جب خداوندعالم نے پوری کائنات پر نگاہ دوڑائی تو ان ذوات مقدسہ سے افضل و برتر کوئی نہیں ملا،اسی لئے پنجتن پاک مباہلہ کے لئے منتخب ہوئے ۔
١٥۔ایک دن ہارون نے ساتویں امام حضرت موسی کاظم سے پوچھا کہ آپ کسی بنا پر خود کو فرزند پیغمبرکہتے ہیں ؟امام نے جواب دیا :اگر پیغمبر اکرم(ص) تیری بیٹی سے شادی کرنا چاہیں تو انہیں اجازت دو گے ؟ہارون نے جواب دیا :فخریہ اس بات کو قبول کروں گا کہ پیغمبر (ص) سے ہماری بیٹی منسوب ہوجائے ۔امام نے فرمایا:لیکن ہم اپنی بیٹی کی شادی پیغمبر (ص) سے نہیں کرسکتے کیونکہ ہماری بیٹیاں رسول کی بیٹیاں ہیں ۔
١٦۔حدیث :''من کنت مولاہ فہذا علی مولاہ''آیۂ مبارکہ میں موجود ''انفسنا'' کی تفسیر ہے اور پیغمبر اکرم(ص) کے بعد نفس پیغمبر(ص)پر نبی کے تمام کاموں کی ذمہ داری ہوگی۔
١٧۔''انفسنا '' سے پیغمبر اکرم (ص) کے تمام فضائل و مناقب اور آپ (ص) کے تمام اختیارات، مولائے کائنات کے لئے ثابت ہوتے ہیں سوائے پیغمبری کے ،یعنی وہی حدیث منزلت کا مفہوم ''انت منی بمنزلة ھارون من موسیٰ الا انہ لانبی بعدی''۔(7)
١٨۔واقعۂ مباہلہ میں ایک طرف نجران کے جھوٹے افراد ہیں،جن کے بارے میں آیت میں ارشاد ہوا :( فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ اﷲِ عَلَی الْکَاذِبِین)۔ اور دوسری طرف سچے اور''صادقین '' ہیں کہ جن کے بارے میں دوسری آیت میں اللہ نے فرمایا:(یَاَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اﷲَ وَکُونُوا مَعَ الصَّادِقِین)۔(8)
١٩۔اہل نجران پیغمبر اکرم (ص) کی نبوت کے سلسلے میں مشکوک تھا اور اللہ نے اہل بیت کے وسیلہ سے پیغمبر کی نبوت کو ثابت کیا،چنانچہ خداوندعالم فرماتاہے: (وَیَقُولُ الَّذِینَ کَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلًا قُلْ کَفَی بِاﷲِ شَہِیدًا بَیْنِی وَبَیْنَکُمْ وَمَنْ عِنْدَہُ عِلْمُ الْکِتَاب)''اے پیغمبر!کفار کا کہنا ہے کہ آپ پیغمبر نہیں ہیں ،آپ کہہ دیں کہ ہمارے پاس دو گواہ ہیں: ایک خدا اور دوسرے وہ جس کے پاک علم کتاب ہے یعنی حضرت علیؑ''۔(9)
٢٠۔اگرچہ مباہلہ کے وقت پیغمبر اکرم (ص) کے فرزند جناب ابراہیم زندہ تھے مگر میدان مباہلہ میں نہیں لائے گئے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ امام حسن اور امام حسین خاص مرتبہ اور منزلت کے حامل ہیں ۔
ماخوذ از : انوار غدیر ؛ترجمہ: شعور ولایت فاؤنڈیشن

حوالہ جات
١۔سورہ آل عمران :٦١
2۔عیون اخبار الرضا،ج٢،ص٦٣
3۔کمال الدین ،ج١ص٢٦١
4۔شرح الاخبار،ج٢ص٣٩٧
5۔آل عمران٦١
6۔سورہ نجم ٣
7۔اصول کافی ،ج٨ص١٠٧
8۔سورہ توبہ ١١٩
9۔رعد/43

مقالات کی طرف جائیے