مقالات

 

آیۂ ولایت

شعور ولایت فاؤنڈیشن

ساتویں ہجری سے پہلے ٢٤/ ذی الحجہ کو عبدا للہ بن سلام اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ رسول خد(ص)ا کی خدمت میں حاضر ہوئے جو پہلے یہودی تھے لیکن پھر دائرۂ اسلام میں داخل ہوچکے تھے ۔عبداللہ نے پیغمبر اکرم کی خدمت میں عرض کی:یا نبی اللہ !جب جناب موسیٰ اس دنیا سے رحلت کرنے لگے تھے تو انہوں نے جناب یوشع بن نون کو اپنا وصی و جانشین مقرر کیا تھا ،آپ بھی بتا دیجئے کہ آپ کے بعدآپ کا وصی و جانشین اورہمارا امام کون ہے۔
اسی اثنا میں جناب جبرئیل یہ آیت لے کر نازل ہوئے:( اِنَّمَا وَلِیُّکُمْ اﷲُ وَرَسُولُہُ وَالَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلاَةَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَہُمْ رَاکِعُون)۔(١)
صحابہ کرام نہیں سمجھ پائے کہ اس آیت سے کون مراد ہے؟پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: سب کے سب اٹھیں اور مسجد کی جانب چلیں ۔
سب نے مسجد کے قریب دیکھا کہ ایک فقیر مسجد سے باہر آرہاہے ۔
نبی (ص) نے اس سے سوال کیا: اے شخص کیا مسجد میں تمہیں کسی نے کچھ عطا کیا؟
اس فقیر نے جواب دیا: ہاں!یہ انگوٹھی دی ہے ۔
نبی(ص) نے پھرسوال کیا: تمہیں یہ انگوٹھی کس نے دی؟
فقیر نے جواب دیا:وہ شخص جو نمازپڑھ رہا اس نے دی ہے۔
نبی نے سوال کیا :جب اس نے انگوٹھی دی اس وقت وہ کس حالت میں تھا؟
فقیر نے جواب دیا:وہ رکوع کی حالت میں تھا ۔
پیغمبر اکرم (ص) نے تکبیرکی صدا بلندکی ،نبی کی اتباع میں سب نے تکبیر کہی ،آنحضرت نے فرما یا: علی بن ابی طالب ولیکم بعدی''ہمارے بعد یہ علی ابن ابی طالب تمہارے ولی ہیں''۔(2)
اس طرح بہترین انداز میں خداوندعالم نے رسول خدا(ص) کے خلیفہ کی نشاندہی فرمائی ۔

آیۂ مبارکہ سے شیعی عقائد کی حقانیت پر استدلال
١۔خداوند متعال نے کلمہ ''انما '' کے ذریعہ ولایت کو منحصراور مخصوص کردیا ہے اپنی، اپنے رسول اور امیرالمومنین کی ولایت سے ،لہٰذا اب ان کے ہوتے ہوئے کسی کو حق ولایت حاصل نہیں ہے۔
٢۔امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :جب ہم رکوع میں ہوتے ہیں تو اللہ ایک فرشتے کو بھیجتاہے( فقیر کی صورت میں)تاکہ ہم اسے کچھ عطا کریں اور اس آیت کے مصداق قرار پائیں ،آیت میں ''الذین ''جمع کی صورت میں ہے جو آئندہ کی طرف اشارہ ہے (یعنی الذین جمع ہے جس وقت آیت نازل ہوئی اس وقت فقط مولائے کائنات نے حالت رکوع میں زکات دی تھی،لیکن بعد میں اس حدیث کے اعتبار سے دیگر ائمہ نے بھی حالت رکوع میں زکات دی ،لہٰذا اس کلمہ سے آئند ہ کی طرف اشارہ ہے)۔
٣۔اگر کوئی شخص یہ کہے کہ یہ عمل ، حضور قلب کے خلاف ہے تو اس کا ایک جواب یہ ہے کہ اس فقیر نے کئی بار لوگوں سے سوال کیا مگر جب کسی نے کچھ نہیں دیا تو اس نے بارگاہ الٰہی میں عرض کی: خدایا! گواہ رہنا میں نے تیرے نبی کی مسجد میں آکر لوگوں سے مدد مانگی لیکن کسی نے کچھ نہ دیا ۔ادھر مولائے کائنات بارگاہ خدا میں مشغول مناجات تھے ،اس فقیر نے بھی اللہ کی بارگاہ میں شکایت کی تھی لہٰذا اللہ نے اس فقیر کی حاجت علی کے دست مبارک سے پوری کرائی کیونکہ علی ''ید اللہ'' ہیں ۔
٤۔جس طرح سے انسان روزہ کی حالت میں نماز بھی پڑھ سکتا ہے یعنی ایک عبادت کی حالت میں دوسری عبادت انجام دے سکتا ہے ،مولائے کائنات نے ایک عبادت (نماز) کی حالت میں دوسری عبادت یعنی صدقہ دیا۔
٥۔خداوند متعال ''انما ولیکم اللہ ورسولہ امیرا لمومنین '' فرما سکتاتھا لیکن نام کے بجائے صفات کا ذکر کیاتاکہ ایک ہی وقت میں کئی باتیں ثابت ہوسکیں:
الف: امیر المومنین نمازی تھے ؛حالانکہ جب آپ کے سر مبارک پر ضربت لگی تو بعض لوگوں نے سوال کیا تھا :کیا علی نماز بھی پڑھتے تھے؟
ب:رکوع کی حالت میں صدقہ دینا سنت نہیں تھا۔ خدا وند متعال نے اس آیت کو نازل کر کے علی کے عمل کو پیغمبر اکرم(ص) کے مانند جائز اور قابل مدح قرار دیا۔
ج: صفات کا ذکر کر کے بعدکے گیارہ اماموں کی ولایت کو بھی آیت میں شامل کردیا۔
د:عبد اللہ بن سنان اور دوسرے افراد کلام نبوی میں شک نہ کریں لہٰذا اس واقعہ کو ایک معجزے اور پیشین گوئی کے ساتھ ذکر کیا ، اس طرح سے کہ جب ان لوگوں نے پیغمبر اکرم (ص) سے سوال کیا کہ آپ کا خلیفہ کون؟تواسی وقت سائل نے امیر المومنین سے انگوٹھی لی اورپھر جبرئیل نبی (ص) کی خدمت میں اس کی خبر لے کے آئے۔
٦۔اللہ ،رسول اور امیر المومنین کی ولایت کو ایک ساتھ بیان کرنا ... اس سے ثابت ہوتاہے کہ علی کی ولایت رسول کی ولایت ہے اور رسول کی ولایت خداوندعالم کی ولایت ہے جسے روایت نے ان الفاظ میں ذکر کیا ہے؛''ولایتی ولایة اللہ''۔(3)
٧۔یہ آیت مولائے کائنات کی عصمت اور آپ کے معصوم ہونے پر دلالت کررہی ہے کیونکہ آیت آپ کی مطلق ولایت کو ثابت کر رہی ہے،(بغیر کسی شرط و قید کے )فقط اس شخص کی مطلق طور سے پیروی کی جاسکتی ہے جو معصوم ہو ورنہ تناقض لازم آئے گا۔
٨ْ۔ عبداللہ بن سنان کے اس سوال سے جو اس نے پیغمبر سے کیا کہ جناب موسیٰ نے اپنے وصی کو معین کیا ،آپ کا وصی کون ہے؟یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ عقیدہ باطل ہے جس میں یہ ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے اپنے بعد کے امور لوگوں کے حوالے کردئیے تھے (اپنا کوئی وصی معین نہیں کیاتھا)۔
٩۔قرآن مجید کا ارشاد گرامی ہے :(یَاَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا َطِیعُوا اﷲَ وَاَطِیعُوا الرَّسُولَ وَُاوْلِی الْاَمْرِ مِنْکُم) ۔(4)اس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ اولی الامر کی اطاعت بطور مطلق واجب ہے اور دوسری آیت جس میں ارشاد ہوا:( ِانَّمَا وَلِیُّکُمْ اﷲُ وَرَسُولُہُ وَالَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلاَةَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَہُمْ رَاکِعُون)۔(5)جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ولایت ،اطاعت اور پیروی سے متصل اور وابستہ ہے (یعنی ولایت بغیر اطاعت کے ممکن نہیں )۔
روایات میں یہ بات واضح طور سے بیان کی گئی ہے کہ اولی الامر سے مرادفقط اہل بیت ہیں ،یعنی مراد خاص طور سے اہل بیت ہیں ،یہاں مراد عام نہیں ہے کہ کوئی بھی شامل ہوجائے ،اس سے ثابت ہوتاہے کہ ''اولی الامر''سے مراد صرف امیر المومنین اور آپ کی معصوم اولادیں ہیں ۔
١٠۔پیغمبر اکرم (ص) نے میدان غدیر میں جو اعلان کیاکہ ''من کنت مولاہ فہٰذا علی مولاہ ''۔(6)یہ در اصل آیۂ مبارکہ (انما ولیکم اللہ...) کی تفسیر ہے۔
١١۔حدیث میں جو کہاگیاہے کہ'' الحق مع علی وعلی مع الحق یدور حیث ما دار''۔(7) یہ اس لئے کہ آپ کی ولایت خدا کی ولایت ہے ۔
١٢۔خداوند عالم کا ارشاد ہے :(وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلاَمُؤْمِنَةٍ ِذَا قَضَی اﷲُ وَرَسُولُہُ َمْرًا َنْ یَکُونَ لَہُمْ الْخِیَرَةُ مِنْ َمْرِہِم)۔(8)یعنی جب خداوند متعال کسی امر کے بارے میں بیان کردے تو پھر لوگوں کا اس امر میں کوئی اختیار نہیں رہ جاتا''۔ اور اللہ نے اس آیت میں امیر المومنین کی ولایت کو بیان کیا ہے لہٰذا اس مسئلے میں لوگوں کو کوئی اختیار نہیں ہے۔
١٣۔کلمہ''انما''سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کسی کی ولایت کے اعلان کا مسئلہ خدا کی جانب سے ہے یعنی انتصابی ہے اور بغیر حکم خدا کے کوئی بھی کسی پر ولایت نہیں رکھتا ۔
ماخوذاز : انوار غدیر ؛ ترجمہ : شعور ولایت فاؤنڈیشن

حوالہ جات
١۔ مائدہ ٥٥
2۔وسائل الشیعہ ،ج٩ص٤٧٩
3۔من لایحضرہ الفقیہ،ج٤ص٤٢٠
4۔نساء/٥٩
5۔مائدہ ٥٥
6۔کافی ج١،ص٢٧٨
7۔کافی ،ج١،ص٢٩٤
8۔سورہ احزاب٣٦

مقالات کی طرف جائیے