مقالات

 

واقعۂ غدیر خم

حضرت آیة اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی دامت برکات

حضرت رسول خداؐکی زندگی کے آخری سال میں آنحضرت کے ہمراہ حجة الوداع کے مراسم پوری شان وشوکت کے ساتھ انجام پائے۔لوگوں کے دل روحانیت کے کیف وسرور میں ڈوبے ہوئے تھے اور اس عظیم عبادت کی باطنی لذات بھی جان ودل کے ذائقے میں موجود تھیں، پیغمبر کے ہمراہی جن کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ تھی اتنی بڑی سعادت اور فیض حاصل کرنے کی خوشی میں پھولے نہیں سمارہے تھے۔(١)
اس سفر میں صرف مدینے ہی کے باشندے آنحضرتؐ کا ساتھ نہیں دے رہے تھے بلکہ جزیرة العرب کے مختلف علاقوں میں بسنے والے دیگر مسلمان بھی ایک اہم تاریخی فخر و امتیاز حاصل کرنے کے لئے پیغمبرؐکے ہمراہ تھے ۔
عرب کی چلچلاتی دھوپ گویا پہاڑوں پرآگ برسا رہی تھی لیکن اس بے مثال روحانی سفر کی شیرینی ہر مشکل کو آسان بنائے ہوئے تھی، ظہر کا وقت قریب تھا،آہستہ آہستہ جحفہ کی سرزمین اور اسکے بعد غدیر کے خشک اور جھلستے ہوئے بیابان دور سے نمایاں ہورہے تھے۔
اس مقام پر در حقیقت چار راستے ہیں جو سرزمین حجاز کے رہنے والوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتے ہیں ایک راستہ مدینے کی جانب شمال میں ،ایک راستہ عراق کی طرف مشرق میں ،ایک راستہ مغرب میں مصر کی جانب اور ایک راستہ جنوب میں یمن کی جانب جاتا ہے۔
چنانچہ اسی منزل پر اس بلند مرتبہ سفر کاآخری مقصد اور انتہائی اہم مرحلہ انجام دینے کی ضرورت تھی تاکہ مسلمان وہ آخری فرمان الٰہی معلوم کرنے کے بعد ایک دوسرے سے جدا ہوں جو در حقیقت پیغمبر اسلامؐ کی اہم ترین ذمہ داریوں میں ایک حرف آخر کی حیثیت رکھتا تھا۔
ہجرت کے دسویں سال، پنجشنبہ کادن تھا اور عید قربان کے آٹھ روز پورے ہورہے تھے کہ ناگہان پیغمبرؐ کی طرف سے تمام ساتھیوں کو ٹھہرنے کا حکم دیا گیا جو لوگ قافلے کے آگے جارہے تھے مسلمانوں نے بلند آواز سے انہیں واپس آنے کی دعوت دی اور جو اشخاص پیچھے رہ گئے تھے ان کے پہونچنے کا انتظار کیا گیا ۔آفتاب خط نصف النہار سے آگے بڑھا تو پیغمبرؐ کے مؤذن نے اللہ اکبر کی آواز بلند کر کے لوگوں کو نماز ظہر کی دعوت دی اور سبھی افراد نماز کی تیاری میں لگ گئے ۔لیکن فضا اس قدر گرم تھی کہ بعض لوگ اپنی عباکا ایک حصہ پائوں کے نیچے اور ایک حصہ سر کے اوپر ڈالنے کے لئے مجبور تھے، بیابان کی تپتی ہوئی ریت اور آفتاب کی شعاعیں ان کے پائوں اور سروں کو سخت اذیت دے رہی تھیں۔ اس صحرا میں نہ کوئی سائبان نظر آرہا تھا،نہ سبزہ اور گھاس یا کوئی درخت ،سوائے چند بیابانی اور بے برگ و بار عریاں درختوں کے جو سخت جانی کے ساتھ موسم گرما کا مقابلہ کرہے تھے ،کچھ لوگوں نے انہیں چند درختوں کے نیچے پناہ لی تھی ۔ایک ایسے ہی درخت کے اوپر کپڑا ڈال کے حضرت رسول خداؐکے لئے سائبان تیار کیا گیا تھا لیکن گرم ہوا اس کے نیچے بھی پہونچ رہی تھی اور اپنے ساتھ آفتاب کی شدید تمازت پہونچا رہی تھی ۔

نماز ظہر تمام ہوئی:
نماز ظہر کے بعد مسلمانوں کا ارادہ تھا کہ فوراً ان چھوٹے خیموں (چھولداریوں ) میں پناہ لیں جو وہ اپنے ساتھ رکھتے تھے،لیکن حضرت رسول خداؐکی جانب سے انہیں بتایا گیا کہ سب لوگ ایک تازہ الٰہی پیغام سننے کے لئے آمادہ ہوجائیں جو ایک مفصل خطبے کے ساتھ بیان ہوگا۔ جو لوگ آنحضرت سے فاصلہ پر تھے وہ ہجوم کی کثرت میں آپ کے ملکوتی جمال کے مشاہدے سے محروم تھے لہٰذا اونٹوں کے کجاووں سے ایک منبر تیار کیا گیا اور آنحضرت ؐاس پر تشریف لے گئے ،پہلے پروردگار عالم کی حمد وسپاس بجالائے اور اپنے کو خدا کے سپرد فرمایا اس کے بعد لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
''میں بہت جلددعوت خداوندی کو قبول کرتے ہوئے تمہارے درمیان سے جانے والا ہوں میں جواب دہ ہوں اور تم لوگ بھی جواب دہ ہو!تم میرے بارے میں کس طرح کی شہادت دیتے ہو؟''لوگوں نے آوازیں بلند کیں اور کہا:نشہد انک قد بلغت و نصحت وجھدت فجزاک اللہ خیرا'' یعنی ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے تبلیغ رسالت کی ذمہ داری میں پوری جدو جہد اور کوشش فرمائی خدا آپ کو جزائے خیر عنایت فرمائے''۔
پھر آپ ؐنے فرمایا :آیا تم لوگ خدا کی وحدانیت ،میری رسالت، روز قیامت کی حقانیت اور اس روز مردوں کو قبروں سے اٹھائے جانے کی گواہی نہیں دیتے ہو؟''سب نے کہا: ہاں ہم گواہی دیتے ہیں'' پھر آپ ؐنے فرمایا:''خدا وندا گواہ رہنا ''اس کے بعد فرمایا:''اے لوگو!کیا تم میری آواز سن رہے ہو؟ سب نے کہا :ہاں اور اس کے ساتھ ہی سارے بیابان میں سناٹا چھا گیا اور سوائے ہوا کی سنسناہٹ کے اور کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔پیغمبر نے فرمایا:''اب تم لوگ دیکھو کہ ان دو گراں بہا اور گراں قدر چیزوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو جنہیں میں تمہارے درمیان چھوڑے جارہا ہوں!؟''۔
مجمع کے درمیان سے ایک شخص نے پوچھا،کون سی دو گرانقدر چیزیں یا رسول اللہ ؟پیغمبر نے فرمایا:''اول ثقل اکبر''اور وہ کتاب خداہے جس کا ایک سرا پروردگار کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا تمہارے ہاتھ میں ہے۔اس کے دامن سے دست بردار نہ ہونا تاکہ گمراہ نہ ہو۔اور دوسری میری گرانقدر یادگار میرا خاندان ہے ۔خدائے لطیف وخبیر نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گی یہاں تک کہ بہشت میں پہونچ کے مجھ سے مل جائیں ۔ان دونوں سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ ہلاک ہو جائوگے اور پیچھے بھی نہ رہ جانا کہ پھر بھی ہلاک ہوگے''ناگہان لوگوں نے دیکھا کہ پیغمبرؐاپنے گرد و پیش نظر ڈال رہے ہیں ،گویا کسی کو تلاش فرمارہے ہیں ۔جونہی آپ کی نگاہ حضرت علی علیہ السلام پر پڑی جھک کے ان کا ہاتھ تھاما اور اس قدر بلند فرمایا کہ دونوں حضرات کی زیر بغل سفیدی نمایاں ہوگئی اور سبھی لوگو ں نے دیکھ کر پہچان لیا کہ یہ وہی اسلام کا سردار ہے جو ناقابل شکست ہے اس موقع پر پیغمبر خداؐکی آواز اور زیادہ بلند ہوگئی اور فرمایا :''ایہا الناس من اولی الناس بالمومنین من انفسھم ؟''یعنی لوگو! تمام لوگوں میں سے کون شخص مسلمانوں کی نسبت خود ان کی جانوں سے زیادہ اولیٰ ہے؟''۔لوگوں نے کہا :خداو رسول بہتر جانتے ہیں ۔پیغمبر نے فرمایا:خدا میرا مولیٰ اور رہبر ہے اور میں مومنوں کا مولیٰ اور رہبر ہوں اور بہ نسبت خود ان کے ان سے زیادہ اولیٰ بالتصرف ہوں (اور میرا ارادہ ان کے ارادہ پر مقدم ہے )''اس کے بعد فرمایا:فمن کنت مولاہ فعلی مولاہ''یعنی جس شخص کا میں مولاو پیشوا ہوں علی بھی اس کے مولا وپیشوا ہیں''۔اورا س فقرے کی تین باراور بعض راویوں کے قول کے مطابق چار بار تکرار فرمائی۔اس کے ساتھ ہی سر آسمان کی طرف بلند کرکے فرمایا:اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ واحب من احبہ وابغض من ابغضہ وانصر من نصرہ واخذل من خذلہ وادر الحق معہ حیث دار''یعنی خداوند ا!ان کے دوستوں کو دوست رکھ اور ان کے دشمنوں کو دشمن رکھ،محبوب رکھ اسے جو انہیں محبوب رکھے اور مبغوض رکھ اسے جو انہیں مبغوض رکھے، ان کے مددگار کی نصرت فرما اور جو شخص ان کی نصرت کو ترک کرے اسے اپنی نصرت سے محروم فرمااور حق کو ان کے ساتھ ساتھ رکھ یہ جدھر بھی رخ کریں''۔
اس کے بعد فرمایا:ألا فلیبلغ الشاھد الغائب''یعنی آگاہ ہوجائو کہ جملہ حاضرین کی یہ ذمہ داری ہے کہ ا س کی خبر ہر اس شخص کو پہونچا دیں جو یہاں حاضر نہیں ہے''۔
پیغمبر کا خطبہ تمام ہوا تو آنحضرت ،علی مرتضیٰ اور سارے حاضرین کے سروں اور چہروں سے پسینہ بہہ رہا تھا اور ابھی مجمع کی صفیں نہیں ٹوٹی تھیں کہ جبرئیل امین یہ آیت لے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نازل ہو ئے:(اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ ...) ''یعنی آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کوکامل اور اپنی نعمتوں کو تم پر تمام کردیا ''۔
اس پر آنحضرت ؐنے فرمایا:اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر علی اکمال الدین واتمام النعمة ورضی الرب برسالتی والولایة لعلی من بعدی''یعنی خدا بزرگ وبرتر ہے،خدا بزرگ وبرتر ہے ،وہی خدا جس نے اپنے دین و آئین کو کامل اور ہم پراپنی نعمت کو تمام فرمایااور میری نبوت و رسالت سے اور میرے بعد علی کی ولایت کے لئے راضی و خوشنود ہوا''۔
اس موقع پر مجمع کے درمیان ایک شور و غوغا بلند ہوا ،اور سب لوگوں نے حضرت علی کو اس جانشینی پر مبارکباد دی، ان میں ابوبکر اور عمر بھی تھے جنہوں نے عام مجمع کے سامنے یہ الفاظ زبان پر جاری کئے: بَخٍّ بَخٍّ لک یابن ابی طالب اصبحت وامسیت مولائی ومولا کل مومن و مومنة''یعنی آفرین ہو آفرین ہو آپ کے لئے اے فرزند ابوطالب!آپ میرے اور تمام مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کے مولا اور پیشوا ہوگئے''۔
اس وقت ابن عبا س نے کہا''بخدا یہ عہد وپیمان سبھی کی گردنوں پر رہے گا ''۔
اور مشہور شاعر حسان بن ثابت نے حضرت رسول خداؐسے اجازت لی کہ موقع کی مناسبت سے کچھ اشعار سنائے ،اس کے بعد اپنے مشہور ومعروف اشعار اس طرح شروع کئے:
''یعنی ان کے پیغمبرؐنے غدیر کے روز سر زمین خم میں انہیں ندادی ،اور کتنا گرانقدر ہے ندا دینے والا۔فرمایا:تمہارامولا اور تمہارا نبی کون ہے؟ تو انہوں نے بغیر کسی چشم پوشی اور اغماض کے صاف طور سے جواب دیا کہ آپ کا خدا ہمارا مولاہے اور آپ ہمارے پیغمبرؐہیں اور ہم آپ کی ولایت قبول کرنے سے انکار نہ کریں گے۔پھر پیغمبرؐ خدا نے علی سے فرمایا :اے علی !اٹھو کیونکہ میں نے تم کو اپنے بعد کے لئے امام اور رہبرمنتخب کیا ہے۔(اس کے بعد فرمایا:)جس شخص کا میں مولااور پیشوا ہوں یہ علی بھی اس کے مولا اور پیشوا ہیں ،بس تم سب لوگ صدق وراستی کے ساتھ ان کی پیروی کرو ،اس وقت آنحضرت ؐنے دعا فرمائی کہ بار الٰہا دوست رکھ علی کے دوست کو اور دشمن رکھ علی کے دشمن کو ۔یہ تھا خلاصہ مشہور و معروف حدیث غدیر کا جو سنی اور شیعہ علماء کی کتابوں میں منقول ہے''۔
تبصرے اور اعتراضات: اس میں شک نہیں ہے کہ اگر یہ آیت خلافت امیر المومنین کے علاوہ کسی دوسرے موضوع سے متعلق ہوتی تو اس قدر روایتوں اور خود آیت کے اندر موجود قرائن سے کہیں کم پر قناعت کر لی جاتی، جیسا کہ بڑے بڑے اسلامی مفسرین نے دیگر آیات قرآن کی تفسیر میں کبھی کبھی اس ا یت کے مدارک کے دسویں حصے یا اس سے بھی کم پر اکتفا کی ہے لیکن افسوس ہے کہ اس مقام پر تعصب کا حجاب بہت سی حقیقتوں کو قبول کرنے سے مانع ہوگیاہے۔
جن لوگوں نے اس آیت کی تفسیر اس کی شان نزول میں متعدد روایات اور اصل واقعہ غدیر کے بارے میں وارد متواتر روایتوں کے مقابلے میں علم مخالفت بلندکیا ہے ان کے دو گروہ ہیں :
ایک تو وہ لوگ جو ابتداہی سے جذبۂ عناد و مخالفت اور شیعوں کی ہتک حرمت ،توہین ،بدگوئی اور دشنام طرازی کے ساتھ اس بحث میں داخل ہوتے ہیں ،اور ایک دوسرا گروہ وہ ہے جس نے کسی حد تک مقصد تحقیق اور تلاش حقیقت کو پیش نظر رکھا ہے،اور اسی بنیاد پر چند حقائق کا اعتراف بھی کیا ہے۔ لیکن آخر میں آیت اور اس سے متعلق روایتوں کے بارے میں غالباً اپنے ذہنی اور فکری انداز اور ماحول کے خاص شرائط کے نتیجے میں کچھ اعتراضات بھی کئے ہیں ۔
پہلے گروہ کے ایک نمایاں نمونے کی حیثیت سے ابن تیمیہ کو کتاب ''منہاج السنة'' میں دیکھا جانا چاہئے جنکی مثال اس شخص سے دی جاسکتی ہے جو روز روشن میں اپنی آنکھیں بند کر لے اور کانوں میں انگلیاں مضبوطی سے جمالے اور آوازد ے کہ آفتاب کہاں ہے؟ نہ اس پر تیار ہو کہ آنکھ کا ایک گوشہ کھول کے کچھ حقیقت کا نظارہ کرے،نہ کانوں سے انگلیاں ہٹائے تاکہ اسلامی محدثین اور مفسرین کا تھوڑا شور وغوغا سن لے۔جوپے در پے دشنام طرازی اور اہانت کررہا ہو،ایسے شخص کا عذر جہالت وبے خبری اور عداوت و خشونت سے مخلوط تعصبات ہیں جو ایسے بدیہی اموراور واضح مسائل کے انکار تک پہونچ جاتے ہیں جنہیں ہر انسان سمجھ لیتا ہے۔لہٰذا ہم قطعاً اپنے کو ان کی باتیں نقل کرنے اور ناظرین کو ان کے جوابات سننے کی زحمت نہیں دے رہے ہیں ،جو شخص اتنے کثیر اور جلیل القدر اسلامی علماء و مفسرین کے مقابل جن میں اکثریت علمائے اہل تسنن کی ہے اور جنہوں نے حضرت علی علیہ السلام کی شان میں اس آیت کے نزول کی تصریح کی ہے، انتہائی دیدہ دلیری کے ساتھ یہ کہتا ہو کہ کسی عالم نے اپنی کتاب میں ایسی بات نقل نہیں کی ہے اس کے جواب میں ہم کیا کہیں اور اس کی بات کیا قدر وقیمت رکھتی ہے کہ ہم ا سکے بارے میں بحث کریں ؟۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ابن تیمیہ نے اتنی معتبر اور کثیر کتابوں کے مقابلے میں جو حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں نزول آیت کی تصریح کررہی ہیں اپنی بربریت کے لئے اس مضحکہ خیز جملے پر اکتفا کی ہے کہ ''کوئی ایسا عالم جو یہ جانتا ہو کہ کیا کہہ رہا ہے اس آیت کو علی کی شان میں نہیں جانتا''۔ گویا صرف وہی علماء یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں جو ابن تیمیہ کے حد سے گرے ہوئے معاندانہ اور مخالفانہ جذبات سے ہم آہنگ ہوں ،ورنہ اگر کوئی شخص ان کا ہم آواز نہ بن سکے تو وہ ایسا عالم اور دانشمند ہے جو نہیں سمجھتا کہ کیا کہہ رہا ہے ،یہ ایک ایسے شخص کی منطق ہے جس کی عقل و فکر پر خود غرضی اور عناد نے اپنا نجس سایہ ڈال رکھا ہو۔ہم اس گروہ سے قطع نظر کرتے ہیں ۔

آیتوں کا ارتباط:
کبھی کہا جاتا ہے کہ اس کے قبل و بعد کی آیتیں اہل کتاب اور ان کی مخالفتوں کے بارے میں ہیں بالخصوص صاحب تفسیر''المنار''نے جلد ٦ ص ٤٦٦ میں اس مسئلے پر بہت ثابت قدمی دکھائی ہے ،لیکن جیسا کہ ہم نے اسی آیت کی تفسیر میں لکھا ہے اس بات میں کوئی وزن نہیں ہے، کیونکہ اول تو آیت کا آہنگ اور قبل وبعد کی آیتوں سے اس کا تفاوت اس چیز کی پوری نشاندہی کرتا ہے کہ اس آیت کا موضوع قبل وبعد کی آیات سے فرق رکھتا ہے ۔دوسرے جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے، قرآن مجید کوئی کلاسیکی کتاب نہیں ہے جس کے مطالب کی معینہ فصول وابواب میں درجہ بندی کی گئی ہو، بلکہ یہ ضرورتوں اور مختلف حوادث و واقعات کے مطابق نازل ہوئی ہے،لہٰذا ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ قرآن مجید مثال کے طور پر غزوات کے بارے میں بحث کرتا ہے تو ایک فروعی حکم بھی درمیان میں لے آتا ہے جس وقت یہود و نصاریٰ کے بارے میں گفتگو کرتا ہے تو روئے سخن مسلمانوں کی طرف کر کے ان کے لئے کسی اسلامی دستور کا ذکر چھیڑ دیتا ہے (مزید وضاحت کے لئے اس بحث کی طرف رجوع کیجئے جو ہم نے تفسیر آیت کے آغاز میں کی ہے)۔
عجیب بات یہ ہے کہ بعض متعصب لوگ اپنے اس قول پر اصرارکرتے ہیں کہ یہ آیت آغاز بعثت میں نازل ہوئی ہے باوجودیکہ سورہ مائدہ حضرت رسولخدا ۖ کی حیات طیبہ کے آخری دنوں میں نازل ہوا ہے۔اگر یہ کہیں کہ ایک آیت مکہ معظمہ میں بعثت کے آغازمیں نازل ہوئی اور پھر مناسبت کے لحاظ سے اس سورے کے سلسلۂ آیات میں شامل کردی گئی ،تو ہم یہ کہیں گے کہ جس چیز کی طلب اور تلاش میں آپ ہیں یہ بالکل اس کے برخلاف ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ پیغمبر خداؐ آغاز بعثت میں یہودیوں سے جنگ کر رہے تھے نہ کہ عیسائیوں سے اس بنا پر اس آیت کا قبل وبعد کی آیتوں سے سلسلہ منقطع ہوجائے گا۔
یہ تمام باتیں اس چیز کا پتہ دیتی ہیں کہ یہ آیت تعصب کے طوفان میں کھڑی ہوئی ہے اور اسی وجہ سے اس میں ایسے احتمالات داخل کئے جاتے ہیں جن کی اس سے ملتی جلتی آیتوں میں کسی طرح کی کوئی گفتگو نہیں کی جاتی۔ہر شخص یہی کوشش کرتا ہے کہ کسی نہ کسی بے بنیاد حیلے اور بہانے سے آیت کو اس کے رخ سے منحرف کردے ۔
کیا یہ حدیث جملہ کتب صحاح میں منقول ہے: بعض یہ کہتے ہیں کہ ہم اس حدیث کو کیوں کر قبول کرسکتے ہیں جبکہ بخاری اور مسلم نے اپنی دونوں کتابوں میں نقل نہیں کیا ہے ۔یہ اعتراض بھی عجائبات میں سے ہے کیونکہ اول تو بہت سی معتبر حدیثیں ایسی ہیں جنہیں علمائے اہل سنت نے قبول کیا ہے اور وہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود نہیںہیں۔اس نوعیت کی یہ پہلی حدیث نہیں ہے۔دوسرے یہ کہ کیا معتبر کتاب کی مصداق ان کے نزدیک صرف یہی دو کتابیں ہیں ؟حالانکہ دیگر لائق اعتماد منابع اور مدارک یہاں تک کہ صحاح ستہ میں سے سنن ابن ماجہ (٣)اور مسند احمد بن حنبل(٤)میں بھی یہ حدیث نقل کی گئی ہے ،نیز حاکم ،ذہبی ،اور ابن حجر،جیسے علماء نے بھی جو اپنے تعصب کے لئے پوری شہرت رکھتے ہیں، اس حدیث کے اکثر طریقوں کے صحیح ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ اس بنا پر کچھ بعید نہیں ہے کہ بخاری اور مسلم اس مخصوص فضا اور اپنے خفقان آلود ماحول میںایسا نہ کرسکے ہوں یا نہ کرنا چاہا ہو کہ اپنی کتابوں میں وقت کے فرمانروائوں کے مذاق اور جذبات کے برخلاف واضح طور پر کوئی چیز لکھ دیں ۔
حضرت علی اور اہل بیت نے اس حدیث سے استدلال کیوں نہیں کیا: کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر حدیث غدیر اتنی ہی عظمت رکھتی تھی تو خودعلی نے ،آپ کے اہل بیت نے،آپ کے انصار اور عقیدت مندوں نے ضروری مواقع پر اس کے ذریعے استدلال کیوں نہیں کیا؟کیا یہ بہتر اور مناسب نہیں تھا کہ وہ حضرات ایسے اہم مدرک سے حضرت علی علیہ السلام کی حقانیت ثابت کرنے میں فائدہ اٹھاتے ؟۔
اس اعتراض کاسر چشمہ بھی حدیث و تاریخ اور تفسیر کی اسلامی کتابوں سے اجنبیت ہے کیونکہ علمائے اہل سنت کی کتابوں میں کثرت سے نقل ہواہے کہ خود حضرت علی علیہ السلام یاائمہ اہل بیت علیہم السلام یا اس مکتب سے متعلق افراد نے حدیث غدیر سے استدلال کیا ہے منجملہ ''خطیب خوارزمی حنفی''۔''مناقب ''میں ''عامر بن واصلہ سے نقل کرتے ہیں کہ شوریٰ کے روز میں حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ اس مکان میں موجود تھا۔میں نے سنا کہ آپ ارکان شوریٰ سے اس طرح فرمارہے ہیں :میں تمہارے لئے ایک ایسی محکم دلیل قائم کرتا ہوں کہ عرب و عجم مل کے بھی اس میںکمزوری پیدا نہیں کرسکتے تمہیں خدا کی قسم بتاؤ کیا تمہارے درمیان کوئی شخص ایسا ہے جس نے مجھ سے پہلے خدا کی وحدانیت کا اقرار کیا ہو؟ (اس کے بعد خاندان رسالت کے باطنی مناقب ومفاخر دہرائے)یہاں تک کہ اس مقام تک پہونچے۔تمہیں خدا کی قسم کیا تمہارے درمیان میرے علاوہ کوئی دوسرا شخص ایسا ہے جس کے حق میں پیغمبرؐنے فرمایا ہو؟من کنت مولاہ فعلی مولاہ ،اللھم وال من والاہ وانصر من نصرہ لیبلغ الشاھد الغائب''یعنی جس کامولا میں ہوں علی بھی اس کے مولا ہیں ،خداوندا!دوست رکھ اس کو جو انہیں دوست رکھے اور نصرت فرما اس کی جو ان کی نصرت کرے۔جو شخص یہاں موجود ہے اس کا فرض ہے کہ غیر حاضر کو اس کی اطلاع پہونچا دے؟)۔
اس روایت کو حموینی نے فرائد السمطین باب٥٨ میں۔ابن حاتم نے ''درر النظم''میں اور ''دار قطنی'' میں ،''ابن عقدہ''اور''ابن ابی الحدید ''نے شرح نہج البلاغہ میں نقل کیا ہے۔نیز بنا بر روایت فرائد السمطین باب٥٨ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نے زمانۂ عثمان میں مسجد کے اندر مجمع کے سامنے واقعہ غدیر سے استدلال فرمایا۔
اسی طرح کوفے میں ان لوگوں کے سامنے جو آپ کی خلافت بلافصل پر پیغمبر کی نص سے انکار کرتے تھے صریحی طور پر اس روایت سے استدلال فرمایا۔اس حدیث کو ''الغدیر ''کے مطابق جیسا کہ اہل سنت کے معروف مدارک ومنابع میں منقول ہے چار نفر صحابہ اور چودہ نفر تابعین نے روایت کیا ہے ۔
نیز کتاب ''مستدرک ''حاکم جلد سوم ص٣٧١ کی روایت کے مطابق آپ نے جنگ جمل کے روز طلحہ کے سامنے اس سے استدلال فرمایا اس کے علاوہ بروایت ''سلیم بن قیس ہلالی''جنگ صفین کے موقع پر اپنی لشکر گاہ میں مہاجرین و انصاراور ان لوگوں کی ایک جماعت نے جو اطراف و جوانب سے یکجا ہوگئے تھے اس حدیث سے استدلال فرمایا،اور بدریین (یعنی جو لوگ پیغمبرؐکے ہمراہ جنگ بدر میں شریک ہوچکے تھے)میں سے بارہ افراد نے کھڑے ہوکر گواہی دی کہ انہوں نے آنحضرت ۖ سے یہ حدیث سنی ہے۔
حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ خاتون جنت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ،امام حسن و امام حسین علیہما السلام، عبداللہ بن جعفر ،عمار یاسر،قیس بن سعد،عمر بن عبد العزیزیاور عباسی خلیفہ مامون الرشید نے اس سے سند حاصل کی ہے ،یہاں تک کہ ''عمرو عاص''نے معاویہ کے نام اپنے ایک خط میں یہ ثابت کرنے کے لئے کہ وہ حضرت علی علیہ السلام کے قدر ومنزلت اور معاویہ کی حالت وحیثیت سے بخوبی آگاہ ہے صریحی طور سے مسئلہ غدیر کی یاد دہانی کی ہے اور خطیب خوارزمی حنفی نے کتاب مناقب ص١٢٤ میں اس کو نقل کیا ہے (جو لوگ حدیث غدیر کے ذریعے حضرت علی ،اہل بیت طاہرین ،صحابہ اور غیر صحابہ افراد کے ایک گروہ کے استدلال کے موضوع پر ان روایات کے مختلف منابع سے مزید آگاہی اور توضیحات کے خواہش مند ہیں وہ کتاب ''الغدیر''جلد اول صفحات ١٥٩ تا ٢١٣کی طرف رجوع فرمائیں ۔علامہ امینی مرحوم نے اس حدیث کے ذریعہ استدلال کو صحابہ اور غیر صحابہ میں سے بائیس افراد سے مختلف موارد میں نقل کیا ہے)۔
آیت کے آخری جملے کا مفہوم کیا ہے؟:کہا جاتا ہے کہ اگر یہ آیت منصب خلافت وولایت پر حضرت علی علیہ السلام کے نصب اور داستان غدیر خم سے تعلق رکھتی ہے تو اس آیت کا یہ آخری جملہ: ''اِنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِیْ الْقَوْمَ الْکَافِرِیْنَ''(یعنی کافروں کی قوم کو ہدایت نہیں دیتا)اس مسئلے سے کیا تعلق رکھ ہے؟۔
اس اعتراض کے جواب کیلئے اتنا ہی جان لینا کافی ہے کہ لفظ''کفر''لغت میں اور اسی طرح قرآن مجید کی زبان میں انکار مخالفت اور ترک کرنے کے معنی میں آیا ہے کبھی اس کا اطلاق خدا یا نبوت پیغمبرؐکے انکار یا مخالفت پرسورۂ آل عمران آیت ٩٧میں حج کے متعلق پڑھتے ہیں :''فَاِنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیّ عَنِ الْعَالَمِیْنَ''یعنی جو لوگ فرمان حج کونظر انداز کریں یا اس کی مخالفت کریں وہ خدا کو کوئی نقصان نہیں پہونچا سکتے خدا سارے جہانوں سے بے نیاز ہے۔
سورہ بقرہ آیت ١٠٢ میں ساحروں اور ان لوگوں کے بارے میں کلمہ کفر کا اطلاق ہواہے جو سحر اور جادو سے آلودہ ہے:''وَمَا یُعَلِّمَانِ مِنْ اَحَدٍ حَتَّی یَقُوْلَا اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَة فَلَا تَکْفُر''۔
نیز ہم سورہ ابراہیم کی آیت ٢٢ میں دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں سے شیطان کھلے ہوئے تنفر کا اظہار کرے گا اور کہے گا :''تم لوگوں نے امر الٰہی کی اطاعت میں مجھے اس کا شریک قرار دیا اور میں آج کے دن تمہارے اس کام سے کفر اختیار کرتاہوں''اِنِّیْ کَفَرْتُ بِمَا اَشْرَکْتُمُوْنِیْ مِنْ قَبْلْ''اس بنا پر مسئلۂ ولایت و رہبری کے مخالفین پر کفر کا اطلاق محل تعجب نہیں ہے۔
کیا ایک زمانے میں دو ولی ہوسکتے ہیں : اس متواتر حدیث اور اسی طرح موضوع بحث آیت سے توجہ ہٹانے کے لئے ایک بہانہ یہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ اگرپیغمبرؐنے علی کو غدیرخم میں ولایت و رہبری اور منصب خلافت پر نصب کیا ہو تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وقت واحد میں دو رہبر اور دو پیشوا موجود ہوں گے ''لیکن نزول آیت اور ورود حدیث کے خاص شرائط و حالات اور اسی طرح حضرت رسول خداؐکے خطبے میں جو قرائن پائے جاتے ہیں ان پر غور کرنے کے بعد یہ بہانہ بالکل ختم ہوجاتا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ واقعہ آنحضرت ؐکی زندگی کے آخری مہینوں میں پیش آیا جبکہ آپ آخری احکام وہدایات لوگوں تک پہونچا رہے تھے ،بالخصوص یہ کہ آپ نے صریحاً فرمایا:''میں بہت جلد تمہارے درمیان سے جانے والا ہوں اور دو گرانقدر چیزیں تمہارے درمیان چھوڑ ے جارہا ہوں ''۔
جو شخص ایسی بات کہہ رہا ہو ظاہر ہے کہ وہ اپنا جانشین معین کرنے کی فکر میں ہے اور موجودہ دور کے لئے نہیں بلکہ آئندہ زمانے کے لئے دستور العمل مہیا کر رہا ہے ۔
اس بنا پر صاف ظاہر ہے کہ آپ کا مقصد وقت واحد میں دور ہبر وں اور دو پیشواؤں کا وجود نہیں ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جس حال میں بعض علمائے اہل تسنن یہ اعتراض کرتے ہیں بعض دیگر علماء بالکل اس کے مد مقابل ایک دوسرا اعتراض سامنے رکھتے ہیں،اور وہ یہ کہ ''پیغمبر نے علی کی ولایت و خلافت کا تعین تو فرمایا لیکن اس کی تاریخ واضح نہیں فرمائی لہٰذا اسمیں کیا قباحت اور کیا مانع ہے کہ یہ ولایت وخلافت کا دو ر دیگر تین خلفا ء کے بعد ہو؟''۔
در حقیقت بہت ہی حیرت انگیز ہے یہ صورت حال کہ بعض چھت کے اس کنارے سے چھلانگ لگاتے ہیں تو بعض دوسرے کنارے سے،اور تعصبات اس کا موقع نہیں دیتے کہ اصل قضیے اور مسئلے کا سہارا لیں ۔
ان سے سوال کیا جاسکتا ہے کہ اگر پیغمبرؐمسلمانوں کے مستقبل کے لئے فکر مند تھے اور اپنے چوتھے خلیفہ کو معین فرمانا چاہتے تھے تو اپنے پہلے ،دوسرے اور تیسرے خلیفہ کا غدیر کی تقریب میں کیوں ذکر نہیں فرمایا جو حضرت علی سے مقدم تھے اور ان کی تعیین او رزیادہ ضروری اور اہم تھی۔
ہم ایک بار پھر اپنی بات کو دہراتے ہیں اور اس بحث کو ختم کرتے ہیں کہ اگر کچھ خاص مقاصد کار فرما نہ ہوتے تو مذکورہ آیت اور حدیث کے بارے میں اس قدر اشکال تراشیاں نہ کی جاتیں جیسا کہ دیگر موارد اور مقامات پر نہیں کی گئی ہیں ۔

حواشی
١۔پیغمبر خداؐکے ہمراہیوں کی تعداد بعض نے نوّے ہزار بعض نے ایک لاکھ چودہ ہزار ،بعض نے ایک لاکھ بیس ہزار ،اور بعض نے ایک لاکھ چوبیس ہزار لکھی ہے ۔
٢۔ ان اشعار کو اہل سنت کے بڑے بڑے علماء کی ایک جماعت نے نقل کیا ہے جن میں سے چند یہ ہیں :حافظ ابو نعیم اصفہانی ،حافظ ابو سعیدسجستانی ،خوارزمی مالک ،حافظ ابو عبداللہ مرزبانی،گنجی شافعی،جلال الدین سیوطی ،سبط ابن جوزی اور صدر الدین حموی وغیرھم
٣۔سنن ابن ماجہ ج١ ص٥٥و٤٥٨۔ ٤۔ مسند احمد بن حنبل ج١ص ٨٤۔٨٨۔١١٨۔ ١١٩۔ ١٥٢۔٣٣١۔٢٨١۔٣٧٠
(ماخوذ از اصلاح جون جولائی ١٩٩٠ء؁)

مقالات کی طرف جائیے