مقالات

 

زیارت جامعہ کبیرہ اور زیارت غدیریہ ؛ گرانقدر میراث

شعور ولایت فاؤنڈیشن

شیخ مفید،شیخ طوسی اور شیخ کلینی (رحمة اللہ علیہم )نے امام علی نقی علیہ السلام کی ولادت ذی الحجہ کے وسط میں بیان کی ہے اور ولادت کا سنہ ٢١٢ہجری بتایا ہے، امام نقی نے زیارت جامعہ کبیرہ اور زیارت غدیریہ کے ذریعہ شیعی عقائد و مسلمات کو فصیح ترین انداز میں بیان فرمایا ہے، امام نے زیارت جامعہ میں ائمہ معصومین علیہم السلام کے ٤٠٠صفات و خصوصیات کو بیان کرکے امام شناسی کا ایک مکمل نصاب مرتب فرمادیاہے نیز زیارت غدیریہ میں تقریباً٤٠ آیات سے استدلال کرکے بہترین اسلوب میں امیر المومنین کی معرفت کا ایک مکمل باب قائم کر دیا ہے ۔ان دونوں زیارتوں میں شیعہ عقائد و مسلمات پر اہم ترین دلائل موجود ہیں۔

زیارت جامعہ کبیرہ میں بعض اعتقادی نکات
١۔ اہل بیت ،خدا کے مطیع بندے ہیں: وَ عِبَادُہُ الْمُکْرَمِیْنَ الْمُطِیْعُوْنَ لِلّٰہِ، لَا یَسْبِقُوْنَہ بَالْقَوْلِ وَھُمْ بِأَمْرِہِ یَعْمَلُوْن''اہل بیت اطہار ،خدا کے ایسے باشرف بندے ہیں جو اس کی اطاعت میں سر تسلیم خم رکھتے ہیں، ان کی کوئی بات حکم خدا سے آگے نہیں بڑھتی اور وہ امر الٰہی پر عمل پیرا رہتے ہیں''۔
٢۔ اہل بیت اطہار علیہم السلام معصوم ہیں: عَصَمَکُمُ اللّٰہُ مِنَ الزَّلَلِ وَ طَھَّرَکُمْ مِنَ الدَّنَسِ؛ خداوند عالم نے آپ لوگوں کو گمراہیوں سے محفوظ رکھا اور ہر قسم کی نجاست سے پاک رکھا۔
٣۔ ان ہستیوں کی معرفت، معرفت الٰہی ہے: مَحَالُّ مَعْرِفَةِ اللّٰہِ، مَنْ اَرَادَ اللّٰہُ بَدَئَ بِکُمْ؛ آپ لوگ معرفت خدا کا سرچشمہ ہیں، وہ جس چیز کی چاہے آپ کے ذریعہ ابتدا کرے۔
٤۔ ان ہستیوں سے دشمنی، خدا سے دشمنی ہے: مَنْ عَادَاکُمْ فَقَدْ عَادَیٰ اللّٰہ؛ جس نے تم سے دشمنی کی وہ دشمن خدا ہے۔
٥۔ ان کی ولایت کو قبول کرنا، ولایت الٰہی کو قبول کرنے کے مترادف ہے: مَنْ وَالَاکُمْ فَقَدْ وَالَیٰ اللّٰہ؛ جس نے تم سے محبت کی وہ محب خداوندعالم ہے۔
٦۔ ان پر درود و سلام بھیجنا،فاضل طینت ہونے کا ضامن ہے ؛ جَعَلَ صَلوٰاتَنَا عَلَیْکُمْ وَ مَا خَصَّنَا بِہِ مِنْ وِلَایَتِکُمْ طِیْبًا لِخُلْقِنَا وَ طَھَارَةً لِأَنْفُسِنَا؛ ہم نے جو آپ پر صلوات بھیجی تو ہم پاک طینت ہوگئے اور ہمارے نفسوس پاک وپاکیزہ ہوگئے۔
٧۔ ان کا مخالف کافر ہے اور ان سے جنگ کرنے والا مشرک ہے: مَنْ جَحَدَ کُمْ کَافِر وَ مَنْ حَارَبَکُمْ مُشْرِک؛ جس نے آپ حضرات کی مخالفت کی وہ کافر ہے اور جس نے آپ لوگوں سے جنگ کی وہ مشرک ہے۔
٨۔ اہل بیت کے ذریعہ لوگوں کی آزمائش ہوتی ہے: وَالْبَابُ الْمُبْتَلیٰ بِہِ النَّاسُ؛ آپ وہ دروازہ ہیں جس پر آکر لوگوں کی آزمائش ہوتی ہے۔
٩۔ لوگوں کی جانب آنے سے قبل یہ ہستیاں عرش الٰہی کی مکین تھیں: خَلَقَکُمُ اللّٰہُ اَنْوَارًا فَجَعَلَکُمْ بِعَرْشِہِ مُحْدِقِیْنَ؛ خداوندعالم نے آپ حضرات کو خلق فرمایا اور پھر عرش الرحمن کا مکین قرار دیا۔
١٠۔ یہ ہستیاں محض حق ہیں: وَالْحَقُّ مَعَکُمْ وَ فِیْکُمْ وَ مِنْکُمْ وَ اِلَیْکُمْ؛ حق آپ حضرات کے ساتھ ہے، آپ حضرات میں ضم ہے، آپ حضرات کی طرف سے ہے اور آپ حضرات کی طرف ہی رخ کئے ہوئے ہے، گویا حق وہیں ہے جہاں یہ پاک و پاکیزہ ہستیاںہیں۔
١١۔ ان حضرات کی روح، ان کا نور اور ان کی طینت سب ایک ہے: اِنَّ اَرْوَاحَکُمْ وَ نُوْرَکُمْ وَ طِیْنَتَکُمْ وَاحِدَة؛ بے شک آپ حضرات کی روح، آپ کا نور اور آپ کی طینت ایک دوسرے میں اس طرح ضم ہیں کہ ایک ہی چیزمحسوب ہوتی ہے۔
١٢۔ خداوندعالم نے ان حضرات کو وہ مقام عطا فرمایاہے کہ دنیامیں کسی کو عطا نہیں کیا اور کوئی بھی انسان ان کے سامنے لائق موازنہ نہیں ہے: أَتَاکُمُ اللّٰہُ مَالَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِنَ العَالَمِیْنَ؛ خداوندعالم نے آپ حضرات کو ایسی ایسی چیزیں عنایت فرمائی ہیں کہ عالمین میں سے کسی کے مقدر میں نہیں آئیں۔
١٣۔ عبادتوں کی قبولیت کی شرط، ان حضرات کی ولایت کو قبول کرنا ہے: بِمُوَالَاتِکُمْ تُقْبَلُ الطَّاعَةُ الْمُفْتَرَضَةُ؛ آپ حضرات کی ولایت کے ذریعہ وہ عبادتیں قبول ہوتی ہیں جو خداوند عالم نے واجب قرار دی ہیں۔
زیارت غدیریہ میں عقائد تشیع کے چند نمونے
١۔ امیر المومنین ، مخلوقات خدا کے درمیان اس کے سفیر ہیں: وَ سَفِیْرَہُ فِیْ خَلْقِہِ؛ وہ خدا کی مخلوق کے لئے اس کے سفیر ہیں۔
٢۔ ہر چیز کی ابتدا پیغمبراکرم(ص)سے ہوتی ہے نیز ہر چیز کا نقطۂ اختتام آنحضرت(ص)کی ذات گرامی ہے: اَلْخَاتِمُ لِمَا سَبَقْ وَ الْفَاتِحُ لِمُسْتَقْبِل؛ آنحضرت (ص) کی ذات گزشتہ مخلوق کا خاتمہ اور آئندہ کا راہ حل ہے۔ اور امیر المومنین کی ذات والا صفات پیغمبراکرم (ص)کی جان ہے۔آیۂ مباہلہ میں آپ کو نفس رسول کی حیثیت سے پہچنوایا گیاہے اس لئے آپ بھی ہر چیز کا نقطۂ آغاز و انجام ہیں۔
٣۔ امیر المومنین حضرت علی ، صراط مستقیم ہیں: اَشْھَدُ اَنَّکَ الْمَعْنِی بِقَوْلِ الْعَزِیْزِالرَّحِیْمِ وَ اِنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا''میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک آپ خداوند عالم کے اس ارشاد کے مصداق ہیں جس میں وہ فرماتاہے :''بے شک یہ میرا سیدھا راستہ ہے''۔
٤۔ سب سے پہلے ایمان لانے والی اور نماز پڑھنے والی امیر المومنین علی کی ذات گرامی ہے: اَنْتَ اَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِاللّٰہِ وَ صَلّٰی لَہُ؛ آپ ہی وہ ہیں جو خدا پر سب سے پہلے ایمان لائے اور نماز ادا کی۔
٥۔ امیر المومنین کا نور، خاموش ہونے والا نہیں ہے: نُوْرُکَ لَا یُطْفَأُ؛ آپ کا نور بجھائے نہیں بجھے گا اور ہمیشہ روشن رہے گا۔
٦۔ امیر المومنین کے قاتلوں پر خداوندعالم کی لعنت : اَللّّٰھُمَّ الْعَنْ قَتَلَةَ اَمِیْرِ الْمَوْمِنِیْنَ وَ مَنْ ظَلَمَہُ وَ اَشْیَاعَھُمْ وَ اَنْصَارِھِمْ؛ خداوندعالم لعنت بھیج امیر المومنین کے قاتلوں پر اور ان کے قاتلوں کے ہمنوائوں پر اور اطاعت گزاروں پر۔

مقالات کی طرف جائیے